ہندوستان

سیکولر اقدار کا تحفظ ہر شہری کی ذمہ داری ہے

ڈاکٹر ظفردارک قاسمی

یہ حقیقت ہے کہ ہندوتسان کی عوام زیادہ تر سیکولر ازم  پر ایمان و یقین رکھتی ہے؛  یہی وجہ ہیکہ ایودھیا میں جن عناصر نے فرقہ پرستی پھیلانے کی کاوش کی تھی ان کے ناپاک عزائم کو سر دست محبت اور بھائی چارگی کے  مقدس سایہ سے بے سود  کردیا  یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ  ملک کی عوام نے انتھائی سنجید گی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہندو مہا سبھا اور دیگر فرقہ پرست طاقتوں کو اس بات کا احساس دلا دیا کہ یہ ہندوستاں سیکولر ہے اور یہاں ایسے ہی افراد کا سکہ چلے گا جو ملک کی پاکیزہ اقدار سیکولرزم اور جمہوریت کا پا س و لحاظ رکھیں  گے  – ایودھیا میں  فرقہ پرست طاقتوں کی نا کامی تازیانہ عبرت سے کم نہیں ہے نیز اب ان تمام سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں کے لئے  جو ملک میں آئے دن اشتعال انگیز بیانات دیتی رہتی ہیں اسی طرح ان   نام نہاد سیاسی قاعدوں کے لئے جو ملک کی روایات و شفافیت کو آئے دن اپنے پیروں تلے روندتے رہتے ہیں  یہ سمجھنا ہوگا کہ ملک کی اکثریت اعتدال پسند اور جمہوری قدروں کی امین  ہے؛  اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ اب  ہر وہ منصوبہ اور عزم  ناکام ہوگا جو ملک میں کسی بھی طرح کی بد عنوانی  اور  فساد کو ہوا دیتا ہو یا  تعصب و تنگ نظری  جیسی  مکروہ فکر و نظریہ کا مرہون منت ہو-  یعنی با ت صاف ہے کہ ہندوستانی معاشرہ کو اب ضرورت ہے یکجائیت کی مرکزیت کی؛   بھائی چارگی اور  محبت  و ہمدردی کی  – اسی کے ساتھ تمام سیا سی جماعتوں خصوصا ان سیاسی قوتوں کے لئے  جن کی  پہچان؛  نفرت پر منحصر ہے اور  مذہبی منافرت ان کا سرمایہ اور دولت ہے –  یہ اچھی طرح جان لینا ہوگا کہ  اب محض مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے سے کام نہیں چلے گا بلکہ  اب  ہندوستانی معاشرہ کی ان مسائل اور بنیادی ضروریات کی تکمیل  کرنی ہو گی  جن سے عوام بری  طرح نبرد آزما ہے؛ اور جن دعووں اور وعدوں کی بنیاد پر عوام نے اقتدار تک بھیجا تھا اب انہیں پایہ تکمیل کو پہنچانا ہوگا- ایودھیا  میں فرقہ پرست طاقتوں کی شکشت اس بات کی واضح علامت ہے کہ عوام سیاسی جماعتوں کا شکار نہیں ہونا چاہتی ہے اور نہ ہی اپنے ملک کی صدیوں پرانی تہذیب امن و امان اور اپنے آباؤ اجداد کی وراثت  گنگا جمنی تہذیب کو پامال کرنا چاہتی ہے –  تاریخ شاہد ہے  جب بھی  ملک کی طرف کسی نے  غلط نگاہ ڈالنے کی کوشش کی ہے تو یہاں کی عوام نے اسے دندان شکن جواب دیا ہے؛  اور 25 نومبر 2018 کو  ملک کی عوام نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دکھا یا کہ کوئی بھی سماج دشمن عناصر ہندوستان کے آئین یا یہاں کی جمہوریت سے کھلواڑ کرنا چاہے گا تو اسے ممکنہ حد تک کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا؛ ہر دور میں یہی ہماری آن بان اور شان رہی ہے – یاد کیجئے اس وقت کو جب ہمارے ملک  پر تسلط فرنگیوں کا تھا مگر ہندوستانی معاشرے نے یکجٹ ہوکر ان  ملک مخالف عناصر کو مار بھگایا – اور ہندوستان کو انگریزوں کے تسلط سے آزاد کرایا؛  ہندوستان کی عوام اب یہ بخوبی سمجھنے لگی ہے کہ رام مندر کا ایشو بھگوا تنظیموں خصوصا آر ایس ایس اور اس کی سیاسی ونگ حکمراں جماعت  کے لئے صرف سیاسی  مدعہ ہے اس  سے زیادہ کچھ بھی نہیں -یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ  یہ کیس عدالت عظمی میں زیر سماعت ہے  جب تک عدالت کی جانب سے کوئی فیصلہ نہیں آجاتا اس وقت تک ایودھیا میں کچھ بھی نہیں ہوسکتا ہے۔

جس  طر ح بھگوا تنظیموں کے عزائم اور منفی منصوبوں کو ایودھیا میں ہندو اکثریت نے کمزور کیا اس کی پورے ملک میں ستائش ہورہی ہے اور ہونی بھی چاہئے ۔

آج ملک میں ضرورت  اس بات کی ہے کہ ہم اپنے معاشرہ و سماج کو دیش کی خدمت کے لئے وقف کریں ؛  جو جہاں بھی جس حیثیت میں ہے اس کو اس بات کا عزم مصمم کرنا ہوگا کہ ملک سے فرقہ پرستی؛  فساد اور بد عنوانی کو ختم کرنا  ہے اور جو افراد  بھی اس سلسلہ میں غیر ذمہ دارانہ باتیں کررہے ہیں انہیں انتھائی مؤثر طریقہ سے روکنا ہے اگر اس طرح کی مثبت لہر ہندوستان میں چل پڑتی ہے  تو یقینا ملک کے اندر نہ فرقہ پرست طاقتوں کو ابھرنے کا موقع ملے گا اور نہ ملک میں کسی بھی طرح کی بد عنوانی جنم لے  پائے گی؛ جب عوام ان طاقتوں کی گرفت و مواخذہ کرنے لگے جو آئے دن ملک کے آئین اور اس کی عظمت کو پامال کرتے ہیں تو کیا ممکن ہے کہ کوئی بھی فرقہ پرست طاقت ہندوستانی معاشرہ کو اپنے ناپاک عزائم کی بھینٹ چڑھا سکے-۔

ہندوستان کی موجودہ صورت حال بالکل ٹھیک نہیں ہے اگر ملک کے منظر نامہ پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوگا کہ ہر طرف خوف و ہراس ہے انسانی معاشرہ میں سیاسی طاقتیں دراڑ ڈالنے کی کوشش کررہی ہیں ؛  ہندوستان کی اب جغرافیائی تقسیم تو نہیں البتہ بعض سیاسی گروہ لسانی؛ قومی؛ اور مذہبی تقسیم کرتے نظر آرہے ہیں اسی پر بس نہیں بلکہ اب نیوز چینل بھی اس سیاسی ہتھگنڈہ کے فروغ میں پیش پیش ہیں بلکہ سچی بات یہ ہیکہ جس قدر میڈیا نے ملک میں گزشتہ کئی برسوں سے نفرت کے فروغ کے لئے  ہندو مسلم کی تفریق کی مالا جپی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے اور اس کے منفی اثرات کو ہم ہندوستانی معاشرہ میں بکثرت دیکھ رہے ہیں – اگر یہی میڈیا ایمانداری اور انصاف سے کام کرے تو یقینا سیاسی جماعتوں کی ہر وہ کوشش بے اثر ہوکر رہ جائے گی جو ملک کی بقاء اور سالمیت کے خلاف ہو – اگر حکمراں جماعت کے فرضی دعووں اور وعدوں کو یاد کریں تو پتہ چلیگا کہ ملک ترقی کے بام عروج تک پہنچ چکا ہے  مگر زمینی سطح پر صورت حال بالکل برعکس ہے حتی کہ ملک معاشی اعتبار سے کمزور ہوا ہے؛  عسکری نقصان بھی ملک کا زیادہ ہوا ہے؛  اسی طرح وہ تمام مسحور کن وعدے جو الیکشن کے وقت عوام سے مودی حکومت نے کئے تھی ناکام ثابت ہوئے ہیں ؛  اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ بھی لایعنی ثابت ہوا ہے۔

اس لئے  حکمراں جماعت کو یہ اچھی طر ح ذہن نشیں کر لینا چاہئے کہ ملک کی سب سے بڑی طاقت عوام  ہے جن حضرات نے تاریخ کا مطالعہ کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ عوام نے  بڑی بڑی حکومتوں کو اپنی حق رائے دہی کی مظبوط و مستحکم طاقت کے ذریعہ بڑے بڑے حکمرانوں کو اقتدار سے باہر کردیا ہے  اسی کے ساتھ ساتھ حکومت کے  تمام سیاہ کارناموں کا حساب بھی لیا ہے؛  جو لوگ پچاس برس تک راج کرنے کا ناکام خواب دیکھ رہے ہیں انہیں جمہوری نظاموں کی تاریخ کا مطالعہ کر لینا چاہئے- وہیں اس بات کو بھی حکمراں جماعت کو یاد رکھنا ہوگا کہ زیادہ دنوں تک جمہوریت میں عوام کا سیاسی مقاصد کی حصولیابی کے لئے استحصال نہیں کیا جا سکتا ہے جس طرح گزشتہ ساڑھے چار برسوں سے ملک کی عوام کو مندر مسجد اور ہندو مسلم کے نام پر بے وقوف بنایا ہے وہ تمام سر بستہ راز حکمراں جماعت کے اجاگر ہوچکے ہیں اور عوام سمجھ چکی ہے کہ عام انتخابات سے قبل رام مندر کا مسئلہ اٹھا کر بی جے پی اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہے – لھذا ملک کی اکثریت ہندؤں نے  ایودھیا میں متشدد گروپوں کے منصوبوں اور فرقہ پرست گرو ہوں کی نفرت کو اپنی موجودگی درج نہ کراکر بے اثر کردیا ہے؛ خوشء کی بات یہ ہیکہ   تمام فرقہ پرست طاقتیں اپنی اس ناکامی پر ہاتھ ملتی کی ملتی رہ گئیں ؛  گویا وطن عزیز میں جمہوریت کا سر اونچا ہوا اور فرقہ پرستی کی تمام بادل صرف گرج کر رہ گئے؛  ان حقائق سے سیکولر کہی جانے والی سیاسی جماعتوں اور ملک کے سیکولر آئین پر ایمان رکھنے والے افراد کو روحانی تازگی  ملتی  ہے – اور جمہوریت پر ایمان از سر نو مضبوط ہوتا ہے – ضمنا یہ بھی بتاتا چلوں کہ ہندوستان کی عوام اتنی سیکولر ہے کہ اس نے بعض سیاسی جماعتوں کے لئے بھی سیکولر ہونے پر مجبور کردیا ہے؛  اگر موجودہ  تناظر میں اس بات کی تصدیق کرنی چاہیں تو اندازہ ہوگا کہ ا ب سیکولر کہی جانے والی سیاسی جماعتیں سوفٹ ہندتوا اور سخت ہندتوا  کی بات کررہی ہیں ؛  یہ اس بات کی کھلی شہادت ہے کہ کوئی سیاسی جماعت   بذات خود سیکولر نہیں ہیں بلکہ عوام کے دباؤ اور ووٹ کے طمع میں سیکولرہونے کا صرف دعوہ کرتی ہیں۔

آخر میں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ جس طرح ہندوستان میں  انتخابی ریلیوں سے خطاب کرتے وقت  الفاظ کا خیال  عموما نہیں رکھا جاتا ہے؛  کچھ لوگوں کا تو یہ وطیرہ بن چکا ہے کہ وہ نفرت آمیز زبان استعمال کرکے اپنے آپ کو سخت گیر ہندو لیڈر کے طور پر پیش کرتے ہیں ابھی حال ہی میں مدھیہ پردیش میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اپنی سابقہ عادت کے مطابق یوپی کے سربراہ نے  نفرت آمیز الفاظ کا ستعمال کیا تھا – یقینا اس طرح کی زبان کا استعمال کرنا نہ صرف یہ کہ نفرت کے تئیں زمین ہموار کرتا ہے بلکہ ملک کی جمہوری قدروں کے بھی منافی ہے؛  چنانچہ عوام کو ان بیانات پر بھی گہرائی سے نگاہ رکھنی ہوگی اور ان کے پس پردہ حقائق کو سمجھنا ہوگا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ظفر دارک قاسمی

جنرل سکریٹری اقراء ایجوکیشنل ویلفیئر سوسائٹی(رجسٹرڈ ) بدایوں، یو۔پی۔انڈیا شعبۂ دینیات،مسلم یونیورسٹی علی گڑھ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close