عزت مآب ججوں کی پریس کانفرنس

ایم ودود ساجد

بلا شبہ آزاد ہندوستان کی عدلیہ کی تاریخ میں آج ایک عجیب وغریب واقعہ رونما ہوا۔ لیکن اس واقعہ سے انہیں کوئی حیرت نہیں ہوئی جوعدلیہ کو ایک عرصہ سے قریب سے دیکھ رہے ہیں ۔ گو کہ میں قانون کا طالب علم نہیں ہوں لیکن میں عدالتی خبروں کو بڑی دلچسپی اور باریکی سے پڑھتا ہوں ۔ لہذا مجھے سپریم کورٹ کے چار بہترین سینئرججوں کے ذریعہ پریس کانفرنس کو خطاب کرنے کے واقعہ سے یقینی طورپر کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ حیرت اس پر ہوئی کہ عزت مآب چیف جسٹس آف انڈیا نے اس پریس کانفرنس کے جواب میں اپنی پریس کانفرنس کا اعلان کیا لیکن اس کے بعدوہ اپنے اعلان پر قائم نہ رہ سکے۔

غیرمطمئن جج حضرات کے ذریعہ اپنے چیف کے ساتھ اختلاف اب ان کا ذاتی اور اندرونی معاملہ نہیں رہا۔ خود چاروں غیر مطمئن جج حضرات نے بھی اپنی پریس کانفرنس کا مقصد یہی بتایا ہے کہ وہ اب اور زیادہ دنوں تک اپنے ضمیر کے خلاف خاموش نہیں رہ سکتے تھے اور ملک کے عوام کے سامنے اپنی پوزیشن واضح کرنا چاہتے تھے۔ ۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ چیف جسٹس آف انڈیا کا مواخذہ کیا جائے؟تو انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اس ملک کے عوام کو کرنا ہے۔ مواخذہ کی انگریزیImpeachmentہے۔ یہ بہت ہی شاذ ونادر ہوتا ہے۔ کسی جج کے خلاف 58ممبران پارلیمنٹ نائب صدر جمہوریہ یعنی راجیہ سبھا کے چیرمین کولکھ کر دیتے ہیں جس کے بعد پارلیمنٹ متعلقہ جج کا مواخذہ کرتی ہے۔ یہ جج کو اس کے عہدہ سے ہٹانے کے عمل کا آغاز ہوتا ہے۔

اس اشو پر بولنا اور لکھنا قانونی احتیاط کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ لیکن چونکہ سپریم کورٹ کے متعلقہ چار ججوں نے خود اس معاملہ کو اس خواہش کے ساتھ عوام کے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے کہ ملک اس پر غور کرے اور کسی نتیجہ پر پہنچے‘اس لئے احتیاط کے ساتھ اس اشو پر اظہار خیال میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ہاں مجھے اپنے عزیز مولاناسید اطہر دہلوی Syed Athar Hussain Dehlavi کی اس اپیل سے اتفاق ہے کہ پیشہ ورعلماء حضرات یا اکثر ٹی وی مباحثوں میں جانے والے علماء حضرات اس بحث سے دور رہیں ۔ لیکن اس اشو کی بنیادی سچائیوں کا علم ضروری ہے۔

غیر مطمئن جج جسٹس چلمیشورسمیت چاروں جج بہت ہی عمدہ‘صاف ستھرے اور انصاف پسند واقع ہوئے ہیں ۔ اس لئے انہوں نے جس تکلیف کا اظہار کیا ہے اس پر مجھ جیسے حساس شہری کو تکلیف ہونا فطری ہے۔ عدالت کا بظاہر ’سیکولر اور کمیونل‘ اور ’جمہوری وغیر جمہوری عناصر سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ان کے پیش نظر صرف قانون اور آئین ہوتا ہے۔ لیکن جسٹس چلمیشور کی قیادت میں غیر مطمئن ججوں نے پریس کانفرنس میں جو جملہ ادا کیا وہ انتہائی اہم اور قابل غور ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’جمہوریت خطرہ میں ہے‘۔ ججوں کا یہ جملہ عدلیہ ہی نہیں ملک بھر میں کسی انتہائی بڑی خرابی اور کسی بہت ہی نازک اور ناگفتہ بہ صورت حال کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ یہ سمجھنے کی پھر ضرورت ہے کہ عدالتی کام کاج میں جمہوریت کا کوئی دخل نہیں ۔ بلکہ وہاں آئین‘قانون اور روایت اہم ہیں ۔ روایت یہ ہے کہ عدلیہ کی اندرونی کشمکش کبھی باہر نہیں آتی۔ خاص طورپرچیف جسٹس آف انڈیا کے خلاف تو کبھی نہیں ۔ ایسی بلکہ اس سے ملتی جلتی صورت حال 70کی دہائی میں صرف ایک بار اس وقت نمودار ہوئی تھی جب اندراگاندھی کے زمانے میں سپریم کورٹ کے پانچ ججوں نے استعفی دیدیا تھا۔ لیکن پریس کانفرنس انہوں نے بھی نہیں کی تھی۔ آج اگر چار سینئر ترین ججوں نے پریس کانفرنس کے ذریعہ اپنی بے چینی کو عام کیا ہے تو یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ آنے والے دنوں میں اس واقعہ کے بڑے گہرے سیاسی اثرات بھی مرتب ہوسکتے ہیں ۔ لیکن فی الحال میرا موضوع گفتگو سیاسی نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کے مذکورہ ججوں کے ذریعہ اظہار خیال کی عام رخصت کے باوجود ہمیں احتیاط رکھنی چاہئے۔ اس لئے کہ عدلیہ کی برتری ‘اس کا وقار‘اس کی آزادی ‘اس کی غیرجانبداری اور اس کی بالادستی داؤ پر ہے۔ موجودہ چیف جسٹس سے پہلے جسٹس کیہر اس عہدہ پر تھے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ انہوں نے بابری مسجد کے اشو پر ایک غیر معمولی بیان دے کر ایک نئی صورت حال پیدا کردی تھی۔ انہوں نے اس اشو کو عدالت سے باہر حل کرنے کی اپیل کی تھی اور خود بھی اس میں تعاون دینے کو تیار ہوگئے تھے۔ بہت سے مبصرین نے اس وقت کہا تھا کہ چیف جسٹس کو حکومت نے استعمال کرلیا۔ لیکن میرا خیال اس سے مختلف تھا۔ جسٹس کیہر کو حکومت استعمال ہی نہیں کرسکی تھی۔ جسٹس کیہر نے کوئی انہونی صورت آتے ہوئے محسوس کرلی تھی۔ مجھے ایک دانشور نے ان کے جانشین کے ‘اندیشوں سے بھرپورپراسرارپس منظرکے بارے میں بتایا تھا۔ جسٹس کیہر نے طلاق ثلاثہ والی پانچ رکنی بنچ میں اپنا فیصلہ الگ لکھا تھا اورمسلمانوں کے پرسنل لاء میں مداخلت کو ناجائز قرار دیا تھا۔

میرے احباب کو یاد ہوگا کہ میں نے مختلف مواقع پر لکھا کہ 16مئی2014کو جہاں ایک انہونی ہوگئی تھی وہیں سپریم کورٹ سے ایک زبردست فیصلہ بھی آگیا تھا۔ گودھرا سانحہ میں ماخوذاور گجرات ہائی کورٹ سے پھانسی کی سزا پانے والے 11مسلمانوں کو سپریم کورٹ نے اس روز باعزت بری کردیا تھا۔ اسی روزبی جے پی نے غیر معمولی انتخابی کامیابی حاصل کرلی تھی۔ میں نے لکھا کہ بس اس واقعہ کے بعد سپریم کورٹ سے پھر ایسا فیصلہ نہیں آیا۔ ہم سب نے دیکھا کہ گجرات فسادات کے مجرمین اور سزایافتہ مجرمین کیسے ایک ایک کرکے چھوٹ گئے۔ کیسے سزایافتہ افسروں کو دوبارہ بحال کردیا گیا۔ کیسے بی جے پی صدر کو راحت درراحت ملتی چلی گئی۔ کیسے سہراب الدین قتل کیس میں نئے موڑ آتے چلے گئے۔ کیسے کرنل پروہت اور سادھوی پرگیہ پر سے دہشت گردی کے الزامات ہٹا دئے گئے۔ سہراب الدین قتل کیس کی سماعت کرنے والے جج لویا کی کس طرح موت ہوگئی۔ ان کے اعزاء کی طرف سے شک کے اظہار کے باوجود کوئی تحقیقات نہیں کرائی گئی۔ اب سپریم کورٹ میں آج کل میں اس پر سماعت ہونی ہے۔ سپریم کورٹ میں بابری مسجد کا مقدمہ اپنے آخری مراحل میں ہے۔ پچھلے دنوں کافی انتظار کے بعدجب سماعت شروع ہوئی تو سنی وقف بورڈ یوپی کے وکیل کپل سبل نے عدالت سے استدعا کی کہ اس کی سماعت 2019کے انتخابات منعقد ہونے تک ٹال دی جائے۔ بظاہر اس کی کوئی معقول وجہ سامنے نہیں تھی۔ لیکن ممکن ہے کہ کپل سبل کے پیش نظر کوئی ایسی بات ہو جس کو عام نہ کیا جاسکتا ہو۔

سپریم کورٹ کے جن چار ججوں نے آج غیر معمولی طورپر اپنی بے چینی کا اظہار کیا ہے وہ بھی کئی اہم معاملات کی سماعت کر رہے ہیں ۔ ان کی بے چینی کی ایک واضح وجہ پربھی نظر ڈالنا ضروری ہے: آپ کو یاد ہوگا کہ چند ماہ پہلے اڑیسہ کے سابق چیف جسٹس آئی ایم قدوسی کو سی بی آئی نے گرفتار کر لیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ وہ پیسہ کے عوض عدالتوں سے مختلف پارٹیوں کے حق میں فیصلے کرانے کے عمل میں ملوث تھے۔ اس پر معروف وکیل پرشانت بھوشن اور اندرانی جے سنگھ نے دو مختلف تنظیموں کی طرف سے پٹیشن دائر کرکے عدالت سے استدعا کی کہ چونکہ معاملہ عدلیہ کے وقار سے وابستہ ہے اور خود چیف جسٹس پر اس کی آنچ آرہی ہے‘ اس لئے ایک SITبناکر تحقیقات کرائی جائے اور عدلیہ کو کرپشن کے الزامات سے پاک کیا جائے۔ یہ پٹیشن جسٹس چلمیشور کی سہ رکنی بنچ کی عدالت میں آئی۔ جسٹس چلمیشور کی بنچ نے فیصلہ صادرکیا کہ یہ معاملہ واقعی انتہائی اہم ہے اس لئے چیف جسٹس پانچ ججوں کی بنچ تشکیل دیں اور اس میں خود کو شامل نہ کریں ۔ اس پر چیف جسٹس نے پانچ رکنی بنچ میں سماعت تو کی مگر کھلی عدالت میں ناراضگی ظاہر کی اور کہا کہ بنچ تشکیل دینے کا اختیار صرف چیف جسٹس کا ہے اور یہ کہ کوئی جج انہیں اس کا حکم نہیں دے سکتا۔ اس دوران چیف جسٹس اور وکیل پرشانت بھوشن‘راجیو دھون اور اندرا جے سنگھ کے درمیا ن خوب نوک جھونک بھی ہوئی۔ ایک موقع پر پرشانت بھوشن اور راجیو دھون نے یہ تک کہہ دیا کہ انہیں بولنے نہیں دیا جارہا ہے اور ان کی آواز کو دبایا جارہا ہے۔ (واضح رہے کہ بابری مسجد کے مقدمہ میں راجیو دھون بھی مسلم فریق کے ایک وکیل ہیں )ان دونوں نے واک آؤٹ بھی کرنا چاہا مگر انہیں اس کی اجازت نہیں دی گئی۔ چیف جسٹس نے بہر حال صرف سہ رکنی بنچ تشکیل دی اور اس میں جسٹس چلمیشور یا ان کی بنچ کے دیگر دو ججوں میں سے کسی کو نہیں رکھا۔ اس نئی بنچ نے بہ عجلت سماعت کرکے فیصلہ دیدیا کہ SITکی تشکیل کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس بنچ نے وکیل پرشانت بھوشن پر 25لاکھ روپیہ کا جرمانہ بھی عاید کردیا۔ عدلیہ کی تاریخ میں یہ بھی انوکھا واقعہ تھا۔ اس وقت تو بی جے پی اور آر ایس ایس نواز چینلوں نے کچھ نہیں کہا لیکن آج کے واقعہ پر یہ چینل چیخ وپکار مچارہے ہیں۔

آج کے ہی انڈین ایکسپریس میں سینئر وکیل دشینت دوے نے ایک تفصیلی مضمون لکھ کر چیف جسٹس کے بے جا اختیارات اور تجاوزات پر روشنی ڈالی تھی۔ انہوں نے لکھا تھا کہ چیف جسٹس نے کرپشن کے الزامات والے مقدمہ میں جسٹس چلمیشور کو سہ رکنی بنچ میں شامل نہ کرکے روایات شکنی کی اور شکوک کو جنم دیا۔ انہوں نے لکھا کہ ایسی صورت حال تو خود اندرا گاندھی کے زمانے میں بھی پیش نہیں آئی اوراس وقت چیف جسٹس نے ایک معاملہ میں زیادہ بڑی بنچ تشکیل دی تو اصل بنچ کے ججوں کو بھی شامل کیا۔ دشینت دوے نے ججوں سے یہ بھی اپیل کی تھی کہ اس صورت حال کے خلاف کچھ کریں ‘خاموش نہ بیٹھیں ۔ اور اس مضمون کی اشاعت کے چند گھنٹوں بعد چار غیر مطمئن ججوں نے یہ پریس کانفرنس کرڈالی۔ اس واقعہ پر سب سے زیادہ شور شرابہ آر ایس ایس کے کفش بردار چینل مچارہے ہیں۔



⋆ ایم ودود ساجد

ایم ودود ساجد

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

بائک والی لڑکی!

مسلمانوں کیلئے اخلاقی تربیت کے بغیر اعلی تعلیم کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ ایسے میں یہی ہوگا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جیسی جگہ پر ہماری لڑکیاں سربازار اپنے سروں پر سے نہ صرف دوپٹہ اتارپھینکیں گی بلکہ فخریہ طورپراس کا اعلان بھی کریں گی۔ مجھے ماں باپ سے بس ایک ہی سوال کرنا ہے۔ کیا اس صورت حال کا ذمہ دار بھی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ہے؟ اور کیا علماء کو مطعون کرکے صورت حال بدل سکتی ہے؟ غور ضرور کیجئے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے