سیلاب میں دم توڑتی زندگی

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

بارش زندگی کی علامت ہے، اس کی آمدپر خوشی کااحساس ہوتاہے، لڑکیاں اورعورتیں اس موسم میں جھولاجھولتی اورپکوان بناتی ہیں، گی ملہارگائے جاتے ہیں، بارش سے کھیتی میں رونق آجاتی ہے، پیڑپودے ہرے بھرے ہوجاتے ہیں۔ اس کاسب سے زیادہ انتظار کسانوں کورہتاہے، کبھی کھیتی کادارومدار بارش پرتھا، سارے ذرائع ہونے کے باوجوداب بھی بارش کھیتی کے لئے ضروری ہے۔ دھان کی فصل بارش والے علاقوں میں اچھی ہوتی ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے مانسون کی خبرسے ایک ان چاہاڈرستانے لگاہے، بے وقت ضرورت سے زیادہ بارش کبھی تکلیف کاباعث بنتی ہے، توکبھی طغیانی کی آہٹ سنائی دینے لگتی ہے۔ شایدہی کوئی ایساسال گزراہوجب باڑھ نے ملک کے کسی نہ کسی حصہ میں قہرنہ برپایاہو۔راجستھان جیساعلاقہ بھی اس کی زدسے نہ بچ سکا،اسے ندیوں کاغصہ کہاجائے یافطرت Natureکے ساتھ چھیڑچھاڑ کانتیجہ۔

غورکرنے کی بات یہ ہے کہ جوندیاں سال بھرسسک سسک کربہتی ہیں، ان میں اچانک برسات میں اپھان کیسے آجاتاہے، کیوں ماں کہلائی جانے والی ندیاں وکرال کی شکل میں اپنے ہی بچوں کے جان مال کی دشمن بن جاتی ہیں، اس کی ایک وجہ نیپال، چین اوربھوٹان سے چھوڑاگیااضافی پانی ہے تودوسری بڑی وجہ ندیوں کے تعلق سے ہمارااپنارویہ ہے، ندیوں کوگندگی ڈھونے کاذریعہ بنادیاگیاہے، اس لئے ان میں صاف پانی کی مقدارروزبہ روزکم ہوتی جاہی ہے، آلودگی کی وجہ سے پانی میں رہنے والے جانور اور پودے نیز مچھلیوں کی نسلیں ختم ہوتی جارہی ہیں۔ یہ ندی کے پانی کوصاف رکھنے کاکام کرتے تھے۔ دوسرے جگہ جگہ ندیوں پرباندھ بناکر اس کے پانی کوروکاگیا ہے۔ اس کی وجہ سے ندی میں بہہ رہی گادتلی میں جم کراسے اتھلاکررہی ہے۔ اس طرح ندی میں پانی کوسمانے کی صلاحیت کم ہوتی جارہی ہے۔ وہیں ندیوں کے ڈوب علاقے میں بساوٹ اورکناروں کوپکاکرانھیں سکڑنے پر مجبورکردیا ہے، ان سب کانتیجہ باڑھ کی شکل میں سامنے آتاہے۔

ندی میں تین طرح کے ذرات پائے جاتے ہیں۔ سینڈی، سیڈی مینٹیشن اورسلٹ یعنی ریت، گاداورتلچھٹ، سب سے موٹاذرہ ریت، اس سے باریک گاداوراس سے باریک ذرے کوتلچھٹ کہتے ہیں۔ ریت ندی کے پانی کوسوکھ کراسے محفوظ رکھتاہے، ندی سے جتناریت نکالتے جائیں گے، ندی کی پانی اکھٹاکرنے کی صلاحیت اتنی کم ہوتی جائے گی۔ جس ندی سے حدسے زیادہ ریت نکال لی جائے گی وہ ندی آخر میں سوکھ جائے گی۔ تلچھٹ کاکام ندی کی تلی میں کٹاؤوڈھال کی شکل تیارکرنا ہے، تلچھٹ کے ساتھ چھیڑچھاڑکریں گے توندی کابہاؤاوراس کی رفتارمتاثرہوگی۔ گاد ندی کے پانی کے ساتھ مل کراس کی کوالٹی کو بہتر بناتی ہے۔ گادکا کام ندی کنارے پھیل کر،ندی کازرخیزمیدان بناناہے، میدان کواونچاکرناہے، یہ گادبہہ کرسمندرکنارے ڈیلٹابناتی ہے۔ اس ناطے یہ قدرتی نعمت ہے۔ لیکن اگریہ گادندی کے بیچ میں جمے گی، توندی کابہاؤبدل جائے گا،ندی کئی دھاراؤں میں بٹ جائے گی، کناروں کوکاٹے گی اورتباہی لائے گی، گادکے راستے میں رکنے سے سمندرکی کاربن کوسوکھنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے، اسی کے نتیجہ میں ماحول گرم ہورہاہے اورموسم بدل رہے ہیں، دنیاکاموسمی توازن بگڑرہاہے۔

باڑھ کی بات کریں تو1987میں بہارکے 30اضلاع کے 24518گاؤں اس کی زدمیں آئے تھے، اس باڑھ میں 1399لوگ مرے تھے، 5302جانوروں کوباڑھ کاپانی بہالے گیاتھا، 29ملین لوگ اس سے متاثرہوئے تھے، 2004میں 885لوگ اور3272مویشی، 2008میں 434لوگ اور845مویشیوں کی جان گئی تھی جبکہ اس سال 514لوگ کال کے گال میں سماگئے۔ 19اضلاع کے پونے دوکروڑلوگ اس سے متاثرہوئے ہیں، وہیں گجرات میں ا س سال213جانیں گئیں اورساڑھے چارلاکھ لوگ متاثرہوئے، آسام میں دیکھتے دیکھتے مرنے والوں کی تعداد160پارکرگئی، 600گاؤں کے پانچ لاکھ لوگ جان مال کے ساتھ اونچائی والی جگہوں پرپناہ لئے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس سال باڑھ سے پورے ملک میں 1000لوگوں کی جان جاچکی ہے۔ بھارت، بنگلہ دیش اورنیپال کے 41ملین لوگ اس سے متاثرہوئے ہیں۔ گذشتہ سالوں پرنظرڈالنے سے اندازہ ہوتاہے کہ بارھ نے ملک میں کتنی تباہی مچائی ہے۔

2005میں گجرات باڑھ سے 8000کروڑکانقصان اٹھاچکاہے۔ لوگوں کے مرنے اورمویشیوں کے بہنے کاآنکڑاالگ ہے، 2012میں آسام کے 9اضلاع کے 1744گاؤں باڑھ سے متاثرہوئے تھے۔ اس وقت 120لوگ اور540مویشی مرے تھے، 2013میں ہوا اتراکھنڈ کا سانحہ کسی کویادنہیں، اس میں 5000زائرین کے مرنے کااندازہ ہے اورایک لاکھ دس ہزارلوگ پھنسے تھے۔ ستمبر2014میں جموں کشمیرکے 2600گاؤں باڑھ سے متاثرہوئے تھے۔ 390گاؤں کے مکمل طوپرڈوبنے کی خبرآئی تھی۔ اس باڑھ میں سری نگرمیں کئی دنوں پانی بھرارہاتھا،2015میں چنئی باڑھ کی وجہ سے خبروں میں رہا،2016میں آسام کے قاضی رنگانیشنل پارک کے 200خونخوارجانورباڑھ سے مرگئے تھے۔ اس میں 1.8ملین لوگ متاثرہوئے اورکئی لوگوں نے اپنی جان گنوائی تھی۔

یونیسیف کی تازہ رپورٹ کے مطابق بھارت کے شمالی حصہ کی چارریاستیں بری طرح متاثرہوئی ہیں، ان میں ایک کروڑبیس لاکھ بچوں سمیت تین کروڑدس لاکھ لوگ متاثرہوئے ہیں۔ ان میں 805,183مکانوں کویاتوجزوی طورپریاپوری طرح نقصان پہنچاہے، 15455اسکولوں کی عمارتیں گر گئی ہیں، اس سے قریب 10لاکھ بچوں کی تعلیم میں رکاوٹ آئی ہے۔ ممبئی میں بھاری بارش کے چلتے ڈوبنے سے کم ازکم پانچ لوگوں کی موت ہوئی اورمکان گرنے سے دوبچوں سمیت تین لوگ مرگئے۔ بنگلہ دیش میں باڑھ سے 80لاکھ سے زیادہ لوگ متاثرہوئے جن میں 30لاکھ بچے شامل ہیں۔ وہاں پانی سے ہونے والی بیماریوں کے 13035معاملے سامنے آچکے ہیں۔ نیپال میں 17لاکھ لوگ باڑھ سے متاثرہوئے جن میں چھ لاکھ 80ہزاربچے شامل ہیں، باڑھ کی وجہ سے 352738لوگ بے گھرہوگئے۔ 1,85,126 مکان اور1958اسکول زمیں دوزہوگئے۔ اس سے 253605بچوں کی تعلیم متاثرہوئی ہے۔

بھارت، نیپال اوربنگلہ دیش میں تباہ کن سیلاب سے لاکھوں بچوں اورخاندانوں کی زندگی تہس نہس ہوئی ہے۔ یونیسیف کااندازہ ہے کہ ایک کروڑ 60بچوں اوران کے خاندانوں کوفوراً زندگی بچانے کے لئے مددکی ضرورت ہے، اگست کے وسط تک کم ازکم 1288 لوگوں کی موت کی خبرہے، یونائیٹڈنیشن کی ایجنسی کاکہناہے کہ سڑکوں، پلوں، ریلوے اسٹیشن اورہوائی اڈوں کونقصان پہنچے کی وجہ سے کئی علاقے پہنچ سے باہربنے رہتے ہیں، بچوں کے لئے صاف پانی، بیماری پھیلنے سے روکنے کیلئے ضروری سامان اورباڑھ کے بعدبچوں کوجن محفوظ جگہوں پرپہنچایاجاتاہے وہاں ان کے کھیلنے کے لئے محفوظ جگہ فراہم کرائے جانے کی ضروت ہے۔ یونیسیف سرکارکی درخواست پرباڑھ سے سب سے زیادہ متاثرصوبوں آسام، بہاراوراترپردیش میں مددفراہم کررہاہے، بہارمیں 98 لاکھ لوگوں تک صاف پانی اوربیماریوں سے بچنے جیسے موضوعات پرمعلومات فراہم کی گئیں۔

سال درسال آتی باڑھ اورقدرتی قہرسے بچنے کے لئے کئی سطح پر تیاری کرنے کی ضروت ہے، سب سے پہلاقدم ندیوں کی صحت کوسدھارنے کی طرف اٹھاناہوگا۔ ندیوں کی صحت بہترہوگی توباڑھ کاخطرہ کم ہوگا۔ کسی بھی آفت کی ذمہ داری دوسروں کے سر مڑھنے کے بجائے سرکارکوخودذمہ داری لینی ہوگی۔ اس طرح کے واقعات سے نپٹنے کے لئے ڈیزاسٹرمینجمنٹ کی وزارت بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس کام میں لگے لوگوں کوچاک وچوبندرکھ سکے اورکسی بھی طرح کی قدرتی آفت کے آنے سے پہلے اس کی تیاری ہوسکے، سرکارکواس معاملہ میں اورحساس ہوناہوگا۔ندیوں کوزندگی دینے کے لئے عوامی حصہ داری کویقینی بنایاجائے اورایسی رسموں کوبدلنے کی ضرورت ہے جن سے ندیاں آلودہ ہوتی ہیں۔ ندی اگرماں ہے توپھراسے آلودہ کیوں کیاجاتاہے ؟ زندگی کوبچانے کے لئے ندیوں کوزندگی دینی ہوگی۔



⋆ مظفر حسین غزالی

مظفر حسین غزالی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے