طلبہ کا ردّعمل کیا اشارہ دے رہا ہے!

محمد آصف اقبال

 نوجوان کسی بھی ملک و قوم کا حقیقی سرمایہ اور اثاثہ ہوتے ہیں۔قوموں کی تاریخ میں نوجوان نسل کا کردار نہ صرف مثالی رہا ہے بلکہ ملکوں کی ترقی میں نوجوان ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جنھیں معماران قوم کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ نوجوانوں کو ہی آگے چل کر ملک و قوم کی باگ ڈور سنبھالنا ہوتی ہے۔ اس لیے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت اور کردار سازی سب سے زیادہ توجہ طلب ہوتی ہے تاکہ مستقبل میں وہ ملک و قوم کی بہتر انداز میں خدمت اور راہنمائی کر سکیں۔نوجوانوں میں احساسِ زمہ داری ہی معاشرے کی ترقی میں بنیادی حیثیت کا حامل ہوتا ہے۔ کامیابی ان اقوام کا مقدر ہوتی ہے جن کے نوجوان مشکلات سے گھبرانے کے بجائے دلیری سے مقابلہ کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ کامرانی ان اقوام کی قدم بوسی کرتی ہے جن کے نوجوان طوفانوں سے ٹکرانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ خوش حالی ان اقوام کے گلے لگ جاتی ہے جن کے نوجوانوں کے عزائم آسمان کو چھوتے ہیں۔ ترقی ان اقوام کا طواف کرتی ہے جن کے نوجوانوں میں آگے بڑھنے کی لگن اور تڑپ ہوتی ہے۔ سرخروئی ان اقوام کو نصیب ہوتی ہے جن کے نوجوان محنت میں عظمت کا راز پا لیتے ہیں۔ وہ اقوام آگے بڑھتی ہیں جن کے نوجوان جہد مسلسل کو اپنا شعار بنا لیتے ہیں۔یہی وہ خصوصیات ہیں جن کی بنا پر ہر زمانے میں نظریہ فکرو عمل کے ہمنوائوں نے نوجوانوں کو منظم کیا ہے اور یہ طریقہ آج بھی رائج ہے۔

 دنیا کے تمام ممالک میں طلبہ یونینس ،تنظیمیں ،انجمنیں اور سوسائٹیاں نوجوانواں کی موجود ہیں جن کے ذریعہ مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے مختلف اقوام وگروہ سرگرم عمل ہیں۔نیز  نوجوانوں کے طرز عمل سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ بدلتے حالات میں وہ کس چیز کو تسلیم کرنے کے قائل ہیں اور کس کو ردّ کرنا چاہتے ہیں۔ہندوستان میں بھی ہر نظریہ فکر وعمل سے وابستہ گروہوں نے اپنی طلبہ تنظیمیں قائم کی ہیں جو چاہتی ہے کہ نہ صرف آج ان کا نظریہ قبول عام ہو بلکہ مستقبل قریب میں ان کے نظریہ کو مزید استحکام حاصل ہو۔اس کے لیے لازم ہے کہ طلبہ اور نوجوانوں کو منظم کیا جائے۔ویسے بھی طلبہ میں کام کی دوبنیادی وجوہات ہیں۔ایک)طلبہ مخلص ہوتے ہیں،سچے ہوتے ہیں، وعدے کے پکے ہوتے ہیں، چھل کپٹ ان میں نہیں ہوتا،وہ جس نظریہ کو صحیح سمجھتے ہیں اس کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔دو)وہ حالات کے پیش نظر مفاہمت کا رویہ اختیار نہیں کرتے، مصلحت پسندی کے وہ کم قائل ہوتے ہیں،عہدوں کے لالچ میں نظریہ کے قربانی نہیں دیتے،ان کو خریدنا،ڈرانا ،دھمکانا مشکل ہوتا ہے اور وہ جس کام میں بھی لگتے ہیں یکسوئی کے ساتھ سرگرم عمل رہتے ہیں۔برخلاف اس کے عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ انسان میں مصلحت پسندی بھی بڑھتی جاتی ہے،کمزوری بھی آتی ہے،عہدے کے لالچ میں بھی وہ گھرتا جاتا ہے اور قربانی کا جذبہ بھی کمزور ہوجاتا ہے۔

ہندوستان میں فی الوقت ملکی سطح کی تقریباً26طلبہ تنظیمیں موجود ہیں وہیں ریاستی سطح کی طلبہ تنظیمیں اور دیگر ایشوز سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کی بھی ایک بڑی تعداد موجودہے۔ان 26ملکی سطح کی طلبہ تنظیموں میں NSUI۔SFI۔ABVP۔BSSF۔RSU۔SIO۔SOIاورTCPوغیرہ قابل ذکر ہیں۔ان تنظیموں سے وابستہ طلبہ کے علاوہ ایک بہت بڑی تعداد طلبہ و نوجوانوں کی ایسی بھی موجود ہے جو کسی مخصوص طلبہ تنظیم ونظریہ سے وابستہ نہیں  ہے۔ان دوطرح کے طلبہ و نوجوانوں کی سوچ کو جاننااور سمجھنا بہت ضروری ہے اسی کی بناپر صحیح انداز میں یہ فیصلہ کیا  جاسکتا ہے کہ موجودہ وقت میں ملک کا مستبقل کس کو  تسلیم کر رہا ہے اور کس کو ردّکرنا چاہتا ہے۔اس بات کو سمجھنے کے لیے عموماً ایک آسان ذریعہ کالجز اور یونی ورسٹیز میں طلبہ یونین انتخابات ہیںجس کے ذریعہ نہ صرف طلبہ کے مزاج کو بلکہ ایک خاص وقت اور مقام پر ملک کی کل پسند یا نا پسند کو بھی آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔

 ہندوستان میں گزشتہ لوک سبھا الیکشن 2014میں ہوئے تھے۔جس میں آر ایس ایس کی سیاسی پارٹی بی جے پی کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ساتھ ہی کانگریس جو گزشتہ دس سالوں سے برسراقتدار تھی اس کو عوام نے ووٹ کی طاقت کی بنا پر ردّ کیا تھا۔چونکہ بی جے پی کو کل 33فیصد ووٹ ملا تھا اور اس میں بھی 55سے 60فیصد ووٹروں نے ہی ووٹنگ کی تھی دوسری جانب 40تا45فیصد لوگوں نے ووٹنگ نہیں کی تھی۔ اس لحاظ سے بی جے پی کی یہ بڑی کامیابی صرف 20تا 25فیصد تک ہی محدود ہے ۔اس کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ 75یا80فیصد لوگ بی جے پی کے حق میں نہیں تھے۔اس کے باوجود میڈیا کے ذریعہ اس کامیابی کو جس قدر بڑا کرکے دکھایا گیا وہ درست نہیں ہے۔نیز گزشتہ ایک سال یا اس سے زائد عرصہ میں برسراقتدار حکومت پر میڈیا کے ایک بڑے حصے کو خریدنے کے الزام لگتے رہے ہیں،جہاںحکومت کے ہر عمل کو صحیح ثابت کرنے کی پالیسی اختیار کی گئی ہے وہ بھی درست نہیں ہے۔وہیں دوسری جانب واقعہ یہ ہے کہ ملک کے حالات گزشتہ چند سالوں میں بد سے بدترہوئے ہیں۔انسانی جان کی وقعت گھٹادی گئی ہے،معیشت کمزورہوئی ہے،سماجی سطح پر انتشار بڑھاہے،نفرتیں فروغ پا رہی ہیں اور امن و انسانیت کو خطرہ لاحق ہے۔اور ان حالات کو نہ صرف ہر سوچنے سمجھے والا طبقہ محصوص کر رہا ہے بلکہ اس کا اظہار بھی جاری  ہے۔اس پس منظر میں طلبہ و نوجوان کیا سوچتے ہیں،وہ کیا دیکھ رہے ہیں،کسے پسند کر رہے ہیں اور کس کو نا پسند کرتے ہیں،اسکا اظہار ہونا بھی شروع ہو گیا ہے ۔سال رواں 2017میں ملک کی مختلف یونی ورسٹیز میں طلبہ یونین انتخابات اور ان کے نتائج نے ثابت کر دیا ہے کہ نوجوان موجود ہ حکومت کی پالیسیوں اور طرز عمل سے خوش نہیں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ملک کی سب سے بڑی یونی ورسٹی دہلی یونی ورسٹی کے طلبہ یونین انتخابات میں ABVPکو بڑی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ۔

وہیں دہلی میں قائم جواہر لعل نہرو یونی ورسٹی کے طلبہ نونین انتخابات کے نتائج نے بھی یہ ثابت کیاہے کہ طلبہ چاہے وہ کسی بھی نظریہ سے تعلق رکھتے ہوں موجودہ حکومت کے اقدامات سے خوش نہیں ہیں۔یونی ورسٹی آف حیدرآباد میں بھی ABVPکو ناکامی کا سامنا ہوااور الائنس فار سوشل جسٹسASJکو طلبہ نے پسند کامیابی سے ہمکنا کیا۔پنجاب یونی ورسٹی میں NSUIکامیاب ہوئی تو وہیں الہ آباد یونی ورسٹی ،اترپردیش میں سماج وادی چھاتر سبھاSCSکو کامیابی حاصل ہوئی۔یہ صحیح ہے کہ راجستھان کے مختلف کالجز میں ABVPکو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔اس کے باوجود سال 2017میں ہونے والے طلبہ یونین انتخابات میں BJPاوراس سے منسلک ABVPکو عام طلبہ نے ردّکیا ہے۔فی الوقت گجرات میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ان حالات میں گجرات سنٹرل یونی ورسٹی انتخابات کے نتائج میں ABVPکو شکست حاصل ہونا معمولی بات نہیں ہے۔ABVPکی اس ناکامی نے ثابت کر دیا ہے کہ گجرات الیکشن میں بی جے پی کو بڑا خطرہ لاحق ہے۔گجرات یہ وہی ریاست ہیجسے بی جے پی کا گڑھ سمجھا جاتا رہاہے۔

اسی ریاست سے ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کا تعلق ہے،جہاں میڈیا کے ذریعہ گڈ گورننس کے نعرے بلند ہوتے رہے ہیں،اور جس ریاست کے تعلق سے کہا گیا تھا کہ اب وہاں کوئی سیاسی پارٹی حکومت حاصل نہیں کر سکتی کیونکہ بی جے پی کی گڈ گورننس اور نریندر مودی کے گزشتہ حکومتوں نے گجراتیوں کے دل موہلیے ہیں۔لیکن واقعہ یہ ہے کہ جس طرح ملک میں برسراقتدار حکومت میڈیا کے ذریعہ ہی زندہ ہے ٹھیک اسی طرح گجرات میں بھی گزشتہ سالوں میں یہی ہوتا آیا ہے۔ لیکن محسوس ایسا ہوتا ہے کہ اب وقت بدل رہا ہے۔نوجوان طبقہ اور ریاست کے دیگر افرادوگروہ حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں۔ایک پلیٹ فارم بی جے پی خلاف منظم ہو چکا ہے۔ جس میں دلت بھی ہیں،پٹیل برادری بھی ہے، دیگر پسماندہ طبقات بھی ہیں اور عام شہری بھی ۔وہیں گجرات سنٹرل یونی ورسٹی کے یونین نتائج نے ایک اشارہ تو واضح طور پر دے دیا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ای وی ایم مشین کیا کردار ادا کرتی ہے؟ نیز گجراتی لوگ اسمبلی الیکشن میں کس پارٹی کو کامیابی کا سہرا پہناتے ہیں !



⋆ آصف اقبال

آصف اقبال

آصف اقبال دہلی کے معروف کالم نگار ہیں۔ بنیادی طور پر آپ سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔ آپ کی نگارشات برصغیر کے مؤقر جریدوں اور روزناموں میں شائع ہوتی ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

نظریات کی جنگ خواہش سے پوری نہیں ہو سکتی!

ان حالات میں وقت کی آواز یہی ہے کہ جو لوگ مکھوٹا لگاکر جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ ثابت کر رہے ہیں، ان کی اصل شکل واضح کی جائے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ افرد اورگروہ جونظام عدل و انصاف کے قیام کا نعرہ بلند کر تے ہیں قبل از وقت خود انفرادی و اجتماعی ہردو سطح پر وہ نمونہ پیش کریں جس کے وہ خواہش مند نظر آتے ہیں !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے