ہندوستان

عدلیہ میں کہرام : اب اس کے بعد جو رستہ ہے وہ ڈھلان کا ہے

ڈاکٹر سلیم خان

مودی سرکار نے اسلامی شریعت اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے عدلیہ کو ہتھیار بنایا لیکن مشیت نے عدالت کے اندر ایسا زلزلہ برپا کردیا کہ حکومت کی چولیں ہل گئیں ۔ مودی جی کو  یہ کہنے کا بڑاشوق ہے کہ( ان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد)  پہلی بار یہ ہوا اور وہ ہوا لیکن اس میں شک نہیں کہ ہندوستان کی تاریخ میں سپریم کورٹ کے چارمعمر ترین ججوں نے پہلی بار ایک پریس کانفرنس کرکے حکومت اور اس کے نامزد کردہ چیف جسٹس کا وستر ہرن کردیا۔ ایسی کھری کھری سنائی کہ جو اپنی مثال آپ ہے۔ اس کے جواب میں چیف جسٹس مشرا جی کی زبان پر تالہ پڑ گیا اور حکومت یہ کہہ کر میدان سے بھاگ کھڑی ہوئی کہ یہ عدلیہ کا داخلی معاملہ ہے اور وہ اس معاملے میں دخل اندازی کرنا نہیں چاہتی۔

 مسلمانوں کے ہر پھٹے میں ٹانگ ڈالنے والی حکومت سے یہ کہا نہیں جاتا کہ یہ مسلمانوں کی شریعت کا معاملہ ہے۔ دستور ہمیں اس میں دخل اندازی کی اجازت نہیں دیتا اس لیے ہم اس میں پڑنا نہیں چاہتے۔ وہاں تو  عشرت جہاں جیسی عورت کوجو بغیر بتائے اپنے چار بچوں کو چھوڑ کر رفو چکر ہوگئی ابلہ ناری کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس کو اپنی پارٹی میں لے کر پذیرائی کی جاتی ہے۔ اس کے ذریعہ سے دھمکایا جاتا ہے کہ اب تعدد ازدواج کے خلاف بھی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا۔ وطن عزیز میں اس طرح کے قوانین کی پاسداری کتنی ہوتی ہے اس کے شاہد وہ  اعدادوشمار ہیں کہ  ہندووں پر پابندی کے باوجود ان میں تعدد ازدواج کا تناسب مسلمانوں سے زیادہ ہے اور ابھی پچھلے ہفتہ ایک ایسا  ہندوپولس والا پکڑا گیا جس کی سات عدد بیویاں تھیں ۔ خیر اگر وشوہندو پریشد کے وہ ہتھے چڑھ جائے تو وہ اس کو دیوتا مان لیں اس لیے کہ ان سے ایک زوجہ بھی نہیں سنبھلتی۔

جسٹس دیپک مشرا کے خلاف جتنے بھی الزام لگے وہ سب حکومت پر لگتے ہیں اس لیے کہ مشراجی حکومت کے منظور نظر ہیں ۔ وہ آئے دن حکومت کے موقف کی تائید کرتے رہتے ہیں ۔ امتیاز و تفریق اس حکومت کی پہچان ہے۔ اس میں صلاحیت و قابلیت کے مقابلے  مودی جی سے وفاداری کی بنیاد پر سارے تقررات ہوتے ہیں ۔ جن لوگوں کو مودی جی ناپسند کرتے ہوں انہیں اڈوانی جی کی مانند کوڑے دان کی نذر کردیا جاتا ہے۔ مشرا جی اہم قضیات اپنے چاپلوس اور جونیر ججوں کی بنچ کے حوالے کرتے ہیں یہ بھی مودی حکومت کا شعار ہے۔ اس کی سب سے تازہ مثال جسٹس لویا کی موت کا مقدمہ ہے جس میں ساری روایات کو بالائے طاق رکھ کر دو نہایت کمزور اور نامعلوم ججوں کی بنچ کے حوالے کردیا گیا۔اس  بھید بھاو کی  بنیادی وجہ  یہ تھی کہ جسٹس لویاکی موت کے وقت  وہ امیت شاہ کے مقدمہ  کی سماعت کررہے تھے اور ان کی  پراسرارموت ناگپور میں ہوئی جو آرایس ایس کا گڑھ ہے اور اس کو رفع دفع کرنے میں ایک آرایس ایس کے کارکن پیش پیش تھا۔ جس جج نے انہیں رشوت کا آفر دیا تھا وہ گجراتی ہے اور کون نہیں جانتا کہ شاہ جی اور مودی جی بھی گجرات کے رہنے والے ہیں ایسے شک کی سوئی اگر کمل کی جانب مڑ جاتی ہے تو اس میں کیا غلط ہے؟

جسٹس دیپک مشرا اور موجودہ حکومت میں ایک قدر مشترک ان کا بدعنوان ہونا ہے اور دوسرا مودی جی کی مانند بڑی بڑی باتیں کرنا  ’ نہ کھاوں گا اور نہ کھانے دوں گا‘۔ یہ رام نام جپنا اور پرایا مال اپنا والی ترکیب میں   دیپک مشرا  بھی ماہر ہیں ۔ انہوں نے اپنے ایک فیصلے میں لکھا تھا کہ ’’جمہوری سیاست،  اپنے اعلیٰ ترین مفہوم میں بدعنوانی کے تصور سے پاک ہے۔ خاص طور پر اعلیٰ عہدوں کا کرپشن ‘‘ لیکن وہ  خود بدعنوانی کے الزام کی زد میں ہیں ۔ ؁۱۹۷۹ میں دوایکڑ سرکاری زرعی   زمین حاصل کرنے کے لیے انہوں ایک حلف نامہ داخل کیا اور اعتراف کیا میں براہمن ہوں اور میرے پاس کوئی زمین نہیں ہے۔ یہ زمین ان سے واپس لے لی گئی اس لیے اس کا حقدار وہی ہوسکتا تھا جس کی زراعت کے علاوہ کوئی دوسرا ذریعہ آمدنی نہ ہو۔

اروناچل پردیش کے سابق وزیراعلیٰ کالکھو پل نے خودکشی سے قبل اپنی وصیت میں جن لوگوں پر بدعنوانی کا الزام لگایا تھا ان میں بھی دیپک مشرا کا نام نامی بھی شامل ہے۔گزشتہ ستمبر میں مرکزی تفتیشی  ادارہ (سی بی آئی ) نے بدعنوانی کے معاملہ میں اڑیسہ ہائی کورٹ کے ایک سابق جج سمیت پانچ افراد کو گرفتار کیا تھا۔ آئی ایم قدوسی  پر وشوناتھ  اگروال کی مدد سے سپریم کورٹ سے ۴۶ میڈیکل کالجوں میں نامزدگی پر لگی پابندی سے راحت دلانے کی سازش کا الزام ہے۔ اس معاملے کی سماعت مشرا جی کررہے تھے  اوران کی  غیر معمولی  دلچسپی شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے۔  اس معاملے میں درخواست گزار کے  وکیل شانتی بھوشن نے کہا کہ جسٹس کھانویلکر کو یہ کیس نہیں سننا چاہئے کیونکہ وہ بھی میڈیکل کالج کے فیصلے میں شامل تھے۔ اس معاملے میں عدالت نے اپنے حکم نامے میں یہ کہا کہ سینئر وکیل  شانتی بھوشن نے غیر مصدقہ اور بلا  ثبوت الزام تراشی کی ہے جو ایک عظیم ادارے پر شبہ کا اظہار ہے۔سہ رکنی بنچ نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کی سینئر وکیل نے حقائق کی بنیادی تصدیق کے بغیر چیف جسٹس آف انڈیا کے خلاف غیر ذمہ دارانہ الزامات عائد کئے ہیں ۔ شانتی بھوشن اور ان جیسے دلیر وکلاء کی حوصلہ شکنی کے لیے ان پر کئی لاکھ کا جرمانہ لگا یا گیا۔ یہ ایسی ہی حرکت ہے جیسی کہ امیت شاہ نے اپنے بدعنوان بیٹے کو بچانے اور دی وائر کو ڈرانے کے لیے اختیار کی ہیں ۔ اس لحاظ سے جسٹس دیپک مشرا اور موجودہ حکومت رام ملائی جوڑی اور ان دونوں کا انجام یکساں ہے۔  اس لوگوں کی حالت  زار پر یہ شعر صادق آتا ہے کہ ؎

بلندیوں کا سفر ختم ہوچکا یارو

 اب اس کے بعد جو رستہ ہے وہ ڈھلان کا ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

ایک تبصرہ

  1. ماشاءاللہ دل کش ھوا، یہ سجی کھا
    اب اس کے بعد جو رستہ ہے وہ ڈھلان کا ہے

    شکریہ

Close