ہندوستان

سنگھ پریوار کیا ہے؟

(آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیمیں )

تحریر: حارث بشیر … ترتیب: عبدالعزیز

        سنگھ کا مقصد پورے سماج کی تبدیلی ہے۔ زندگی کے مختلف میدانوں میں اپنے مقاصد کے حصول کیلئے تقریباً 27 سال تک سنگھ نے الگ سے تنظیمیں نہیں قائم کی تھیں۔ تقسیم ملک اور مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد سنگھ پر حکومتی پابندی کے دوران کام کی اسٹراٹیجی کے سلسلہ میں تنظیم کے اندر سوالات ہونے لگے۔

(1 کسی کو آزاد ہندستان میں کردار سازی، کی ضرورت پر اعتراض نہیں تھا۔ مباحثہ اس پر تھا کہ کیا صرف کردار سازی کا عمل ہی ہندو احیاء کا خواب پورا کرسکے گا؟

(2 سیاسی میدان میں سردار ولبھ بھائی پٹیل اور پرشوتم داس ٹنڈن کی جگہ جواہر لال نہرو جیسے مغربی خیالات سے متاثر افراد کی بالا دستی، تلنگانہ (صوبہ آندھرا پردیش) کی تحریک میں کمیونسٹوں کا عمل دخل جیسے عوامل نے حکمت عملی اور طریقہ کار کی تبدیلی و مسائل پر سوچنے پر مجبور کیا۔ طلباء، مزدوروں، کسانوں، تاجروں، سرکاری ملازمین وغیرہ کو منظم کرنے کیلئے سنگھ کے پروگرام کی عدم موجودگی نے مزید بے چینی پیدا کی۔ اس پابندی کے دوران کام کے نئے تجربات نے سنگھ کے ذہین اور نوجوان پرچارکوں کے سامنے کام کے نئے میدان کھول دیئے۔ قیادت نے عوامی رابطہ کی ضرورت سے اتفاق کیا۔

(3طے کیا گیا کہ سنگھ قومی دھارے میں اپنی موجودگی کا احساس دلائے گا، ہر سمت میں پہنچا جائے گا، تاکہ کوئی جگہ خالی نہ رہنے پائے۔

(4 مصالحت غالباً اس پر ہوئی کہ بہ جائے اس کے کہ سنگھ ہر کام کو بہ ذات خود انجام دے، زندگی کے مختلف میدانوں کیلئے الگ الگ تنظیمیں قائم کی جائیں اور سنگھ ’کردار سازی‘ کا اپنا اصل کام کرتا رہے، چنانچہ وقت گزرنے کے ساتھ مختلف میدانوں میں متعدد تنظیمیں قائم کی گئیں۔ طریقہ کار یہ ہوتا کہ سنگھ اپنے اس پرچارک کو جو کسی خاص میدان، جیسے طلباء اور مزدوروں میں کام کرنا چاہتا، اس کا موقع دیتا کہ وہ اس طرح کی تنظیموں کے قیام کیلئے ابتدائی تیاری کا کام (ground work) کریں۔

(5 اس طرح کی ہم خیال تنظیموں میں سنگھ کے ہمہ وقتی کارکن (پرچارک) کو منسلک رہنے اور کام کرنے کی نہ صرف اجازت دی جاتی بلکہ بے ضابطہ طور پر سنگھ سے اس کا قریبی رشتہ برقرار رہتا۔ یہ افراد ان تنظیموں میں اہم ذمہ داریوں اور مقام پر فائز ہوتے۔ اگر یہ تنظیمیں سنگھ سے الگ راستے پر چل پڑیں تو یہ کارکن اس سے الگ ہونے کو تیار رہتے ہیں۔

(6 باہمی تعاون کیلئے یہ سنگھ کے ذمہ داروں سے مشورہ بھی کرتے ہیں۔

        سنگھ میں ان ہم خیال تنظیموں کو ’خاندان‘ (پریوار) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ان کے تعارف کے بغیر سنگھ کا مطالعہ ادھورا رہ جائے گا۔

        نیچے میدانوں میں کام کرنے والی اہم تنظیموں کا تعارف پیش کیا جارہا ہے۔

٭      طلباء میں سَنگھ: آر ایس ایس کے پہلے ممبران طلباء ہی تھے۔ انھوں نے ہی اس کے قیام کے بعد تنظیم کو ناگپور سے باہر قائم کیا تھا۔ 1948-49ء میں سنگھ پر پابندی کے دوران طلباء سنگھ کیلئے کافی متحرک رہے۔ نوجوان پرچارکوں کو پابندی کے دوران طلباء کو منظم کرنے کا بہ طور خاص موقع ملا۔ طلباء کا پہلا گروپ دہلی یونیورسٹی میں بنا۔ اس طرح کے گروپ بہت سے دوسرے کالج اور یونیورسیٹیوں میں تشکیل پائے۔ 1948ء کے وسط میں سنگھ نے بعض پرچارکوں کو آر ایس ایس کے طلباء نمائندوں میں کام کرنا تفویض کیا۔ ان پرچارکوں میں بہ طور خاص دتتا دیوی داس ویدولکر کا نام آتا ہے۔ سویم سیوکوں میں وید پرکاش نندا، ڈاکٹر اوم پرکاش بہل، بلراج مدھوک، لالہ رام گپت کو سنگھ کی ودیارتھی پریشد میں کام کیلئے مقرر کیا گیا تھا۔

(7  9جولائی 1948ء میں کچھ طلباء آرگنائزر جو سب کے سب سنگھ کے ممبر تھے کا اجتماع دہلی میں منعقد ہوا تاکہ ایک ایسی کل ہند تنظیم کا دستور بن سکے جس کے ذریعہ منتشر طلباء گروپ کو منظم کیا جائے۔ اس نئی قومی تنظیم کا نام ’اکھل بھارتیہ وِدیارتھی پریشد‘ (ABVP) رکھا گیا۔ 9 جولائی 1949ء کو پریشد کا رجسٹریشن ہوا۔ اس لئے یہی دن پریشد کا ’یوم تاسیس‘ مانا جاتا ہے۔

(8 اس کا بنیادی مقصد طلباء کو ملک کی تعمیر نو کیلئے تیار کرنا تھا۔

        1964-65ء میں یہ پریشد طلباء کی ایک کل ہند تنظیم بن گئی۔ 1973ء تک اس کے اثرات سو سے زائد یونیورسیٹیوں میں پھیل گئے تھے۔

(9 اس کے ذریعہ ان طلباء میں جو شاکھاؤں میں نہیں جاتے، نفوذ کا موقع ملا۔ پریشد کی ایک خاص بات یہ ہے کہ طلباء کے ساتھ اساتذہ و انتظامیہ کے افراد بھی اس کے ممبر بن سکتے ہیں۔ ملکی اور صوبائی سطح پر پریشد کے زیادہ تر صدور اساتذہ میں سے ہوتے ہیں۔ اونچے مناصب پر سنگھ کے لوگ چھائے رہتے ہیں۔ پریشد ’’ویاس پوجا‘‘ کے نام سے ایک تقریب مناتی ہے جس میں طلباء اپنے اساتذہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

        وِدیارتھی پریشد ایمرجنسی کے نفاذ سے قبل 1974-75ء میں گجرات اور بہار کی طلبہ تحریک میں پوری طرح شریک رہی۔ گجرات میں نونرمان کی تحریک اور بہار میں جئے پرکاش نارائن کی رہنمائی میں طلباء کی زوردار تحریکیں چلی تھیں۔ پریشد کے مطابق ان میں شرکت کی ایک وجہ انقلابی کمیونسٹوں (نکسلائٹ) کے اثرات کو کم کرنا تھا۔

        کیمپس کی سیاست میں بھی اس نے شرکت کی ہے۔ 1960ء کے درمیانی دہے تک پریشد کیمپس کی سیاست اور طلباء کے مظاہروں سے پرہیز کرنے کی کوشش کرتی تھی، لیکن 1970ء کے دہے کے آغاز میں یہ کیمپس میں ایک قابل ذکر قوت بن گئی۔ دہلی یونیورسٹی کی طلباء یونین کی 1973ء کے انتخاب میں صدارت کی کرسی پریشد کے قبضہ میں آئی۔ ایمرجنسی (1975تا 1977ء) کے دوران لگے تنظیمی جھٹکے کے مد نظر 1978ء میں پریشد نے طلباء یونین کی سیاست سے علاحدگی اور اپنی قوتوں کو ’تعمیری کاموں ‘ اور ’قومی تعمیر‘ میں لگانے کا فیصلہ کیا۔ چار سال بعد پریشد نے دوبارہ طلباء یونین کا انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت دہلی یونیورسٹی کے علاوہ متعدد یونیورسیٹیوں میں اس کے اثرات ہیں۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی (JNU) دہلی میں بھی اس نے قدم جمالئے ہیں۔

        وِدیارتھی پریشد نے آسام میں آل آسام اسٹوڈنٹس یونین (آسو) کی غیر ملکیوں کے خلاف تحریک کی تائید کی۔ 1979ء تا 1986ء کی اس آسامی تحریک کی تائید کی ایک وجہ یہ تھی کہ انھیں خطرہ تھا کہ طلباء کے بعض گروپ اس تحریک کو آزاد ریاست کے مطالبے کی طرف نہ موڑ دیں۔ حالانکہ اس کو ’آسو‘ کی اس بات سے بڑا اختلاف تھا کہ بنگلہ دیش کے ہندو مہاجرین بھی غیر ملکی ہیں۔ بعد کے ادوار میں غالباً پریشد کی موجودگی اور کوششوں نے ’آسو‘ پر مسلم مخالف کا لیبل لگادیا۔ پریشد نے بہار اور بنگال میں ’غیر ملکی گھس پیٹھ‘ کے خلاف مہم بھی چلائی۔ پریشد 1989)ء تا (1992 اجودھیا میں رام مندر کی تحریک میں بھی شریک رہی ہے۔

        وِدیارتھی پریشد متعدد تربیتی پروگرام اور کیمپ لگاتی ہے۔ اسٹڈی سرکل کے ذریعہ اپنے نظریہ کو پھیلاتی ہے۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں قبائلی طلباء کو پریشد کے پرانے ممبران کے یہاں ٹھہرایا جاتا ہے، تاکہ وہ نیشنلزم کے خاص دھارے میں آسکیں۔ ودیارتھی پریشد بڑے پیمانے پر 9 جولائی کو نیشنل اسٹوڈنٹس ڈے (قومی یوم طلبہ) مناتی ہے جو اس کا یوم تاسیس بھی ہے۔ اس کے علاوہ 6دسمبر کو ’سمتا دیوس‘ (یوم مساوات) جو کہ ڈاکٹر امبیڈکر کا یوم پیدائش ہے اور 12 دسمبر کو ’قومی نوجوان ڈے‘ جو کہ ویویکا نند کا یوم پیدائش ہے، مناتی ہے۔

        ہر سال ودیارتھی پریشد کے کل ہند اجلاس ہوتے ہیں جن میں کسی خاص فرد کو شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔ ان میں جے پرکاش نارائن، ایم سی چھاگلہ، دلائی لامہ، رام دھاری سنگھ دینکر، آر سی مجمدار، اچاریہ کرپلانی، نانی پالکی والا وغیرہ نے شرکت کی ہے۔

        1997ء کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک کے 506 اضلاع میں سے 442 اضلاع میں 3000 سے زیادہ مقامات پر ان کا کام تھا۔ ممبران کی تعداد تقریباً 8 لاکھ تھی۔ اس وقت اس کے ہمہ وقتی کارکنوں کی تعداد 264 تھی جن میں 12طالبات بھی تھیں۔

(10 دہلی سمیت شمالی ہندستان میں پریشد کی جڑیں مضبوط ہیں۔ ویسے بھارت میں ان کا کام پھیلا ہوا ہے۔ پریشد کے دعوے کے مطابق 2013ء میں اس کے ممبران کی تعداد 22 لاکھ تھی۔ پریشد کا ہیڈ کوارٹر ممبئی میں ہے۔ تنظیم کا Motto ہے ’گیان- شیل- ایکتا‘ (علم، کردار، اتحاد)۔

        پریشد کی جانب سے ایک مرکزی ماہ نامہ ’راشٹریہ چھاتر شکتی‘ ہندی میں ممبئی سے نکلتا ہے۔ علاقائی سطح پر 15 رسائل نکلتے ہیں۔

        پریشد کا ویب سائٹ www.abvp.orgہے۔

٭      مزدوروں میں سنگھ: سنگھ نے جس وقت مزدوروں میں کام کا فیصلہ کیا، اس وقت دو تنظیمیں اس طبقہ میں چھائی ہوئی تھیں۔ ایک تھی کمیونسٹوں کے زیر اثر ’آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس‘ (AITUC) اور دوسری کانگریس کے زیر اثر ’انڈین نیشنل ٹریڈ یونین کانگریس‘ (INTUC) تھی۔ اس موقع پر سنگھ کا ایک نوجوان پرچارک وتو پنت ٹھینگڑی (انگریزی میں تھنگڈی لکھا جاتا ہے) اس طبقہ میں کام کی ابتدا کرتا ہے۔ یہ نوجوان مہاراشٹری برہمن تھے اور کیرالہ، بنگال اور آسام میں کام کرچکے تھے۔ ٹھینگڑی کا ابتدائی تجربہ 1950ء سے (INTUC) کا تھا۔ آزادی کے بعد گرو گولوالکر نے جو کمیونسٹ خطرے سے بہت پریشان تھے، تھنگڈی پر یہ ذمہ داری ڈالی کہ وہ لال لیبر یونین میں گھس کر تجربہ حاصل کریں تاکہ وہ خود اپنی لیبر یونین قائم کرسکیں۔ 23جولائی 1955ء میں انھوں نے دلچسپی رکھنے والے سویم سیوکوں کے گروپ اور 76 ٹریڈ یونینوں کے نمائندوں کو ایک نئی مزدور تحریک کی بنا ڈالنے کیلئے بھوپال میں مدعو کیا۔ ان لوگوں نے درج بالا تاریخ میں ’بھارتیہ مزدور سنگھ‘ (BMS) کے قیام کا فیصلہ کیا۔ لٹریچر میں بتایا جاتا ہے کہ یہ دن بال گنگا دھر تلک کا یوم پیدائش بھی ہے۔ یہ ایک غیر سیاسی تنظیم ہے۔

        تھنگڈی نے اپنے کام کی ابتدا چھوٹے انڈسٹریل اداروں سے کی۔ پھر وہ ڈاک و تار، ریلوے اور انجینئرنگ انڈسٹری میں لگ گئے۔ اس وقت یہ ملک کی اہم مزدور تنظیموں میں شمار کی جاتی ہے۔

(11 تھنگڈی کی کتاب ’راشٹریہ شرم نیتی‘ (قومی مزدور پالیسی)اس مزدور تحریک کے فکری پہلو کو واضح کرتی ہے۔ بی ایم ایس کے مطابق طبقاتی کشمکش کا فلسفہ بھارتی کلچر کے خلاف ہے۔ سرمایہ داری اور اشتراکیت: دونوں انسان کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہیں۔ مزدور سنگھ کی اصل بنیاد قوم پرستی ہے۔ چنانچہ یہاں مزدوروں کا مفاد، قومی مفاد کے تحت آتا ہے۔

        مزدورں کے قومی دن کے طور پر ’وشو کرما جینتی‘ کو منایا جاتا ہے نہ کہ ’مئے ڈے‘ کو۔ اس جینتی کی انگریزی تاریخ 17ستمبر، قومی یوم مزدور (نیشنل لیبر ڈے) کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ہندو روایات کے مطابق وشو کرما دست کاری کے دیو مانے جاتے ہیں۔ ان کا جھنڈا بھی لال کے بہ جائے ’بھگوا دھوج‘ ہے۔

        اغراض و مقاصد: بی ایم ایس کے بعض اہم مقاصد ان کے ویب سائٹ کے مطابق درج ذیل ہیں :

        (1  حتمی طور پر سماج کا بھارتیہ نظام (Bhartiya order of society) قائم کرنا۔

        (2  انسانی اور غیر انسانی وسائل کا بھر پور استعمال جس سے پورا روزگار اور زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل ہوسکے۔

        (3  نفع کے مقصد کی جگہ خدمت کے مقصد کو فروغ دینا تاکہ معاشی جمہوریت قائم ہوسکے، جس کے نتیجے میں قومی اور انفرادی سطح پر دولت کی منصفانہ تقسیم ہوسکے۔

        (4  عقیدہ اور سیاسی تعلق سے اوپر اٹھ کر مزدوروں کو مادرِ وطن کی خدمت کیلئے منظم ہونے میں تعاون کرنا۔

        (5  مزدوروں کے ذہن میں خدمت (service)، تعاون اور ادائیگی فرض کے جذبات کو فروغ دینا تاکہ ملک اور صنعت کے تئیں ان کے اندر احساس ذمہ داری بڑھے۔

        نعرے: مزدور سنگھ نے اس میدان میں اپنی الگ ہندو پہچان بنائی۔ ’بھارت ماتا کی جے ‘اور ’وندے ماترم‘ کا نعرہ مزدوروں میں عام کیا گیا۔ اس کے علاوہ مقبول عام نعروں سے الگ جیسے ’چاہے جو مجبوری ہو ہماری مانگیں پوری ہو‘ کی جگہ پر ’’دیش کے ہت میں کریں گے کام- کام کے لیں گے پورے دام‘‘ کا نعرہ دیا۔ کمیونسٹ کا نعرہ ’’دنیا کے مزدورو! ایک ہو‘‘ کی جگہ پر ’’مزدورو! دنیا کو ایک کرو‘‘ عام کیا۔ اسی طرح ’’کمانے والا کھائے گا‘‘ کی جگہ پر ’’کمانے والا کھلائے گا‘‘ کہا۔                                            (جاری)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close