ہندوستان

دادری سے میوات تک ظلم و ستم کی داستانِ الم

ڈاکٹر سلیم خان

ظلم اگر کسی معاشرے میں پھیل جائے تو ظلمت کہلاتا ہے۔ ظلم کا اندھیرا صرف اور صرف عدل کے روشنی سے دور ہوتا ہے اور اگر کسی ملک میں عدل وانصاف کا جنازہ اٹھ جائے تو جبر و قہرکے گدھ منڈلانے لگتے ہیں۔ اس کی ایک مثال تو دادری میں ابھری تھی اوردوسری ہریانہ کے ڈنگرہیڈا میں سامنے آئی ہے۔ میوات کا بھیانک واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ گئو بھکتی کے نام پر لگائی گئی آگ دن بدن پھیلتی ہی جارہی ہے۔ وزیراعظم کے گئو رکشکوں اور گئو سیوکوں کا فرق صرف لفاظی ہے۔ گئو رکشکوں کی مجرمانہ کارروائیوں میں اضافہ اور شدت دونوں پیدا ہورہی ہے۔ میوات کے اندر وقوع پذیر ہونے والا یہ بہیمانہ قتل و عصمت دری  چیخ چیخ کر اس کا اعلان کررہی ہے۔ ابتداء میں اسے ایک  عام سی  ڈکیتی اور عصمت دری  کا واقعہ قرار دے کر اس کی پردہ پوشی کی گئی جبکہ سارے شواہد اس کے خلاف تھے۔

24 اگست کی رات  کو نصف درجن لوگوں نے ابراہیم اور رشیدن کے گھر پر حملہ کیا اور انہیں گھسیٹتے ہوئے رشیدن کی بہن کے گھر لے گئے اور اس کے شوہر ظفیر سمیت سارے گھر والوں کو باندھ کر ان کی لڑکیوں کی عصمت دری کی نیز جاتے ہوئے والدین کو قتل کردیا۔ سوال یہ ہے کہ  حملہ آور اگر ڈکیت تھے تو انہیں کھیت کی رکھوالی کرنے والوں کے یہاں کس مال و متاع کی توقع تھی؟  اور اگر ان کا مقصد صرف عصمت دری تھاتو رات بھر سارے خاندان کو زدوکوب و گالی گلوچ کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟  اگر وہ عام مجرم ہوتے تو سارے گاوں میں دوہرے قتل اور عصمت دری کی خبر کے پھیل جانے کے بعد پولس جائے واردات پر ضرور آتی۔ اس واقعہ کی ایف آئی آر درج کرنے میں اسپتال کے ڈاکٹر شاہد حسین کے اصرار کے باوجود ۹ گھنٹوں کا وقت نہیں لگتا۔

حد تو یہ ہے کہ شکایت کے درج ہوجانے کے باوجود پولس نے مجرمین کو گرفتار کرنے کے بجائے مظلوم بچیوں کو ڈی این اے ٹسٹ کا بہانہ بناکر حراست میں لے لیا جبکہ ان کے والدین زندگی اور موت کی جنگ لڑرہے تھے اور ماموں اور ممانی آنکھوں کے سامنے قتل کئے جاچکے تھے۔ انتظامیہ کے اس جانبدارانہ  رویہ سے صاف ظاہر ہے  کہ قاتل  درندوں کو سرکاری تحفظ حاصل تھا۔ اورکیوں نہ ہوتا گائے کی رکشا کیلئے وچن بدھّ  کھترّ سرکار اگر گئورکشک بھیڑیوں کی رکشا نہیں کرے گی تو کیا انسانوں کاتحفظ کرے گی؟  عوام کے زبردست احتجاج کے بعد معصوم بچیاں رہا ہوئیں اور پانچ دنوں کے بعد چار مجرمین  کوبادلِ ناخواستہ  حراست میں لیا  گیا۔

اس واقعہ کے ۱۰دن بعد صوبائی وزیر کرشن لال پنور نے گاوں کا دورہ کرکے متاثرین سے ملاقات کرنے کی زحمت گوارہ کی  مرنے والوں کے پسماندگان کیلئے ۵ لاکھ روپئے کا معاوضہ اور سرکاری ملازمت کا وعدہ کیا۔ اس سے قبل یکم ستمبر کو وزیراعلیٰ نے ۳ لاکھ کی مدد  اورسرکاری نوکری کا اعلان کرتے ہوئے اعدادو شمار کا سہارا لیتے ہوئے کہا تھاصوبے میں جرائم کی شرح میں کمی آئی ہے لیکن وہ بھول گئے ایسا بھیانک ظلم تو آج تک ہریانہ  کی تاریخ میں نہیں ہوا۔ ایک اہم ترین فرق یہ  بھی ہے کہ پہلے جرائم پیشہ لوگ شرمندگی کےساتھ لوٹ مار کرتے تھے اب یہ کام پونیہ سمجھ کردیش بھکت کرنے لگے ہیں۔

اس معاملے میں پولس نے جن چاردرندوں کوگرفتار کیا ہے ان کے نام سندیپ، امرجیت، کرم جیت اور راہل ہیں۔ وہ عام قسم کےمجرم نہیں ہے اس لئے کہ ان کے خلاف کوئی پولس ریکارڈ نہیں پایا جاتا ہاں وہ لوگ گاوں والوں سے گائے کے تحفظ کی خاطر چندہ جمع کرنے کیلئے معروف ہیں۔ ان کے فیس بک اکاونٹ کی تفصیل سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے ایک راہل سینی پور کے آرایس ایس کیمپ  میں شریک ہونے کے بعد اس تحریک میں شامل ہوا ہے۔ اور دوسرا بی جے پی سے تعلق رکھنے والا مودی بھکت ہے جس نے یکم فروری کو نریندر مودی کی تصویر کے ساتھ’’ مودی آیا مسلمان  گئے ‘‘ یہ پیغام لکھا تھا۔ اس جرم کا ارتکاب کرتے ہوئے مجرم بار بار یہ کہہ رہے تھے کہ اس اس بقر عید کو تم لوگ گائے ذبح نہیں کرسکو گے۔ اس گھناونی حرکت کے بعدان میں سے ایک کا اپنے خفیہ سرغنہ کو فون پر یہ اطلاع دینا کہ  چاروں مرچکے ہیں کسی گہری سازش کی نشاندہی کرتا ہے۔

حکومت کی بے حسی اورانتظامیہ کی سفاکی کایہ اثر ہوا کہ  جب جماعت اسلامی کے وفد نے متاثرہ علاقہ کا دورہ کیا اور اس کے سربراہ نےمیڈیکل کالج کےاسپتال کے اندر نوجوان چشم دید گواہ  سے ملاقات کی تو خوف کے مارے اس کی آواز نہیں نکل رہی تھی۔ معروف سماجی کارکن شبنم ہاشمی نے جب مظلوم بچیوں سے ان کی روداد دریافت کی تو ان کے پاس الفاظ کے بجائے آنسو تھے۔ اس کے باوجود ظلم کے خلاف احتجاج کی آواز نہیں دبی۔ یکم ستمبر کو  ڈنگر ہیڈی میں ۳۲ ذاتوں کی ایک مہاپنچایت کا اہتمام کیا گیا۔ بارش کی وجہ سے اسے پاس کے تاوڑو منڈی میں منتقل کرنا پڑا اس کے باوجود اس میں ۸۰۰۰لوگ شریک ہوئے۔ اس اجتماع سے پنچایت کے سربراہ راج بالاسانگوان، نریندر ٹوکس، یوگیندر یادو، ذاکر علی اور سلیم انجنیر نے خطاب کیا۔ اس مہاپنچایت میں سی بی آئی کی جانچ، مظلومین کیلئے ۵۰ لاکھ کا معاوضہ، پولس افسران کا تبادلہ اور ان پر لاپرواہی دکھانے کے الزام میں مقدمہ درج کرنے کا پرزورمطالبہ کیا گیا۔

ان سارے مطالبات میں سب سے اہم آخری  بات ہے۔ دادری کے معاملے میں بہت کچھ ہوا۔ قومی سطح پر غیر معمولی احتجاج ہوا۔ قومی اعزازلوٹائے گئے۔ مظاہرے ہوئے جلوس نکلے ایوان کے اندر باہر بے شمار مباحث ہوئے اور بھرپور معاوضہ بھی دیا گیا لیکن پھر اس کے بعد کیا ہوا؟ خاطی پولس افسران تو درکنار اخلاق کے قتل میں ملوث نوجوانوں کو بھی ان کی حرکت کی قرار واقعی سزا نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس پہلے تو بی جے پی اس  سانحہ کا کھل کر سیاسی  استحصال کیا اور اپنا ووٹ بنک بڑھانے کی مذموم  کوشش کی۔ اس کے بعد اچانک فورنسک لیباریٹری کی رپورٹ سامنے آئی کہ اخلاق کے گھر سے گائے کا گوشت برآمد ہوا تھا۔ یہ عجیب بات ہے کہ جس لیباریٹری نے پہلے گائے کے گوشت کی تردید کی تھی اسی نے اپنی رائے بدل دی۔

اتر پردیش میں چونکہ بی جے پی کے بجائے سماجوادی پارٹی برسراقتدار ہے اس لئے معاملہ کو سنبھالنے کیلئے پولس کی جانب سے یہ صفائی پیش کی گئی کہ جو گوشت کا ٹکڑا لیباریٹری میں جانچ کیلئے روانہ کیا گیا تھا وہ اخلاق کے گھر میں نہیں بلکہ باہر ملاتھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس گوشت کے ٹکڑے کو جو باہر ٹرانسفر کے پاس پڑا تھا کس نے پھینکا؟ نیز جس نے بھی پھینکا اس کو لیباریٹری میں جانچ کیلئے کیوں روانہ کیا گیا؟ اور اس کی رپورٹ کس کے دباو میں تبدیل کی گئی؟اس بابت پولس افسرکا بیان بہت ہی واضح تھا۔ اس نے کہا ہم لوگ اخلاق کے قتل کی تفتیش کررہے ہیں گوشت کی نہیں۔ اس سے قطع نظر کہ گوشت کس مویشی کا تھا کسی شہری کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کا حق نہیں ہے۔ ویسے بھی گائے کا گوشت رکھنے کیلئے سزا ئے موت تو دنیا کا کوئی دستور نہیں دیتا  اور جو سزا عدالت نہیں دے سکتی  اس کو نافذ کرنے کا حق عوام کی بھیڑکو کیسے حاصل ہوسکتا ہے؟ معاملہ یہیں پر ختم نہیں ہوا بلکہ اس رپورٹ کے بعدمحمد اخلاق کے پسماندگان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئی اوران کا میڈیا ٹرائل شروع ہوگیا۔ اخلاق کے قاتلوں کو اگر ابھی تک پھانسی پھندے پر لٹکا دیا گیا ہوتا۔ ساتھ ہی پولس کو اس کی تساہلی کی سزادی گئی ہوتی تو ممکن ہے میوات کا واقعہ رونما نہیں ہوتا۔

 دادری کےبعد گئو بھکتوں کو بالواسطہ یا بلاواسطہ  یہ پیغام دیا گیا کہ انتظامیہ اور حکومت ان کی ہمدرد ہے اور ان کا بال بیکا نہیں ہوگا؟ یہی وجہ ہے کہ دادری  کے سانحہ کی  تمامتر مخالفت کے بعد بھی  ملک میں کئی مقامات پرگائے کے نام پر قتل و غارتگری کا بازار گرم رہا کئی لوگ  غنڈوں کے ہاتھوں قتل ہوئے اورکئی تعذیب و تشدد کا شکار ہوئے لیکن ان جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو یا تو سزا نہیں ہوئی  یا اس کی خبرذرائع ابلاغ کی زینت نہیں بنی تاکہ دیگر لوگوں کی حوصلہ شکنی ہو اور وہ اس سے عبرت پکڑیں۔ وزیراعظم نے ایک نوٹنکی بیان دیا جس کو فی الحال دنیا میں کوئی سنجیدگی سے نہیں لیتا اس لئے کہ ان اعتباریت صفر ہوچکی ہے۔

 اس کے برعکس ہریانہ کے وزیرتعلیم رام بلاس شرمابڑے فخرکےساتھ ان قابلِ شرم پر تشدد واقعات کی تعریف و توصیف بیان کرتےہوئے  کہتے ہیں ہریانہ گائے سے محبت کرنے والوں اور گیتا کی سرزمین ہے۔ ہندوسماج میں گائے کا بڑا تقدس ہے۔ کا ش کے شرما جی انسانی جان اور عزت و آبرو کے تقدس کی بابت بھی کچھ تعلیم دیتے یا شاید گیتا کے اندر ان کو اس بابت کوئی ہدایت ہی نہیں ملی۔ وزیر تعلیم  کے اس تبصرے کا تعلق اس  سے دوہفتہ قبل پیش آنے والے ایک بھیانک واقعہ سے ہے جس میں دولوگوں کو غنڈوں نے پکڑا۔ ان پر گائے کی اسمگلنگ کا الزام لگایا اور انہیں گوبر کھانے پر مجبور کیا۔ ان جنونیوں کے پاگل پن کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے خود اس کی ویڈیو بنا کر پھیلائی  جو شرما جیسے لوگوں کی حوصلہ افزائی اور تحفظ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

عقل کا تقاضہ تو یہ ہے کہ گائے کو مقدس ماتا ماننے والے اس کا گوبر کھائیں لیکن یہ تو الٹی منطق ہے کہ یہ گوبر دوسروں کو کھلاتے ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ پوتر گائے مرتے ہی غیر مقدس کیوں کر ہوجاتی ہے؟ اس کا انتم سنسکار کرنےکیلئے اچھوتوں کوکیوں بلایا جاتاہے۔ ایسےوفا شعار  سپوت تو دنیا نے کبھی نہیں دیکھے۔ وزیرتعلیم نے اس تبدیلی کا سہرہ اپنی سرکار کے سر باندھتے ہوئے کہا  کہ صوبائی حکومت کے وضع کردہ نئے قوانین کے سبب لوگوں فکر میں بڑی تبدیلی واقع ہوئی ہے اور  مقدس جانور کے تقدس میں اضافہ ہوا ہے۔ وزیر تعلیم کا یہ دعویٰ صد فیصد درست ہے اس کا ایک نتیجہ تو گوبر والا واقعہ ہے اس کے بعد کرنال میں ایک شخص کو گائے کی اسمگلنگ کا الزام میں قتل کردیا گیا۔ آگے چل  گئو رکشک پولس سے بھی بھڑ گئے اوردونوں کے درمیان  گولیوں کا تبادلہ ہوا۔ میوات کا بہیمانہ قتل اور عصمت دری اسی سلسلے کی کڑی ہے جس پر وزیرتعلیم ناز فرماتے ہیں۔ یہ گئو بھکت اگر گائے کا دودھ پینے کے سبب اپنے آپ کو گائے کا بیٹا کہتے ہیں تو جن لڑکیوں کی انہوں نے عصمت دری کی ہے وہ بھی گائے کا دودھ پیتی تھیں اس حوالے سے وہ ان کی بہنیں ہیں۔ گیتا کا گیان رکھنے والے وزیر تعلیم رام بلاس شرما یہ بتائیں کہ کیا بھگوت گیتامیں اپنی بہنوں کی عزت لوٹنے  کی بھی ترغیب دی گئی ہے؟

25 اگست کی صبح کو یہ گھناونا واقعہ منظر عام پر آیا اور 26 اگست کو اس پر پردہ ڈالنے کی خاطر اور اپنے آپ کو اہنسا کا علمبردار ثابت کرنے کیلئے ہریانہ سرکار نے اسمبلی کےاجلاس کاافتتاح برہنہ جین منی ترون ساگر سے کروایا۔ اپنے کڑوے پروچن کیلئے مشہور جین منی نے اس واقعہ کے حوالے سے وزیراعلیٰ اور انتظامیہ پر تنقید کرنے کے بجائے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی تعریف و توصیف سے تقریر کا آغاز کیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کل یگ کا سنیاسی بھی کس قدر سیاسی ہوگیا۔ اہنسا کا دم بھرنے والوں کو ایسا واضح ظلم بھی نظر نہیں آتا یا وہ اس پر لب کشائی جرأت اپنے اندر نہیں پاتے۔

 جین منی نے مودی جی  کی تعریف کرتے ہوئے کہا ان کی بیٹی بچاو بیٹی پڑھاو تحریک کا اثر یہ ہے کہ اولمپک میں قوم کی بیٹیوں نے ملک کی عزت بچائی۔ بیٹیاں نے تو خیرقوم کی عزت بچا رہی ہیں لیکن  افسوس کےجو قوم ان  بیٹیوں کی عزت لوٹ رہی ہے ان کی بابت ترون ساگر کی زبان سے ایک لفظ نہیں پھوٹا۔ ترون ساگر اگر بھارت ماتا  کے ان سپوتوں کو بھی کوئی نصیحت کرتے کہ جو ہر بار باربہو بیٹیوں کی آبرو ریزی  کرتے پھرتے ہیں تو اچھا تھا۔ قوم کی بیٹیوں نے تو خیر ملک کا نام روشن کیا حالانکہ اس کا بیٹی بچاو اوربیٹی  پڑھاو سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس لئے یہ ناموری تعلیم کے نہیں بلکہ کھیل کے میدان میں حاصل کی گئی ہے۔ ممکن ہے سرکار کی طرح جین منی کیلئے بھی تعلیم اور کھیل تماشہ  میں کوئی فرق نہ ہو۔

جین منی  نے ہریانہ میں مردوں کی بہ نسبت کم ہوتی خواتین کی تعداد پر تشویش کا ظہار کرتے ہوئے کئی نادر اور ناقابلِ عمل  مشورے دئیے نیز وزیراعلیٰ اور کھیل منتری کی چٹکی لی کہ انہوں نے شادی ہی نہیں کی وہ لڑکیاں کیسے پیدا کریں گے۔ کاش کے منی جی یہ بھی بتاتے کہ خود انہوں نے کتنے بچے پیداکئے ہیں۔ اپنی  اولاد سے محروم یہ غیر فطری زندگی گزارنے والے لوگ بھلا دوسروں کی اولاد کا دکھ درد کیوں کر محسوس کرسکتے ہیں ؟  اپنی تقریر پر تالیاں پٹوانے کیلئے جین منی نے پاکستان کے حوالے سے کہا  جوانجانے میں غلطی کرے وہ جہالت (اگیان ) ہے۔ جو انجانے اپنی غلطی کو دوہرائے وہ نادان ہے اور جو دو سے زیادہ بار وہی غلطی کرے وہ شیطان ہے اور ایسا کرنے والا پاکستان ہے  اور جو اس کو معاف کرتا رہتا ہے وہ ہندوستان ہے۔ منی جی ہندوستان صرف  پاکستان کو معاف نہیں کرتا بلکہ اپنے ملک کے شیطانوں کی عزت افزائی بھی کرتا ہے اور ان کو مسندِ اقتدار پر بھی فائز کرتا ہے۔ اسی لئے آپ جیسے لوگوں اسمبلی میں آکر پروچن سنانے کا نیز ان کی حمایت کرنے کا موقع ملتا ہے اور میوات جیسےسنگین  مظالم وقوع پذیر ہوتے رہتےہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close