ملی مسائلہندوستان

شرعی عدالتوں پر بھی جاہلوں کی یلغار

حفیظ نعمانی

اکثر دیکھا ہے کہ بڑے گھرانوں کے ملازم بھی اس کا خیال رکھتے ہیں کہ وہ بڑے گھر کے نوکر ہیں،  اور کوشش کرتے ہیں کہ بڑے گھر کی عزت پر حرف نہ آئے۔ لیکن نہ جانے کیا بات ہے کہ دہلی کی جامع مسجد جسے شاہجہاں نے بنوایا تھا اور اسی رشتہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 1977 ء میں بابو جگ جیون رام نے اس کے امام کو شاہی امام کا خطاب دے دیا تھا۔ اس کے باوجود وہ اپنے کو نہ سنبھال سکے اور بدہضمی کا شکار ہوگئے اور یہ مرض ان کی دوسری نسل میں بھی منتقل ہوگیا۔

ہم برابر دیکھ رہے ہیں کہ جیسے ہی مسلم پرسنل لاء بورڈ کی طرف سے کوئی بیان آتا ہے فوراً جامع مسجد کے امام اس کا رشتہ بی جے پی سے جوڑ دیتے ہیں ۔ بورڈ کے ایک ممبر نے اعلان کیا کہ پورے ملک میں شرعی عدالتیں قائم کی جانا چاہئیں تو امام نے بیان داغا کہ جب پورے ملک میں دارالقضاء موجود ہیں تو اب شرعی عدالتوں کی کیا ضرورت ہے؟ ہم نہیں جانتے کہ پورے ملک میں کہاں کہاں دارالقضاء موجود ہیں۔ اور اگر ہیں تو لکھنؤ میں بھی دو قاضی اور مفتی موجود ہیں لیکن ان میں سے کسی نے کسی دارالقضاء میں ایک مہینہ بھی بیٹھ کر یہ نہ سیکھا ہوگا کہ استفتاء کا جواب دینے کے لئے کون کون سی کتابیں پڑھنا پڑتی ہیں ؟ اس کے باوجود دیوبند دارالعلوم، لکھنؤ کی ندوۃ العلماء، مظاہر العلوم اور ملک کے بڑے مدرسوں میں مفتی موجود ہیں۔ لیکن بورڈ کا مقصد یہ ہے کہ ایک منظم شرعی نظام قائم کیا جائے جس کے مفتی بورڈ کے سامنے جواب دہ ہوں اور بورڈ ہی ان کا تقرر کرے۔

ہم اس کی شرعی ضرورت پر لکھتے لیکن مولانا ندیم الواجدی کے مفصل اور مدلل مضمون کے بعد اس کی ضرورت نہیں ہے۔ اب وہ چند باتیں کہنا ہیں جس کی جڑ سیاست سے ملائی جارہی ہے۔ گودی اور زعفرانی میڈیا نے اسے متوازی عدالتی نظام کے طور پر پیش کرنا شروع کردیا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملک کی عدلیہ کے ساتھ یہ کام تعاون ہے۔ مسلمانوں کے مذہبی اور سماجی معاملات کا حل قرآن اور حدیث میں موجود ہے۔ ان چھوٹی چھوٹی باتوں کیلئے عدالت جانا، پہلے وکیل کرنا پھر ہر پیشی پر پیشکار کو 20 روپئے رشوت دینا اور ہزاروں روپئے پھونک کر کسی نتیجے پر پہونچنے سے کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ بغیر کچھ خرچ کئے وہ فیصلہ ہوجائے۔ جسے شریعت کہا جاتا ہے۔

بہار میں برسہا برس سے امارت شرعیہ کا نظام قائم ہے۔ اس کا ایک اخبار نقیب ہفت روزہ نکلتا ہے آٹھ صفحات کے اخبار میں عام طور پر دو صفحے اعلان مفقود النجر کے ہوتے ہیں ۔ ان میں اعلان کیا جاتا ہے کہ فلاں نے فلاں لڑکی کے ساتھ اتنے دن پہلے نکاح کیا تھا۔ سال دو برس کے بعد شوہر یہ کہہ کر چلا گیا کہ وہ ممبئی کمانے جارہا ہے۔ شروع شروع میں اس نے خیریت اور روپئے بھی بھیجے مگر اب تین برس سے وہ خاموش ہے اور کچھ خبر نہیں کہاں ہے زندہ ہے یا مردہ؟ اب اعلان کیا جاتاہے کہ وہ جہاں ہو دو مہینے یا تین مہینے کے اندر خود آئے یا خبر بھیجے ورنہ اس کا نکاح فسخ کردیا جائے گا۔ اور پھر وقت گذرنے پر اس پر عمل کردیا جاتا ہے۔ اور لڑکی دوسرا نکاح کرنے کیلئے آزاد ہوتی ہے۔

اس کے برعکس ہریانہ، راجستھان اور مغربی اترپردیش میں ہندوؤں کا کھاپ پنچایت کا نظام ہے۔ ہم نے اس کے پوسٹر لگے دیکھے ہیں کہ فلاں لڑکے نے اپنے ہی گاؤں کی فلاں لڑکی کے ساتھ کورٹ میریج کرلی ہے۔ وہ جہاں بھی ملیں ان کو زندہ یا مردہ لائیں ان کو ایک لاکھ روپیہ دیا جائے گا۔ اور نہ جانے اب تک کتنے لڑکوں اور لڑکیوں کو موت کی سزا کھاپ پنچایت دے چکی ہے۔ ہندوستان کا دستور کہتا ہے کہ بالغ لڑکا اور لڑکی وہ کسی بھی ذات کے یا کسی بھی مذاہب کے ہوں اگر اپنی رضامندی سے شادی کرتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے۔ اب زعفرانی میڈیا بتائے کہ ملک کے دستور کی خلاف ورزی پرسنل لاء بورڈ کررہا ہے یا کھاپ پنچایت؟ اسی پنچایت نے یہ فیصلہ کردیا ہے کہ ایک گاؤں میں رہنے والا ہر لڑکا اور لڑکی بھائی بہن ہیں۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو واضح کرکے بتادیا ہے کہ وہ کس سے شادی کرسکتے ہیں اور کون حرام ہے؟ ان میں رشتہ دار بھی ہیں اور قرابت دار بھی خون کے رشتوں کے علاوہ دودھ کے رشتہ کی بھی وضاحت کردی ہے کہ اگر ایک غیرلڑکے نے غیرلڑکی ماں کا دودھ پیا ہے تو وہ رضاعی بھائی بہن ہیں وہ آپس میں شادی نہیں کرسکتے۔ لیکن حکومت اور عدالت کھاپ پنچایت کو دھمکی تو دیتے ہیں لیکن جب وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم اپنے قانون پر عمل کریں گے تو گرفتار کسی کو نہیں کرتے۔
امام جامع مسجد احمد بخاری فرانس میں گھوم رہے ہیں۔ وہیں سے انہوں نے ایک اخبار کے ذریعہ کہا ہے کہ جن شہروں میں دارالقضاء ہیں وہاں لوگ اپنے مقدمے لے کر نہیں جاتے۔

ہم نہیں جانتے کہ اس میں قصور کس کا ہے؟ ہمارا خیال ہے کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ صرف شرعی عدالتیں قائم کرکے خاموش نہیں بیٹھے گا بلکہ اپنے عوامی پروگراموں میں عوام کو اس کی اہمیت بتائے گا اور علمائے کرام مولانا ندیم الواجدی جیسے مضامین لکھ کر بتائیں گے کہ مسلمانوں کو اپنے عائلی مسائل کے لئے نہ صرف شرعی عدالت سے رجوع کرنا چاہئے بلکہ ان کے فیصلہ کو دینی اور اسلامی فیصلہ مان کر قبول بھی کرنا چاہئے۔ کون نہیں جانتا کہ چھوٹے چھوٹے مسائل میں دونوں فریق ہزاروں روپئے پھونک دیتے ہیں اور اپنے کو برباد کرلیتے ہیں۔

بورڈ کے ایک ذمہ دار مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا ہے کہ بورڈ شرعی عدالتوں کو ان علاقوں تک لے جانا چاہتا ہے جہاں کوئی دارالقضاء نہیں ہے۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جہاں کام ہورہا ہے اس سے بورڈ کا ٹکراؤ نہیں ہے۔ اور اسکا فائدہ ان خواتین کو زیادہ ملے گا۔ جن کے مسائل بغیر خرچ کے حل ہوجائیں گے۔ بورڈ کے ایک اور رُکن مولانا حسام الدین جعفر پاشا نے کہا ہے کہ بورڈ کی شرعی عدالت یا دارالقضاء کسی بھی لحاظ سے ہندوستان کی عدالتوں کے مساوی نہیں ہے۔ اور نہ کسی بھی لحاظ سے عدالتوں کے کاموں میں رکاوٹ ہیں ۔ اس کا مقصد صرف عائلی مسائل میں مسلمانوں کو مقدمہ بازی سے روکنا ہے جو ایک طرح ملک کی خدمت ہے۔ حیرت ہے کہ اچھے سمجھدار حضرات بھی ہر بات کو الیکشن اور سیاست کی عینک سے دیکھنے لگتے ہیں۔

ہمارا خیال یہ ہے کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اہم کاموں میں سے ایک کام یہ ہے جس کی طرف سے اب تک لاپروائی برتنا اچھا نہیں تھا اور تین طلاق، ایک سے زیادہ شادی اور حلالہ جیسے معاملات حکومت اور عدالت کے ہاتھ میں صرف اس وجہ سے گئے کہ بورڈ نے سب سے پہلے اپنی عدالتیں قائم نہیں کیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close