ہندوستان

رومیو بریگیڈ اور ہندو یوا وہنی

ڈاکٹر سلیم خان

(بھوجپوری مکالمہ)

للنّ پھولپوری نے کلن ّ گورکھپوری سے پوچھا ارے بھائی وہ توہرے ہندو یوا واہنی والے بلیدانی جتھے  آج کل کہاں مرگئے ہیں؟

وہ  ایسا ہے نا کی پہلی بار یوگی جی کو ستاّ پراپت ہوئی ہے اس لیے سب کھانے کمانے میں ویست ہیں۔

لیکن یوگی جی بیسوں سال سے لوک سبھا سدسیاّ  ہیں۔

وہ تو ہے لیکن کیا ہے لوک سبھا میں ہونے سے کچھ نہیں ہوتا۔

ہم نائیں سمجھے بابو کی کیا نہیں ہوتا۔

وہ ایسا ہے نا کی دلیّ میں اگر منتری سنتری نا ہوئیں تو  کمانے دھمانے کا کونو اوسر ے نہیں ملتا لیکن راج ستاّ میں بڑا موقع ہوتا ہے۔

اچھا سمجھ گیا لیکن وہ نہ کھاوں گا اور نہ کھانے دوں گا والی بات کیا  ماترچناوی جملہ تھا؟

اور نہیں تو کیا ساری دنیا اس کو  بھول گئی آپ بھی بھلا دیجئے۔

ہم کیسے بھول جائیں؟

تو نا بھولیے  لیکن  یہ تو  بتائیے کہ آج اچانک  یوا واہنی کو کیسے یاد کیا اسے تو یوگی جی بھی بھول گئن ہیں۔

وہ کیسے بھول سکتے ہیں؟ اسی کی سہایتا سے تو وہ موکھ منتری بنے ؟

وہی تو با ت ہےواہنی ہندو سرکسا کے لیے بنائی گئی تھی پرنتو ان کے مکھ منتری بنتے ہی سارے مسلمان ڈرائے گئے اور ہندو سرکست ہوئے گیا۔

اچھا اگرایسا ہےتو کاس گنج میں مرنے والا چندن گپتا کیا مسلمان تھا ؟

ارے وہ  بے وقوف تلوار لئے کے مسلمانوں کے محلے میں چلا گیا اور لگا گھوشنا کرنے۔ یہ یوگی  جی نے تھوڑی نا کہا تھا ؟وے کھود ایسا نہیں کرتے تھے۔

اچھا تو یوگی جی نے کا کہا ہے ہمیں بھی بتائے دیو؟

ان کہنا ہے کہ اب ہمارے پاس پولس ینترنا ہے جو ہندووں کی رکشا کرے گی اس لیے یوا واہنی کو کشٹ کرنے کی جرورت نا ہے۔

ارے کیا بات کرتے ہو۔ اناو ٔ کے اندر پولس تھانے کے اندر ایک ہندو کی مرتیو ہوئے گئی۔ یہ کون سی سرکشا ہے ؟

ارے بھائی کبھی کبھئو ایسا ہوجاتا ہے لیکن اس  ہندو کو کسی مسلمان نے تو نہیں مارا؟

بھیامارنے والا ہندو ہو یا مسلم اس سے کا پھرک پڑت ہے۔ مرنے والاتو جان سے جاتا ہے۔

کاہے پھرک نہیں پڑتا ؟منوبل کا پرسن ہے۔ ایک اپنے اندر کی بات ہے اور دوسر باہری حملہ۔ دونو ایکےّ ہے کا؟

یہ تو تم مرنے والے کی بیٹیا سے پوچھو کہ اگر تمہارے باپو کو کوئی مسلمان ماردیتا تو کیا پھرک پڑتا ؟ لیکن ہندو یوا واہنی کو  اس اتیاّ چار کا ورودھ پردرشن تو کرنا چاہیے تھا ؟ یہ کیا کہ گم سم بیٹھ گئے۔

اب کا بتائی للن بھیا؟ وہ کہتے ہیں نا کہ ہونٹ بھی اپنے اور دانت بھی اپنے۔ اب کس کی سکایت کس سے کی جائے؟

میں تمہاری بات نہیں سمجھا کلن ؟ اس میں ہونٹ اور دانت کہاں سے آگئے؟

تم بہوت بھولے ہو للنّ۔ مرنے والا اپنا آدمی تو مارنے والا اور مروانے والا بلکہ مارنے والے کوبچائے والا کل اپنے ہی آدمی ہیں اب کا کریں تمہی بتاو؟

ہم تو بھائی یہی جانت ہے ہر جور جلم کے ٹکرّ میں سنگھرس ہمارا نعرہ ہے؟

ہاں ہاں لیکن اپنے ماننیہ ودھایک جی کے خلاف ہمری پولس کیسے کام کرسکت ہے؟ تم بتاوا؟

اچھا یہ بتاو کی وہ رومیو بریگیڈبدیس  چلی گئی کا؟

وہ بدیس کاہے جائیگی؟

ارے بھائی رومیو کھود بدیسی رہا اور بریگیڈ بھی ساید انگلسے کا سبد ہے؟

اس میں کاسک ہے؟ لیکن وہ سب  لوگ آج کل گئوماتا کی سیوا میں ویست  ہیں۔

کہاں کرتے ہیں وہ گئو ماتا کی رکسا۔ مجھے تو نجر نہیں آتے۔

ارے چوراہے پر کریں گے کا؟ جہاں گئو ماتا کا آشرم لگا ہےسرکار سے انودان ملتاہے۔ وہ  ماتا جی کوڑیوں کے بھاو کھرید کر لاتے ہیں اور سونا کاتتے ہیں۔

لیکن وہ ہندو مہیلا کی سورکشا اور اسمتا کا کیا بنا؟

وہ ایسا ہے کی  آج کل تو لو جہاد بالکل بندئے ہوئی گوا ہے۔ پھر رومیو بریگیڈ کی کون  جرورت ؟

لگتا ہے کلن بھیّا آج کل آپ نے اکھبار پڑھنا بند کردیئے ہو؟

کیوں کا ہوا ؟

اچّتم نیالیہ میں تو تمری سرکار ہار گئی اور ہادیہ کے کیس میں لوجہاد آفیسیل ہوگیا۔ سب دیکھتے رہ گئے  کونو کچھ بگاڑ نہیں سکا۔

وہ کا ہے کی نیالیہ میں سارے کانگریسی بھرے پڑے ہیں ان کو ٹھیک کرنا پڑئے گا۔

اس  میں کا مسکل سب سسرے کو پاکستا ن بھیج دو۔ اپنے آپ دماگ ٹھکانے آئے جائی۔

لیکن بھیا پاکستان ان کوکاہیں لے گا ؟ اور لئے کہ کیا کرے گا ؟

اچھا تو یہ بات اب سمجھ میں آئی ؟

ہاں بھیا جب جمےّ واری آتی ہے تو دال آٹے کا بھاو پتہ چل جائت ہے لیکن تم رومیو بریگیڈ کو کاہے ڈھونڈت رہے؟

ارے وہی اناوّ کی مہیلا دس مہینے سے دربدرسر مارت پھرت ہے۔ اس کا ساموہک بلاتکارہوئے گوا پرنتو کوئی سہایتا کئے لیے نہیں آیا۔

ارے بھائی وہ تو اپنے بدھایک پر آروپ کرت ہےاس کو سوچئے کہ چاہی ؟

وہ کاہے سوچئے؟ ودھایک نہ سوچئے ؟ ایک تو اس کا بلاتکار کیا اوپر سے اناتھ کروادیا۔ یار حد ہوگئی اتیاچار کی ؟ میں تو کہتا ہوں لعنت ہو رومیو برگیڈ پر؟

یار للنّ بھائی آپ سمجھتے کاہے نہیں؟ وہ تو مسلمانوں سے ہندو مہیلا کے سرکسا کے لیے بنی تھی۔ یہاں کون مسلم ہے؟

یار کلنّ ایک بات سمجھ میں نہیں آتی اگر کوئی مسلمان عجتّ سے ہندو مہیلا اپنی دھرم پتنی بنائے تو تمہار کھون کھول جات ہے اور کوئی ہندو بھکشک مہیلا کا بلاتکار کرئے تو تم لوگ اس کا بچاو کرت ہو۔ یار پاکھنڈ کی بھی کونو حد ہے کی ناہے؟

بھائی للنّ یہہ راج نیت کی بات تمرے سمجھ نائے آئی جاو اپنا کھیتی کرو۔

ہاں بابو جائت ہے لیکن سچ بتائیں ہمار من بہوت اداس ہے۔ ہم اپنی گلتی پر  بہوت پچھتاوت ہے۔

کون سی گلتی بھائی؟

وہی جو تمرے چکر ّ میں پڑھ کئے کمل پر نسان لگائے دئیے رہے لیکن ان جندگی ما ایسی گلتی کبھی نا کربئے کا سمجھے؟

۰۰۰۰یہ سن کرکلن ّ سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close