ہندوستان

’رہتا نہیں زمانہ ہر بار کسی کا‘

نازش ہماقاسمی
جب سے مرکز میں مودی حکومت آئی ہے مسلمانوں اور دلتوں پر مظالم کا ایک نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ مرکزی حکومت لاکھ نعرے لگائے کہ سب کا ساتھ سب کا وکاس پر ہم عمل پیرا ہیں لیکن ان کے کارندے اور اہلکاران آئے دن یہ کچھ نہ کچھ گڑبڑ کرکے یہ ثابت کردیتے ہیں کہ ملک میں برہمن واد کے علاوہ کوئی جگہ نہیں ہے۔ پہلے تو صرف مسلمان ہی زد پر تھے لیکن اب بھگوائیوں نے دلتوں کو بھی اپنے ظلم کا شکار کرنا شروع کردیا ہے۔ دادری کے اخلاق سے جو بہیمانہ ظلم کی داستان شروع ہوئی ہے وہ مدھیہ پردیش کے مند سورتک جاری ہے۔ اچھے دنوں کا نعرہ لگانے والی سرکار ہر جگہ ہر محاذ پر ناکام ہوتی نظر آرہی ہے۔ کنہیا کمار نے کیا ہی خوب کہا ہے کہ اس حکومت میں انسانوں کے تو اچھے دن نہیں آئے مگر جانوروں کے آگئے۔ عقل وخرد کے مارے جب حکومت کی باگ ڈور سنبھالتے ہیں تو اسی طرح کے فیصلے کی اْمید کی جاسکتی ہے کہ وہاں انسانی خون جانوروں کے خون سے کم تر ہوگا۔ اور یہی نظارہ ہر جگہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ گزشتہ دنوں گجرات کے اونا شہر میں گئو ماتا کے پرستاروں نے چند دلت نوجوانوں کو پیٹ پیٹ کر نڈھال کردیا تھا ان کا جرم بس صرف اتنا تھا کہ انہوں نے مری ہوئی گائی کی چمڑی ادھیڑی تھی۔ اور وہ چمڑی ادھیڑنے کا کام وہ نسلاً بعد نسل کرتے آرہے ہیں اگر نہ کریں تو ماحول تعفن زدہ ہوجائے لیکن یہ کام بھی ان بھگوائیوں کو راس نہیں آیا اور آستھا و عقیدے کی بنیاد بنا کر گئو رکشک والوں نے انہیں نہایت بے دردی سے زدو کوب کیا۔ جس طرح پرانے زمانے میں بادشاہ کسی مجرم کو سزا دیتے تھے بعینہ بھگوائیوں نے ان چار مظلوم دلتوں کے ساتھ کیا پرانے زمانے میں جب کسی اہم مجرم کو سزا دیا جاتا تھا تو گھوڑے سے باندھ کر انہیں دوڑا دیا جاتا تھا لیکن اس جدید دور میں نئی ٹیکنالوجی اپنائی گئی اور انہیں کار سے باندھ کر ان کے دلت ہونے کی سزا دی گئی۔ یہ خبر منظر عام سے ہٹی بھی نہیں تھی کہمدھیہ پردیش کے مندسور میں دو مسلم خواتین پر بیف رکھنے کے الزام میں سرعام پولس کی موجودگی میں مار پیٹ کی گئی۔گئو رکشک کے کارکنان بھارت ماتا کی جے کہتے ہوئے بھارت ماتا میں بسنے والے مسلمانوں کو مار رہے ہیں؟ شرم سے سر جھک جاتا ہے کہ پولس جس کا کام عوام کا تحفظ ہے وہ تحفظ دینے کے بجائے بھگوائیوں کا ساتھ دے رہی ہے اور اْلٹے انہیں ہی گرفتار کررہی ہے۔ حالانکہ ڈاکٹروں کی تحقیق نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ گوشت گائے کا نہیں بلکہ بھینس کا تھا۔ خیر مان بھی لیں کہ گوشت گائے کا تھا تو کیا بھگوائی قانون کے رکھوالے ہیں جو کسی پر بھی کسی بھی وقت حملہ آور ہوجائیں۔ یہ کام تو قانون کا ہے لیکن اب بھگوائی ادا کررہے ہیں۔ کیا یہی ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب ہے کہ کوئی بھی اقلیتی فرقے کے لوگوں کو جرم ثابت ہونے سے پہلے انہیں مارا جائے۔ کیا یہ قوم پرستی نہیں ہے کہ وہ مسلمان ہے اور مسلمان ہونے کی سزا صرف انہیں مارنا اور کم تر دکھانا ہے پہلے تو وہ مردوں پر ہاتھ اْٹھائے لیکن اب عورتیں بھی محفوظ نہیں۔ بات صرف مارنے کی نہیں ہے۔بلکہ ہندوستان کو ایک ایسے سمت میں لے جایا جا رہا ہے جہاں اقلیتوں کی خیر نہیں۔ جس طرح یہودی اپنی برتری کے لئے تمام تر کوششیں کرتے ہیں اب یہاں ہند میں برہمن ہر جگہ ہر شعبے میں اپنی اہمیت جتا کر ہندوستان کو برہمن واد کی دھکیلنے میں مصروف ہیں۔ اگران کا یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچ گیا تو پھر وہی ہوگا جو پرانے زمانے میں ہوا کرتا تھا کہ اگر کسی دلت کا سایہ بھی برہمنوں پر پڑے گا تو انہیں مارا جائے گا۔ کوئی دلت نظر اْٹھا کر برہمن کی بستی سے نہیں گزر سکتا۔ اور یہ ہونا ہے اگر دلتوں نے سوجھ بوجھ سے کام نہیں لیا تو وہ دن دور نہیں ہوگا۔ دلتوں ! تم امیت شاہ اور راہل گاندھی کے ساتھ کھانا کھانے پر خوش نہ ہوں یہ ان کی سیاسی چال ہے کہتے ہیں نہ نیتا بننے کے لئے تمام تر چیزیں جائز ہوجاتی ہیں وہ تمہارے ساتھ کھانا محض اس لئے کھارہے ہیں تا کہ تم انہیں ووٹ دو ان کی سیاست کو مضبوط کرو انہیں خود پر راج کرنے کا لائسنس فراہم کردو تاکہ باضابطہ طور پر تمہیں دوبارہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑا جاسکے اگر یہ بات نہیں ہے تو ان کے کارندے تمہیں کیوں مارتے ہیں تمہارے سایے سے کیوں نفرت کرتے ہیں۔ کیوں تمہاری شنوائی نہیں کی جاتی ہے، کیوں تمہارے نوجوانوں کو سر عام مارا جارہا ہے۔ کیوں تمہارے بچیوں اور مائوں کی عصمت سے کھلواڑ کیا جارہا ؟
آپ کو یاد ہوگا کہ لکھنو کے ایک لعین کملیش تیواری نے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا تھا فی الحال وہ مسلمانوں کے شدید مظاہرے اور احتجاج کے بعد جیل کی سلاخوں میں ہے خبر یہ بھی آرہی تھی کہ ضمانت ہوگئی ہے اور شاید چپکے سے ہو بھی گئی ہوگی لیکن اب ایک بار پھر صوبہ بہار کے مغربی چمپارن (بتیا) میں شیام سندر چودھری نامی ابلیس بھی اسی جرم کا مرتکب ہوا ہے۔ بات مسلمانوں سے جڑی ہوئی ہے مسلمانوں کے نبیﷺکی توہین کی جارہی ہے اسی لئے میڈیا نے اسے کوئی خاص اہمیت نہیں دی اگر یہی بالا صاحب ٹھاکرے کا معاملہ ہوتا تو پورا مہاراشٹر اْٹھ جاتا کرفیو لگادیا جاتا اور آنافانا کئی گرفتاریاں بھی ہوگئی ہوتی لیکن معاملہ مسلمانوں سے جڑا ہوا ہے، اسلئے میڈیا سے لیکر سرکاری محکمہ کے تمام لوگ خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ بہت عجیب بات ہے کہ کہیں ایک عورت کے الزام پر صوبائی وزیر کو پولس گھر میں گھس کر زبردستی اٹھا لے جاتی ہے اور اس کی بیوی کے ساتھ بدتمیزی بھی کرتی ہے، لیکن وہ عورت جب پولس والوں کے خلاف ایف آئی آر کرانے جاتی ہے تو پولس کمپلینٹ لیکر چھوڑ دیتی ہے اور کہیں سر عام عورتوں کو پولس کی موجودگی میں نشانہ بنایا جاتا ہے، کہیں گائے کے نام پر دلت اور مسلم کا استحصال کیا جاتا ہے تو کہیں دلت اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے کھلواڑ کرنے والے دندناتے پھر رہے ہیں، پھر بھی ہماری حکومت کہتی ہے کہ سب ٹھیک ہے، گجرات کے 15000 دلت نے ہندو مذہب چھوڑنے کی دھمکی دی ہے، کشمیر جل رہا ہے، سب ٹھیک ہے، مایاوتی کو گالی دی گئی، سب ٹھیک ہے، مسلم مکت بھارت کا نعرہ لگایا جاتا ہے، سب ٹھیک ہے، بہار کا سیمانچل علاقہ بہہ رہا ہے ، سب ٹھیک ہے،مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے کھلواڑ کیا جارہا ہے اور حکومت خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے، آج اس بات کا میڈیا کے ذریعے واویلا مچایا جارہا ہے کہ اسلام میں امن نہیں ہے حالانکہ اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ اس کے ماننے والے کسی بھی حال میں کسی دوسرے مذہب کی تذلیل کرے، یہی وجہ ہے کہ جو رواداری اور بھائی چارگی مسلمانوں نے اس ملک کو دیا ہے اس سے برادران وطن کا دامن خالی ہے، مسلمان یہ تو برداشت کرسکتا ہے کہ اس کی جان و مال سب کچھ برباد ہوجائے لیکن یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ اس کے جان سے زیادہ عزیز اس کے نبی کی شان میں گستاخی ہوجائے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی گستاخ رسول پیدا ہوئے ہیں مسلمانوں کے جذبات کو روکنا مشکل ہوا ہے۔ ہم نتیش حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے کئے ہوئے وعدوں کو نبھائے اور قبل اس کے کہ مسلمانوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو شیام سندر چودھری نامی لعین کو سخت سے سخت سزا دے، اور اسے دیگر لوگوں کیلئے دیدہ عبرت بنائے تاکہ آئندہ پھر کبھی کوئی ایسی جرأت نہ کرسکے۔ ہم وزیراعلیٰ نتیش کمار کے ذریعہ مرکزی حکومت سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنے کارندوں کی زبان اور ان کے کرتوت پر لگام کسے ۔ کیوں کہ رہتا نہیں زمانہ ہر بار کسی کا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close