ہندوستان

شخصی و ملکی قوانین :ہر دو سطح پر عمل درآمد کی مکمل آزادی ہونی چاہیے!

محمد آصف ا قبال

دنیا میں جتنی بھی چیزیں گردش میں ہیں وہ کسی نہ کسی قانون کی پابند ہیں۔یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کی بناپر امن و امان برقرار ہے۔لیکن تصور کیجئے ایک ایسی دنیا کا جہاں قوانین پر عمل درآمد نہ ہوتا ہو کیا وہاں سکون و اطمینان حاصل کیا جا سکتا ہے۔لیکن چونکہ ہم نے لکھا ہے کہ قانون کی پاسداری کے نتیجہ میں دنیا میں امن و امان برقرار ہے تو لازماً آپ کے ذہن میں یہ سوال اٹھے گا کہ دنیا کے کس حصہ میں سکون و اطمینان اور امن وامان برقرار نظر آتا ہے؟یہاں تو چہار جانب مسائل ہی مسائل ، جھگڑے ہی جھگڑے ، فساد ہی فساد ہے۔پھر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ قانون کی موجودگی میں فساد ختم ہو گیا ہے۔تو واقعہ یہ ہے کہ دنیا میں دو طرح کے قوانین عموماً نافذ کیے جاتے ہیں۔ایک انسانوں کے خود کے بنائے ہوئے قوانین تو دوسرے وہ جو اُس عالم برحق کے قوانین ہیں جسے رب العالمین کہا جاتا ہے۔زماں و مکاں کی قیود سے باہر جب کبھی بھی رب العالمین کے قوانین نافذ کیے گئے دنیانے چہار جانب سکون و اطمینان اور امن و امان کا مشاہدہ کیا۔لیکن جب جب انسانوں کے خود کے بنائے ہوئے قوانین کو نافذ کیا گیا یہ سکون اور یہ امن ختم ہوتا نظر آیاہے۔آج بھی یہی صورتحال ہے جس کی بنا پر آپ کا مشاہد بجا ہے کہ دنیا میں چہار جانب مسائل ہیں، جھگڑے ہیں اور فساد برپا ہے۔
فی الوقت دنیا مخصوص حد بندیوں میں قید ہے اور یہ قید ہی کو آزاد ملک اور اس کے مخصوص نام سے جانا جاتا ہے۔ان مخصوص ممالک میں سماج وہ بنیادی ساخت ہے جس سے کسی ملک کی شناخت کی جاتی ہے۔سماج کی اہم ترین اکائی خاندان ہے ،اور ان خاندانوں کے مجموعہ کا نام سماج ہے۔ خاندان میں میاں بیوی اور بچے آتے ہیں ۔ ان کی زندگی کے شب و روز اور ان میں انجام دی جانے والی سرگرمیاں ، ان پر نافذ ہونے والے قوانین اور ان پر نفاذ شدہ قوانین کی پسند اور نا پسندہی سماجی ڈھانچہ کو کھڑا کرتے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ یہ ڈھانچہ کس نوعیت کا ہے اور وہ خود پر کن قوانین کو نافذ کرناوانا چاہتا ہیں ۔باالفاظ دیگر وہ کون سے قوانین ہیں جن پر عمل در آمد کرنے میں یہ بنیادی اکائی خوشی و اطمینان محسوس کرتاہے اور وہ کون سے قوانین ہیں جن سے وہ بچنا چاہتاہے۔جب ہم ملک اور سماج کے اس حصہ میں پہنچتے ہیں جسے خاندان کہتے ہیں اور جس کی پسند اور ناپسند کا خیال رکھاجانا ملک کے قوانین کا جزلاینفک ہے تویہاں ایک اور چیز شامل ہو جاتی ہے جسے اُس خاندان کا مذہب قرار دیا جاتاہے اور جس پر عمل رہنا وہ اپنے بنیادی حقوق میں تصور کرتے ہیں۔لہذا اس مقام پر ایک آزاد ملک میں دو طرح کے قوانین کے حقوق فراہم کیے جاتے ہیں ایک شخصی تو دوسرے قومی۔یعنی ایک شخص جس مذہب پر عمل پیرا ہے وہ اپنے مذہب کے قوانین کی روشنی میں اپنی ذاتی زندگی کے مذہبی معاملات میں اپنے پرسنل لاپر عمل درآمد کے لیے آزاد ہوتا ہے۔وہیں دوسری جانب جس ملک کا وہ شہر ی ہے اس کے قوانین کی پاسداری اس پر شخصی قوانین کے علاوہ دیگر معاملات میں ضروری ہوتے ہیں۔یہی معاملہ ہمارے ملک کا بھی ہے ۔یہاں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو اُن کے شخصی قوانین (پرسنل لا)پر عمل درآمد کی آزادی فراہم کی گئی ہے وہیں بحیثیت شہری لازم ہے کہ ملکی قوانی پر وہ عمل درآمد کریں۔یہی وہ مرحلہ ہے جس کا آغاز میں ہم نے تذکرہ کیا تھا ۔یعنی دنیا میں جتنی بھی چیزیں گردش میں ہیں وہ کسی نہ کسی قانون کی پابند ہیں اور جب وہ اپنے قوانین پر مکمل عمل درآمد کرتی ہیں تو پھر دنیا سکون کا گہوارہ بن جاتی ہے۔یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ دنیا میں عموماً انسانوں کا ایک بڑاگروہ قانون کی بالادستی کو قبول نہیں کرتا یعنی اس پر عمل درآمد نہیں کرتا، ان کو توڑتا ہے اور ان سے کھلواڑ کرتا ہے، اس مرحلہ میں ان لوگوں کی بہت بڑی ذمہ داری بن جاتی ہے جو خود کو قانون کے رکھوالے کہتے ہیں۔انہیں چاہیے کہ وہ قانون کے نفاذ کی بھر پور کوشش کریں اور جہاں بھی اور جس درجہ میں بھی اس میں تضاد نظر آئے اس کی گرفت کی جانی چاہیے بجز اس کے کہ وہ شخص انفرادی اور اجتماعی زندگی میں کیا حیثیت رکھتا ہے۔
آئیے ایک نظر وطن عزیز ہندوستان کے قوانین کے اس حصہ پہ ڈالی جائے جہاں ایک زمانہ میں اسلامی قوانین کو محدود کیا گیاتھا اس کے باوجود شخصی قوانین پر عمل درآمد کی مکمل آزادی تھی۔آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان میں جب انگریزوں کا غلبہ اور اقتدار ہوا تو قانون اسلامی کو اس کی محدود شکل میں جاری رکھا گیا اور فیصلے کے لیے نظام قضاء باقی رکھا گیا۔بعد میں یہ مسائل بھی عام عدالتوں کے حوالہ کر دیئے گئے لیکن مسلمانوں کے معاملات میں قانون شریعت کو جاری اور باقی رکھا گیا۔انڈین شریعت ایکٹ1937کی دفعہ 2میں اس کی تصریح کردی گئی کہ:شریعت ایکٹ کے نفاذ کے بعد کوئی دوسرا رواج یا دستور جو اس وقت تک عمل میں رہا ہو،شریعت ایکٹ کے خلاف ان معاملات میں جو مسلم پرسنل لاکے مطابق مسلمانوں میں نافذ کیے جانے چاہیں،لاگونہیں ہوگا۔لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کر دیا گیا کہ مسلم پرسنل لا اپنے عمومی مفہوم کے اعتبار سے ہر معاملہ میں وہی ہے جس کا قرآن میں اجماملی تذکرہ ہے اور جس کی وضاحت احادیث کرتی ہیں۔یا جن کے فیصلے اجماع یا قیاس سے ائمہ اربعہ نے کیے ہیں۔یا شیعہ حضرات کے نقطہ نظر سے ان کے ائمہ مطہرین نے کیے ہیں۔مگر یہ وسیع مفہوم ہندوستان میں نہیں لیا گیا۔بلکہ مسلم پرسنل لا کو وراثت،نکاح،خلع،(طلاق)ایلاء، ظہار،فسخ نکاح،نفقہ،مہر ،حضانت،اوقاف میں محدود کر دیا گیا۔چنانچہ محمڈن لامصنفہ بابو رام ورما(تیسرا ایڈیشن)کی پہلی دفعہ حسب ذیل ہے:جن کے لیے دستور ہند کے آرٹیکل 225میں کہا گیا ہے یا ان معاملات میں جن کے بارے میں کسی قانون کے ذریعہ ہدایت کی گئی ہے یا اجازت دی گئی ہے۔گورمنٹ آف انڈیا ایکٹ1935کی دفعہ 323کہتی ہے کہ :جب فریقین ایک ہی پرسنل لا کے تحت ہوں تو وراثت اور معاہدہ کے مقدمہ میں ان کی شنوائی ان کے پرسنل لا کے مطابق ہوگی۔اور فریقین کے پرسنل لا مختلف ہوں تو مقدمہ کا فیصلہ مدعاعلیہ کے پرسنل لا کے مطابق ہوگا۔اس طرح غیر مسلموں کو ان کے مدعاعلیہم رہنے کی حالت میں ان معاملات میں قانون شریعت سے بری کردیا گیا۔اس دفعہ میں یہ شرط بھی رکھی گئی تھی کہ یہ حقوق قانون سے بدلے جا سکتے ہیں۔چنانچہ قانون معاہدہ(Indian Contract Act)نے معاہدات کو مسلم پرسنل لا سے خارج کر دیااور اب معاہدات میں خواہ فریقین مسلم ہی کیوں نہ ہوں انڈین کنٹریکٹ ایکٹ ہی نافذ کیا جائے گا(بحوالہ’مسلم پرسنل لا’از مولانا سید شاہ منت اللہ رحمانی ؒ)۔
دوسری جانب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:” اے محمدؐ ! ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب بھیجی جو حق لے کر آئی ہے اور الکتاب میں سے جو کچھ اس کے آگے موجود ہے اس کی تصدیق کرنے والی اور اس کی محافظ و نگہبَان ہے۔ لہٰذا تم خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور جو حق تمہارے پاس آیا ہے اس سے منہ موڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک راہِ عمل مقرر کی”(المائدہ:۴۸)۔اور کہا :”اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول ؐکی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں، پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیردو اگر تم واقعی اللہ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی ایک صحیح طریقِ کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے”(النساء:۵۹)۔مزید فرمایا:”اے محمدؐ !تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اِختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سربسر تسلیم کرلیں”(النساء:۶۵)۔گفتگو کے اختتام تک تین صورتیں آپ کے سامنے پیش کی جا چکی ہیں۔ایک: جہاں خدائی قوانین پر عمل درآمد کیا جاتا ہے، دو :جہاں انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین پر عمل درآمد کیا جا رہا ہو اور تین :جہاں شخصی اور ملکی قوانین پر عمل درآمد کی مکمل آزادی ہو۔موجودہ حالات میں یہ تیسری شکل ہی وطن عزیز میں مناسب ہو سکتی ہے جہاں عوام اور ملک ہر دو سطح پر امن اور اطمینان باقی رہے گا۔برخلاف اس کے غیر ضروری مسائل اٹھیں گے ۔ایسے حالات میں نہ امن برقرار رہے گا اور نہ ہی سکون کی زندگی گزارنا ممکن ہے!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد آصف ا قبال

آصف اقبال دہلی کے معروف کالم نگار ہیں۔ بنیادی طور پر آپ سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔ آپ کی نگارشات برصغیر کے مؤقر جریدوں اور روزناموں میں شائع ہوتی ہیں۔

متعلقہ

Close