ہندوستان

سرجیکل اسٹرائیک :خود اپنے داغ دکھانے کو روشنی کی ہے

ڈاکٹر سلیم خان

سرجیکل اسٹرائیک کا خمار وقت کے ساتھ چڑھتا جارہا ہے ۔گاہے بہ گاہے اس کا ذکر براہ راست یا بالواسطہ کردیا جاتا ہے لیکن کشمیر کی بات  کوئی  نہیں کرتا حالانکہ وہاں پر برہان وانی کے انکاونٹر سے شروع ہونے والی کشیدگی  کو100 دن سے زیادہ بیت چکے ہیں اور حکومت اس محاذ پر چاروں شانے چت  ہوچکی ہے ۔کشمیر کے حالیہ بحران میں ابھی تک 90 سے زیادہ مظاہرین ہلاک کئے جاچکے ہیں ،13000ہزار لوگ زخمی ہوئے ہیں جن میں 1000 نوجوانوں کی بینائی جزوی یا کلی طور پر متاثر ہوئی ہے۔  7000 سے زیادہ لوگوں کو حراست میں لیا گیا اور تجارتی خسارہ تقریباًدس ہزار کروڈ کا ہے۔ اخبارات، موبائیل فون وغیرہ پر آئے دن پابندیاں لگتی رہتی ہیں  اور عوام کی روزمرہ کی  زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔سرجیکل اسٹرائیک کے ذریعہ دشمن کو جو نقصان پہنچایا گیا اس کے مقابلے خود اپنی عوام کا یہ خسارہ کہیں زیادہ ہے لیکن سارہ قوم کو پہلے تواڑی کی فوجی چھاونی پر ہونے والے حملے کا رونا روتی  رہی اور اب  سرجیکل اسٹرائیک پر بغلیں بجارہی ہےحالانکہ اس گورکھ دھندے  کےالجھاو تو بس امر پریم نامی فلم کے عجیب و غریب نغمہ جیسا ہے؎

یہ کیا ہوا؟ کیسے ہوا؟ کب ہوا؟ کیوں ہوا؟                                       جب ہوا، تب ہوا،  چھوڑو یہ نہ سوچو۰۰۰۰یہ ۰۰۰کیا ہوا!

ملک کی عوام اب یہ بھی سوچ رہی ہے کہ آخر سرجیکل اسٹرائیک کا یہ معمہ   اس قدر پیچیدہ  کیوں ہے کہ اس پرہر روز نت نئے  شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں ؟  اس راز کوفاش کرنے کا کام وزیردفاع منوہر پاریکر  کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ حملہ  آرایس ایس کے اندر  ان کی اور وزیراعظم کی تربیت  کا نتیجہ ہے۔   آرایس ایس نے  تحریک آزادی میں حصہ نہیں لیا لیکن سب سے بڑی دیش بھکت بن گئی ۔ یہ جعلی دیش بھکت  سرحدوں کے بجائے بستیوں میں دھونس جماکراپنی بہادری کے ڈنکے بجاتے ہیں۔  اس لئے جب انہوں نے سرجیکل اسٹرائیک کا شور مچاکر اپنی سیاسی دوکان چمکانےکی کوشش کی تو عوام کے ذہنوں میں  شک پیدا ہوگیا۔وزیر اعلی اروند کیجریوال کے  ویڈیو فوٹیج جاری کرنے کے  مطالبہ کو   بی جے پی کے ترجمان روی شنکر پرساد نے بدبختی قراردےدیا  حالانکہ پاکستان کے انکار کی تردید کا یہ سب سے مؤثر طریقہ ہے۔پرساد نے کیجریوالپر  فوج کے حوصلے کو پست کرنے اوراس کی قابلیت پر شک کر نےکا الزام لگایا  اور مودی بھکتوں نے چراغ پا ہو کر کیجریوال کو غدار قراردے دیا ۔ اس چور کی داڑھی میں تنکہ کی سی کیفیت  پر مشتاق عاجز کا یہ شعر صادق آتا ہے کہ ؎

یہ رازِ عشق ہے افشا تو ہو گا،گلی کوچوں میں ُتو رُسوا تو ہوگا                        اُٹھیں گی انگلیاں جب اس پہ عاجزؔ،تمہارا شہر میں ، چرچا تو ہو گا

سرجیکل اسٹرائیک کو لے کر پریشانی کا یہ عالم ہے کہ سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم کا این ڈی ٹی وی پر نشر ہونے والے انٹرویو کو تشہیر کے بعد رکوادیا گیا حالانکہ چدمبرم نے سرجیکل اسٹرائیک پر حکومت کی تنقید نہیں  تائید کی تھی ۔ لگتا ہے کہ اس مسئلہ پر بولنے کا حق  اب سنگھ پریوار کیلئے مختص کردیا گیا ہےیا  ان لوگوں کواندیشہ ہے کہ کسی اور کی حمایت سے بھی ان کیلئے نقصان دہ ہوسکتی ہے۔ وزیراعظم  نریندر مودی نے یوم آزادی کے موقع پر بڑے طمطراق سے مقبوضہ کشمیر سمیت گلگت اور بلتستان کو ہندوستان کا اٹوٹ انگ بتا کر خوب دادِ تحسین حاصل کی تھی لیکن سرجیکل اسٹرائیک نے اس کی نادانستہ تردیدکردی ۔ اگر وہ خطہ ہندوستان کا حصہ ہیں تو وہاں اتنی خاموشی  اور رازداری کے ساتھ نصف شب میں  جانا اور صبح پو پھٹنے سے قبل لوٹ آنا کیا معنیٰ رکھتا ہے؟  وزیراعظم نے  فوج کوواپس کیوں بلایا وہیں  خیمہ زن رہنے کا حکم کیوں نہیں دیا؟

اس  حملے پر اس قدر سیاست ہوئی کہ حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی کو کہنا پڑا وزیراعظم فوجیوں کےخون کی دلالی نہ کریں ۔ راہل کے اس بیان پر ان کے خلاف دہلی کی ایک عدالت میں  ہتک عزت کا  دعویٰ ٹھونک دیا گیا ۔ دراصل یہ مقدمہ تو وزیردفاع منوہر پاریکر کے خلاف ہونا چاہئے جنھوں نے یکے بعد دیگرے دو احمقانہ بیان دئیے ۔ اول فوج کا ہنومان سے موازنہ کردیا۔ بی جے پی والے خود کوتو رام سینا قرار دیتے ہیں اور ملک کی فوج کو ہنومان بنادیتے ہیں ۔ منوہر پریکر نے یہ بھی کہا اس سرجیکل اسٹرئیک سے قبل ہندوستان کی فوج کو اپنی شجاعت و دلیری  کا علم نہیں تھا ۔ یہ تو سراسر فوج کی توہین ہے جس پر انہیں  نہ صرف فوج بلکہ قوم سے معافی مانگنی چاہئے۔

ہونہار وزیردفاع منوہر پاریکر نے گزشتہ دنوں  یہ انکشاف بھی کیا کہ سرجیکل اسٹرئیک پہلی بار ہوا ہے جبکہ اس سے قبل کانگریس دو مرتبہ اس طرح کا محدود حملہ کرنے کا دعویٰ کرچکی ہے اور بی جے پی اس کی تردید  نہیں کرسکی   ۔   ہندو اخبار نے ۲۰۱۱؁ میں ہونے والے حملے ’’آپریشن جنجر‘‘ کی تفصیلات بھی شائع کردیں ۔ اب سنگھ کے دانشور پرانے اور نئے حملے کا فرق بتانے میں جٹ گئے  ہیں ۔ آپریشن خنجر کو بدلے کی کارروائی کہہ ک ہلکا کیا جارہا ہے حالانکہ  یہ حملہ بھی تو اڑی کا انتقام تھا ۔سرحد پر اس طرح کی کارروائی پہلے بھی ہوئی مگر ایسا شور غل  پہلی بار ہورہا ہے۔ منوہر پریکر کے دعویٰ کی سب سے طاقتور تردید خارجہ سکریٹری شیوشنکر کی جانب سے آئی۔ انہوں نے پارلیمان کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے اعتراف کیا کہ اس طرح  کے کامیاب حملے پہلے بھی ہوئے ہیں  مگر ان کا اعلان پہلی بار ہوا ہے۔ شیوشنکر کو چونکہ انتخاب نہیں لڑنا ہے، انہوں نے یہ بیان عوام میں نہیں بلکہ ایک نہایت ذمہ دار فورم میں دیا ہے جہاں کذب گوئی سے ان کی ملازمت خطرے میں پڑ سکتی ہے اور ان کا تعلق سنگھ پریوار سے نہیں ہے اس لئے وہ وزیردفاع سے کہیں زیادہ قابلِ اعتبار ہیں ۔ منوہر پاریکرتو آئندہ سال اپنی ریاست گوا میں انتخاب کے پیش نظر ایک وجئے یاترا بھی نکالنے جارہے تھے  مگر ان کو اس سے روک دیا گیاہے۔کشمیر کی آگ پر اپنی سیاسی روٹیاں سینکنے والوں   کو یاد رکھنا چاہئے کہ غریب کی  کٹیامیں لگائی جانے والی  آگ سے حکمرانوں کےمحل روشن ہونے کے بجائے خاکستر بھی ہوجاتے ہیں بقول شاعر؎

اسی لہو میں تمھارا سفینہ ڈوبے گا                    یہ قتل عام نہیں، تم نے خودکشی کی ہے

وزیرداخلہ  راجناتھ نے لکھنوکے جلسۂ عام میں  وزیراعظم کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں دنیا کو معلوم ہوگیا ہے کہ اب ہندوستان کی فوج کمزور نہیں ہے گویا پہلے دنیا بھر کے لوگ ہندوستان کی فوج کو کمزور سمجھتے تھے ۔ ہندوستان  کی فوج آزادی کے بعد چین کےساتھ ایک اور پاکستان کے ساتھ چار جنگوں میں اپنی دلیری کا مظاہرہ کر چکی  ہے ۔ کیا اس وقت فوج کو اپنی بہادری کا علم نہیں تھا یا ساری دنیا نے اس کا اعتراف نہیں کیاتھا  ۔ملک کے وزیرداخلہ کو اس طرح کا بیان زیب دیتا  ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان جنگوں کے باوجود  مسئلۂ کشمیر جوں کا توں رہا ایسے میں  سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کی بات درست لگتی  ہے ’’وادی کا بحران اور تنازعہ دب تو سکتا ہے لیکن یہ چنگاری بجھ نہیں سکتی۔ یہ پھر سے اٹھے گی اور ہماری تباہی کا باعث بنےگی دونوں بڑے ممالک سے ہم اپیل کرتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں مسئلہ کا حل بات چیت ہے ۔ بات چیت سے ہر مسئلہ کا حل نکل سکتا ہے‘‘۔

اس سرجیکل اسٹرائیک  پر اپنی  مسرت کا اظہار کرتے ہوئے بہت سارے لوگوں نے کہہ دیا کہ کاش اس طرح کا حملہ کئی سال قبل ہوا ہوتا تو کشمیر میں شورش پیدا ہی نہ ہوتی حالانکہ بعد میں پتہ چلا کہ کانگریس کے زمانے میں بھی یہ سب ہوچکا ہے اور اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔سرجیکل اسٹرائیک کے بعد جو خوش فہمی پیدا ہوئی تھی اب مظاہرے اور حملے کافور ہوجائیں گے وہ  بہت جلد دور ہوگئی۔ پمپور کے ایک سرکاری ادارے پر فروری  میں حملہ کیا گیا تھا جہاں سے حملہ آوروں کو نکالنے میں 48 گھنٹے لگے تھے ۔ سرجیکل اسٹرائیک کے بعد پھر سے اسی ادارے کو نشانہ بنایا گیا اور 2 حریت پسندوں  پر قابو پانے میں فوج کو 52 گھنٹے لگے ۔ گزشتہ 100 دنوں کے اندر فوجی تنصیبات میں  ہونے والے حملوں اچھا خاصہ اضافہ ہوا ہے۔ ہر دوسرے تیسرے دن کوئی نہ کوئی خبر ذرائع ابلاغ میں آجاتی ہے ۔ آئے دن عسکریت پسند حفاظتی دستوں سے بندوق چھین کر لے جاتے ہیں ۔ پاکستان اگر خوفزدہ ہو گیا  ہے تو اس نے گزشتہ19 دنوں میں 29 مرتبہ سرحد پر جنگ بندی  کی خلاف ورزی کیوں کی؟

کشمیر کی اس دگرگوں صورتحال کا اعتراف   بی جے پی کے نائب صدر اور کشمیر کے  نگراں اویناش کھنہ نے بھی  کیا ہے مگر وہ  اپنی پیٹھ تھپتھپا نے کیلئے کہتے ہیں  کہ اگر ہم اقتدار میں نہیں ہوتے تو جموں میں اس  کاشدید ردعمل  ہوتا ۔ ظاہر ہے بی جے پی اگر اقتدار میں نہیں ہوتی تو وہ آئے دن جموں میں مظاہرے اور احتجاج کرتی اب چونکہ صوبے اور مرکز دونوں مقامات پر اس کی اپنی حکومت ہے احتجاج کس کے خلاف کیا جائے؟  ایک سینئر پولس افسر کا کہنا ہے کہ وادی میں جملہ 240 تا 260 کے درمیان عسکریت پسند ہیں  جن میں سے 85 غیر ملکی ہیں ۔  ان اعدادو شمار سے یہ راز فاش ہوجاتا ہے کہ پاکستان سے آنے والے دہشت گردوں کا جو بونڈر کھڑا کیا جاتا ہے اس کی  حقیقت کل 100 بھی نہیں ہے  ۔

قومی انتخاب سے قبل امیت شاہ نے بڑے فخر سے کہا تھا کہ اگر نریندر مودی وزیراعظم بن گئے تو کوئی دہشت گرد ہندوستان میں داخل ہونے کی جرأت نہیں کرے گا۔ ہوسکتا ہے کہ پاکستانی دہشت گردوں کو یہ پتہ ہی نہ چلا ہو کہ مودی جی اپنی نصف سے زیادہ میعاد ختم کرچکے ہیں ۔ ویسے وزیردفاع نے بھی کچھ روز قبل سینہ ٹھونک کر کہا تھا اب کوئی میری اجازت کے بغیر سرحد پار نہیں کرسکتا ۔ ایسالگتا ہے ان کی یہ دھمکی  بھی صدا بہ صحرا ہوگئی۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اگر وادی میں عسکریت پسندوں کی کل تعداد صرف 260سے یا اس سے کم ہے تووہ  لاکھوں کی تعداد میں ہماری فوج کے قابو میںکیوں نہیں آتےاور  اس کام کیلئے دنیا بھر کو ساتھ لینے کی ضرورت کیوں پیش آتی  ہے ؟ ان سوالات کا جواب شاید اس شعر میں ہے ؎

زندگی کا رنگ ایسا تو نہ تھا، روشنی کم تھی اندھیرا تو نہ تھا                          عکس تک اپنا نہ پہچانا گیا، آئنہ ایسا بھی دھندلا تو نہ تھا

مایا وتی نے وزیراعظم کے حلقۂ انتخاب  وارانسی میں ایک زبردست ریلی کرکے بی جے پی کے ذریعہ  سرجیکل اسٹرائیک کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی مذمت کی۔  پایاوتی نے اپنی تقریر میں کہا ایک  طرف اڑی میں ہلاک ہونے فوجیوں کے اہل خانہ سوگ منارہے ہیں اور دوسری جانب  وزیراعظم  دسہرہ کاجشن منارہے ہیں ۔ ان کو چاہئے کہ وہ  فوجیوں کے پسماندگان کی  ہمدردی میں اس سال دیوالی اور دسہرہ سادگی سے منائیں ہے ۔مایاوتی شاید نہیں جانتیں کہ  امیت شاہ  پہلے ہی یہ اعتراف کرچکے ہیں  کہ سرجیکل اسٹرائیک انتخابی مدعا تو بن ہی جائیگا  ۔ امیت شاہ کی یہ بات درست ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس بابت کئے جانے والے سارے وعدے  انتخاب کے بعد ’’جملہ‘‘ کہہ کر بھلا دئیے جائیں گے۔

اترپردیش کے حوالے سے  امیت شاہ کی منصوبہ بندی  بہت موثر ہے ۔ پہلے تو دہلی کےوگیان بھون میں  پنڈت دین دیال کی کتابوں اجراء کرتے ہوئے وزیراعظماشاروں کنایوں میں کہتے ہیں کہ  بہت جلد ہم وجئے دشمی منانے والے ہیں اور  اس سال کا  دسہرہ بہت خاص ہوگ اسی کے ساتھ سارا ہال تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے گونج اٹھتا ہے لوگ اشارہ سمجھ جاتے ہیں  ۔ اس کے بعد وزیراعظم  دسہرہ منانے کیلئے لکھنو کے رام لیلا میدان میں   پہنچ جاتےہیں  اور وہاں ان کی خدمت میں ہنومان کی گدا پیش کی جاتی ہے  ۔ یہ وہی ہنومان ہے جس کا ذکر منوہر پریکر نے کیا تھا ۔ وزیر اعظم نے اپنی تقریر کی ابتداء اور اختتام جئے شری رام سے کرتے ہیں لیکن سرجیکل سٹرائیک کے ذکر سے گریز  کیا جاتا ہے اور پھر ہماچل پردیش کے اندر اس کا ذکر سفاک اسرائیل سے جوڑ کر اس طرح کیا جاتا ہے کہ پہلے یہ اسرائیل کرتا تھا اب یہ ثابت ہوگیا کہ ہندوستانی فوج بھی کسی سے کم نہیں ہے۔ ان تمام واقعات کو جوڑ کر دیکھا جائے توکیا ایسا  نہیں لگتا کہ  ان سب کا سوتردھار ایک ہی ہے ؟

لکھنو کی دسہرہ ریلی کے بعد ایودھیا میں رامائن  میوزیم  کی تعمیر اس  بات کا اشارہ ہے کہ بی جے پی اس بار رام رتھ پر سوار ہوکر اترپردیش کا انتخاب جیتنا چاہتی ہےحالانکہ اکھلیش بھی ایودھیا  میں رام تھیم پارک بنا کر ہندوتواوادیوں کو رام کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ رام کے نام پر  سنگھ  پریوار کے اندر مہابھارت چھڑی ہوئی ہے۔وزیر سیاحت مہیش شرما جب رامائن میوزم کی تیاری کیلئے ایودھیا کیلئے  نکلے تو وہ ایودھیا سے راجیہ سبھا کے ایم پی ونئے کٹیار کو اپنے ساتھ لے جانا بھول گئے ۔ اس پر کٹیار نے اپنی بھڑاس اس طرح نکالی کہ  وہ تو اچھا ہی ہوا جو وہ ایودھیا میں نہیں تھے ورنہ لوگ سوال کرتے کہ رام مندر کب بنے گا؟ کٹیار کے مطابق جب  بھی وہ ایودھیا جاتے ہیں سنت مہنت ان سے سوال کرتے ہیں کہ رام مندر کی تعمیر کا کام کب شروع ہوگا ؟ اب  لوگ  اس طرح کے لالی پاپ سے بہلنے والے نہیں ہیں انہیں رام جنم استھان پر مندر چاہئے نہ  کہ15 کلومیٹر دور میوزیم ۔

رام مندر کے نام پر راس لیلا کرنے والی بی جے پی  کو چاہئے کہ وہ ایک نظر  انڈیا ٹوڈے اور ایکسس کے انتخابی جائزے پر ڈال لے ۔ اس جائزے کے مطابق گزشتہ مرتبہ 80میں 71 سیٹ جیتنے والی بی جے پی  اب بھی سب سے آگے چل رہی لیکن واضح اکثریت  میں  ہنوزتقریباً 30 کی کمی ہے۔  اسی کمی  کو پورا کرنے کیلئے کبھی  جئے شری رام کاتوکبھی  پاکستان کا شور بلند کیا جاتا ہے۔ انڈیا ٹوڈے کے مطابق بی جے پی کے صرف 3 فیصد رائے دہندگان رام مندر کو اہم سیاسی مدعا مانتے ہیں اور گائے کے حق میں تو صرف ایک فیصد ہیں ۔ وزیراعظم کی کارکردگی 9 فیصد لوگوں کے نزدیک اہم ہے جبکہ ۸۸ فیصد اب بھی ترقی کو اہمیت دیتے ہیں ۔ بی جے پی والوں نے اگر ترقی کے بجائے رام مندر کا راگ الاپنا شروع کردیا تو یہ 30 والی کھائی مزید گہری ہوسکتی ہے۔

سرجیکل اسٹرائیک جیسا معاملہ بھی  ماضی میں  اتر پردیش  کے ووٹرس کو بہت متاثر نہیں کرسکا ہے۔ جولائی 1999 میں کارگل کی جنگ ہوئی اس سے قبل 1998  میں اترپردیش  میں بی جے پی کے 59 ارکان پارلیمان منتخب ہوئے تھے مگر جنگ  کے 3 ماہ بعد ہونے والے قومی انتخاب میں یہ تعداد گھٹ کر 29 پر پہنچ گئی  اور کانگریس صفر سے بڑھ کر 10 پر آ گئی ۔ بی ایس پی کو بھی 10 کا اور سماجوادی کو 6 کا فائدہ ہوا۔ 2006میں وارانسی کے اندر کئی دھماکے ہوئے جس میں 28 لوگ ہلاک اور101 زخمی ہوئے۔ اس کے بعد بی جے پی نے پاکستان اور کانگریس کے خلاف زبردست تحریک چلائی مگر ۲۰۰۷؁ کے اندر ہونے والے صوبائی  انتخابابت میں بی جے پی کے ارکان اسمبلی  کی تعداد ۸۸ سے گھٹ کر ۵۱ پر پہنچ گئی  جبکہ بہوجن سماج پارٹی کو واضح اکثریت حاصل ہوگئی اور ایس پی اقتدار سے محروم ہوگئی۔  بی جے پی نے اگر ماضی سے سبق نہیں سیکھا تو تاریخ اپنے آپ کو دوہرا سکتی ہے اور اگر ایسا ہوگیا تو مودی جی اور شاہ جی کی زبان اسی نغمہ کا آخری بند ہوگا؎

ہم نے جو ، دیکھا تھا سنا تھا ، کیا بتائیں وہ کیا تھا                      سپنا سلونا تھا، ختم تو ہونا تھا ، ہوا۰۰۰۰یہ کیا ہوا

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close