ہندوستان

روی کا قاتل جیل کا ڈاکٹر

حفیظ نعمانی

موضع بساہڑہ دادری کے اخلاق احمد کے ایک سال پہلے قتل کے الزام میں جو ملزم بند ہیں ان میں ایک روی نام کے لڑکے کا ایک ہفتہ پہلے جیل میں انتقال ہوگیا۔ فوری طور پر پورے علاقہ میں یہ خبر بجلی کی طرح پھیل گئی کہ جیل میں اس کی پٹائی کی گئی جس کی تاب نہ لاکر اس نے جان دے دی۔

حکومت نے بھی عوامی ہیجان کم کرنے کے لئے فوری طور پر جیلر کا تبادلہ کردیا۔ لیکن دادری کے پورے علاقہ میں یہ شور ہوتا رہا کہ جیل میں اس کی پٹائی کی گئی تھی۔ روی کے گھر والوں کے اصرار پر تین ڈاکٹروں کے پینل نے پوسٹ مارٹم کیا اور اعلان کیا کہ جسم کے اوپر یا اندر کسی طرح کی چوٹ کے نشان نہیں ملے۔ البتہ پھیپھڑوں میں انفیکشن اتنا بڑھ گیا تھا کہ اس کے گردوں نے کام کرنا بند کردیا تھا اور اسی کی وجہ سے روی کی موت ہوگئی۔ اس کا اعتراف اب انتظامیہ بھی کررہی ہے کہ جیل میں علاج کی طرف توجہ نہیں کی گئی۔
جیل کے بارے میں صرف ان لوگوں کے بیانات ہی معتبر ہوسکتے ہیں جو خود جیل میں ایک مہینہ یا زیادہ مدت تک رہ چکے ہوں اور جو لوگ جیل نہیں گئے یا گئے اور دو چار دن میں باہر آگئے وہ نہیں جانتے کہ جیل میں کیا ہوتا ہے اور کیا نہیں ہوتا؟ ہم تجربہ کار کی حیثیت سے لکھ رہے ہیں کہ جیل میں کسی کی پٹائی نہیں ہوتی ہے جو کوئی جیل جاتا ہے اس کی حیثیت امانت کی ہوتی ہے۔ یہ بات حکومت کے ذمہ داروں کو ہم سے زیادہ معلوم ہے۔ اس کے باوجود جیلر کا تبادلہ کرنا غیرذمہ داری کی بات ہے۔ جیل میں اگر کسی کو معمولی سزا بھی دی جاتی ہے تو وہ صرف ان حرکتوں پر، جو جیل کے قانون توڑنے کی وجہ سے ہوں۔ جیسے کوئی نشہ کا سامان کہیں سے لائے یا جیل کی کسی چیز کی چوری کرے یا نگراں سپاہیوں سے بدتمیزی کرے غرض کہ جیل میں رہ کر جیل کے قانون توڑے۔
جیل میں جو بھی ہے وہ یا تو سزا کاٹ رہا ہے اور وہ سزا جو عدالت نے دی ہے یا جیل کی حوالات میں ہے اور اپنے مقدمے کے انجام کا انتظار کررہا ہے۔ لیکن یہ بات سو فیصدی درست ہے کہ اگر کوئی بیمار ہوجائے تو جیل کے ذمہ داروں کا رویہ ایسا ہوتا ہے جیسے ان کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔
ہم 9 مہینے جیل میں رہ کر ہر بات سے واقف ہوچکے ہیں۔ جیل کی بیرک میں ہر ہفتہ اسپتال خود چل کر آتا ہے۔ ایک قیدی کے سر پر بڑاسا بکس دوسرے قیدی کے سر پر آلات سرجری، مرہم پٹی کا سامان، تیسرے قیدی کے ایک ہاتھ میں اسٹینڈ دوسرے میں ایک کرسی جس پر کمپاؤنڈر صاحب بیٹھ جاتے تھے۔
ان میں ایک قیدی بیرکوں میں جاکر آواز لگاتا تھا کہ جو روگی یا بیمار ہوں وہ باہر آجائیں۔ ڈاکٹر صاحب آگئے ہیں۔ اس کے بعد روگی آنا شروع ہوتے تھے۔ ایک نے کہا دو دن سے بخار آرہا ہے۔ ڈاکٹر صاحب حکم دیتے کہ اسے دوا نمبر 9 پلادو۔ دوسرا کہتا کہ پیچش آرہی ہے۔ وہ کہتے اسے بھی 9 نمبر پلادو۔ ایک کہتا کہ رات بھر کان میں درد ہوا ہے۔ حکم ہوتا اسے 3 نمبر پلادو ایک کہتا کھجلی ہوگئی ہے۔ ڈاکٹر حکم دیتے۔ اسے لے جاؤ تنہائی میں بند کردو۔ کسی نے زخم دکھایا تو کہا کالا مرہم لگاکر پٹی باندھ دو۔ غرض کہ 3 نمبر سے 9 نمبر تک اور کالے مرہم سے سفید مرہم تک اسپتال گھومتا ہے۔ جس کا نام علاج ہے۔
جیل میں اسپتال موجود ہے حکومت لاکھوں روپئے مریضوں کے علاج کے لئے دیتی ہے۔ خود ہمارے ایک ساتھی کو ایک بار آزمانا پڑا۔ ہم لوگ اخبار والے کہے جاتے تھے ہر افسر اس کی کوشش کرتا تھا کہ ان کی حرکت چھپی رہے لیکن فطرت نہیں بدلتی۔ اسپتال میں دیکھا کہ ڈاکٹر نے 4 گولی لکھیں تو دو دے کر کہا کہ یہ کھاؤ اور بھی مل جائیں گی۔ انجکشن لگانے چلے تو اس سوئی سے جس سے کم از کم دس لگ چکے تھے۔ میں نے کمپاؤنڈر کا ہاتھ پکڑ لیا کہ اس سوئی کو بدلو۔ اس نے کہا ابھی اس سے اور لگنا ہیں۔ اور جب میں بہت بگڑا اور کہا کہ میں سوئی کا ایک پیکیٹ منگوادوں گا تب سوئی بدلی۔
روی کے گھر والوں کو جیل کے ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ دائر کرنا چاہئے۔
جیل میں ڈاکٹر اپنی خوشی سے نہیں جاتے سرکاری نوکری کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ایک سال جیل میں نوکری کی ہو۔ جیل میں جتنی حرام خوری ہوتی ہے اتنی کسی محکمہ میں نہ ہوتی ہوگی۔ سپرنٹنڈنٹ، جیلر، ڈپٹی جیلر، اسسٹنٹ جیلر اور ان سے اوپر افسروں کی آمدنی کا ٹھکانہ نہیں۔ بجٹ کا 75 فیصدی حصہ بندر بانٹ کرلیا جاتا ہے اور 25 فیصدی سے سارے کام کرلئے جاتے ہیں۔ اسپتال کا سب سے برا حال ہے۔ ہر مریض کو دودھ دینا ضروری ہے لیکن صرف دال روٹی ہر مریض کو دی جاتی ہے۔ کسی بھی بیماری کا ٹسٹ کرانے کے نام سے لڑنے پر تیار ہوجاتے ہیں۔ جبکہ جو بھی ڈاکٹر جیل میں ہوتا ہے وہ تجربہ کار نہیں ہوتا۔
روی کے رشتہ داروں کو بس جان محمد یاد ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ جیل میں کسی کی نہیں چلتی اور جیل میں مارپیٹ کبھی نہیں ہوتی۔ روی کی جیسے ہی طبیعت خراب ہوئی تھی اسے باہر کسی اسپتال میں منتقل کرانے کی کوشش کرنا چاہئے تھی۔ شوگر انفیکشن اور گردوں کا فیل ہوجانا یہ ایسے مرض نہیں ہیں جو ایک دو مہینے میں جان لے لیں ہوا یہی ہوگا کہ پہلے اسے 3 نمبر، 9 نمبر، 5 نمبر گھول پلاکر بہلایا ہوگا۔ اس کے بعد اناڑی ڈاکٹر نے اپنی قابلیت دکھائی ہوگی۔ باہر اسپتال میں جاتا ہے تو پوری رپورٹ جاتی ہے کہ تکلیف کیا تھی اور علاج کیا ہوا؟ اسی سے سب بھاگتے ہیں۔ روی ایک نوجوان خوبصورت لڑکا تھا۔ ابھی نہیں معلوم کہ اخلاق مرحوم کے قتل میں اس کا کردار کیا تھا۔ عدالت سے پہلے ہی اس کا جانا ایک حادثہ ہے۔ جس میں جیلر کم ذمہ دار ہیں ڈاکٹر سب سے زیادہ اور جان محمد یا حکومت کو نشانہ بنانا اپنا وقت خراب کرنا ہے۔ اور حکومت سے ایک کروڑ کا مطالبہ اور روی کی لاش پر ترنگا ڈالنا وہ بچکانہ حرکتیں ہیں جن سے مقدمہ کمزور ہوتا ہے۔ وہ ان کو ساری توجہ صرف اور صرف اس پر لگانا چاہئے کہ جیل کا ڈاکٹر ٹھکانے لگ جائے تاکہ دوسروں کے ساتھ کوئی ڈاکٹر یہ حرکت نہ کرے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close