ذات اور دھرم کی سیاست اترپردیش کو کہاں لے جائے گی؟

اترپردیش میں اسمبلی کے چناؤ کی تیاری چل رہی ہے اور سبھی سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے داؤ آزما رہی ہیں۔ کہنے کو تو تمام پارٹیاں یہی کہتی ہیں کہ وہ ترقی کے ایشو پر الیکشن لڑینگی مگر حقیقت میں ترقی کوئی ایشو ہی نہیں ہے ۔ سبھوں کے ترکش میں ذات اور دھرم کے تیر ہیں۔ یہ سب ملک کی سب سے بڑی ریاست کے لئے کچھ نیا بھی نہیں ہے ۔ اب تک جتنے بھی الیکشن ہوئے ہیں ان میں ذات اور دھرم نے اہم کردار نبھایا ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ نفرت کی یہ دیواریں اب ریاست میں اخوت ومحبت کی سرد ہواؤں کے لئے رکاوٹ بن ہیں اور انسانی بنیادوں پر سماجی تعمیر کی بات محض دھوکہ ثابت ہورہی ہے۔1947 سے قبل ہندوستان میں ایسے حالات بنے تھے جن کے سبب ملک کی تقسیم ہوئی تھی اور اب یوپی میں بھی ایسے ہی حالات بن رہے ہیں۔ دھرم کا کھیل کھیلنے میں بی جے پی پہلے ہی سے ماہر ہے مگر اب یوپی کے سیاسی دنگل میں اسدالدین اویسی کی پارٹی بھی کود پڑی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس جنگ کے سماجی اثرات کچھ اچھے نہیں ثابت ہونگے۔ بی جے پی نے ریاست کے ماحول کو فرقہ وارانہ کرنے کے لئے کیشو موریہ کے ہاتھ میں پارٹی کی کمان دے دی ہے جن کا آرایس ایس اور وشو ہندو پریشد سے تعلق رہاہے ۔ یہاں معمولی تنازعوں کو دنگا کی شکل دینے کی کوشش عام بات ہے اور اکھلیش کے راج میں میں اس کے لئے مناسب ماحول بھی ہے۔ اگر مہاتما گاندھی کے پوتے راج موہن گاندھی کی مانیں توایسے حالات آزادی سے قبل پنجاب کے تھے۔وہ اپنے ایک مضمون میں یہ بات لکھ چکے ہیں اور تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔ انھوں نے لکھا تھاکہ اترپردیش ان دنوں ذات پات اور مذہب کے نام پر اس قدر خوفناک حالات سے گزر رہا ہے جیسا کہ پنجاب 1947ء میں گزرا تھا۔ یہی حالات تھے جس میں پاکستان وجودمیں آیا تھا۔ جب کہ مشہور سماجی ماہر ہرش مندر کے مطابق اترپردیش کو گجرات بنانے کی کوشش چل رہی ہے اور یہاں کے حالات ویسے ہی دھماکہ خیز ہورہے ہیں جیسے کہ چند سال قبل گجرات کے ہوگئے تھے اور مسلمان بے کسی کی زندگی جینے پر مجبور تھے۔ ہرش مندر کا کہنا ہے کہ یوپی میں بھی گجرات ماڈل لانے کی کوشش ہورہی ہے ،اسی لئے فسادات کرائے جارہے ہیں اور ہزاروں فساد متاثرمسلمان آج بھی اپنے گھر بار چھوڑ کے کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ راج موہن گاندھی اور ہرش مندر کے خیالات اپنی جگہ پر مگر سوال یہ ہے کہ ،آج کا یوپی جو بہار اور اڈیشہ سے بھی زیادہ پچھڑ چکا ہے، وہ کس سمت جارہا ہے؟ کیا اسے ذات اور دھرم کی سیاست چاہئے یا ترقی کے میدان میں مقام قیادت چاہئے؟ آخر یوپی کے عوام کیا چاہتے ہیں اور وہ اپنی ریاست کو کہاں دیکھنا چاہتے ہیں؟
یوپی کس طرف؟
یوپی میں مسلمانوں کی بڑی تعداد رہتی ہے اور یہ ریاست فرقہ وارانہ طور پر حساس بھی ہے۔ یہاں پہلے ہی سے رام مندر ایک ایشو رہاہے جسے بہانہ بناکر ہندووں اور مسلمانوں کے بیچ نفرت کی دیواریں کھڑی کی جاتی رہی ہیں۔ راج موہن گاندھی اترپردیش کی سیاست میں بین الاقوامی حالات کے اثرات دیکھتے ہیں۔ان کا مانناہے کہ مغرب اور اسلام کے بیچ جس تہذیبی جنگ کی بات کہی جاتی ہے اس کے اثرات یوپی کی سیاست پر بھی پڑ رہے ہیں جہاں مسلمانوں کی بڑی تعداد بستی ہے۔ ایک طرف تو وزیر اعظم نریندر مودی ترقی کی بات کرتے ہیں ،بلٹ ٹرین کی بات کرتے ہیں، ہر غریب کے بینک کھاتے کی بات کرتے ہیں، وہیں دوسری طرف یوپی میں فرقہ پرستی کی باتیں ہوتی ہیں اور ووٹوں کو مذہب کے نام پر اپنے حق میں جمع کرنے کی باتیں کی جاتی ہیں۔ آخر دوقسم کا اسٹنڈرڈ کیوں ہے؟ سوال یہ ہے کہ یوپی کس طرف جائے گا؟نریندر مودی کے نعرۂ ترقی کی جانب یا یوگی آدتیہ ناتھ، ساکشی مہاراج اور کیشوموریہ کے نفرتی نعروں کی طرف؟ان نیتاؤں کی کوشش ہے کہ یوپی کے مختلف حصوں میں ہندو۔مسلم ٹکراؤ پیدا کریں اور ہندووں کے ووٹوں کی کھیتی
کریں۔
لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو اترپردیش میں زبردست کامیابی ملی تھی اور سوائے چند کے تمام سیٹوں پر اسی کو کامیابی ملی تھی جسے وہ قائم رکھنا چاہتی ہے اور اسی لئے فرقہ پرست امیج والے لیڈروں کو سامنے کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ بی جے پی کا دوسرا روپ ہے۔ ایک طرف ترقی کی بات اور دوسری طرف فرقہ پرستی کی سیاست، اس کا دوہرا کھیل ہے۔ ہرش مندر کے مطابق یہی گجرات ماڈل ہے اور اسی کو پورے ملک میں لاگو کرنے کی بات نریندر مودی کیا کرتے ہیں۔ انھوں نے لکھا تھا کہ حال ہی میں یوپی کا دورہ کیا اور دیکھا کہ آج بھی مظفر نگر فساد کے لگ بھگ دس ہزار متاثرین ان کیمپوں میں رہ رہے ہیں جو پچیس گاؤوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق لگ بھگ پچاس ہزار مسلمانوں نے اپنا گھر اور گاؤوں چھوڑ دیا ہے اور وہ دوسرے گاؤوں اور کالونیوں میں منتقل ہوچکے ہیں اور آئندہ اپنے گھر لوٹنا بھی نہیں چاہتے کیونکہ وہ اپنے پشتینی گاؤوں میں اپنی زندگی محفوظ نہیں سمجھتے۔ ان کے مطابق یہ سب فرقہ پرستی کی سیاست کے سبب ہوا ہے۔
یوپی ترقی کا بھوکا ہے
کیا اترپردیش میں فرقہ پرستی کی سیاست کامیاب ہورہی ہے ؟ اگر نہیں تو پھر لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کو بڑی تعداد میں سیٹیں کیوں ملیں؟ اس بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ اتر پردیش ترقی کا بھوکا ہے۔ وہ ترقی کرنا چاہتا ہے اور اس دوڑ میں آگے نکلنا چاہتا ہے،اسی لئے یہاں کے لوگوں نے مودی کے ترقی کے نعرے کو قبول کرتے ہوئے بی جے پی کو ووٹ دیا۔ اسے ووٹ دینے والے تمام کے تمام لوگ فرقہ پرستی کی سیاست سے متاثر نہیں تھے بلکہ وہ تو ترقی کے نعرے سے متاثر ہوئے تھے۔اسی طرح گزشتہ اسمبلی انتخابات میں جن لوگوں نے مایاوتی کو چھوڑ اکھلیش کو چنا تھا وہ بھی ریاست میں ترقی چاہتے تھے جب کہ مایاوتی نے عوام کا پیسہ ترقی پر خرچ کرنے کے بجائے مورتیوں کی تنصیب پر خرچ کیا تھا۔ یوپی کے لوگ مانتے ہیں کہ ریاست تہذیب و ثقافت کا گہوارہ رہا ہے اور اس نے بڑے بڑے اہل علم کو جنم دیا ہے۔ اس خطے نے ملک کی رہنمائی کی ہے مگر عجیب بات ہے کہ آج نتیش کمار کے اقتدار میں آنے کے بعد بہار بھی ترقی کی دوڑ میں اس سے آگے نکل گیاہے۔ اڈیشہ میں ترقی ہوئی مگر اتر پردیش پچھڑ گیا۔ یہاں کے عوام چاہتے ہیں کہ اس ریاست کی جانب عالمی معیشت آئے، یہاں کل کارخانے قائم ہوں اور لوگ تعلیمی ومعاشی اعتبار سے آگے بڑھیں۔
نفرت کی سیاست کو عوام پسند نہیں کرتے
اعظم گڑھ کے رہنے والے نیاز اعظمی کا کہنا ہے کہ یوپی کے حالات اچھے نہیں ہیں۔ یہاں کب کیا ہوجائے کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔ عوام کا بھروسہ حکومت اور انتظامیہ پر سے اٹھتا جا رہا ہے۔ بی جے پی تو فرقہ پرستی کی سیاست کے لئے مشہور ہے مگر حکومت کی کیا ذمہ داری ہے؟ آج اگر مایاوتی اقتدار میں ہوتیں تو شاید امن و امان کی اتنی بدتر حالت نہ ہوتی، وہیں سنت کبیر نگر کے ڈاکٹر عاشق الٰہی کا ماننا ہے کہ یوپی میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں بچی ہے اور جو راج موہن گاندھی کہہ رہے ہیں کہ حالات 1947ء کے پنجاب جیسے ہیں ،وہ بالکل درست ہے۔ وہ اس کے لئے سماج وادی پارٹی کی موجودہ سرکار کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہتے ہیں کہ ابھی دو سال قبل تک یہ حالت نہ تھی ،آج اگر لوک سبھا کی بیشتر سیٹیں بی جے پی کو ملی ہیں تو اسی لئے کہ موجودہ سرکار میں فسادات کی سنچری بنی ہے جبکہ عوام امن ومان چاہتے ہیں۔
اترپردیش میں اسمبلی انتخابات آئندہ چند مہینوں میں ہونے والے ہیں اورجیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں ماحول کی حساسیت بڑھتی جارہی ہے۔ عوام کو ڈر ہے کہ انتخابات سے قبل پھر کوئی مظفرنگر نہ ہوجائے۔حالانکہ اس صورت حال نے سماج وادی پارٹی کی سرکار پر سے عوام کے اعتماد کو متزلزل کیا ہے جس کا خسارہ اسے انتخابات میں ہوسکتا ہے۔



⋆ غوث سیوانی

غوث سیوانی
غوث سیوانی دہلی کے معروف سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

مدارس اسلامیہ کا ایک مختصر جائزہ

تعلیم کے فروغ میں اہم کردار نبھا رہے ہیں دینی مدارس اسلامی مدارس کا علم …