ہندوستان

دن آتا ہے آزادی کا آزادی نہیں آتی

اسجد عقابی

’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمار ا‘‘ علامہ اقبال نے اس نظم کو ایسے دور میں لکھا تھا جب ہندوستان پر انگریزوں کی حکومت تھی اور ہندوستان ٹکڑوں میں تقسیم نہیں ہوا تھا، اس وقت ملک کے انصاف پسند لوگوں کا سب سے بڑا مشن انگریزی حکومت کا خاتمہ تھا، اس مشن کو لیکر پورے ہندوستان کا چکر لگایا گیا اور عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ ہندوستان ہمارا ملک ہے۔ ہم اس دھرتی کے رکھوالے ہیں، ہمارے آباء و اجداد نے اپنے خون جگر سے اسے سینچا ہے، یہی ہمارا ملک ہے جو کبھی سونے کی چڑیا کہلاتا تھا لیکن اب انگریزوں کی حکومت میں کنگال ہوگیا ہے۔ اگر ہم انگریزوں کے خلاف متحد ہو کر کھڑے نہیں ہوئے تو ہمیں اسی طرح محکومیت میں جینا پڑے گا۔ ہم اپنے حقوق تک مانگنے کیلئے آزاد نہیں رہیں گے، ہم پر ظلم و ستم کا پہاڑ ٹوٹتا ہی رہے گا، کوئی دوسری مخلوق آکر ہمیں نجات نہیں دلائے گی بلکہ ہمیں خود آگے آنا ہوگا اور ملک کو فرنگیوں کے ناپاک قدم سے پاک کرنا ہوگا اگر ہم آج انگریزوں کے خلاف میدان جنگ میں آگئے تو پھر سے یہ ملک ہمارا ہوگا۔ ہمارے اپنے قانون ہوں گے، ہر طرح کی مذہبی آزادی میسر ہوگی، کسی کے ساتھ بھید بھاؤ نہیں کیا جائے گا، کوئی مالک اور کوئی غلام نہیں ہوگا، چھوت چھات کا مسئلہ ختم ہوجائے گا، محض خاندانی شرافت اور بڑکپن کی وجہ سے کوئی قانون سے بالاتر نہیں ہوگا اور نہ جانے کتنے ایسے سپنے تھے جسے بابا صاحب امبیڈکر، مولانا ابو الکلام آزاد اور گاندھی جی نے دیکھا تھا۔ لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کرکے جیل بھرو تحریک چلاکر شاہ عبدالعزیز سے شاہ اسماعیل شہید تک، نواب سراج الدولہ سے ٹیپو سلطان تک، بہادر شاہ ظفر سے خان اشفاق اللہ تک، حاجی امداد اللہ سے شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی تک، منگل پانڈے سے بھگت سنگھ تک، بکسر آرہ کی جنگ سے پانی پت  اور شاملی کے میدان تک سرفروشان وطن کا ایک بڑا قافلہ گزرا ہے جن کی لاتعداد قربانیوں کے صدقہ میں ہمیں آزادی ملی۔ ہاں ہمیں آزادی ملی، واقعتاً ہمیں آزادی مل گئی، لیکن ہم آزادی کے بھرم کو برقرار نہیں رکھ پائے، ہمارے ملک ہندوستان میں آزادی کا مفہوم تبدیل کردیاگیا۔ آزادی تو مل گئی لیکن ہمیں نہیں بلکہ ان نام نہاد وطن پرستوں کو جو انگریزوں کو گارڈ آف آنر پیش کیا کرتے تھے، ان گائے کے رکھوالوں کو جن کی نظر میں ایک انسان کی کوئی وقعت نہیں ہے، کیا آزادی کا مفہوم یہی تھا کہ ہمارے ملک کی جنت ارضی جہنم ارضی بن جائے جو کھیل بھاگلپور سے شروع ہوا تھا گجرات ہوتے ہوئے آسام اور پھر مظفر نگر تک پہونچا ہے۔ یہاں آزادی ملی ان درندوں کو جو ماں کا پیٹ چیر کر بچوں کو ہوا میں اچھال کر تلوار بازی کی مشق کیا کرتے ہیں، لیکن ان معصوم کی آزادی کا کیا ہوا جو برباد کردیئے گئے، کیا اس بیوہ کو آزادی ملی جس کے شوہر کے قاتلوں کو کوئی سزا نہیں ملی ؟ نہیں شاید ایسا نہیں ہوا اور ایسا ہونا بھی نہیں چاہئے کیونکہ آزادی تو ان درندوں کو ملی تھی، جب آزادی مل گئی پھر قید کس بات کیلئے۔ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے، تھوڑا اور وقت دیجئے، گائے کے نام پر مسلمانوں کا استحصال شروع ہوا، گائے ماتا کے رکشک تھے آزاد ہندوستان کے باسی تھے، مطلب خود بھی آزاد تھے، دادری سے ابتدا ہوئی جھارکھنڈ میں دو افراد کی جان گئی راجستھان کے ریلوے اسٹیشن پر دو عورتوں کو مارا گیا پھر گجرات کے شہر اونا میں مردہ گائے کی کھال اتارنے کے جرم میں دلت طبقہ کے افراد کو بری طرح زد و کوب کیا گیا، یہ مسلمان تو تھے نہیں اور نہ ہی ان کی قیادت مسلمانوں کی طرح ٹکڑوں میں تقسیم ہے، دلت نے ایسا ہلہ بولا کہ ہمارے وزیراعظم صاحب جو ہمیشہ  mode  flight پر رہتے ہیں mode  speaking پر آگئے۔ کم از کم ہمارے وزیراعظم نے ایک جذباتی بیان تو دیا، لیکن یہاں ایک بھول ہوگئی کہ یہ تو آزاد ملک ہے، وزیراعظم صاحب کے بیان کا کچھ اچھا اثر گائے کے رکھوالوں پر نہیں ہوا اور وہ وزیراعظم کے ہی خلاف متحد ہوگئے اور انہیں لگا کہ یہ تو ہماری آزادی پر حملہ ہے، جبکہ ہم ایک آزاد ملک کے سپوت ہیں، آزادی کا مطالبہ ہم نے کیا تھا لیکن فائدہ نہیں بلکہ ناجائز فائدہ کوئی اور اٹھا رہا ہے، ہمارے ملک کا دستور تو ہمیں واقعی آزادی دیتا ہے، یہ تو ہمارے ملک کا قانون نہیں ہے کہ کسی جانور کے بدلے انسان کی جان لے لی جائے، ہمارا دستور اس بات کیلئے تیار نہیں ہے کہ کسی معصوم کو جلا دیا جائے، بھید بھاؤ کا کوئی خیال ہمارے دستور میں نہیں ہے، چھوت اچھوت کو ختم کردیا گیا ہے، مگر وہ چیز جو ہمیں ہماری آزادی سے دور کر رہی ہے وہ ہمارے دستور کے پاسبان ہے، جو ملک کے قائد بنے بیٹھے ہیں، جو قانون بنانے والے ہیں وہی قانون توڑ نے والے بن گئے، جنہیں غریب عوام نے اپنا ووٹ دیکر اپنا مسیحا سمجھ کر حکومت سونپا تھا آج وہی لوگ غریبوں کے پیٹھ میں چھرا مار رہے ہیں، جب تک ملک کے راہنما اپنی نیت میں صاف نہیں ہوں گے، جب تک بھید بھاؤ کا تصور ختم نہیں ہوگا تب تک ہمیں آزادی کاغذات پر تو خوش نما لگے گی لیکن عملی زندگی میں ہم آزادی سے بہت دور ہوں گے۔ گزشتہ ستر سال میں جس طرح اقلیتوں کا استحصال ہوا ہے اور انہیں تختہ مشق بنایا گیا ہے یہ کسی بھی آزاد ملک کیلئے ایک بد نما داغ ہے، خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ جو سوتیلا سلوک روا رکھا گیا ہے اور ہر طرح سے مسلمانوں کو پیچھے رکھنے کی کوشش ہوئی ہے، دلت پر ہوئے مظالم کے خلاف تو بہت ساری زبانیں باہر آجاتی ہے لیکن مسلمانوں پر زیادتی اور نا انصافی کے خلاف کوئی کھڑا نہیں ہوتا ہے۔ اگر آج بھی ہم اپنے ملک کے دستور کے مطابق عمل کرنا شروع کریں اور قانون کے پاسبان قانون پر سختی سے عمل پیرا ہوجائے، بے لگام ہوتے درندوں پر لگام کسا جائے، تو شاید امید جاگ جائے کہ ہمیں آزاد ملک کا آزاد دستور نصیب ہیلیکن ماحول اور حکومت کی بے حسی اس امر کی جانب مشیر ہے کہ معاملہ میں الجھاؤ تو مزید پیدا ہوسکتا ہے لیکن سلجھاؤ کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے، پھر ہم کیسے کہہ دیں سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمار۔ کیسے کہدیں کہ ہم آزاد ہیں کیسے تسلیم کرلیں کہ ہم اسی آزاد دیش میں جی رہے ہیں جس کی آزادی کے لئے گاندھی نے عدم تشدد کی تحریک چلائی تھی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close