عدلیہ کے فیصلے: چراغِ آخری شب

عبدالعزیز

  سپریم کورٹ نے حق رازداری پر جو فیصلہ سنایا ہے اسے آج کے اندھیرے میں Flood of Sunshine (روشنیوں کا منبع) ہی کہا جاسکتا ہے کیونکہ گزشتہ دو تین سال سے جب سے فرقہ پرست اور فسطائی جماعت بر سر اقتدار آئی ہے ہندستان بھر میں ایک کونے سے دوسرے کونے تک، مشرق سے مغرب تک اندھیراہی اندھیرا چھایا رہا۔ کوئی بڑی قوت یاطاقت نے اس اندھیرے میں ایسا روشن چراغ نہیں جلایا جس سے اندھیرے چھٹ جائیں اور اندھیروں کو دھچکا لگے اور اندھیرا ہکا بکا ہو جائے۔ فیصلہ 547 صفحات پر مشتمل ہے۔ نو رکنی ججوں کی بنچ کا متفقہ فیصلہ ہے جس میں گزشتہ دو فیصلوں کو جس میں کہا گیا تھا کہ حق راز داری کی حفاظت دستور نہیں کرسکتا ہے، اسے باطل قرار دیا اور کہاکہ حق رازداری (Right to Privacy) دستور کی دفعہ 21 کے مطابق حق راز داری زندگی اور شخصی آزادی کا نہایت ضروری حصہ ہے اور دستور کے حصہ III کے تحت آزادی (Freedom) کی ضمانت دیتا ہے۔

  یہ ایک دو سطر میں نہیں 547 صفحات پر مشتمل فیصلہ ہے جو معنی خیز اور اہم ہے۔ فیصلہ کا پہلا حصہ جو 266 صفحات میں پھیلا ہوا ہے اسے جسٹس ڈی آئی چندرا چند نے چیف جسٹس جے ایس کھیہر، جسٹس آر کے اگروال اور جسٹس ایس عبدالنذیر کی طرف سے لکھا ہے جو بہت اہم ہے۔ دوسرا حصہ جسٹس جے چیلم نیور، ایس اے بوڈے، آر ایف نریمان، ابھے موہن سپرے اور سنجے کشن کول نے رقم کیا ہے۔

  فیصلہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ حقیقت میں فیصلہ قابل ذکر اور اور قابل لحاظ ہے۔ ججوں نے سابق فیصلوں جو ملک کے اندر اور باہر ہوئے ہیں ، تاریخ اور فلاسفی کی روشنی میں بہت جامع اور مدلل انداز میں پیش کیا ہے۔ جس سے فرد کی آزادی اور اس کا وقار اور عزت کا تحفظ ہوسکتا ہے، نہایت اچھے انداز میں فیصلہ میں درج کیا ہے۔ دستور سے بھی دلائل اور ثبوت دیئے گئے ہیں ۔ انسانیت کا وقار اور مرتبہ کی بات بھی کہی گئی ہے۔

  فیصلہ میں دانش مندی اور عقلمندی کی ایسی باتیں ہیں جو آفاقی اور انسانی قدروں پر مشتمل ہیں اور زمان و مکان کی قید سے بالاتر ہیں ۔ جیسے ڈی آئی چندرا چند نے لکھا ہے کہ حق رازداری انسانی وقار و عظمت کا ایک بڑا عنصر ہے۔ رازداری کا تعلق عزت و آبرو کے رشتہ سے پیوستہ ہے۔ انسان اسی حق سے ایک پرسکون اور پر وقار زندگی گزار سکتا ہے اور دوسروں کی بے جا مداخلت سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ رازداری فرد کی خود مختاری کو بحال رکھ سکتا ہے اور ہر حق کو اپنے طور طریقہ سے زندگی گزارنے کی ضمانت فراہم کرسکتا ہے۔ اس سے دستورِ ہند میں جو آزادی اور خود مختاری کی ضمانت دی گئی ہے اس کا حصول ممکن ہوسکتا ہے۔

 اے ایم سپرے اپنے فیصلہ میں رازداری اور انسانی عظمت اور قدر و قیمت کے درمیان گہرا رشتہ بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ رازداری ہر ایک فرد کا حق ہے اور ضروری اور اہم حق ہے ۔ یہ قدرتی اور فطری حق ہے جو اسے پیدائشی طور پر ملا ہے۔ اس پیدائشی حق سے کسی کو محروم کرنا غلط ہے۔ اس کے بغیر وہ با معنی اور پروقار زندگی نہیں گزارسکتا۔ یہ دنیا کی ہر مہذب سوسائٹی اور حکومت تسلیم کرتی ہے۔ حضرت عمرؓ نے ایک موقع پر فرمایا تھا کہ ’’ہر ایک کی ماں نے اپنے بچے کو آزاد پیدا کیا ہے، کسی کو بھی کسی کے حق آزادی کو چھیننا یا اس سے محروم کرنے کا حق نہیں پہنچتا‘‘۔

  اسی لئے 24 اگست 2017ء کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو دائمی و آفاقی کہا جاسکتا ہے۔ جو وقت اور زمانہ کی قید سے بالاتر ہے۔ سپریم کورٹ کے نو عقلمند ججوں نے ایسا فیصلہ دیا ہے جو آج کے ہندستان کے اندھیرے میں روشن چراغ کا کام کرے گا اور تاریکی پسندوں کی ہمت شکنی کا سبب ہو گا۔ یہ ایک تازہ ہوا ہے جس سے جو غلط اور مکروہ ہوائیں تین سال سے بہہ رہی ہیں اس میں یقینا رکاوٹ پیدا ہوگی یا بریک لگے گا۔

 اگر چہ ججوں نے آج کے حالات کا کوئی حوالہ نہیں دیا ہے لیکن جے چیلمسور کے الفاظ آج کے حالات پر بہت اچھا تبصرہ ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ ملک میں کوئی فرد یا شخص ہر گز نہیں چاہے گا کہ حکومت کا کوئی افسر یا اہلکار اس کے گھر میں بلا اجازت داخل ہو اور دخل در معقولات بنے۔

خلیفۂ دوم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ واقعہ بہت سبق آموز ہے کہ ’’ایک مرتبہ رات کے وقت آپؓ نے ایک شخص کی آواز سنی جو اپنے گھر میں گارہا تھا۔ آپ کو شک گزرا اور دیوار پر چڑھ گئے۔ دیکھا کہ وہاں شراب بھی موجود ہے اور ایک عورت بھی۔ آپ نے پکار کر کہا ’’اے دشمن خدا؛ کیا تونے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تو اللہ کی نافرمانی کرے گا اور اللہ تیرا پردہ فاش نہ کرے گا؟‘‘ اس نے جواب دیا: ’’امیر المومنینؓ جلدی نہ کیجئے! اگر میں نے ایک گناہ کیا ہے تو آپ نے تین گناہ کئے ہیں ۔ اللہ نے تجسس سے منع کیا تھا اور آپ نے تجسس کیا۔ اللہ نے حکم دیا تھا کہ گھروں میں ان کے دروازوں سے آؤ اور آپ دیوار پر چڑھ کر آئے۔ اللہ نے حکم دیا تھا کہ اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں اجازت لئے بغیر نہ جاؤ اور آپ میری اجازت کے بغیر میرے گھر میں تشریف لائے‘‘۔ یہ جواب سن کر حضرت عمرؓ اپنی غلطی مان گئے اور اس کے خلاف انھوں نے کوئی کارروائی نہ کی؛ البتہ اس سے یہ وعدہ لے لیا کہ وہ بھلائی کی راہ اختیار کرے گا۔

 دستورمیں جو دفعات یا قانون ہے وہ اکثریت کی آرا سے ہر گز متاثر نہیں ہوتا۔ جو لوگ اکثریت کے زعم میں قانون شکنی کرتے ہیں وہ انسانیت کے دشمن ہیں ۔ انھیں ملک اور انسانیت کا ہر گز خیر خواہ نہیں کہا جاسکتا۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ اپنے آپ کو اکثریت کا چمپئن اور ترجمان کہتے ہیں لیکن آفاقی اصول اور نظریہ کو ایک خاص نقطہ نظر کے ذریعہ جو غیر انسانی ہو اور تنگ نظری کا شکار ہو بدلا نہیں جاسکتا۔ ججوں نے یہ بھی اپنے فیصلہ میں صاف صاف لکھا ہے کہ کسی فرد، جماعت یا حکومت کو حق نہیں ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ کس کو کیا کھانا چاہئے اور کیا پہننا چاہئے؟ فرقہ پرست عناصر جو لوگوں کی زندگیوں اور گھروں میں جھانک رہے ہیں یہ لوگ انسانیت سے گری ہوئی حرکتیں ہیں ۔ان کو غیر انسانی اور غیر اخلاقی حرکتوں سے باز آنا چاہئے۔

ایک اچھے انسان کا یہ کام نہیں ہوسکتا ہے کہ دوسروں کے حالات پر جو پردہ پڑا ہے اس کی کھوج کرید کرے اور پردے کے پیچھے جھانک کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے کہ کس میں کیا عیب ہے اور کس کی کون سی کمزوریاں چھپی ہوئی ہیں ۔ لوگوں کے نجی خطوط پڑھنا، دو آدمیوں کی باتیں کان لگاکر سننا، ہمسایوں کے گھر میں جھانکنا اورمختلف طریقوں سے دوسروں کی خانگی زندگی یا ان کے ذاتی معاملات کی ٹٹول کرنا ایک بڑی بد اخلاقی ہے جس سے طرح طرح کے فساد رونما ہوتے ہیں ۔ اسی لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنے خطبہ میں تجسس کرنے والوں کے متعلق فرمایا:

 ’’اے لوگو؛ جو ایمان لے آئے ہو مگر ابھی تمہارے دلوں میں ایمان نہیں اترا ہے، مسلمانوں کے پوشیدہ حالات کی کھوج نہ لگایا کرو کیونکہ جو شخص مسلمان کے عیوب ڈھونڈنے کے درپے ہوگا اللہ اس کے عیوب کے درپے ہوجائے گا اور اللہ جس کے درپے ہوجائے اسے اس کے گھر میں رسوا کرکے چھوڑتا ہے‘‘ (ابو داؤد)۔

  حضرت معاویہؓ کہتے ہیں کہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ’’تم لوگوں کے مخفی حالات معلوم کرنے کے درپے ہوگے تو ان کو بگاڑ دوگے یا کم از کم بگاڑ کے قریب پہنچادوگے‘‘ (ابو داؤد)۔

 ایک اور حدیث میں حضورؐ کا ارشاد ہے: ’’جب کسی کے متعلق تمہیں کوئی برا گمان ہوجائے تو اس کی تحقیق نہ کرو‘‘ (احکام القرآن للجصاص)۔ اور ایک دوسری حدیث میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ’’جس نے کسی کا کوئی مخفی عیب دیکھ لیا اور اس پر پردہ ڈال دیا تو یہ ایسا ہے جیسے کسی نے ایک زندہ گاڑی ہوئی بچی کو موت سے بچالیا‘‘ (الجصاص)۔

 نو رکنی بنچ کا فیصلہ حق رازداری کو جس تفصیل سے پیش کیا ہے وہ قابل ستائش اور قابل تعریف ہے۔ پیشکش میں زور ہے جس سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ انفرادی یا شخصی حق کو کوئی طاقتور حکومت یا جماعت غصب نہیں کرسکتی ہے۔ ملک کا دستور ایسی غاصب اور ظالم حکومت کیلئے ڈھال اور تلوار ہے۔

خود مختاری (Liberty) اور آزادی (Freedom) دستور ہند کی ایسی قدریں ہیں جسے کوئی طاقت کسی شہری سے چھیننے کا کسی حال میں حق نہیں رکھتی۔ ہمارے ملک میں تکثیری معاشرہ ہے جو مختلف مذاہب، زبان، کلچر اور نظریات پر مشتمل ہے۔ کوئی فرد یا جماعت اپنے خاص نقطہ نظر یا کلچر کو کسی پر مسلط نہیں کرسکتا۔ سپریم کورٹ نے 70ویں یوم آزادی کے موقع پر ہندستانی شہریوں کو ایسا مثالی اور تاریخی فیصلہ کرکے بے نظیر تحفہ دیا ہے۔ ضرورت ہے کہ ہم اس کی قدر کریں تاکہ کوئی قوت سیاسی یا غیر سیاسی دستوری حقوق پر شب خوں نہ مارسکے۔

 ہریانہ میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے 15سال بعد جو ایک زانی لٹیرے، ڈکیت گرمیت سنگھ کے مقدمہ کا فیصلہ سنایا ہے اس سے بھی عدلیہ کا وقار بڑھا ہے کیونکہ گرمیت رام رحیم کو سیاست دانوں اور حکومتوں کی سرپرستی حاصل تھی جس کی وجہ سے وہ غیر معمولی طاقت کا حامل ہوگیا تھا مگر جج نے اسے بے خوف و خطر مجرم قرار دے کر عدلیہ کے وقار کو بلند کیا اور عدلیہ پر لوگوں کا بھروسہ جو ختم ہورہا تھا ایک طرح سے بحال کیا۔

 ہریانہ اور پنجاب کے ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی قابل قدر اور قابل ذکر ہے جس میں وزیر اعلیٰ ہریانہ اور وزیر اعظم ہند پر ضرب لگاتے ہوئے کہا ہے کہ منوہر لال کھٹر کو کہا ہے کہ تم ریاست کے وزیر اعلیٰ ہو، بی جے پی کے نہیں ہو۔ مودی جی کو کہا ہے کہ تم ملک کے وزیر اعظم ہو، بی جے پی کے وزیر اعظم نہیں ہو۔ ہائی کورٹ کی بنچ نے ملک میں اور ہریانہ میں جو لاقانونیت کا دور دورہ ہے اس کے پس منظر میں یہ بات کہی ہے۔ جنھیں ڈانٹ پلائی گئی یا پھٹکارا گیا ہے ان کی بولتی بند ہے۔ دیکھنا ہے کہ ان کے لوگ جو سانڈ بن گئے ہیں اور ہر وقت قتل و غارت گری اور فتنہ و فساد پر آمادہ ہیں ان پر کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں ۔ ایک بات تو ضرور ہے کہ زعفرانی (بھگوا) سرکار جو عدلیہ کے درپے تھی ، عدلیہ زعفرانی طاقت کے اثر کو قبول نہیں کر رہی ہے۔ اس سے عدلیہ پہلے سے زیادہ آزادی کے ساتھ کام کرے گی۔

ایک بات ضرور ہے کہ زعفرانی حکومتیں جو عدلیہ میں مداخلت کرنا شروع کر چکی ہیں اور عدلیہ کو کنٹرول کرنا چاہتی ہیں اگر وہ پانچ دس سال اور اقتدار پر قابض رہتی ہیں تو عدلیہ میں اپنے لوگوں کو داخل کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہیں ۔ اس وقت عدلیہ کا آزاد رہنا مشکل ہوگا۔ جو زعفرانی طاقت سے متاثر جج ہوں گے وہ حکومت کے اشارے پر فیصلے کریں گے اور آر ایس ایس کی منشا پوری کریں گے۔ ضرورت ہے کہ سیول سوسائٹی ایسا لائحہ عمل مرتب کرے کہ زعفرانی حکومت کی عمر دراز نہ ہو۔



⋆ عبد العزیز

عبد العزیز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے