ہندوستان

دلتوں پر مظالم کے بڑھتے سلسلے!

مرکز اوروزیر اعظم کی زبان پر کیوں پڑے ہیں تالے؟

ڈاکٹراسلم جاوید
بی جے پی کے زیر اقتدارریاست گجرات کے اونا سے شروع ہونے والے دلتوں پر برہمنی مظا لم کاسلسلہ مدھیہ پردیش اورہریانہ ہوتے ہوئے اتر پردیش اوربہار تک پھیل چکاہے۔اس اثنا میں گزشتہ جمعہ کے روز پارلیمنٹ میں انسانی حقوق کے طرفداروں نے آوازیں بھی بلند کیں۔ مگروزیر اعظم اوروزیر داخلہ سمیت بیشترمرکزی وزراکے ہونٹوں پر تالے پڑے رہے۔کانگریس اوردیگر سیکولر جماعتوں نے اونا میں رونما ہونے والی برہمنی دہشت گردی کیخلاف احتجاج درج کرائے اوردلت برادری کے لوگوں کے ساتھ جس قسم کی وحشیانہ حرکت انجام دی گئی ہے اس کی سی بی آ ئی جانچ کا مطالبہ بھی کیا ۔مگر وزیراعظم یا مرکز کے کسی ذمہ دار وزیر کی جانب سے اس ظلم و بربریت کی مخالفت میں ایک لفظ نہیں کہا گیا۔یہیں سے یہ بات آ ئینہ کی طرح صاف ہوجاتی ہے کہ اس وقت مرکز میں زیر اقتدار این ڈی اے سرکار کس کی مٹھی میں قید ہے اور کس طاقت کے ہاتھوں میں مودی حکومت کی نکیل پڑی ہوئی ہے۔ہندوستان میں اس وقت دلتوں کے ساتھ جس قسم کی جارحانہ دہشت گردی کی مظاہرہ کیا جارہا ہے اگر اس کی گہرائی میں جھانکنے کی کوشش کریں تو معلوم ہوگا کہ ملک کے اس پچھڑے طبقہ پر برہمنی مظالم کی تاریخہزاروں برس پرانی ہے۔جب کبھی دلتوں پر اعلیٰ ذات کے انتہاپسندوں کی جانب سے مظالم کی یلغار ہوتی ہے، اس وقت کچھ لوگ اس کیخلاف ضرور کھڑے ہوجاتے ہیں اور مظالم کیخلاف احتجاج یا مظاہرہ کی قیادت کرنے والے لوگ لیڈربن کر ابھرنے میں آسانی سے کامیاب بھی ہوجاتے ہیں۔مگر اجمالی طور پر دلتوں کو کیا ملتا ہے یا دلتوں کے نام پر اقتدار کے مزے لوٹنے والے لوگ کرسی ملنے کے بعد دلتوں کو طاقت پہنچانے یا انہیں استحکام بخشنے کیلئے کیا کرتے ہیں اس وقت یہ سوال رام ولاس پاسوان،رام داس اٹھاولے اور مایا وتی سے پوچھنا چاہئے۔مجھے یقین ہے کہ اس وقت دلتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے مظالم چاہے وہ گجرات میں انجام دیے گئے ہوں،یامدھیہ پردیش ،اتر پردیش ،ہریانہ یا بہار میں یہ سوال سنتے ہی دلتوں اور پچھڑوں کی سیاست کرنے والے لیڈران کے چہرے کا رنگ بدل جائے گااورپھاڑکھانے والے درندے کی طرح آ پ پرالٹاالزام تراشیاں شروع کردیں گے۔بس یہی حالات اس جانب رہنمائی کرتے ہیں کہ ملک کے اقتدار کی باگ ڈورہماری بدقسمتی سے کن طاقتوں کے ہاتھوں کی رکھیل بنی ہوئی ہے۔مگران شرمناک واقعات پر ماتم کرتے ہوئے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جب کبھی اشرافیہ طبقہ کو کسی سیاسی نقصان کا اندیشہ لاحق ہوتا ہے تو اسی وقت برہمنی استعمار کے ٹھیکیدار ہندو،ہندو بھائی بھائی کا نعرہ لگا کر دلتوں کواقلیتوں کیخلاف آ سانی کے ساتھ استعمال کرلیتے ہیں۔چناں چہ آزادی کے بعد ہندو مسلم فسادات میں قاتلوں کی شکل جس ہندو طبقہ کو مسلمانوں کے سامنے کیا جاتا رہا ہے، وہ یہی دلت طبقہ ہے۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ضرورت پڑنے پر تو برہمن قوتیں آسانی کے ساتھ دلتوں کو اپنے ساتھ کرلیتی ہیں اور انہیں استعما ل کرلینے کے بعد ایسے رشتہ توڑ لیتی ہیں جیسے کہ وہ انہیں جانتی ہی نہیں ہوں۔مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اس برہمنی سازش کو اب تک دلت لیڈروں نے سنجیدگی سے نہیں لیا ہے ،بلکہ دلت مسلم کارڈ صرف اقتدار پانے کیلئے کھیلا جاتا رہا ہے۔لہذا دلت برادران وطن کو اب اپنے اورغیروں کے بارے میں چھان پھٹک کر مثبت فیصلہ لینے کا وقت آ گیا ہے۔اگر اب بھی ملک کے دلتوں نے برہمنی طاقتوں کی سازش میں استعمال ہونے کی حماقت کی تو یاد رکھئے! کہ پانی سر سے اوراونچا چلاجائے گا اورتین فیصد اعلیٰ ذات کی غلامی ہمیشہ کیلئے آ پ کی تقدیر بن کررہ جائے گی۔یہ بات قطعی فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ دلتوں کو نیچے رکھنا اوران کے ساتھ تیسرے درجہ کے شہری جیسا سلوک روا رکھنا برہمنی تعلیمات کے مذہبی عقائد کا حصہ ہیں،جسے کوئی بھی قانون بناکر ختم نہیں کیا جاسکتا،بلکہ اس کے خاتمہ کیلئے ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جس سے آئین ساز اداروں میں آپ کوخود مختاری حاصل ہو اور آ پ اپنے تحفظ اور آزادی کیلئے مضبوط راہیں ہموار کرسکیں اوراپنے خلاف روارکھے جانے والے مظالم کا سرکچلنے کیلئے قانون کا استعمال کرسکیں۔ورنہ صورتحال یہی رہی تو مٹھی بھراعلی ذات کے لوگ اسی طرح آپ کے سینے پر مونگ دلتے رہیں گے اوران کے مظالم اوردرندگی کا شکارہونا آپ کی مجبوری بن کر رہ جائے گا۔ برہمنی طاقتیں اپنے علاوہ کسی کو بھی کچھ دینے کاارادہ نہیں رکھتیں۔یہ لوگ پچھڑوں و دلتوں کو کسی بھی سطح پر کہیں بھی حصہ نہیں دینا چاہتے ہیں،جب جب پچھڑوں اور دلتوں نے اپنی حصہ داری کی مانگ کی تو ان برہمن واد ی طاقتوں نے ہندو مسلم فساد یا بابری مسجد جیسے مدعوں کو اٹھا کر پورے ملک میں فرقہ وارانہ ماحول بنا کر پچھڑوں دلتوں کو بیوقوف بنا یا اور اپنا مفاد حاصل کیا۔یہ انسانیت سوز تماشہ ہم آزادی کے بعد سے مسلسل دیکھتے آ رہے ہیں۔دلتوں پر ظلم، کھلے عام ان کی خواتین کو برہنہ کرکے گھمانا، عصمت دری کرنا،پچھڑوں کو حقارت کے نظر سے دیکھنااور وقتا فوقتاپچھڑوں دلتوں کا استحصال کرنااور انہیں کے ہاتھوں سے مسلمانوں کا قتل کرانا۔یہ سب کھلے عام ہونے کے بعد بھی مرکزی اور ریاستی حکومت کے ذریعہ کاروائی نہ کئے جانے سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اقتدار میں پوری پکڑبرہمن واد کی ہے۔یہی وجہ ہے کہ69برس بعد بھی آج دلت وپچھڑے پھٹے حال زندگی گزار رہے ہیں۔جبکہ 3فیصد اعلیٰ ذات والے ملائی کاٹ رہے ہیں۔جب تک برہمن وادی طاقتوں کی سازش کا ادراک نہیں کیا جائے گا اوراس کا مکمل خاتمہ نہیں کیا جائے گا، تب تک پچھڑوں اور دلتوں کا بھلا نہیں ہو گا۔قابل ذکر ہے کہ ہندوستان میں دلتوں کی آبادی 16 فیصد ہے۔ مؤرخین دلتوں کوہی ملک کا اصل باشندہ قرار دیتے ہیں۔ تاریخی اور سماجی اعتبار سے وہ ہندو مذہب کا ہی حصہ ہیں، لیکن ہندوؤں کے ذات پات کے نظام میں انہیں تمام ذاتوں سے نیچا قرار دیا گیا اور غلاظت اورگندگی کے سارے کام انہیں سونپ دیے گئے۔ انہیں اچھوت قرار دیا گیا۔گذشتہ ڈھائی ہزار برس سے ہندوستان میں دلتوں کے خلاف پورے تسلسل کے ساتھ جس طرح کا غیر انسانی رویہ اختیار کی جارہی ہے اور جس طرح کی تفریق برتی جارہی ہے، شاید دنیا کی کسی تہذیب میں اس کی مثال نہیں ملے گی۔ دلت دانشوروں کا کہنا ہے کہ ذات پات پرمبنی اس برہمنی نظام میں دلتوں کے خلاف تفریق، نفرت اور غیر انسانی برتاؤ کو مذہب کا تقدس حاصل تھا۔ لوگ مذہبی فریضہ سمجھ کر دلتوں کیساتھ تفریق برتتے رہے ہیں۔ہم پہلے بھی اس برہمنی عقیدے کی جانب اشارہ کرچکے ہیں۔آزادی کے بعد جب ایک جمہوری آئین اختیار کیا گیا تو دلتوں کو بھی برابر کا حق ملا۔ ملک کے دور اندیش اور جمہوریت پسند رہنماؤں نے صدیوں کے مظالم اور جبر کے اثرات کو زائل کرنے کیلئے دلتوں کو پارلیمنٹ، اسمبلیوں اور تعلیمی اداروں میں ریزرویشن دیا تاکہ وہ اوپر آ سکیں، لیکن ریزرویشن کے ساتھ ساتھ یہ شرط بھی عائد کر دی گئی کہ دلت اگر دوسرا مذہب اختیار کرتے ہیں تو ریزرویشن کی مراعات ان سے لے لی جائیں گی۔ اس کا مقصد انھیں ہندو مذہب ترک کرنے سے روکنا تھا۔تاکہ ریزرویشن کے حق سے محروم ہونے کا خوف انہیں تبدیلی مذہب سے روکے رہے اوراعلیٰ ذات کے مظالم کا اسی طرح شکار ہوتے رہیں۔بہرحال آزادی کے 65 برس بعد ریزرویشن اور جمہوری آئین کی بدولت دلت اوپر آ رہے ہیں۔ پہلی بار دلتوں میں ایک بااثر، اور تعلیم یافتہ مڈل کلاس پیدا ہوا ہے۔ فیس بک، واٹس ایپ، یو ٹیوب، ٹویٹر اور انسٹاگرام جیسے سوشل میڈیا نے انقلاب برپا کردیا ہے۔ آج گجرات کے ظلم کی ویڈیو لمحوں میں پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔(فرید آباد) ہریانہ کے واقعے پر بہار اور اتر پردیش میں مظاہرے ہونے لگتے ہیں۔ دلتوں پر مظالم کے خلاف احتجاج کی بازگشت پارلیمنٹ کے ایوانوں میں گونجتی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس ایک عرصے سے دلتوں کو ہندو مذہب کے اصل دھارے میں لانے کے لیے سخت کوشاں ہیں۔ لیکن سیکولر، دلت دانشوروں اور کارکنوں کا خیال ہے کہ آر ایس ایس کا ہندوتوا کا تصور بنیادی طور پر اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کی اجارہ داری کی کمزور پڑتی ہوئی گرفت کو مضبوط کرنا ہے۔سنگھ کی اس دوغلی سوچ کو تدبر کے ساتھ سمجھنا ہو گا ،تاکہ برہمنی فریب کا شکار ہونے سے پورے معاشرہ کو محفوظ رکھا جاسکے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

اسلم جاوید

1967ڈاکٹر اسلم جاوید نے ہاپوڑکے ایک معززخاندان میں ڈاکٹرالحاج نصیراحمد صاحب کے گھرمیں آنکھیں کھو لیں ۔ 1989میں آیوروید اینڈ یونانی طبیہ کالج قرول باغ دہلی سے بی یوایم ایس کی تعلیم مکمل کی۔ مسیح الملک حکیم اجمل خان میموریل سوسائٹی کے بانی وجنرل سکریٹری ہیں۔ ملک وبیرون ملک معیاری روزناموں، ماہنامو ں اوردیگر طبی رسالوں میں کاوش قلم شائع ہوتی رہی ہیں۔ 2012 سے ماہنامہ ’ریکس طبی میگزین ‘کے مدیراعلی کے طورپرتحریری خدمات انجام دے رہے ہیں۔ میگزین کی اشاعت عالمی شہرت یافتہ یونانی دواساز کمپنی ریکس ریمیڈیزپرائیویٹ لمیٹیڈ کے کلی تعاون سے ہورہی ہے۔ علاوہ ازیں سوسائٹی کے زیراہتمام منعقد ہونے والے سیمیناروں اورتقسیم ایوارڈ تقاریب کے موقع پرایک معیاری اور مفید ترین سووینرکی اشاعت بھی ان کے زیرادارت ہی ہوتی ہے۔ طبی خدمات کی تائید و اعتراف میں سری لنکاکی کولمبو یونیورسٹی کی جانب سے جنوری2012میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازاگیا۔

متعلقہ

Close