ہندوستان

دیوبند جو مظفر نگر بنتے بنتے رہ گیا

حفیظ نعمانی
اتر پردیش کی حکومت نے دیوبند میں وہ نہیں ہونے دیا جو پورے صوبہ میں ہندو تنظیمیں جو چاہتی تھیں اور جب چاہتی تھیں کرتی تھیں ۔دیوبند میں بھی کیرانہ کی طرح 32خاندانوں کی نقل مکانی کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے ایک پد یاترا نکالنے کی اجازت مانگی تھی جو نہیں دی گئی تھی ۔ہندو تنظیموں نے اعلان کر دیا تھا کہ وہ پدیاترا ضرور نکالیں گے اور اپنے بڑے لیڈروں سنگیت سوم ،سریش رانا اور دوسرے بڑے لیڈروں کی شرکت کا اعلان بھی کردیا تھا جس کی وجہ سے یقین تھا کہ وہی ہوجائیگا جو مظفر نگر میں ہوا تھا ۔وہاں بھی کہانی یہی تھی کہ کھاب پنچایت کی اجازت مانگی تھی ۔حکومت نے اجازت نہیں دی اور دفعہ 144لگا دی ۔جاٹوں نے دفعہ 144کو ٹھوکر پر ماراور اپنے اسلحہ کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں جمع ہو کر پنچایت میں زہر افشانی کی حکومت نے یا مقامی افسروں نے یہ سمجھا کہ اگر اتنے بڑے مجمع کو چھیڑ یں گے تو حالات قابو سے باہر ہوجائیں گے وہ پنچایت ہوجانے دی اور ان کی حماقت اور ہندو نوازی کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب ملائم سنگھ کو مغربی اضلاع میں وہ پیار نظر نہیں آرہا جو ہمیشہ انکے ساتھ رہا ہے ۔
دیوبند میں حکومت نے اس یاترا کی اجازت نہیں دی ۔اور جب یہ کہا گیا کہ پد یاترا ہر حالت میں ہوگی تب مظفر نگر یاد آیا ۔اور پولیس کی چھاؤنی بنا دی ۔اور دیوبند میں پولیس کے ہر شعبہ کے مسلح جوان سڑکوں پر اتار دئے ۔پدیاترا کے حامیوں نے پھر یہ کہا کہ وہ گورنر کے نام ایک میمورنڈم ایس ڈی ایم کی عدالت میں جاکر انکو دینا چاہتے ہیں ۔افسروں نے اس سازش کو بھی سمجھ لیا ۔اور کہا میمورنڈم لائیے افسران اسے وصول کرکے گورنر صاحب کو بھجواد یں گے ۔
جس وقت مظفر نگر میں مسلمانوں کے ساتھ موت کا کھیل کھیلا گیا ۔اس وقت بھی اکھلیش یادو کی حکومت تھی لیکن لوک سبھاکے الیکشن ہونے والے تھے اسلئے حکومت نے افسروں کو زیادہ سختی کرنے سے روک دیا ۔اور اب صوبہ کے الیکشن ہونے والے ہیں ۔لیکن جو ہندو تنظیمیں پد یاترا نکالنا چاہ رہی تھیں انہیں یہ غرور ہے کہ مرکز میں انکی حکومت ہے ۔اور اسی غرور کا نتیجہ تھا کہ اجازت نہ ملنے کے بعد بھی وہ بضد تھے کہ پد یاترا نکالیں گے ۔اور کیرانہ کے346کی نقل مکانی کا ڈرامہ ناکام ہوجانے کے بعد اب اتنے بڑے دیوبند سے 32ہندو خاندانوں کی نقل مکانی کوہی مسئلہ بنائیں گے ۔اور ہمارا خیال ہے کہ وہ نشانہ دار العلوم کو بنائیں گے کہ دو مدرسوں کے دس ہزار سے زیادہ لڑکوں کی وجہ سے ہندو دیوبند چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں ۔
اب یہ نقل مکانی کا مسئلہ تو ایسا ہے کہ ہر شہر ہر قصبہ اور انتہا یہ ہے کہ ہر گاؤں میں نقل مکانی ہوتی ہے ۔وہ ہندو ہوں ،مسلمان ہوں یا سکھ ۔جسے روزی روٹی کے لئے ملک میں جو شہر اچھا لگتا ہے یا جہاں کہیں لڑکوں کو اچھی ملازمت مل جاتی ہے رفتہ رفتہ پورا خاندان وہیں منتقل ہو جاتا ہے ۔ہمارے بھائی اپنے دو بچوں کے ساتھ چالیس برس سے لندن میں ہیں ۔ہمارے چھوٹے بھائی ممبئی منتقل ہوگئے ایک بیٹا سعودی عرب میں اور ایک دہلی میں ہے ۔تو کیا ہمیں یہ حق ہے کہ ہم لکھنؤ کے ہندوؤں کے خلاف پد یاترا نکالیں کہ ہمارے سب بھائی اور اولادوں کو واپس لاؤ ۔اور یہ تو سب سے اہم مسئلہ ہے کہ جو نقل مکانی کرکے بہار اڑیسہ یا اتر پردیش سے ممبئی جاتے ہیں انکا کیا ہوگا ؟انکے شہر وں قصبوں اور تحصیلوں میں نقل مکانی کی وجہ سے جلوس نکلیں گے ۔اور ممبئی میں ٹھاکر ے پریوار اور انکی سینا اتر باسیوں کو وہاں رہنے نہیں دے گی کہ مہاراشٹر صرف مرہٹوں کا ہے اور ہر کام مرہٹہ کریں گے ۔تو اسکے لئے کون پد یاترا کریگا ۔؟
ہم بھی سوچتے ہیں اور مسلمانوں کے اپنی اپنی پارٹی کے لیڈروں کو مشورہ دیتے ہیں کہ قبل اسکے کہ نقل مکانی کا مسئلہ ملک گیر بن جائے ۔اسکے تدارک کے لئے کوئی مشاورتی جلسہ کر لینا چاہئے ۔اور مسلمانوں کو اس بلا سے محفوظ رکھنے کے لئے حکومتوں کو کچھ تجاویز دینا چاہئیں ۔جیسے مسلمانوں کو یہ حق ہو کہ جو ہندو گھر چھوڑ کرجانے کا ارادہ کرے اسے اسکے گھر میں ہی پڑوس کے مسلمان قید کردیں ۔اور تھانے میں رپورٹ لکھوائی جائے کہ اسے جانے سے روکا جائے اور اگر پو لیس اجازت دے تو اس سے حلف نامہ لکھوا کر تھانے کے رکارڈ میں رکھ لیا جائے کہ وہ اپنی خوشی سے شہر چھوڑ رہا ہے جسکا ثبوت تھانے میں موجود ہے یا اس کے علاوہ اور کوئی ایسا ثبوت کہ جب کہیں نقل مکانی کا فتنہ کھڑا ہوتو مقامی پولیس پریس کو وہ سارے ثبوت دکھادے کہ ان ہندوؤں کو کسی نے بھگایا نہیں ہے ۔
ہم نے لکھا تھا کہ 1969میں احمدآباد کے جے بھارت کلاتھ مل میں مزدوروں میں آپس میں جھگڑا ہوا تھا ۔یہ وہ زمانہ تھا جب پرانے طرز کی مشینیں ہو اکرتی تھیں اور ایک ایک مشین پر دس اور بیس آدمی کام کرتے تھے جے بھارت کلاتھ مل بہت بڑا مل تھا اور کئی مشینیں تھیں ۔وہاں سنبھلی ،رام پور اور اعظم گڑھ کے بہت سے مسلمان کاریگر تھے اور ہندو کاریگر گجراتی تھے ۔مسلمانوں کے کام میں صفائی زیادہ تھی انہیں ترقی بھی جلدی ملتی تھی اور تنخواہ بھی زیادہ تھی یہی تفریق جھگڑے کا سبب بنی اور انجام یہ ہوا کہ اب ان شہروں کا کوئی مسلمان وہاں نہیں ہے ۔اور مل والوں کا فائدہ یہ ہوا کہ وہ نئی خود کار مشینیں لے آئے اب ایک مشین پر صرف دو آدمی کافی ہوتے ہیں ۔عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ جو سو کے قریب مسلمان سنبھل ،رام پور اور اعظم گڑھ کے تھے یہ گئے تو نقل مکانی کرکے تھے لیکن گھر بیچ کر نہیں گئے تھے اس لئے اب اپنے گھروں میں ہیں ۔یہی سلوک ممبئی یا مہارشٹر کے دوسرے شہروں اتر باسیوں کے ساتھ جن میں ہندو زیادہ ہوتے ہیں ممبئی میں ہوتا ہے ۔اور جب وہ واپس آتے ہیں تویا پھر سے چھپر ڈال کر نیا گھر بناتے ہیں یا اپنے ہی کسی رشتہ دار کے گھر میں بسیرا کر لیتے ہیں ۔ابھی نقل مکانی کے فتنہ کی ابتدا ہے اس سے پہلے کہ یہ ایک ملک گیر مسئلہ بن جائے صوبائی اور مرکزی حکومت کو جو بار بار یہ کہہ چکی ہیں کہ پورا ہندوستان ہر ہندوستانی کا ہے ۔وہ چاہے جہاں جائے اور کام کرے ۔اب یہ بھی اعلان ہونا چاہئے کہ جو ہندو اور جو مسلمان جب تک کہیں رہنا چاہے رہے اور جب چاہے چھوڑ کر چلا جائے یہ اسکا ذاتی فعل ہے ۔تو جہ اس پر دی جائے گی جو شکایت تھانے میں درج کرائے کہ اسکے پڑوسی ہندو ہوں یا مسلمان اسے تنگ کر رہے ہیں۔
گجرات میں 2002کے بعد بار بار یہ خبریں چھپی ہیں کہ بہت سے گھر مسلمانوں کے ایسے ہیں جو بند پڑے ہیں ۔انکے مالک مسلمان آنا چاہتے ہیں لیکن پڑوسیوں نے کہہ دیا ہے کہ ہم اپنے پڑوس میں مسلمانوں کو نہیں رہنے دیں گے ۔اور وہ مالک مکان ویرانے میں ترپال ڈالے پڑے ہیں ۔گلبرگ کالونی کے تمام مکین جو زندہ رہ گئے مارے مارے پھر رہے ہیں اور کالونی بھوت بنگلہ بنی ہوئی ہے ۔کیسے ستم کی بات ہے کہ سیکڑوں کروڑ کی کالونی جل کرخاک ہوگئی ہے لیکن کسی جج نے گجرات کی حکومت سے یہ نہیں کہا کہ وہ ہر جانے کے طور پر دو یا تین سو کروڑ روپیہ دے اور اسے جلد سے جلد بنوائے ۔ایک انتہائی خوبصورت کالونی خاک کا ڈھیر بنی ہوئی ہندوؤں اور حکومت کے ظلم کا اشتہار بنی ہوئی ہے اور آئے دن اسی طرح اخبار وں میں چھپ رہی ہے جیسے بابری مسجد کے فوٹو چھپتے رہتے ہیں۔
اور یہ تو پورے ملک کا حال ہے کہ اگر ہندو کا لونی ہے تو مسلمان کو کرایہ پر مکان نہیں دیا جائیگا ۔چھوٹوں کی کیا بات کریں جب ڈاکٹر پروین توگڑیا احمد آباد میں ہندوؤں سے کہیں کہ اگر آپ کی کالونی میں کوئی پڑوسی مسلمان ہے تو اس سے کہو کہ وہ کہیں اور چلا جائے ۔اگر دو چار با ر کہنے کے باوجود بھی نہ جائے تو اسکا سامان پھینکوا دیاجائے ۔جس ملک میں ہندو گردی کا یہ حال ہو وہاں یہ؂ کہنا کہ مسلمانوں کے ڈرسے ہندو مکان چھوڑ کر بھا گ گئے ۔کیسی شرم ناک حرکت ہے ۔اور مرکزی حکومت کہے کہ ہم بحث کے لئے تیار ہیں ۔یعنی یہ ثابت کرنے کے لئے تیار ہیں کہ وزیر اعظم اور سب وزیر ہندو ،وزیراعلیٰ اور زیادہ تر وزیر ہندو ،ہر شہر کا ہر بڑا افسر ہندو اور مقامی تھانوں میں 95فیصد ہندو اور قصبہ میں اکثریت مسلمانوں کی وہ بھی غریب مسلمان لیکن ہندو اتنے بزدل کہ ڈر کر اور گھر ہی نہیں شہر چھوڑ کر بھاگ گئے ۔اور مرکزی حکومت اس پر بحث کریگی کہ واقعی ہندو اتنے بزدل ہیں کہ جہاں وہ کم ہوں وہ وہاں سے ڈر کی وجہ سے بھاگ جاتے ہیں ۔انہیں اس پر بھی بھروسہ نہیں کہ پولیس اور 99فیصدی ہندو فوج انکی حفاظت کر سکے گی ۔اب اسکے بعد بس یہی راستہ رہ جاتا ہے کہ پورے ملک کی آبادی تقسیم کر دی جائے ملک نہیں ۔کیونکہ جب ایک گروپ نے آنکھیں ہونے کے باوجود قسم کھاکر کہنا شروع کر دیا ہے کہ ہم اندھے ہیں تو مسلمانوں کے پاس اسکا کوئی جواب نہیں ہے ۔سوااس کے کہ وہ بھی انکا اندھا ہونا تسلیم کرلیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close