ہندوستان

سوت نہ کپاس … لے لٹھم لٹھا

حفیظ نعمانی

          آگرہ میں بی ایس پی ریلی میں مس مایاوتی مستقل بی جے پی پر برستی رہیں، انھوں نے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے بارے میں کہا کہ وہ جو انھوں نے ہندوئوں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کا حکم دیا ہے، کیامودی ان بچوں کے لیے روٹی تعلیم اور روزی کا انتظام کا کریں گے؟ ان کے علاوہ بھی ہر طرف سے کہا جارہاہے کہ موہن بھاگوت صاحب نے مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے ہندوئوں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کا حکم دیا ہے۔

          آر ایس ایس کی طرف سے اس کی وضاحت میں کہا گیا ہے کہ بات صرف اتنی تھی کہ آگرہ کے ہی ایک پروگرام میں بعض ذمہ دار لوگوں نے ان کے سامنے اعداد و شمار رکھ کر کہا کہ اگر صورت حال ایسی ہی رہی تو آئندہ پچاس برس میں مسلمانوں کی تعداد اتنی ہوجائے گی کہ وہ ہندوستان پر حکومت کرنے کے منصوبے بنانے لگیں گے، اس کے جواب میں بھاگوت صاحب نے کہاکہ ہندوئوں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کے لیے کس قانون نے روکا ہے؟ بظاہر ان کا مقصد یہ تھا کہ بچوں کی تعداد کے لیے کوئی قانون بنایا جائے، یہ ان کا خاص اندازہے۔ یہی بات انھوں نے بہار کے الیکشن سے پہلے ریزرویشن کے معاملہ میں کہی تھی کہ اس کا جائزہ لینا چاہیے کہ جن کو ریزرویشن دیا گیا ہے کیا وہ اب بھی اس کے حقدار ہیں ؟ یا اب ان سے زیادہ دوسرے غریبوں کو دیا جائے؟ اور لالو یادو اس کو لے اڑے اور پورے بہار میں یہ آواز گونج گئی کہ ریزرویشن ختم ہونے جارہا ہے اور بی جے پی ہار گئی۔

          ہندوئوں اور مسلمانوں میں ایک بنیادی فرق ہے، ہندو سمجھتا ہے کہ اپنے بچوں کے لیے جو کچھ کرنا ہے اسے ہی کرنا ہے، اور مسلمان جس کو اگر قرآن عظیم کے ایک ایک حرف پر یقین ہے تو اس کا یہ سوچنا کہ سب کچھ اس کو کرنا ہے کفر ہے، اس لیے کہ پروردگار نے قرآن عظیم میں فرمایا ہے کہ ’’زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ نہ لے رکھا ہو‘‘، اس کے بعد کون مسلمان ہے جسے یہ فکر ہو کہ اگر تیسرا بچہ پیدا ہوگا تو اسے کہاں سے کھلائوں گا۔

          میرے پاس لکھے ہوئے یا چھپے ہوئے اعداد و شمار نہیں ہیں، لیکن میں اپنے اس حافظہ کی بدولت جو لکھ رہا ہوں اس کی کوئی تردید نہیں کرسکتا، ملک جب تقسیم ہواتو ہندوستان کی آبادی ۳۰ کروڑ رہ گئی تھی، یہ بات میں اس بنیاد پر لکھ رہا ہوں کہ تقسیم کے فوراً بعد کمیونسٹ پارٹی کی ایک کانفرنس لکھنؤ میں ہوئی تھی، اس میں ایک شاعر نے ایک نظم پڑھی تھی،

۳۰ کروڑ انسانوں کی نیلامی ہے نیلامی ہے

بولوبولو کتنے ڈالر کتنے گندم کتنے چاول

          اس کانفرنس سے پہلے کچھ مسلم لیگ کے ایک بہت بڑے لیڈر سردار عبدالرب نشترؔ نے تقسیم کے بعد پاکستان جاتے ہوئے پریس کانفرنس میں ایک صحافی کے اس سوال کے جواب میں کہ ’’یہ جو آپ تین کروڑ مسلمان ہندوستان میں چھوڑے جارہے ہیں ان کا کیا ہوگا؟‘‘ جس کا مطلب یہ تھا کہ تقسیم کے وقت 70 سال پہلے ہندوستان میں مسلمان تین کروڑ تھے اور جتنی زمین پر آج کاشت ہورہی ہے زمین اس سے اس لیے بہت زیادہ تھی کہ زمین پر صرف ۳۳ کروڑ انسانوں کے مکان تھے اور ان کی ضرورت کی سڑکیں اور ریلوے لائن اور ہوائی اڈے تھے اور رہنے والے بھی ۹۵ فیصدی غریب تھے۔ اس سب کے باوجو د گیہوں امریکہ اور روس سے آتا تھا جو باریک اور سرخ رنگ کا ہوتا تھا، آج زمین اس وقت سے بہت کم ہوگئی اور گیہوں اور چاول اتنا پیدا ہورہا ہے کہ غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گذارنے والوں کو تین روپے کلو دیا جارہا ہے اور سب کچھ مہنگا ہے مگر چاول اور گیہوں اتنا ہے کہ وہ ہر کوئی خرید سکتا ہے اور ۱۲۵ کروڑ انسانوں کا پیٹ بھر رہا ہے، یہ اس پروردگار کا کرم ہے جس نے ہر جاندار کو رزق دینے کا وعدہ کیا ہے اور زندگی اور موت بھی اس کے ہاتھ میں ہے۔

          یہ بات کسے یاد نہیں ہوگی کہ پنڈت نہرو جب تک وزیر اعظم رہے گیہوں باہر سے آتارہا، پھر خدا نے مہربانی کی اور اندرا گاندھی کے زمانہ میں سبز انقلاب آیا، یعنی ہمارے ملک نے اعلان کیا کہ اب ہم کہیں سے اناج نہیں منگوائیں گے۔

          مسلمان کا ایمان ہے کہ وہی انسان کوعلم دیتا ہے جس علم کی بدولت زمین کم ہونے کے باوجود اناج زیادہ پیدا ہوتا ہے، ہمارے بچپن میں ایک بیگہہ زمین میں ۵ من گیہوں پیدا ہوتے تھے اور زمین سے سال میں صرف ایک فصل لی جاتی تھی، آج زمین بہت کم ہے اور کھانے والے۳ کروڑ کے بجائے ۱۲۵ کروڑ ہیں مگر بھوک سے مرنے والوں کی تعداد پہلے سے کم ہے، ہمارے بچپن میں گیہوں کی روٹی صرف خوشحال گھروں میں کھائی جاتی تھی ورنہ ۷۵ فیصدی سے زیادہ ہندوستانی چنا، باجرہ، مکئی، جوار اور جو کی روٹی کھاتے تھے، چاول شمالی ہند میں پیدا بھی نہیں ہوتا تھا اور کھایا بھی نہیں جاتا تھا، اس کا استعمال صرف مہمانوں کی مدارات کے وقت ہوتا تھا، اب ہر جگہ پیدا بھی ہوتا ہے اور ہر گھر میں کھایا بھی جارہا ہے۔

          اس کے باوجود اب مسلمانوں میں بھی کم بچے پیدا کرنے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے، ہم تین بھائیوں کے ماشاء اﷲ 16 بچے ہیں، اور میرے چار بیٹوں کے صرف 11 بچے ہیں، کسی نے ان سے نہیں کہا کہ کیوں کم ہیں ؟ پیدا کرنا نہ کرنا اللہ خالق و مالک کے اختیار میں ہے جس کا ثبوت میرا چھوٹا بیٹا ہے کہ اس کے دو بیٹوں میں گیارہ سال کا فرق ہے، اس طرح عزیزوں اور دوستوں کے بچوں کے بارے میں خبریں ملتی رہتی ہیں کہ کسی کے تین یا کسی کے دو بچے ہیں۔

          رہا ہندوئوں کا خوف تو حیرت ہے کہ یہ کیسے ڈاکٹر اور پروفیسر ہیں جو یہ سن سن کر اور حساب لگالگا کر کانپے جارہے ہیں کہ اگر یہی فرق بچوں کی پیدائش میں رہا تو مسلمان پھر حکومت بنا لیں گے۔ کیا جب بابر آئے تھے تو کیا ہندوستان کی ہندو آبادی سے زیادہ مسلمان لے کر آئے تھے؟ اور ان سے پہلے بھی مسلمان آتے رہے اور ہندوستان پر حکومت کرتے رہے تو کیا اس وقت مسلمانوں کی تعداد ہندوئوں کے مقابلہ میں زیادہ تھی، حیرت ہے کہ بابر اور ان کے خاندان نے آٹھ سو برس ہندوستان پر حکومت کی اور تعداد میں نہ ان کے ساتھ مسلمان آئے تھے نہ ان کے زمانہ میں اکثریت میں رہے اور نہ ان کے جاتے وقت اکثریت میں تھے، جب ملک تقسیم ہوا تب بھی آبادی کا تناسب یہ تھا کہ مسلمان دس کروڑ سے کم تھے اور ہندو تیس کروڑ سے زیادہ تھے۔

          جو ہندو یہ سمجھتے ہیں کہ حکومتوں کا آنا جانا ہمیشہ ووٹوں سے ہوتا رہے گا کیا وہ تاریخ سے بے بہرہ نہیں ہیں؟ بابر جب آئے تھے تب بھی حکومت انھوں نے الیکشن میں جیت کر نہیں بنائی تھی اور نہ جارج پنجم اور بہادر شاہ ظفر کی پارٹیوں میں الیکشن ہوا تھا، اور رہی تعداد کی بات تو انگریز ہندو تو کیا مسلمانوں سے بھی کم آئے تھے، پھر بھی دونوں برسو برس حکومت کرکے چلے گئے، کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ آر ایس ایس کے سربراہ بھی یہ جواب دینے کے بجائے کہ اگر تمہارے اندر صلاحیت ہوگی تو مسلمانوں کے 75 کروڑ بننے کے بعد بھی حکومت تم ہی کروگے اور اگر تم نا اہل ہوگئے تو 25 کروڑ مسلمان بھی تم سے حکومت لے سکتے ہیں، یہ جواب دے رہے ہیں کہ تمہیں زیادہ بچے پیدا کرنے سے کس قانون نے روکا ہے۔

 

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close