ملی مسائلہندوستان

طلاق زحمت نہیں رحمت ہے! (قسط اول)

ڈاکٹر محمد واسع ظفر

ان دنوں زعفرانی حکومت اورا س کے اہل کار سیاستداں ،سماجی کارکنان، نام نہاد دانشوران اورمیڈیا سے وابستہ افراد کے ذریعہ  تین طلاق کوبنیاد بناکر اسلامی شریعت پر جس قسم کی تنقیدیں کی جارہی ہیں اورمسلم پرسنل لاء میں مداخلت کی جو کوششیں ہورہی ہیں وہ انتہائی افسوسناک اور مسلمانوں کے لئے بے انتہا پریشان کن ہیں ۔مسلمانوں کے دینی جذبات کے ساتھ یہ کھلواڑ ایسے ملک میں ہورہا ہے جہاں ہر ایک کو اپنے مذہب پر چلنے کی مکمل آزادی ملکی دستور نے فراہم کر رکھی ہے۔لیکن کیا کیجئے ان بدنیتوں اور بد خلقوں کا جنہیں دوسروں کو پریشان کرنے اور اذیت دینے میں ہی مزا ملتا ہے۔ تین طلاق  کو ملک میں اتنا بڑا ایشو بنادیا گیا ہے کہ ایسا لگتا ہے جیسے ملک کے سارے مسائل حل ہوگئے اور یہی ایک مسئلہ رہ گیا ہے جس کے حل ہوتے ہی یہ ملک جنت نشاں بن جائے گا۔

اس سے بھی بہت زیادہ حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے کچھ اپنے ہی نام نہاد ترقی پسند اور آزاد خیال لوگ جانے یا انجانے میں ان مفسدوں کے آلۂ کار بنے ہوئے ہیں ۔عصری علوم کے حامل ہمارے نوجوانان جنہیں شرعی علوم سے کوئی وابستگی نہیں رہی، مغربی تہذیب کے وکلاء اور نام نہاد انسانی حقوق کے علمبرداروں کے کھوکھلے نعروں سے متاثر ہوکر مسلم پرسنل لاء جس کی بنیاد اسلامی شریعت پر ہے،پر نہ صرف تنقیدیں کر رہے ہیں بلکہ حکومت اور عدلیہ سے اس میں اصلاح کی مانگ بھی کر رہے ہیں ۔ انہیں اس بات کا بھی احساس نہیں کہ یہ معاملہ کتناحساس ہے اور اس کے نتائج کتنے سنگین نوعیت کے ہوں گے۔ صورتحال اتنی خراب ہوگئی کہ ہمارے علماء نے بھی اقدامی پوزیشن اختیار کرنے کے بجائے دفاعی پوزیشن لے لیا۔ وہ بھی قوت کے ساتھ یہ نہیں بول پارہے ہیں کہ اسلامی شریعت میں موجود قانون طلاق انسانیت کے لئے زحمت نہیں رحمت ہے حالانکہ بحیثیت مسلمان ہمار ی فکر یہ ہونی چاہیے کہ صرف قانون طلاق ہی نہیں بلکہ مکمل شریعت اسلامی انسانیت کے لئے رحمت ہے۔ اور کیوں نہ ہو جس کے شارع کو ہی رحمۃ للعالمین کے مبارک خطاب سے نوازا گیا ہو اس کی لائی ہوئی شریعت انسانیت کے لئے زحمت کیسے ہوسکتی ہے۔ رحمت کے تو معنی ہی ہوتے ہیں کرم،مہربانی، محبت، پیار، ترس، دیا، ہمدردی، غمگساری اور خبرگیری وغیرہ کے اور قرآن کا اعلان ہے:(وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ) ترجمہ: ”اور ہم نے نہیں بھیجا آپ کو (اے محمدﷺ!) مگر رحمت (بناکر) تمام جہانوں کے لئے“۔ (سورۃ الانبیاء:107)۔

رسول پاک ﷺ کو رحمت بتانے کاکیا صرف یہی مطلب لیا جائے کہ آپؐ کی وجہ سے کفار سے بھی اس دنیا میں عذاب کو مؤخر کردیا گیا، ان کی شکلیں نہیں بگڑیں ، انہیں زمین میں دھنسایا نہیں گیااور آپؐ کی دعاؤں کی برکت سے اس امت پر یکبارگی کوئی ایسا عذاب نہیں آیا جس سے اس کا نام و نشان مٹ جائے؟ کیا اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جس شریعت سے آپ کو نوازا گیا اور جو احکام اور پند و نصائح آپ کو دئے گئے وہ لوگوں کے لئے سراسر رحمت، ان کی سعادت کا سبب اور ان کی معاش و معاد کی صلاح کا موجب ہیں ۔

 نیز قرآن کریم جو کہ اسلامی شریعت کی اساس ہے، کو موعظت (نصیحت) اور دلوں کی بیماریوں کے لئے شفا اور مومنین کیلئے ہدایت اور رحمت بتایا گیا ہے۔(یَا أَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَاء تْکُم مَّوْعِظَۃٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَشِفَاءٌ  لِّمَا فِیْ الصُّدُورِ وَھُدًی وَرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ)ترجمہ: ”اے  لوگو! تحقیق تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی بیماریوں کی شفا اور مومنوں کیلئے ہدایت اور رحمت آ پہنچی ہے“۔ (یونس:57)۔اور فرمایا:(تِلْکَ آیَاتُ الْکِتَابِ الْحَکِیْمِ ٭ھُدًی وَرَحْمَۃً لِّلْمُحْسِنِیْنَ)ترجمہ:”یہ حکمت کی (بھری ہوئی) کتاب کی آیتیں ہیں ۔نیکوکاروں کیلئے ہدایت اور رحمت“۔ (سورۃ لقمان:2-3)۔ایک جگہ یہ ارشاد ہے:(وَلَقَدْ جِءْنَاھُم بِکِتَابٍ فَصَّلْنَاہُ عَلَی عِلْمٍ ھُدًی وَرَحْمَۃً لِّقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ) ترجمہ: ” اور ہم نے ان کے پاس کتاب پہنچا دی ہے جس کو علم و دانش کیساتھ کھول کھول کر بیان کر دیا ہے (اور) وہ مومن لوگوں کیلئے ہدایت اور رحمت ہے“۔(الاعراف:52)۔ایک مقام پر یہ ارشاد ربانی ہے: (أَوَلَمْ یَکْفِہِمْ أَنَّا أَنزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتَابَ یُتْلٰی عَلَیْہِمْ إِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَرَحْمَۃً وَذِکْرَی لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ)۔ترجمہ: ”کیا ان لوگوں کیلئے یہ کافی نہیں کہ ہم نے تم پر کتاب نازل کی جو ا ن کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے،کچھ شک نہیں کہ مومن لوگوں کیلئے اس میں رحمت اور نصیحت ہے“۔ (العنکبوت:51)۔ غرض یہ کہ ایک دو نہیں متعدد مقامات پر قرآن خود اپنے رحمت ہونے کی گواہی دے رہا ہے۔(مزید دیکھیں  سورۃ الإسراء:82،  سورۃ الجاثیۃ:20، سورۃ النمل: 76-77وغیرہ)۔

علاوہ ازیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ اسلام دین فطرت ہے اور اس میں انسانی نفسیات کا پورا خیال رکھا گیا ہے۔قرآن نے تو ایک جگہ دین کی تعریف ہی انسانی فطرت کے ساتھ جوڑ کر کی ہے۔ (فَأَقِمْ وَجْہَکَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفاً فِطْرَۃَ اللَّہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَا لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللَّہِ ذَلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَلَکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُونَ)”پس تم سیدھا رکھو اپنا چہرہ دین کے لئے یک رخ ہوکر، اللہ کی فطرت(سرشت الٰہی) جس پر اس نے سب انسانوں کو پیدا کیا ہے (اختیار کئے رہو)، اللہ کی پیدائش میں تبدیلی نہیں ، یہی تو محکم و استوار دین ہے“۔ (الروم:30)۔ نیز اسلامی شریعت کی خصوصیت اور مزاج کو قرآن نے یوں بیان کیا ہے: (یُرِیْدُ اللّہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلاَ یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ)ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا“۔(البقرۃ:185)۔ایک جگہ فرمایا: (ھُوَ اجْتَبَاکُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِیْ الدِّیْنِ مِنْ حَرَجْ)ترجمہ: ”اُس نے تمہیں برگزیدہ کیا ہے اور تم پر دین (کی کسی بات) میں تنگی نہیں کی“۔(سورۃ الحج: 78)۔اور ایک جگہ ارشاد ہے: (مَا یُرِیْدُ اللّہُ لِیَجْعَلَ عَلَیْکُم مِّنْ حَرَجٍ وَلٰکِن یُرِیْدُ لِیُطَہَّرَکُمْ وَلِیُتِمَّ نِعْمَتَہُ عَلَیْکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ) ”اللہ تعالیٰ تم پر کسی طرح کی تنگی نہیں کرنی چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کرے تاکہ تم شکر کرو“۔(سورۃ المائدۃ:6)۔ اور یہ بھی ارشاد ہے:(لَایُکَلِّفُاللّٰہُنَفۡسًااِلَّاوُسۡعَہَا) ترجمہ:۔”اللہ کسی جان پر اس کی وسعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا“۔(سورۃ البقرۃ:286)۔جس شریعت کا یہ مزاج ہو اور جس نے انسانی فطرت اور اس کی کمزوریوں کا اس درجہ خیال رکھا ہو اس کا دیا ہوا دستور انسانوں کے لئے زحمت کیسے ہوسکتا ہے؟ایک کافر و مشرک جو نور ایمانی سے محروم ہے اگر اسے یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی تو اس میں بہت تعجب کی بات نہیں ، لیکن تعجب اور افسوس تو تب ہوتا ہے جب ایک شخص جسے ایمان کی نسبت روز اول سے ہی حاصل ہے، مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا،مسلم معاشرہ میں پلا بڑھا، وہیں تربیت پائی اور پھر وہ اسلامی شریعت پر انگلیاں اٹھاتا ہے۔ افسوس صد افسوس!

  ذراغور کیجئے، اللہ نے جو احکام ہمیں دئے ہیں ؛جھوٹ نہ بولو، کسی کی غیبت نہ کرو، آپسی عہد و پیماں کا پاس و لحاظ رکھو، کسی کے ساتھ دھوکہ دھڑی نہ کرو، امانت میں خیانت نہ کرو،کسی بے گناہ پر تہمتنہ لگاؤ، کسی کا قتل نہ کرو، کسی پر ظلم نہ ڈھاؤ، کسی کا مال ناحق طریقہ سے نہ کھاؤ، آپس میں گالی گلوج نہ کرو، ایک دوسرے کے عزت نفس کا خیال رکھو، والدین، رفیق حیات،قریبی رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے حقوق کا خصوصی خیال رکھو، عدل و انصاف کو قائم کرووغیرہ،  تو اگر سارے انسان ان احکام پر چلیں تو چین و سکون، آپسی اعتماد اور اتفاق و اتحاد سے لبریزجو معاشرہ وجود میں آئے گا اس سے نعوذ باللہ کیا اللہ کو کو نفع ہوگا یا اس سے انسان ہی مستفیض ہوگا اور یہ احکام اسی کے لئے رحمت قرار پائیں گے۔اور اگر اس کے برعکس ہو تو ظاہر ہے اس کا وبال بھی انسانوں پر ہی آئے گا۔اسی لئے قرآن نے صاف صاف اعلان کردیا ہے: (إِنْ أَحْسَنتُمْ أَحْسَنتُمْ لِأَنفُسِکُمْ وَإِنْ أَسَأْتُمْ فَلَہَا) ”اگر تم نیکی کرو گے تو اپنی جانوں کیلئے کرو گے اور اگر اعمال بد کرو گے تو (ان کا) وبال بھی تمہاری ہی جانوں پر ہو گا“۔ (سورۃ الإسراء:7)۔ اور ایک جگہ ارشاد ہے:(مَّنِ اھْتَدٰی فَإِنَّمَا یَہْتَدیْ لِنَفْسِہِ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْہَا وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی)” جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے لئے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اُسی کو ہو گا اور کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا“۔ (سورۃ الإسراء:15، نیز دیکھیں  سورۃ الزمر:41 اور الانعام:104)۔ اللہ کے احکام سے منہ موڑنے اور راہ ہدایت چھوڑ کر گمراہی اختیار کرنے کا وبال آخرت میں تو ہوگا ہی اس دنیا میں بھی اس کا کچھ نہ کچھ خمیازہ تو بھگتنا ہی پڑتا ہے جیسا کہ ابھی مسلمان ہندوستان ہی نہیں عالمی سطح پر انفرادی اور اجتماعی طور پر بھگت رہے ہیں لیکن انہیں ہوش نہیں آرہا ہے۔طلاق سے پیدا ہونے والے مسائل بھی اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کی دین ہیں خواہ اس کی وجہ شریعت سے لاعلمی ہو یانفس کی اتباع لیکن سب کا ٹھیکرا شریعت پر ہی پھوڑا جارہا ہے اور بجائے اپنی اصلاح کے شرعی قوانین میں ہی اصلاح کی تجویزیں پیش کی جارہی ہیں جبکہ حقیقت یہ کہ دیگر قوانین کی طرح طلاق کا شرعی قانون بھی اللہ کی حکمت سے پراور انسانی فطرت کے عین مطابق ہے اور بلاشبہ مومنوں کے لئے رحمت ہے۔

طلاق کے شرعی قوانین کا جائزہ لینے سے قبل میاں بیوی کے رشتہ کے سلسلہ میں جو قرآن و حدیث کا موقف ہے اس کی وضاحت بھی ضروری ہے تاکہ ان نام نہاد دانشوروں کو یہ سمجھ آئے کہ اس رشتہ کی نزاکتوں کو صرف وہی نہیں سمجھتے بلکہ اللہ اور اس کا رسولؐ بھی خوب سمجھتا ہے۔غور تو کیجئے کہ میاں بیوی کے درمیان محبت و الفت کا جو رشتہ ہوتا ہے وہ اپنے آپ میں کتنا انوکھا اور حیرت انگیز ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کی فطرت، مزاج، پسند ناپسند، عادت و اطوار اور فلسفہ حیات سے عمومی طور پر بالکل ناواقف دو انسان جب رشتہ ازدواج میں بندھ جاتے ہیں تو قدرتی طور پر ان دونوں کے درمیان محبت اور پیار کا جذبہ  کیسے موجزن ہوجاتا ہے اور دونوں دو قالب میں رہتے ہوئے بھی یک جان کیسے ہوجاتے ہیں ؟ اس کے پیچھے درحقیقت اللہ ہی کی قدرت کارفرما ہے اور اسی لئے اللہ نے قرآن میں اسے اپنی نشانیوں میں سے بتایا ہے اور اس پر اپنا احسان بھی جتایا ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے: (وَمِنْ آیَاتِہِ أَنْ خَلَقَ لَکُم مِّنْ أَنفُسِکُمْ أَزْوَاجاً لِّتَسْکُنُوا إِلَیْہَا وَجَعَلَ بَیْنَکُم مَّوَدَّۃً وَرَحْمَۃً إِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِّقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ)ترجمہ:”اس (اللہ) کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے تمہاری بیویوں کو تمہاری جنس کا بنا دیا تاکہ تم ان سے تسلی پاؤ، پھر تمہارے درمیان محبت اور پیار قائم کردیا۔سوچنے والوں کے لئے اس کے اندر بہت سی نشانیاں ہیں “۔ (الروم:21)۔میاں بیوی کے درمیان رشتہ کی قربت کو قرآن نے بہت ہی خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے:(ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّہُنَّ) ”وہ تمھارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو۔“ (البقرۃ:187)۔

مزید یہ کہ ا للہ پاک نے شوہر بیوی کے رشتہ کو اتنا پاک ٹھہرایا ہے کہ جنت میں جاتے وقت بھی اس کو الگ نہیں کرے گا بشرطیکہ دونوں ہی مومن ہوں ۔ان سے کہا جائے گا:(اُدْخُلُوا الْجَنَّۃَ أَنتُمْ وَأَزْوَاجُکُمْ تُحْبَرُونَ)”تم اور تمہاری بیویاں عزت (و احترام) کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ“۔ (سورۃ الزخرف:70)۔اس خوبصورت رشتہ کو دنیا میں بہتر طریقہ سے نبھانے کے لئے مرد و عورت دونوں کو ضروری ہدایت دئے گئے ہیں ۔قرآن نے مردوں کو یہ حکم دیا:(وَعَاشِرُوھُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِن کَرِھْتُمُوھُنَّ فَعَسَی أَن تَکْرَھُواْ شَیْئاً وَیَجْعَلَ اللّہُ فِیْہِ خَیْراً کَثِیْراً)”ان(عورتوں ) کے ساتھ بھلے طریقہ سے زندگی بسر کرو، اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمھیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اسی میں بہت سی بھلائی (منفعت) رکھ دی ہو۔ (النسآء: 19)۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے بھی ارشاد فرمایا:”لَا یَفْرَکْ مُؤْمِنٌ مُؤْ مِنَۃً اِنْ کَرِہَ مِنْھَا خُلُقاً رَضِیَ مِنْھَا آخَرَ أَوْ قَالَ غَیْرَہُ“ یعنی  ”کوئی مومن مرد کسی مومنہ عورت سے بغض نہ رکھے، اگر کوئی ایک عادت اس کی ناپسند یدہ ہو گی تو دوسری پسندیدہ بھی ہوگی یا اس کے علاوہ اور کچھ فرمایا“۔(صحیح مسلم، کتاب الرضاع، باب الوصیّۃ با لنساء،  بروایت ابوہریرہؓ)۔کیا اللہ اور رسولؐ کے ان ارشادات میں یہ ترغیب نہیں ملتی کہ حتی الامکان رشتہ ازدواج کو نبھانا چاہے۔نیز جناب رسول ﷺ نے مردوں کو جہاں یہ کہا  ”أَکْمَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ اِیْمَانَاً أَحْسَنُھُمْ خُلُقًا، وَ خِیَارُکُمْ خِیَارُکُمْ لِنِسَآءِھِمْ“ یعنی ”سب مومنوں میں کامل تر ایمان میں وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہوں اور سب میں بہتر وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے حق میں بہتر ہوں ۔“ (سنن ترمذی،ابواب الرضاع، باب ماجآء فی حقّ المرأۃ علٰی زوجھا، بروایت ابوہریرہؓ)،  وہیں عورتوں کو یہ کہا ”لَوْ کُنْتُ آمِراً أَحَدًا أَنْ یَّسْجُدَ لِأَحَدٍ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَۃَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِھَا“ یعنی ”اگر میں حکم کرتا کسی کو کسی کے سجدہ کرنے کا تو حکم کرتا عورت کو کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے“۔(سنن ترمذی، ابواب الرضاع،باب ماجآء فی حقّ الزّوج علی المرأۃ، بروایت ابوہریرہؓ)۔

لیکن ان سب کے باوجود اللہ رب العزت کی علیم و حکیم ذات کو یہ بھی معلوم تھا (اور بھلا وہ ہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے) کہ مسئلہ کفو کی تمام تر رعایت کے باوجود فطرت، مزاج، پسند ناپسند، عادت و اطوار اور فلسفہ حیات کا یہ اختلاف کبھی ایسی صورت بھی اختیار کرسکتاہے جس میں میاں بیوی کے درمیان ہم آہنگی، تطابق و تفاوق کی کوئی صورت نہ رہے اور آپسی سمجھوتے کی تمام راہیں مسدود ہوجائیں تو اس صورت میں دونوں کی ہی زندگی کے اجیرن ہونے کا خدشہ ہے اور انسان کے پاس ایک دوسرے سے نجات یا چھٹکارے کا کوئی جائز طریقہ نہ ہوگا تو وہ اس کے لئے ناجائز اور غیر پسندیدہ طریقے کی طرف مائل ہوگا بلکہ اپنائے گا جیسا کہ ہمارے برادران وطن کے معاشرے میں خوب رائج ہے اور جس کا اثر اب مسلم معاشرے پر بھی پڑنے لگا ہے۔وہ یہ ہے کہ جو تدبیر میں غالب آجاتا ہے دوسرے کی جان لے کر ہی اس سے چھٹکارا حاصل کرلیتا ہے۔ صنف نازک پر یہ مظالم زیادہ ڈھائے جاتے ہیں لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ مرد اس طرح کے مظالم کا شکار نہیں ہیں ۔اب تو آئے دن اس طرح کی خبریں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں کہ بیوی نے ہی جرائم پیشوں یا اپنے شناساؤں کا سہارا لیکر شوہر کو قتل کرادیا اور بہت سی خبریں تو ایسی بھی نظر وں سے گذریں جس میں انتہا کو پہنچ جانے والا یہ قدم خود بیوی نے اٹھایا۔بہر صورت ایک کی زندگی تو یوں ختم ہوجاتی ہے اور دوسرے کی قانونی شکنجہ میں پھنس کر اور معاملہ صرف ان دونوں تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ ان کے چکر میں دو خاندان تباہ و برباد ہوجاتا ہے۔ اس قسم کے حالات کا سامنا ہونے سے بچنے کے لئے اللہ رب العزت نے اپنی حکمت کاملہ سے اپنے بندوں کو طلاق اور اپنی بندیوں کو خلع کے استعمال کا حق دیا کہ ایک دوسرے کی جان کے درپے ہونے کے بجائے حسن و خوبی سے علاحدگی اختیار کرلیں اور دوسرا نکاح کرکے نئی زندگی کا آغاز کریں ۔

گویا کہ طلاق و خلع ازدواجی زندگی کے نہ سلجھ سکنے والے بڑے اختلاف کا حل ہے جب کہ طرفین کو یہ لگنے لگے کہ اب وہ ایک دوسرے کے حقوق کو اسلامی طریقہ پر ادا نہیں کر پائیں گے اور ان کی دنیوی زندگی کے ساتھ ساتھ اخروی زندگی بھی داؤ پر لگ جائے گی۔جن اقوام کے معاشرتی قوانین میں یہ حل موجود نہیں ان کے یہاں عورتیں یا تو جلائی جارہی ہیں یا ہمیشہ کے لئےچھوڑ دی جاتی ہیں جنہیں نہ تو دوسری شادی کی ہی اجازت ہوتی ہے نہ ہی ان کی ضروریات کا کوئی خیال رکھنے والا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں ان کی زندگی جہنم زار بن جاتی ہے اورنہ جانے کتنی برائیوں کا دروازہ کھل جاتا ہے جس میں جسم فروشی بھی شامل ہے۔اسلام نے کم از کم ایسا نہیں کیا بلکہ دونوں کے ہی جذبات،خواہشات اور ضروریات کا پورا خیال رکھا۔مطلقہ اور بیوہ عورتوں کی دوسری شادی کی نہ صرف اجازت دی گئی بلکہ اسے پسندیدہ قرار دیا گیا کہ سماج میں کوئی بھی بالغ بے نکاح نہ رہے (وَ اَنْکِحُوا الْاَیَامٰی مِنْکُمْ۔۔۔الآیہ:النور:32 ) اور اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ مطلقہ اور بیوہ کی دوسری شادی پہلی کے مقابلہ میں زیادہ کامیاب ہوتی ہے۔ لیکن ہم لوگوں پر ہندو تہذیب کا اس قدر اثر ہے کہ طلاق کو بالکل انہونی سمجھتے ہیں اور اس سے متعلق معاملات کو شرعی طریقے سے حل کرنے کے بجائے صرف اپنی انا کی تسکین کی خاطر غیر شرعی طریقوں سے ملکی عدالتوں کے ذریعہ کرناچاہتے ہیں جہاں ذلت و رسوئی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا اور بعض اوقات معاملہ کو اسی مقام پر پہنچادیتے ہیں جس سے بچنے کے لئے اللہ رب العزت نے طلاق و خلع کی گنجائش رکھی ہے۔اس طرح ایک چیز جو بڑی مشکلات سے نجات کا ذریعہ ہوسکتی ہے غیر شرعی طریقے کو اپنا کر زحمت بنالی جاتی ہے۔

 اب کوئی دانشور ہمیں یہ سمجھائے کہ وہ قانون عورتوں کے لئے رحمت ہے جس میں اسے آزاد کرکے نئی زندگی جینے کا حق دیا گیا ہو یا وہ جس میں یا تو اس کی جان ہی لے لی جائے یا اسے ادھڑ میں لٹکا کر پوری زندگی گھٹ گھٹ کر جینے پر مجبور کردیا جائے۔دوسری چیز یہ بھی سمجھنے کی ہے کہ قرآن نے یک لخت طلاق کا استعمال کرنے کاطریقہ نہیں سکھایا بلکہ اس سے پہلے چار طرح کی حکمت عملی اپنانے کا مردوں کو حکم دیاہے۔نرمی سے سمجھانا، اگر اس سے کام نہ بنے تو بستر الگ کردینا، پھر اگر ان دونوں شریفانہ سزاؤں سے بھی کسی کی اصلاح نہ ہو تو ہلکی مار مارنے کی بھی گنجائش رکھی گئی لیکن احادیث سے چہرے پر مارنے کی اجازت نہیں نہ ہی ایسی مار مارنے کی اجازت ہے جس سے بدن پر نشانات آجائیں یا زخم لگنے اور ہڈی ٹوٹنے کی نوبت آجائے۔اصلاح کی مذکورہ بالا تینوں تدابیر اختیار کرنے سے عورت اگر اپنے رویہ میں تبدیلی لے آئے اور فرمانبرداری اختیار کرلے تو معاملہ کو وہیں ختم کر دینے کاحکم ہے۔لیکن اگر اس کے بعد بھی مصالحت اور اصلاح نہ ہو تو چوتھی تدبیر یہ اختیار کرنے کو کہا گیا ہے کہ ایک حکم مرد کے خاندان سے اور ایک حکم عورت کے خاندان سے مقرر کئے جائیں جو زوجین کے حالات کی تحقیق کریں اور معاملات کو طے کر کے باہمی مصالحت کی صوررت پیدا کریں ۔

اللہ رب العزت نے یہ بھی امید دلایا ہے کہ وہ دونوں اگر مخلص ہوں گے اور زوجین کے درمیان صلح کرادینا چاہیں گے تو اللہ ضرور ان میں موافقت پیدا کردے گا۔یہ ساری باتیں قرآن کی ان آیات سے ماخوذ ہیں :(وَاللاَّتِیْ تَخَافُونَ نُشُوزَھُنَّ فَعِظُوھُنَّ وَاھْجُرُوھُنَّ فِیْ الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوھُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَکُمْ فَلاَ تَبْغُواْ عَلَیْہِنَّ سَبِیْلاً إِنَّ اللّہَ کَانَ عَلِیّاً کَبِیْراً٭ وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِہِمَا فَابْعَثُواْ حَکَماً مِّنْ أَھْلِہِ وَحَکَماً مِّنْ اَھْلِہَا إِن یُرِیْدَا إِصْلاَحاً یُوَفِّقِ اللّہُ بَیْنَہُمَا إِنَّ اللّہَ کَانَ عَلِیْماً خَبِیْراً)”اور جن عورتوں کی نسبت تمہیں معلوم ہو کہ سرکشی (اور بدخوئی) کرنے لگی ہیں تو (پہلے) اُن کو (زبانی) سمجھاؤ (اگر نہ سمجھیں تو) پھر اُن کے  ساتھ سونا ترک کر دو۔ اگر اس پر بھی باز نہ آئیں تو زد و کوب کرو اور اگر فرمانبردار ہو جائیں تو پھر اُن کو ایذا دینے کا کوئی بہانہ مت ڈھونڈو بیشک اللہ تعالیٰ سب سے اعلیٰ (اور) جلیل القدر ہے۔ اور اگر تمہیں معلوم ہو کہ میاں بیوی میں اَن بن ہے تو ایک منصف مرد کے خاندان میں سے اور ایک منصف عورت کے خاندان میں سے مقرر کرو۔ وہ اگر صلح کرا دینی چاہیں گے تو اللہ اُن میں موافقت پیدا کر دے گا۔ کچھ شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا اور سب باتوں سے خبردار ہے“۔ (النسآء:34-35)۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ڈاکٹر محمد واسع ظفر

مضمون نگار پٹنہ یونیورسٹی پٹنہ کے شعبہ تعلیم کے سابق صدر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close