ہندوستان

سوال یہ ہے کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟

عالم نقوی

ہم جنسی کو قانونی طور پر جائز قرار دینے والے سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ کے فیصلے  کے لیے یہی وقت آخر کیوں چنا گیا کہ  جب لوک سبھا  انتخابات قریب ہیں ؟در اصل اس کا  مقصد بھی  وہی ہے جو مسلمانوں کے خالص عائلی معاملے’  تین طلاق ‘ کو قابل سزا جرم  قرار دینے والے فیصلے کےلیے  ’ منتخب وقت‘ کا مقصد  تھا۔ یعنی  زبردستی پیدا کیے گئے  جذ باتی اِشوز کو اُ بھار کر پُر شور اور لا حاصل  بحثیں چھیڑ دی جائیں تا کہ  ’خدمت  اور نگہداری ‘ کے نام پر  دیش اور جنتا   کو لوٹنے والے  انہیں اسی میں الجھائے رہیں  اور نام نہاد ’پردھان سیوکوں ‘اورخود ساختہ ’ چوکیداروں ‘ سے اُن کی بدترین ناکامیوں، حد درجہ جھوٹے وعدوں اور  بد عہدیوں کے بارے میں کوئی باز پُرس  نہ ہو !

سنگھ پریوار کو عام حالات میں  اپنی شکست صاف  نظر آنے لگی ہے اس لیے  اب وہ کسی بھی قیمت پرBy Hook or by Crook مودی شاہ اینڈ کمپنی کو ۲۰۱۹ میں دوبارہ  دلی کے سنگھاسن پر قابض دیکھنا چاہتا ہے تاکہ انہیں کے بقول ۲۰۲۲ تک کسی بھی صورت میں دستور  کو بدل کر  دیش کو ہندو راشٹر اور اجودھیا میں مسجد کی جگہ مندر بنانے کا سپنا ساکار ہو سکے !

کل کیا ہونے والا ہے اس کی خبر تو صرف علیم و خبیر اللہ کو ہے لیکن ہم اتنا پھر بھی کہہ سکتے ہیں کہ’’عام حالات ‘‘ میں بی جے پی کی اقتدار میں واپسی ممکن نہیں۔ اِلّا یہ کہ اللہ کا غضب ہی نازل ہونے کا فیصلہ ہو چکا ہو اور سنگھ پریوار کی رَسّی کچھ اور  دَراز کر دی گئی ہو یا کردی جائے۔ خدا نخواستہ۔ اللہم احفظنا !

 مشکل یہی ہے کہ موجودہ حالات ’ عام اور معتدل ‘نہیں انتہائی ’تشویشناک عبرت ناک اور سنگین‘ ہیں۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق ریڈر (شعبہ سماجیات ) اور  ماہر قانون دانشور ڈاکٹر اکرم شروانی نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں لکھا ہے کہ :

’’ موجودہ حکومت نے اپنے وزیر جاودؔیکر کی سرپرستی میں مستند تاریخی واقعات اور شواہد کو مسخ کر کے تاریخ ہند کو از سر نَو یرقانی رنگ میں لکھنے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بنائی ہے۔ اگرچہ ابھی اس کے اغراض و مقاصد  صیغہ راز میں ہیں۔ لیکن، حکومت کی تنگ نظری، متعصبانہ روش اور مسلم کُش نظریات  و عمل سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے اس من مانی تاریخ  کو  سرکاری اسکولوں اور مدارس کے نصاب میں داخل کر کے نئی نسلوں کے کچے (نا پُختہ) دماغوں کوپوری طرح  زہر آلود کر نے کے  بعد ان کی دماغ شوئی (برین واش)کے  نصب العین میں کامیابی حاصل کی جائے تاکہ فسطائی قوتوں کے ذریعے ’ہندو راشٹر ‘ کے قیام  اور ’رام مندر کی تعمیر کا  دیرینہ خواب  شرمندہ تعبیر ہو سکے !

علی گڑھ کے ایک مشہور ہندو کالج سے شایع ہونے والے سال ۲۰۱۸ کے کلنڈر میں مشہور زمانہ تاج محل کو ’’تیجو مہالیہ ‘‘اور قطب مینار کو ’’وشنو استمبھ ‘‘کے اشتعال انگیز فرضی ناموں سے منسوب کیا گیا ہے۔ ملک کی دیگر متعدد قدیم  مساجد کو نام نہاد  ہندو مندروں کا نام دیتے ہوئے  ہندو مہا سبھا کی نیشنل سکریٹری پوجا شکُن نے حد درجہ زہر افشانی کی ہے۔ انتہا یہ ہے کہ مکہ معظمہ کے حرم شریف جیسی مقدس و متبرک   جگہ  کو ’’ مکیشور مہا دیو مندر ‘‘بتا کر ابلیسی اشتعال انگیزی کی گئی ہے۔ مشہور مغل سرائے ریلوے اسٹیشن کا نام بدل کر ’دین دیال اپادھیائے‘ اسٹیشن کر دینے اور حضرت ٹیپو سلطان شہید پر کیچڑ اچھالنے کے مذموم واقعات سے تو اب سبھی واقف ہیں۔ گاؤ کشی کے بہانے ہجومی دہشتگردی ( ماب لنچنگ ) کے ذریعے بے بس مسلمانوں  کا قتل عام  کرنے ، یرقانی ممبران اسمبلی و پارلیمان کی زہریلی تقریوں کے ذریعے کھاپ پنچایتوں کو بھڑکا کر فساد کروانے، جس میں، صرف مسلمانوں ہی کا جانی و مالی نقصان ہو نے ،   یکطرفہ طور پراُنہیں کے خلاف  پولیس کے ذریعے جھوٹے مقدمے بنا کر انہیں جیلوں میں بھرنے، مظلوموں کا استحصال کرنے اور معمولی   معمولی باتوں  کا بہانہ بناکر  اور بیشتر فرضی  الزامات لگا کر مسلم اداروں کو باضابطہ نقصان پہنچانے کے ذلت آمیز اور نفرت انگیز  واقعات  عام ہو چکے  ہیں۔‘‘

اس میں کوئی شک نہیں کہ عوام کی اکثریت، اَوسط سے نچلے درجوں کیBelow Average سمجھ رکھنے والوں پر مشتمل ہوتی ہے  اسی لیے برائی ہو یا اچھائی، اعلیٰ اخلاقی اقدار ہو ں یا فحشاء و منکرات، سب اوپر سے نیچے سفر کرتے ہیں، نیچے سے اوپر نہیں۔ اس لیے ابلیسی طاقتیں جہاں اور جب  موقع پاتی ہیں  عوام کو ایک اندھی بہری اور گونگی   بھیڑ کی طرح  استعمال کر لیتی ہیں۔

لیکن، مسلمانوں کی تو خصوصیت ہی یہ ہے کہ وہ اگر اللہ کی رَسّی (حبل من ا للہ )یعنی قرآن و سنت کو، مضبوطی سے تھامے رہیں اور ایمان و عمل کی مطلوب استقامت  اور پائداری کے ساتھ متحد رہیں  تو وہ  بھیڑ یا ہجوم نہیں ’’اُمّت ‘‘ ہیں اور امتیوں کی تعداد بیس لاکھ ہو یا ایک سو بیس کروڑ اللہ اور اسکے حبیب کے نزدیک  وہ ’ایک جسد واحد‘ ہیں  !

اس لیے،  کل کیا ہونے والا ہے یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، لیکن ہم’’ امت مسلمہ‘‘ سے ہر گز ہرگز مایوس نہیں۔ ہمیں صرف ’’ایمان، علم، قوت اور استقامت کے ساتھ اتحاد‘‘ درکار ہے اور بس۔ یہ پوری صہیونی اور مشرک دنیاان کے تمام قدرتی و غیر قدرتی دوست اور پیرو کار، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اسی لیے متحدہیں کہ ابلیس اور اسکے پیروکاروں کو۔ ۔:

ہے اگر (اب بھی )کوئی خطرہ تو اِس اُمّت سے ہے

جس کے خاکستر میں ہے اَب تک شرار ِآرزو

خال خال اِس قوم میں اب (بھی ) نظر آتے ہیں وہ

کرتے ہیں اَشکِ سحر گاہی سے جو ظالم وضو

اِس سے بڑھ کر اور کیا فکر و عمل کا انقلاب

بادشاہوں کی نہیں اللہ کی ہے یہ زمیں !

تقدیر ِ اُمَم کیا ہے کوئی کہہ نہیں سکتا

’مؤمن کی فراست ‘ہو، تو کافی ہے’ اشارہ‘ !  

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close