ہندوستان

عدلیہ کے تئیں یہ منفی رویہ کیا ظاہر کرتا ہے؟

عدالتی فیصلے کودرکنار کرکے بزور قوت  اپنی بات منوانے  کی کوشش کرنے کی یہ پہلی مثال نہیں ہے

گلزارصحرائی

’’سبریمالا مندر میں ہر عمر کی خواتین کے داخل  ہونے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر بی جے پی کو اگر اعتراض ہے تو اس کے لیے اس کے لیڈروں کو سڑکوں پر تانڈو کرنے، تشدد برپاکرنے اور کیرالہ کی منتخبہ حکومت کو  کالعدم کرنے  کی دھمکی دینے کا غلط رویہ اختیار کرنے کے بجائے صحیح طورسے  اس کا مناسب حل ڈھونڈنے کی کوشش کرنی چاہیے۔مرکزکی حکمراں پارٹی ہونے کی حیثیت  سے اس معاملے میں بی جے پی کا اس  قسم کا غصہ اور رویہ نہ تو مناسب ہے اور نہ قانوناً درست ہے۔‘‘یہ تبصرہ ہے بی جے پی کی سربراہ مایاوتی کا جو انھوں نے بی جے پی  صدر امیت شاہ کے اس بیان پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کیاہے جس میں مسٹر شاہ نے کہا تھا  کہ ’’عدالت کو ایسے فیصلے نہیں سنانے  چاہئیں جن پر عمل نہ ہوسکے اور جو آستھا سے  جڑے  ہوں۔‘‘ مسٹر شاہ کے اس بیان کی ہرطرف مذمت ہورہی ہےاور دیگر سیاسی لیڈروں کی جانب سےبھی انھیں  تنقید کا نشانہ بنایا گیاہے، لیکن سب سے درست اوربھرپور تبصرہ مس مایاوتی کاہے۔

سچ پوچھیے تو ہونا بھی یہی چاہیے تھاکہ دھرم سے متعلق  اس معاملے کو  افہام وتفہیم کے ذریعے حل کیا جاتا،اور دھارمک اصولوں کے ذریعے کوئی ایسی راہ نکالی جاتی  جو سب کے لیے قابل قبول ہوتی۔آخر جو خواتین مندر  میں داخل ہونے  کی خواہش مند ہیں ، وہ کوئی’ ناستک‘ یا’ ملیچھ‘ تو ہیں نہیں ، بلکہ ان کی اپنی ہم مذہب ہیں اور مذہبی جذبے   کے  تحت ہی مندر میں  داخلے کی  خواہش رکھتی ہیں،پھر انھیں ان کے اس مذہبی حق سے محروم کیوں رکھاجارہاہے؟آخر انھیں بھی تو’مسلم خواتین‘ کی طرح مساوی حقوق حاصل  ہونے  چاہئیں اور  انھیں روکنے والے مردوں کو کم سے کم’ تین سال کی قید‘ کا التزام ہونا چاہیےتھا،مگرایسا اس لیے  نہیں ہوسکتاکیوں کہ  وہ ’مسلم خواتین‘ نہیں  ہیں، اور بی جے پی یا مودی سرکار  کوتو صرف ’مسلم خواتین ‘ کی فکر ستاتی ہے۔’مسلم بہنوں  ‘ کے ’درد‘ کو  محسوس کرکے انھیں مساوی حقوق دلانے کا عہد کرنےوالے مودی جی بھی ہندوبہنوں کے حقوق کی بات آتے ہی چپی  سادھ لیتے ہیں۔چلیے، مساوی حقوق تسلیم نہ بھی کیے جاتے تو کم ازکم مذہبی کتب کے حوالوں سے اور مدلل انداز میں اس امتیاز اورامتناع کی وجہ تو بتا دی جاتی،جس سے وہ خواتین مطمئن ہوجاتیں، مگر یہاں تو نہ صنفی مساوات کی بات ہے، نہ کوئی عقلی اورنقلی دلیل، بس وہی ہر مرض کی ایک ہی دوا کے طورپر ’آستھا‘  کے نام پر چپ کرانے کی کوشش کی جارہی ہےاور اس کے لیے دھونس ودھمکیوں سے کام لیا جارہاہے،حتیٰ کہ ان دھمکیوں  کی زداب عدلیہ پربھی پڑنے لگی ہے۔

ویسے عدالتی فیصلے کو تسلیم نہ کرنے  اور دھونس ودھمکیوں سے اپنی بات منوانے  کی کوشش کرنے کی یہ پہلی مثال نہیں ہے۔سبھی جانتے ہیں  کہ دیش بھکتی کے تمام تر دعووں کے باوجود ملک کے نظام  عدل سے کھلم کھلا بغاوت کا اظہار بی جے پی لیڈروں کا وتیرہ رہا ہے۔بابری مسجد مقدمہ اس  کی واضح مثال ہے، جس میں شروع ہی سے عدالتی فیصلوں کو نظرانداز کرکے من مانی کا رویہ اختیار کیا گیا۔چوری چھپی مورتیاں رکھنے ،پھر حکومت پر دباؤ بناکر  تالا کھلوانے سے لے کر اب تک کا رویہ یہی ظاہر کرتاہے۔ اب جبکہ اس معاملے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے والا  ہے،تب بھی وقتاً فوقتاً الگ سےقانون بناکر مندر کی تعمیر کی راہ ہموار کرنے کی بات سامنے آتی رہتی ہے۔سبریمالا مندر کے تعلق سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر امیت شاہ کا نازیبا تبصرہ بابری مسجد معاملے کی طرف بھی اشارہ کر رہا ہے اوراسے درپردہ اس فیصلےپراثرانداز ہونے کی ایک کوشش بھی کہا  جا سکتاہے۔دلچسپ بات  یہ  ہے کہ ایک طرف تویہ دعویٰ کیا جاتاہے  کہ وہاں  کسی زمانے میں مندر تھا جسے مسمار  کرکے بابری مسجد کی تعمیر ہوئی تھی،دوسری طرف اس طرح کے دعویداروں کے خوف  کا حال یہ ہے کہ جب سے سپریم کورٹ نے یہ کہا ہے کہ وہ اپنافیصلہ  آستھا کی بنیاد  پر نہیں، بلکہ حق  ملکیت کی بنیاد پر  سنائے گا،ان کی نیند حرام ہوگئی ہے۔حالاں کہ اگر ان کا دعویٰ سچاہے تو پھر انھیں ڈر کس بات کا؟ بلکہ جس طرح مسلمان عدالتی فیصلے پر انحصار کیے ہوئے ہیں،  انھیں بھی ، بلکہ ان سے زیادہ، عدالتی فیصلے پر زور دینا چاہیےتھا، مگر حال یہ ہے کہ جیسے جیسے فیصلے کا وقت  قریب  آتا جارہا ہے، ان  کی بوکھلاہٹ بڑھتی جارہی ہے،جو مختلف بہانوں سے اور مختلف انداز میں ظاہر ہورہی ہے۔دوہزار انیس کا عام الیکشن بھی نزدیک  ہے اور موجودہ حکومت کے پاس عوام کو لبھانے لیے کچھ نہیں ہے،  ترقی کے تمام تر دعوے  کھوکھلے  ثابت ہوچکے ہیں،ایسے میں وہی ایک دیرینہ حربہ بچتاہے، یعنی  مذہبی جذبات بھڑکاکر سیاسی فائدہ حاصل کرنےکا،مگر مشکل یہ ہے کہ اس حربے کی زد صرف ’غیروں‘ پر  ہی نہیں پڑتی، بلکہ خود ان کے ’اپنوں‘ کی ایک کثیر تعداد بھی اس سے متاثر ہوتی ہے،سبریمالاکامعاملہ تو اس کی محض چھوٹی سی مثال ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close