ہندوستان

صدیوں پرانی معزز و حقیر کی رنجشیں آج بھی جاری ہیں!

آصف اقبال

 مظالم میں اضافہ جہاں ایک جانب ملک میں رائج لا اینڈ آڈر کی کمزور صورتحال کو پیش کرتا ہے وہیں سماجی انتشارکو بھی بطور شہادت پیش کرتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں انسانوں کے درمیان ہی انسان تقسیم کر دیے گئے ہوں ، جہاں چند لوگوں نے اپنی حیثیت کو مقدم رکھنے کے لیے سماجی رشتوں میں دراڑ پیدا کی ہو، جہاں کسی کو ذلیل تو کسی کو حقیر کے درجہ میں فٹ کیا جانے لگے، جہاں پیدائش کی بنا پر کوئی اعلیٰ تو کوئی ادنیٰ کہا جائے، ایسے معاشرے میں مظالم سرچڑھ کے نہیں بولیں گے تو اور کیا ہوگا؟شاید یہی سلسلہ وطن عزیز ہندوستان میں بھی ایک طویل عرصہ سے  جاری ہے۔لیکن اس کا آغاز کب ہوا ؟اور کیوں ہوا؟اس کے جواب میں تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ 2500 قبل مسیح کے قریب ہندوستان پر آریہ نسل کے لوگوں نے حملہ کیا۔ اس وقت پورے ہندوستان میں دراوڑ نامی نسل کے لوگ آباد تھے۔ آریاؤں نے ان کو جنوب کی جانب دھکیل دیا اور انہوں نے وہاں اپنی بستیاں بسا لیں ۔ دراوڑ ہی ہندوستان کے اصل باشندے ہیں جبکہ آریہ وسطی ایشیا کی جانب سے ہندوستان میں آئے تھے۔ یہ لوگ بے شمار قبائل میں منقسم ہیں اور ہر ایک کی اپنی الگ شناخت ہے۔دراوڑ اپنے زمانے کی مہذب اقوام میں شمار ہوتے تھے۔ انھوں نے تقریباً چھ ہزار سال قبل مسیح زمین سے گیہوں ، جو، کپاس اور گنا اگانے اور روئی سے دھاگا بنا کر کپڑا تیار کرنے کا نہر سیکھ لیا تھا۔ یہ لوگ تانبے اور کانسی کے اوزار بناتے تھے۔ لوہے کا استعمال انھوں نے آریاؤں سے سیکھا۔ آریاؤں نے لنگ پوجا، دھرتی پوجا، بھوت پریت اور خبیث ارواح کا تصور انھی سے لیا اور ان کے بہت سے دیوی دیوتاؤں کو اپنا لیا۔ مورخین کے مطابق دراوڑ سیاہ فام تھے جبکہ آریا سفید فام تھے۔

دنیا کا دستور ہے کہ ہر زمانے میں ایک قوم دوسری قوم کو زیر کرنے کے لیے سب سے پہلے سماجی، سیاسی، تعلیمی اور تمدنی سطحوں پر کمزور کرتی ہے۔ ساتھ ہی جس قوم پر برتری حاصل کرنا چاہتی ہے اسے حقیر ثابت کرتی ہے اور خود کو معزز۔ نتیجہ میں برسراقتدار قوم آہستہ آہستہ "معزز”کہی جانے والی قوم کے طور طریقوں کو اختیار کرتی چلی جاتی ہے اور اندورنی سطح پر خود بہ خود پسپا ہوجاتی ہے۔دوسری جانب برسراقتدار قوموں اور افراد کو ختم کرنے کے لیے ہر زمانے میں جنگیں کی گئیں ۔ اور یہاں بھی وہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ ایک قوم عروج حاصل کرتی ہے تو دوسری زوال پذیر ہوتی ہے۔تاریخ سے ثابت ہے کہ ٹھیک یہی طریقہ آریہ قوم نے بھی دراوڑ قوم پر برتی اور تسلط حاصل کرنے کے لیے اپنایا تھا۔ایک جانب دراوڑ قوم کو حقیر و ذلیل ثابت کیاگیا، معاشرتی سطح پر ان سے دوری بنائے رکھی گئی، وہیں دوسری جانب خود کو اعلیٰ و عرفہ اور معزز بناکی شکل میں پیش کیا۔لفظ ‘آریا ‘کے معنی بھی مختلف بیان ہوئے ہیں ۔ آریا کے ایک معانی سنسکرت میں بلند مرتبہ اور معزز کے آئے ہیں ۔ یہ معنی غالباً آریوں نے برصغیر میں اپنائے ہیں ۔ کیوں کہ وہ مقامی باشندوں کو پشیاجی یعنی کچاگوشت کھانے والے، داس یعنی غلام اور تشا یعنی حقیر کہتے تھے۔ جب کہ اس کے مقابلے میں خود کو آریاکہتے تھے۔میکس ملر (Max Muller) کا کہنا ہے کہ لفظ آریا، آر سے مشتق ہے جس کے معانی ہل جوتنے اور زمین کاشت کرنے والے کے ہیں چنانچہ یہ لفظ کاشتکاروں پر صادق آتا ہے۔ ول درانٹ (Will Durant) کے مطابق آریاکے ابتدائی معنی کسان کے ہیں ۔ آریا آغاز ہیسے زراعت پیشہ اور گلہ بان تھے، جانوروں کا پالنا اور کھیتی باڑی ان کاخاص پیشہ تھا، اسی پر ان کی دولت کا انحصار تھا، وہ گھوڑے اور بیل کے ذریعے زمین کو جوتنا اور نہروں کو سیراب کرنا جانتے تھے، یہ لوگ تجارت پیشہ نہیں تھے۔

آریا قوم کی برصغیر میں ہجرت کی آمد 1500 قبل مسیح بتائی جاتی ہے۔ یہاں اس سر زمین پر ان کی آباد کاری میں قدرتی اور معاشرتی عناصر کا بڑا ہاتھ تھا۔ آریابرصغیر میں فوج کی صورت میں حملہ آور نہیں ہوئے، بلکہ ایک کے بعد ایک قبیلے اور خاندان آتے رہے۔ گویا آریا سیلاب کی وہ لہریں تھیں جو ایک کے بعد ایک آ رہی تھیں اور ان کا ترک وطن کا سلسلہ صدیوں تک جاری رہا، وہ گرہ در گروہ کی شکل میں مختلف اوقات میں مختلف سمتوں میں پھیل گئے۔ پاک وہند کی سرزمین پر ان کا ورد صدیوں تک جاری رہا اور ان کے مختلف قبیلے مختلف اوقات میں یہاں آباد ہوئے۔آباد ہونے والے چند قبایل کے نام رگ ویدمیں ملتے ہیں ۔ انمیں سب سے مشہور قبیلہ بھارت (Bharat) ہے، جس کے نام پر اس ملک کا نام بھارت رکھا گیا، یہ  سروتی اور جمنا کے کنارے آباد ہوا تھا۔ اس کا حلیف سریجنی Sirngaya تھا۔ اس کے علاوہ پورو (Puro)، یادو (Yado)، تروسا (Turvasa)، انو Anu اور درینیو (Drunyu) قبائل کے نام بھی ملتے ہیں ، جنہیں قبائیلی اہمیت حاصل تھی۔ انہوں نے بھارت اور اس کے حلیف سرینجنی قبیلے سے خوفناک جنگ کی اور شکست کھائی، اس جنگ کی تفصیل رگ ویدمیں ملتی ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان قبائل میں پرانی عداوت تھی، جو یہاں آنے کے بعد شدت اختیار کرگئی۔ یعنی وہ اوئل سے ہی دو مخالف گروہ میں بٹے ہوئے تھے اور آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے وہ یہاں کے باشندوں کو مغلوب کرنے کے بعد بھی سیاسی اتحاد قائم نہیں کرسکے اور ہمیشہ ٹولیوں اور ذاتوں میں تقسیم رہے۔ اس باہمی کشمکش کے ساتھ انہیں یہاں کے باشندوں کے ساتھ مزید جنگیں کرنی پڑیں ۔ جن کا سلسلہ عرصہ دراز تک جاری رہا، جس کی کچھ تفصیل ویدوں میں ملتی ہے۔چونکہ آریا ترک وطن کرنئے وطن کی تلاش میں نکلے تھے، اس لیے وہ آباد شدہ لوگوں کی نسبت پرجوش اور بے باک تھے۔ آشوریوں کی طرح وہ بھی اپنے دشمنوں پر رحم کرنا نہیں جانتے تھے۔ وہ اپنے دشمنوں کو داسا یعنی چور و غلام، پشیاجی یعنی کچا گوشت کھانے والے، درندہ صفت، راکش -یعنی دیو و بھوت، دھات (Dhatta) یعنی خبیث روح، آسورہ Asora یعنی بھوت پریت، جیسے توہین آمیز القاب سے پکارتے تھے اور ان سے اس قدر نفرت کرتے تھے کہ جنگ ختم ہوجانے کے بعد بھی ان سے معاشرتی تعلقات قائم کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔

 ہندوستان میں پہلے سے آباد شدہ دراوڑ قوم اور بعد میں آنے والی آریا قوم کے مختصر تاریخی حوالوں کے بعد آزاد ہندوستان میں اقلیتوں پر جاری ظلم و تشدد کے علاوہ دلتوں اور پسماندہ ذاتوں پر بڑھتے مظالم کا پس منظر بخوبی واضح ہو جاتا ہے۔نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کی روشنی میں شیڈول کاسٹ پرمظالم میں 2015کے مقابلہ2016میں بڑااضافہسامنے آیا ہے۔2015میں یہ جرائم 38,670درج ہوئے تھے جو2016میں بڑھ کر40,801تک پہنچ گئے۔وہیں نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد وشمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ دلتوں پر سب سے زیادہ جن ریاستوں میں مظالم ہوئے ہیں وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کیبرسراقتدار ریاستیں ہیں یا ان کے تعاون سے چلنے والی حکومتیں ۔ پہلے نمبر پر مدھیہ پردیش ہے جہاں 2014میں شیڈول کاسٹ سے وابستہ لوگوں کے 3294جرائم درج ہوئے  تھے، 2015میں یہ بڑھ کے 3546اور 2016میں 4922ہوگئے۔مدھیہ پردیش کے بعد راجستھان ہے جہاں 12.6اضافہ کے ساتھ جرائم میں اضافہ درج ہوا ہے۔اس کے بعد گوا اور بہار ہیں اور پانچویں نمبر پے گجرات ہے۔2016میں مدھیہ پردیش میں 43.4%فیصد سنگین جرائم درج ہوئے ہیں ، وہیں راجستھان میں 42%، گوا میں 36.7%، بہار میں 34.4%اورگجرات میں 32.5%۔ان اعداد و شمار کے علاوہ حالیہ دنوں ایک دردناک اور ذلت آمیز واقعہ چند دن پہلے گجرات کے بھائو نگر ضلع میں پیش آیا ہے جس میں ایک دلت نوجوان کا قتل صرف اس بنا پے کر دیا گیاکہ اس کے پاس گھوڑا تھا، گھوڑ سواری اسے پسند تھی لیکن اعلی ذات کے چند لوگوں کو اس نوجوان کا یہ عمل پسند نہیں آیا، انہیں اس عمل میں اپنی بے عزتی اور اس کی برتی محسوس ہوئی، لہذا اسے موت کے گھات اتار دیا گیا۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف ایک واقعہ ہے ؟ یا دو قوموں کی صدیوں پرانی اعلیٰ و ادنیٰ اور معزز و حقیر کی رنجشیں ہیں !

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

آصف اقبال

آصف اقبال دہلی کے معروف کالم نگار ہیں۔ بنیادی طور پر آپ سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔ آپ کی نگارشات برصغیر کے مؤقر جریدوں اور روزناموں میں شائع ہوتی ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close