ہندوستان

سنگھ پریوار کیا ہے؟

(آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیمیں)

تحریر: حارث بشیر … ترتیب: عبدالعزیز

(تیسری قسط)

            1967ء کے جنرل الیکشن میں جن سنگھ کو کافی فائدہ ہوا۔ ڈالے گئے ووٹ میں اس کا لوک سبھا کیلئے 9.33% اور صوبائی اسمبلیوں میں 8.77% حصہ رہا، جبکہ پارلیمنٹ میں اس کو 520 میں سے 35 اور وِدھان سبھا کی 3487 میں سے 268 سیٹیں آئیں۔ 1962ء کے الیکشن میں پارلیمنٹ میں یہ تعداد 14 اور ووٹ کا فیصد 6.4 تھا۔

            حفاظت گائے کی تحریک کی ناکامی کے دو بنیادی وجوہ تھے۔ پہلا تھا سیاسی حالات کا پوری طرح موافق نہ ہونا۔ مرکزی حکومت کا رویہ اندرا گاندھی کی وزارت عظمیٰ میں سخت اور فرقہ وارانہ مخالف تھا۔ دوسری طرف اس کی مذہبی تنظیم وشو ہندو پریشد کمزور تھی۔

            ہندو اتحاد: ابھی تک اس کو ہندوؤں میں معیاری (Standarised) مذہبی رسوم کے فروغ میں زیادہ کامیابی نہیں ملی تھی۔ اس لئے یہ مذہبی بنیاد پر ہندو اتحاد کیلئے جدوجہد میں لگی رہی۔ (17)

            جنوری 1979ء میں پریشد نے دوسری بین الاقوامی ہندو کانفرنس کا انعقاد الہ آباد میں کیا، جس میں ایک اندازہ کے مطابق ایک لاکھ مندوبین نے شرکت کی۔ یہ پہلی کانفرنس سے زیادہ نمائندہ کانفرنس تھی، جس میں ہر گروہ کی نمائندگی تھی۔ افتتاح دلائی لامہ (جوکہ تبتی بودھوں کے نمائندہ ہیں ) نے کی۔ اس میں ہندوؤں کو غیروں کے خطرے سے بچانے کیلئے دو باتیں منظور کی گئیں۔ چھوت چھات (جوکہ بعضوں کے بقول تبدیلی مذہب کا باعث ہے) کا خاتمہ اور ہندو ازم کا اتحاد جو انھیں ایک بناسکے۔ پریشد نے ایک بار پھر ہندو زندگی کیلئے کم سے کم ضابطہ اخلاق پیش کیا۔ جس کی پہلی دفعہ تھی ہر صبح تمام ہندو سورج کے آگے جھکیں۔ دوسری دفعہ تھی ’اوم‘ کا استعمال ہمیشہ کیا جائے۔ تیسری دفعہ تھی ’’بھگوت گیتا تمام فرقوں کی مقدس کتاب ہے، جس میں ہندو فلسفہ اور طریقہ زندگی کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ہر ہندو گیتا کی ایک کاپی اپنے گھر میں لازماً رکھے‘‘۔ سوامی چنمایا نندا کے مطابق:

            ’’عیسائیت اور اسلام اچھی طرح منظم ہیں۔ ہندو دوسری طرف ابھی تک کئی زبانیں بولتے ہیں۔ چنانچہ اپنے ہی ملک میں ان کی کوئی آواز نہیں ہے۔ اس لئے ہمیں ہندوؤں کو ہندو ازم میں تبدیل کر دینا چاہئے اور تب ہر چیز ٹھیک ہوجائے گی‘‘۔ (18)

            اس دور میں پریشد کی زیادہ تر توجہ عیسائی مشنریوں کے قبائل میں کام کی طرف تھی۔ بہر حال غیر سنگھی افراد کی موجودگی نے پریشد کو جنگی رخ اپنانے سے باز رکھا۔

            ہندو ووٹ بینک کی تیاری: ایمرجنسی کے بعد بنی جنتا حکومت میں سابق جن سنگھیوں کی آر۔ ایس۔ ایس کی ممبر شپ کو لے کر اختلافات بڑھتے چلے گئے۔ جنتا پارٹی کے تجربہ کی ناکافی سنگھ میں ہندو ووٹ بینک تیار کرنے کا خیال زور پکڑنے لگا۔ ہندستانی سیاست میں ووٹ بینک کے تصور سے مراد ایسا حلقہ یا گروہ ہے جو ہر حال میں کسی خاص پارٹی کو الیکشن میں اپنا ووٹ دے۔

            آر ایس ایس بالا صاحب دیورس کی سربراہی میں ایمرجنسی سے قبل ’جے پی تحریک‘ کے ساتھ سیاسی مہم میں راست طور پر شریک ہوگئی تھی۔ یہاں تک کہ سیاسی دخول و اقتدار کیلئے جن سنگھ نے اپنا وجود بھی ختم کر دیا تھا، لیکن اپنے ہندو ایجنڈے میں ان کو دشواری بھی پیش آرہی تھی۔ او پی تیاگی کا تبدیلی مذہب کو روکنے اور دشوار بنانے کے مقصد سے ’مذہب کی آزادی کا بل‘ نہیں منظور ہوسکا تھا، جبکہ پریشد اس کی تائید کر رہی تھی۔ ان حالات میں اپنا ’ہندو ووٹ‘ تیار کرنے کا خیال تعجب کی بات نہیں تھی، چنانچہ یہ کام وشو ہندو پریشد کے سپرد کیا گیا تاکہ دوسروں پر انحصار نہ رہے۔

            دیورس نے دوسری بین الاقوامی ہندو کانفرنس 79ء میں اپنا یہ طویل مدتی سیاسی منصوبہ صاف طور پر پیش کیا:

            ’’حکومت یہ سوچتی ہے کہ ہندوؤں کا کوئی حق نہیں ہے، یہاں تک کہ بنیادی حقوق بھی نہیں، جبکہ دوسری مذہبی اقلیتیں زور سے بولتی ہیں اور اسی حکومت سے خاص مراعات حاصل کرلیتی ہیں۔ سیاستداں صرف اگلے الیکشن اور ذاتی مفاد کے بارے میں سوچتے ہیں۔ ہندوؤں کو لازماً اب خود کو جگانا چاہئے کہ الیکشن کے نقطہ نظر سے بھی سیاست دانوں کو ہندو جذبات کا احترام کرنا پڑے اور وہ اپنی پالیسیوں کو اس کے مطابق تبدیل کرلیں۔ اگر دوسرے مطالبہ کرتے ہیں تو فوراً پورا کیا جاتا ہے، جبکہ ہندوؤں کا صحیح مطالبہ بھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ایسا اس لئے ہے کہ مسلمان اور دوسری اقلیتیں عام طور سے متحدہ (en bloc)  ووٹ دیتی ہیں، جبکہ ہندو منقسم ہیں۔ اگر ہندو متحد ہوجائیں تو حکومت ان کا بھی خیال کرنے لگے، اس لئے وقت کی ضرورت ہے کہ ہم ہندو شعور کو بحیثیت ہندو جگائیں ‘‘۔ (19)

            منصوبہ اور مقصد سے قطع نظر دیورس کی دلیل بنیادی طور پر غلط، منفی اور مغالطہ میں ڈالنے والی تھی۔ ’’حکومت یہ سوچتی ہے کہ ہندوؤں کا کوئی حق نہیں ہے، یہاں تک کہ بنیادی حقوق بھی نہیں ‘‘ جیسے جملے اپنے مخاطبین کو صرف بھڑکانے والے ہیں۔ جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اولاً تو حکومت کی سوچ کا صرف دعویٰ ہے، جس کیلئے کوئی ثبوت نہیں دیا گیا۔ کیا حکومت کے وزراء و افسران کا کوئی بیان اس کیلئے پیش کیا جاسکتا ہے؟ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق تمام ہندستانی شہریوں کیلئے ہیں۔ اس میں بھی درج فہرست ذاتوں کیلئے ریزرویشن کا اصول رکھا گیا ہے۔ چنانچہ پارلیمان، اسمبلیوں اور سرکاری نوکریوں میں ریزرویشن موجود ہے؛ بلکہ ایک صدارتی حکم کے ذریعہ جس کی تائید ملک کی سپریم کورٹ نے بھی کردی، ان درج فہرست ذاتوں کا ہندو ہونا لازمی قرار دیا گیا۔ تبدیلی مذہب پر یہ مراعات ان سے چھین لی جاتی ہیں۔ حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ ایسی پچھڑی ذاتیں دوسرے مذاہب والوں میں بھی موجود ہیں۔ یہ پابندی ان کی تبدیلی مذہب پر روک لگانے کا ذریعہ رہی ہے۔ اس کے باوجود اگر نچلی ذاتوں کے لوگ اپنا دھرم چھوڑنے لگیں گے تو تبدیلی کا مطالبہ مذہب میں ہونا چاہئے تاکہ لوگوں سے ان کی اس آزادی کو چھین لیا جائے۔ ہندو لیڈران اور مذہبی ذمہ داران تقریروں میں ذات پات کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور اس کو ہندو دھرم سے باہر کی چیز قرار دیتے ہیں، جبکہ دوسرے ہی سانس میں ’’ورن کے نظام‘‘ کی تائید و توصیف میں لگ جاتے ہیں۔ سنسکرت (جو کہ استعمال میں نہیں ہے اور نہ کبھی عوامی زبان رہی ہے) الفاظ کا سہارا لے کر موخر الذکر کو الگ چیز قرار دینے سے حقیقت نہیں بدل جاتی۔ بہر حال سنگھ اپنی مذہبی تنظیم (VHP) میں اسی کیلئے صرف چھوا چھوت (Untouchability) کے خاتمہ کا پروگرام رکھتی ہے، مہاتما گاندھی نے اس کام کو عملاً کرکے دکھایا تھا۔

            اقلیتوں کو حاصل دستوری حقوق جیسے مذہب اور زبان کی آزادی سنگھ کو کھٹکتی ہے۔ ان منفی جذبات کا سہارا لے کر سنگھ کا اپنا مطلوب سیاسی اقتدار کا حصول ہی رہا ہے، جس کیلئے انھوں نے اپنی اس مذہبی تنظیم کو استعمال کیا، حالانکہ اپنے سماج کی اصلاح کر کے وہ اپنے دھرم اور پھر ملک دونوں کا بھلا کرتے۔

            ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح انھوں نے دس سال تک اپنی منفی سوچ کے ذریعہ نفرت کو عام کیا۔ ہندو اتحاد کے نام پر مسلمانوں کو ڈرایا، دھمکایا۔ ملکی قوانین کو نہ صرف توڑا بلکہ سپریم کورٹ میں کئے گئے وعدے کی پابندی بھی نہیں کی۔ اس طرح سنگھ ایک غیر ذمہ دار تنظیم بن کر سامنے آتی ہے۔

            ہندو ووٹ بینک کی تیاری کی اس مہم میں دس سال لگے۔ جو آزادی ہند کے بعد ہندو قوم پرستوں کی سب سے بڑی سب سے وسیع مہم تھی۔ جس میں سنگھ کی تمام تنظیموں اور اشخاص نے حصہ لیا۔ اس کے ذریعہ سماج کے ایک بڑے طبقہ کو نہ صرف متاثر کیا بلکہ اپنا ہم نوا بناکر اس مہم میں لگایا۔ اس کیلئے بنیادی طور پر دو طریقے اختیار کئے گئے:

            اول: تنظیم کو پھیلانا، بڑھانا … سنگٹھن (تنظیم) کو مضبوط کرنا … اس میں عام لوگوں کی سطح پر بجرنگ دل کا قیام (اپریل 1984ء) اور سادھوؤں کی سطح پر تنظیم نو جوکہ پریشد کا بنیادی مقصد رہا ہے، بطور مثال پیش کیا جاسکتا ہے۔

            دوم: جذبات بھڑکانے والے ایشوز کو اختیار کرنا، جیسے رام جنم بھومی تحریک وغیرہ اور اس کے ذریعہ لوگوں کو متحرک (mobilize) کرنا اور مختلف پروگرام بناکر انھیں متحرک رکھنا۔

            1982ء میں سنگھ نے ہرموہن لال کو وی ایچ پی کا نیا جنرل سکریٹری بنایا۔ وہ 1945ء میں سنگھ سے وابستہ ہوئے، اس سے پہلے وہ جئے پور اور آگرہ کے سنگھ چالک تھے۔ اس وقت اشوک سنگھل جو 1977ء تا 1982ء کان پور کے پرچارک اور پھر دہلی کے پرانت (علاقائی) پرچارک تھے، اس کے جوائنٹ جنرل سکریٹری بنائے گئے۔ سنگھل، موہن لال کے انت کے بعد اپریل 1986ء میں پریشد کے جنرل سکریٹری بنائے گئے۔ اس وقت اچاریہ گری راج کشور جوائنٹ جنرل سکریٹری بنائے گئے۔ یہ صاحب بھی 1940ء سے سویم سیوک تھے جو 1943ء میں پرچارک بنے۔ ان کو 1960ء میں ABVP کا آرگنائزنگ سکریٹری اور 1971ء میں راجستھان بی جے پی کا سکریٹری بنایا گیا۔ 1982ء میں سنگھ نے اپنے 150 پرچارک پریشد کو دے رکھے تھے۔ اس کے علاوہ پریشد نے خود اپنے ’دھرم پرچارک‘ تیار کئے۔ جولائی 82ء میں ان کی تعداد 100 تھی۔ پریشد میں اس وقت سویم سیوکوں کے علاوہ سابق راجہ مہاراجہ، بڑے سیٹھ، ساہوکار (وشنو ہری ڈالمیا، ایس بی، سمیا، جی ایس سنگھانیہ، نائب صدور)، معزز افراد (سابق مرکزی وزیر داخلہ گلزاری نندہ، الہ آباد ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج، قانون داں ) اور مذہبی لوگ (مہنت، سوامی وغیرہ) شامل تھے۔ ان لوگوں نے 1980ء کی دہائی میں ملک میں زبردست ہلچل پیدا کردی۔ (20)

            تنظیمی ڈھانچہ: پریشد ایک ٹرسٹ کی حیثیت سے رجسٹرڈ ہے جس کے دو اہم ادارے بورڈ آف ٹرسٹیز (نیاسی منڈل) اور گورننگ کونسل (پربندھ سمیتی) ہے، جس کے ممبر تاحیات ہوتے ہیں۔ بورڈ آف ٹرسٹیز کے زیادہ سے زیادہ 101 ممبران ہوسکتے ہیں۔ 71 ہندستان سے اور 30 باہر سے۔ اس کے ممبران کے پاس پریشد کا کوئی عہدہ نہیں ہوتا اور یہ زیادہ تر سنگھ سے باہر کے افراد ہوتے ہیں۔

            صدر کا عہدہ سب سے بڑا ہے۔ اس کے نیچے ایک جنرل سکریٹری اور تین جوائنٹ جنرل سکریٹری ہوتے ہیں۔ یہ افراد ہندستان اور غیر ممالک میں پریشد کی رہنمائی کرتے ہیں۔ کل ہند سطح پر سکریٹریز اور جوائنٹ سکریٹریز ہوتے ہیں۔ یہ سب گورننگ کونسل کے ممبران ہوتے ہیں۔

            پریشد نے اپنا کام پانچ جغرافیائی حصوں (انچل) میں بانٹا ہے پھر یہ علاقوں (چِھتر) میں منقسم ہیں۔ علاقے میں صوبوں میں بٹے ہیں۔ یہ صوبے بلاک (ویبھاگ) اور پھر ضلع میں منقسم ہیں۔ ضلع پراکھنڈ اور اُپ کھنڈ میں بانٹے گئے ہیں۔ تنظیم کا سب سے چھوٹا حصہ ’’اُپ کھنڈ‘‘ کہلاتا ہے۔ (سنگھ میں یہ شاکھا کہلاتا ہے)۔ کام کا اصل مقام ’پراکھنڈ‘ ہے جس کی میٹنگ ماہانہ ہوتی ہے۔ اہم مسائل کے موقع پر یہ کئی بار بھی ہوسکتی ہے۔ 1995ء کی ان کی اپنی رپورٹ کے مطابق پراکھنڈ کی تعداد 7137 تھی جس میں ان کے مطابق 4560 متحرک ہے۔

            ہندو پریشد کا نوجوان بازو ’’بجرنگ دَل‘‘ ہے۔ مندر کی تعمیر کے مسئلہ میں سادھوؤں اور بجرنگ دل کے ساتھ ہندو پریشد کے اندرونی اختلافات کی خبریں بھی آئی ہیں، لیکن اصلاً یہ اس کی رہنمائی میں کام کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ پریشد کے تحت ’’درگا واہنی‘‘ بھی قائم ہے۔ درگا واہنی میں 15 تا 35 سال کی خواتین اور لڑکیاں ہوتی ہیں۔                                                                         (جاری)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close