ہندوستان

دیہی اقتصادیات کو مضبوط کرنے کا یہی وقت ہے!

ڈاکٹر قمر تبریز

ہندوستانی اقتصادیات زراعت پر ٹکی ہوئی ہے۔ ملک کے تقریباً 70 فیصد لوگ خود کو زندہ رکھنے کے لیے آج بھی کھیتی پر ہی منحصر ہیں ۔ اگر ملک کے کسان اناج پیدا کرنا چھوڑ دیں ، تو پورا ملک بھوکے مرنے پر مجبور ہو جائے گا۔ دہلی کے تخت پر بیٹھ کر ملک کو چلانے والوں کو یہ بات بتانے کی نہیں ہے۔ وہ اس حقیقت کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔ اس کے باوجود، چاہے وہ منموہن سنگھ رہے ہوں ، یا آج کے وزیر اعظم نریندر مودی دیہی اقتصادیات کو فروغ دینے کے لیے کچھ نہیں کر رہے ہیں ۔ مرکزی حکومت نے گزشتہ دس بیس برسوں میں ایسی کوئی پالیسی نہیں بنائی ہے، جس سے گاؤوں ، دیہات کی زندگی بہتر ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل جو لوگ گاؤوں ، دیہاتوں میں رہ کر کھیتی باڑی کرتے ہیں ، انھیں سب سے بڑا مسئلہ مزدوروں کی کمی کا جھیلنا پڑ رہا ہے۔

جھارکھنڈ، بہار، بنگال اور اڑیسہ جیسی غریب ریاستوں کے وہ مزدور جو کل تک گاؤوں میں رہ کر کھیتی کے کام میں کسانوں کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے، وہ زیادہ پیسہ کمانے کی لالچ میں یا تو کولکاتا، ممبئی، دہلی، چنئی، احمد آباد جیسے بڑے شہروں میں چلے گئے اور وہاں جاکر رکشہ چلانے، مال ڈھونے، ہوٹلوں میں برتن دھونے وغیرہ جیسے کام کرنے لگے یا پھر پنجاب اور کشمیر جیسی خوشحال ریاستوں میں جاکر وہاں کے کھیتوں پر کام کرنے لگے۔ وہاں انھیں اپنے گاؤں کے مقابلے زیادہ مزدور مل جاتی تھی اور بعض جگہ ان کے لیے کھانے اور رہنے کا بھی مفت انتظام ہو جایا کرتا تھا، لیکن وزیر اعظم مودی کے نوٹ بندی کے فیصلہ نے ان سارے مزدوروں کا کام بگاڑ دیا ہے۔

نوٹ بندی نے اس وقت ملک کے ہر شخص کو کفایت شعار بنا دیا ہے۔ جو لوگ کل تک دن بھر میں ہزار ہزار روپے خرچ کر دیتے تھے، آج نوٹوں کی کمی کے سبب وہ سو دو سو روپے ہی روزانہ خرچ کر پا رہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے شہروں میں مزدوری کرنے والے لوگ نوٹوں کی قلت کے سبب اب اپنے اپنے گاؤں لوٹنے لگے ہیں ۔ رکشہ چلانے والا اگر دن بھر میں 50 روپے کما لیتا تھا، تو وہ اسی پیسے سے ہوٹل میں کہیں جاکر کھانا کھا پاتا تھا۔ زیادہ تر رکشہ چلانے والی اپنی راتیں رکشہ پر ہی سوکر گزارتے تھے۔ لیکن اب کوئی رکشہ پر بیٹھ نہیں رہا ہے، اس لیے مجبوراً وہ اپنے گاؤں لوٹنے پر مجبور ہے۔ جو مزدور ہوٹلوں میں برتن وغیرہ دھوتے تھے، ان ہوٹلوں میں کھانا کھانے بہت کم لوگ آ رہے ہیں ۔ دکان کا مالک اس لیے پریشان ہے کہ اسے مہینہ ختم ہوتے ہی دکان کا کرایہ چکانا ہے، ایسے میں وہ اپنے یہاں برتن دھونے والوں کو مزدوری کیسے دے گا۔ اس لیے ہوٹلوں کے یہ مزدور بھی اپنا بوریا بستر لپیٹ کر گاؤں واپس جا رہے ہیں ۔ مال ڈھونے والے مزدوروں کا بھی یہی حال ہے۔ ڈرائیور اور خلاصی کا کام کرنے والوں اور فیکٹریوں میں روز کی اجرت پر کام کرنے والوں کا بھی یہی حال ہے۔

اس لیے، گاؤوں کے وہ بڑے کسان کافی خوش ہیں ، جو کل تک مزدوروں کی کمی کا رونا روتے تھے۔ انھیں امید ہے کہ اب وہ اپنے کھیتوں پر فصلوں کی صحیح وقت پر بوائی اور کٹائی کر پائیں گے۔ لیکن، نوٹوں کی کمی کا مسئلہ تو وہاں بھی ہے۔ ہاں ، ایسے میں پرانا زمانہ لوٹنے کا امکان ضرور قوی ہو گیا ہے، جب مزدوروں کو کام کے بدلے پیسے نہیں اناج دیے جاتے تھے۔ اسی طرح، کم پڑھے لکھے لوگ یہ کر سکتے ہیں کہ جس طرح پرانے زمانے میں ان پڑھ لوگوں کا خط لکھ کر کچھ لوگ گزر بسر کر لیتے تھے، اسی طرح آج کل وہ بینکوں کی لائنوں میں لگے اَن پڑھ لوگوں کا بینک فارم بھر کر کچھ کما سکتے ہیں ۔ لیکن وہ 32 کروڑ لوگ بینکوں کا فارم کیسے بھریں گے، جو پڑھے لکھے نہیں ہیں ۔ پرانے نوٹ تو انھوں نے آسانی سے بدلوالیے، لیکن اگلی بار جب انھیں اپنے کھاتوں سے پیسے نکالنے ہوں گے، تو بینک والے مفت میں تو ان کا فارم بھرنے سے رہے۔ یا تو وہ رشوت لیں گے، کیوں کہ دوسروں کا فارم بھرنا ان کی ڈیوٹی میں شامل نہیں ہے، یا پھر وہ اِن تمام اَن پڑھ لوگوں کو کوئی بھدی سی گالی دے کر باہر بھگا دیں گے کہ کسی سے فارم بھروا کے لاؤ۔ مجبوراً ان معصوم لوگوں کو کسی ایسے آدمی کے پاس جانا پڑے گا، جو اُن کا فارم بھر سکے۔ اور آج کے وقت میں کوئی بھی آدمی مفت میں کسی کا کام کرنے والا نہیں ہے۔ اس لیے جو کم پڑھے لکھے لوگ بڑے شہروں سے اپنے گاؤوں کو واپس لوٹ رہے ہیں ، وہ محنتانہ لے کر بینکوں کا فارم بھر سکتے ہیں ۔

یہی حال اے ٹی ایم مشینوں کا بھی ہونے والا ہے۔ ان مشینوں میں پیسہ ڈالنے یا نکالنے کے لیے پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے۔ مودی جی نے اپنی ’جن دھن یوجنا‘ کے تحت غریب اور اَن پڑھ لوگوں کو جو ڈیبٹ کارڈ تھما دیے ہیں ، وہ اے ٹی ایم مشینوں سے خود پیسہ نہیں نکال سکتے۔ انھیں بھی کسی نہ کسی پڑھے لکھے انسان کی مدد لینی پڑے گی، مفت میں نہیں بلکہ پیسہ دے کر، اس لیے کہ گاؤوں ، دیہاتوں میں بے روزگار لوگوں کی تعداد میں اب اچانک اضافہ ہونے والا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اب چوری اور دھوکہ دہی کا بازار بھی گرم ہونے والا ہے۔ اَن پڑھ لوگوں کے کھاتوں سے اب آسانی سے اس قسم کی ذہنیت کے لوگ پیسے اُڑا سکتے ہیں ۔ گاؤوں ، دیہات کے بے شمار معصوم لوگوں کی پریشانیاں بڑھنے والی ہیں ، کیوں کہ ان کی سنوائی نہ تو پولس اسٹیشن میں ہوتی ہے اور نہ ہی کسی اور سرکاری دفتر میں ۔ اسی لیے غریبی کو ایک عذاب بتایا گیا ہے، اوپر سے اَن پڑھ ہونا تو ’مہا پاپ‘ ہے۔

دوسری طرف، شہروں سے مزدوروں کے واپس چلے جانے سے دہلی کی سابق وزیر اعلیٰ شیلا دکشت اس لیے خوش ہو رہی ہوں گی، کیوں کہ ماضی میں وہ یہ بیان دے چکی ہیں کہ دہلی کی بڑھتی آبادی اور یہاں ہونے والے جرائم کے لیے قصوروار بہار اور یوپی کا مزدور طبقہ ہی ہے۔ لیکن یہاں کے صدر بازار، آزاد پور منڈی، غازی پور منڈی جیسے ایشیا کے بڑے بازاروں سے جڑے کاروباری رو رہے ہیں ، کیوں کہ مزدور اپنے گھروں کو واپس لوٹ رہے ہیں ۔ ان سارے کاروباریوں کا دھندا اب چوپٹ ہونے والا ہے۔ اسی طرح بہار اور یوپی کے ’بھیا‘ لوگوں کے ممبئی اور مہاراشٹر کے دوسرے شہروں کو خالی کرنے سے بال ٹھاکرے کے جانشیں اُدھو ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے خوش ہو رہے ہوں گے کہ اب مراٹھیوں کا حق چھیننے والا کوئی اور نہیں بچے گا۔ لیکن، ملک کی صنعتی راجدھانی کا درجہ حاصل کرنے والے ممبئی کو بڑا خسارہ ہونے والا ہے۔ فلم انڈسٹری سے لے کر دیگر تمام صنعتوں پر اس کا برا اثر پڑنے والا ہے۔

جھارکھنڈ، بہار، بنگال اور اڑیسہ کے کسان تو خوش ہیں ، لیکن پنجاب اور کشمیر کے کسان رو رہے ہیں ، کیوں کہ اب انھیں فصلوں کی بوائی اور کٹائی کے لیے مزدور نہیں ملیں گے۔ ویسے وہ اس لیے بھی رو رہے ہیں کہ ملک کی تمام ریاستوں کے ساتھ ساتھ ان دونوں ریاستوں کے کوآپریٹو بینکوں نے بھی کام کرنا بند کر دیا ہے اور کھیتی باڑی کے لیے زیادہ تر کسان چونکہ کوآپریٹو بینکوں پر ہی منحصر ہیں ، اس لیے نہ تو انھیں بیج خریدنے کے لیے ان بینکوں سے ضرورت کے مطابق پیسے مل پا رہے ہیں اور نہ ہی کھاد وغیرہ کے لیے۔

اس لیے مرکزی حکومت کے لیے دیہی اقتصادیات کو درست کرنے کا یہی سب سے اچھا موقع ہے۔ لاکھوں لوگ جو شہر چھوڑ کر اب گاؤوں کی طرف لوٹ رہے ہیں ، ان کی روزی روٹی کا انتظام اگر فوراً نہیں کیا گیا، تو اس کے بہت برے نتائج ہوں گے۔ مودی جی کو چاہیے کہ اب وہ ’ڈجیٹل ورلڈ‘ کو چھوڑ کر ’ولیج ورلڈ‘ کو درست کرنے کی فکر کریں ۔ اور یقین کیجئے، اگر ہمارے ملک کی دیہی اقتصادیات درست ہوگئی، تو ہمیں ایف ڈی آئی کے لیے ملکوں ملکوں ہاتھ پھیلا کر گھومنا نہیں پڑے گا۔ ہمارے پاس بے پناہ قدرتی وسائل ہیں ۔ لٹیروں سے انھیں بچاکر حقداروں کو دلوائیے، پھر دیکھئے ملک کیسے پھلتا پھولتا ہے۔ ملک کی تمام ندیوں کو جوڑنے والی اٹل بہاری واجپئی والی پرانی اسکیم پر دوبارہ عمل شروع کر دیجیے۔ جہاں جہاں کھیتوں کو سینچائی کے لیے پانی نہیں مل پا رہا ہے، اس سے یہ مسئلہ دور ہو جائے گا۔ گئو کشی پر پابندی لگا کر آپ نے کھیتوں میں کام آنے والے مویشیوں کا انتظام کر ہی دیا ہے، اب آرگینک کھیتی کو بھی بڑھا وا دیجئے، اس کا انتظام کروائیے، ملک اپنے آپ خوشحال ہو جائے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

قمر تبریز

ڈاکٹر قمر تبریز کا تعلق سیتا مڑھی بہار سے ہے۔ آپ معروف صحافی اور قلم کار ہیں اور راشٹریہ سہارا، عالمی سہارا، چوتھی دنیا، اودھ نامہ اور روزنامہ میرا وطن سمیت مختلف اخبارات سے وابستہ رہ چکے ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close