ہندوستان

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی!

وہ کہتا ہے  کہ کسی بھی طرح کے زبانی جمع خرچ کے بجائے وہ اپنی عملی زندگی میں فرقہ وارانہ اتحاد و یک جہتی کے لیے  پورے خلوص کے ساتھ کام کرے گا۔

عالم نقوی

انصار شیخ اور اُمُّ ا لخیر مستضعفین فی الارض کے نمائندے ہونے کے باوجود عُسر میں یُسر کے  دو زندہ و تابندہ نمونے ہیں !انصار شیخ  نے  سال ۲۰۱۵ میں  یو پی ایس سی کے کامیاب اُمیدواروں میں اپنا نام درج کرایا تھا اورام الخیر نے ۲۰۱۷ میں۔ خاص بات یہ ہے کہ  دونوں کا تعلق سماج کے اس طبقے سے ہے جہاں غربت اور جہالت لازم و ملزوم ہیں۔ چونکہ امسال ۲۰۱۸ میں بھی ۴۲ مسلم طلبا کے نام  یو پی ایس سی کے امتحانات اور انٹرویو میں کامیاب ہونے والے خوش قسمت امیدواروں کی صف میں شامل ہیں اس لیے مشہور سائنٹسٹ، دانشور اور اردو کے نامور ادیب پروفیسر اطہر صدیقی نے  ماہنامہ تہذیب الا خلاق  علی گڑھ کے مئی ۲۰۱۸ کے شمارے میں (ص۱۲ تا ۱۹)اپنے مستقل کالم ’ حیرت سرائے کی کہانیاں ‘ کے تحت انصار شیخ اور اُمُّ ا لخیر کے حالات زندگی کو موضوع بنایا ہے۔ اُم ُّالخیر کا تذکرہ تو  اس کی کامیابی کے فوراً بعد  سال گزشتہ  کسی ہم عصر کے حوالے سے ہم اپنے کسی مضمون میں کر چکے ہیں اس لیے  آج   پروفیسراطہر  صدیقی کے مضمون  کی اہمیت کے پیش نظر صرف  اُسی کا اختصار  اپنےقارئین کے لیے پیش کر رہے ہیں۔

’’انصار شیخ مراٹھواڑہ (مہاراشٹر)کے برسہا برس سے سوکھا زدہ اور پسماندہ  علاقے میں واقع ضلع جالنہ کے شید گاؤں میں آٹو رکشہ چلانے والے  ایک نہایت غریب مسلمان یونس شیخ کا بیٹا ہے اس کی والدہ بھی جو اس کے باپ کی دوسری بیوی تھیں  کھیت مزدور کی حیثیت سے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتی  تھیں۔ انصار شروع ہی سے آئی اے ایس افسر بننے کا خواب دیکھا کرتا تھا۔ حالانکہ اس کے گاؤں کے مسلمانوں میں با لعموم حصول تعلیم کا کوئی رواج نہیں تھا لیکن، اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ کسی بھی طرح بی اے ضرور کرے گا تاکہ یو پی ایس سی کے امتحان میں بیٹھ سکے۔ اُس  کی ماں اور چھوٹے بھائی انیس  شیخ نے انصار کی مدد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انیس نے گاؤں کے سرکاری اسکول سے  ساتویں  کلاس پاس کرنے کے بعد ایک موٹر گیرج میں نوکری کر لی تھی تاکہ اپنی ماں کا ہاتھ بٹانے کے ساتھ ساتھ اپنے بڑے بھائی کا’ سپنا ساکار ‘کر سکے۔

کامیابی کے بعد انصار شیخ نے اپنے ایک انٹر ویو میں کہا تھا کہ ’اس کی دو بہنوں کی کم عمری ہی میں شادی کر دی گئی تھی اور انہیں جہیز دینے کے لیے ساہوکار سے سودی قرض بھی لیا گیا تھا۔ اسنے اپنی ماں پر اپنے باپ کے مظالم بھی دیکھے تھے جس نے اسے ذہنی طور پر بہت پریشان رکھا تھا لیکن اس نے تعلیم ہر حال میں جاری رکھی۔ اس کے رکشہ ڈرائور باپ نے تو چوتھی کلاس کے بعد اسے اسکول سے اٹھا کر کسی کام پر لگانے کی ہر ممکن کوشش کر لی تھی لیکن  اس کے اسکول کے ایک ٹیچر پرشوتم پڈھولکر نے اس کو یہ کہہ کر کسی نہ کسی طرح راضی کر لیا تھا کہ اس کا یہ بچہ بہت ذہین اور پڑھنے میں تیز ہے اسے ضرور پڑھاؤ یہ ایک دنہ ایک دن بہت ترقی کرے گا اور تمہارا نام روشن کرے گا۔ ‘ اور یہی ہوا۔ جب اس نے دسویں کے بورڈ کے امتحان میں ۹۱ فی صد نمبر لے کر میرٹ لسٹ میں اپنا نام درج کرایااور اپنے اسکول، اپنے گاؤں  اور اپنے ضلع کا نام روشن کیا  تو اس کے باپ نے بھی اپنے غیر معمولی ہونہار بیٹے کی مدد کرنے کی ٹھان لی۔

  فرگوسن کالج پونہ سے اس نے پولیٹکل سائنس میں بی اے کی ڈگری حاصل کی اور چار برس کے قیام کے دوران وہ صرف دو بار عید پر اپنے گھر گیا۔ اس نے سول سروسز کے امتحان کی تیاری کے لیے یونیک کوچنگ اکیڈمی میں داخلہ لیا جہاں اُس کی غربت اور اعلیٰ تعلیمی ریکارڈ کے پیش نظر اُس کی فیس میں بھاری  کمی کر دی گئی۔ وہاں اُس کے ایک استاد’ راہُل پانڈو ’سر‘  تھے  جو خود بھی اُسی امتحان کی تیاری کر رہے تھے۔ اُستاد شاگرد دونوں نے ساتھ ساتھ امتحان دیا اور دونوں  ہی نے شاندار کامیابی حاصل کی۔ راہل سر کی تو ۲۰۱۵ کی  آل انڈیا میرٹ لسٹ میں دسویں  رینک آئی  تھی !

ہائی اسکول بورڈ کے امتحان میں اپنے بیٹے کی شاندار کامیابی کے بعد  سے اس کے والد نے بھی  نہ صرف یہ کہ پھر کبھیاپنے ذہین بیٹے  کی پڑھائی میں کوئی رکاوٹ نہیں کھڑی کی بلکہ ہر ممکن مدد بھی کی یہاں تک کہ آگے کی تعلیم کا خرچ اٹھانے کے لیے  ایک مرحلے پر صرف تیس پزار روپئے میں اپنا مکان تک  بیچ ڈالا۔ جب انصار شیخ نے یو پی ایس امتحان پاس کیا اور اپنے والد کو بتایا کہ اب وہ بھی اعلی سرکاری افسر بلکہ آئی اے ایس افسر بن سکتا ہے تو انہیں  یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ ’آئی اے ایس افسر ‘  ہوتا کیا  ہے !

ٹریننگ کے بعد انصار شیخ کو  یقین تھا کہ اسےمہاراشٹر کیڈر ہی ملے گا اور وہ سوکھا زدہ پسماندہ مراٹھواڑہ پنی رہائش کا مسئلہ حل کیا تھا۔ ضلع کی خدمت کر سکے گا لیکن اسے   نہ جانے کیوں مغربی بنگال کیڈر میں ڈال  دیا گیا۔ آج وہ وہاں ایک ضلع میں اسسٹنٹ کلکٹر ہے۔

  وہ سماج میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی سے نالاں ہے جس کا ایک تجربہ خود اسے بھی اس وقت ہوا جب وہ اپنی رہائش کے لیے کمرہ تلاش کر رہا تھا اس کے سبھی ہندو دوستوں کو کمرے مل گئے تھے لیکن مسلمان ہونے کی وجہ سے اسے کوئی بھی اپنے گھر میں کرائے دار کے طور پر رکھنے کے لیے تیار نہیں تھا یہاں تک کہ پھر اس نے ’شبھم ‘ کے نام سےاپنی رہائش کا مسئلہ حل کیا تھا۔۔ اگرچہ اس نے یہ نہیں بتایا کہ کس شہر میں اس کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا تھا لیکن وہ کہتا ہے  کہ کسی بھی طرح کے زبانی جمع خرچ کے بجائے وہ اپنی عملی زندگی میں فرقہ وارانہ اتحاد و یک جہتی کے لیے  پورے خلوص کے ساتھ کام کرے گا۔ غریب بچوں کی تعلیم کے نظم پر توجہ دے گا اور تمام پسماندہ طبقات اور پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے جو کر سکتا ہے ضرور کرے گا۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ وہ سُنّی ہے یا شیعہ ؟ تو اس کا جواب تھا : میں مسلمان ہوں۔ ایک ہندستانی مسلمان ‘۔

انصار شیخ کے متعدد ویڈیوز گوگل پر موجود ہیں جنہیں اس کے نام سے بآسانی تلاش کر کے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کی گفتگو سے کبھی ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ وہ کسی ’کامپلکس ‘ کا شکار ہو جو فی زمانہ ایک عام بیماری ہے۔ نہ اپنے عہدے اور شاندار کامیابی کی وجہ سے  کسی احساس برتری میں مبتلا ہے نہ اپنے خاندان کی غربت اور پسماندگی کی وجہ سے کسی بے جا اورمہلک احساس کمتری کا شکار۔ مثبت فکر، بالغ نظری، حقیقت پسندی اور اعتماد اس کی خصوصیات ہیں۔ اس لیے امید ہی نہیں یقین ہے کہ وہ ’ہر چہ در کان نمک رفت، نمک شد، کے مصداق جاہل سیاست دانوں کے جوتے چاٹنے اور عوام دشمن فیصلے کرنے والا سرکاری افسر نہیں بنے گا بلکہ حقیقی معنیٰ میں ایک سچا، ایماندار، دیانت دار اور عوام کی خدمت کرنے والا افسر  ثابت ہوگا ! انشا اللہ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close