ہندوستان

عزیرات ہند کی دفعہ 497 کالعدم ہونے کا مطلب

سید منصورآغا

سابق چیف جسٹس دیپک مشراکی سربراہی والی بنچوں نے ان کے 2؍اکتوبرکوریٹائرمنٹ سے قبل چندروزمیں کئی ایسے فیصلے صادر کئے جن پراخباروں میں کافی لکھا گیا۔ ان میں ایک فیصلہ تعزیرات ہند کی دفعہ 377(ہم جنسی) کوکالعدم کرنے کا اور دوسرا دفعہ 497 کو کالعدم کرنے کاہے۔یہ دونوں قانون کوئی ڈیرھ صدی پرانے تھے مگران کے تحت کسی کو سزا ہوئی ہو، کبھی سنا نہیں۔ بہرحال ان دفعات کا کالعدم کیا جانا سماج میں بے راہ روی کوحوصلہ دیگا۔ان فیصلوں پر ہمارے مذہبی حلقوں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ بعض آوازیں غیرمسلموں کی طرف سے بھی آئی ہیں مگردبی دبی سی۔اخباروں کی بعض سرخیوں اورچند مضامین سے یہ گمان ہوتا ہے دفعہ 497 کوئی خلاف ’زنا‘قانون تھا۔ایسا نہیں ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اس دفعہ میں کیا کہا گیا ہے؟

Section 497 of Indian Penal Code reads, "Whoever has sexual intercourse with a person who is and whom he knows or has reason to believe to be the wife of another man, without the consent or connivance of that man, such sexual intercourse not amounting to the offence of rape, is guilty of the offence of adultery.”

’’کوئی بھی شخص جو ایسے فردکے ساتھ، جس کے بارے میں وہ جانتا ہے یا یقین کرنے کی وجہ ہے کہ وہ کسی اورشخص کی بیوی ہے، اس شخص کی اجازت یا مرضی کے بغیرمباشرت کرتا ہے، اور ایسی مباشرت اگرزنابالجبر نہیں ہے تو پھر وہ شخص ’اڈلٹری‘ کا مجرم ہوگا۔‘‘

اس شق کو ختم کردینے کا مطلب صرف اتنا ہے کہ کوئی شادی شدہ عورت چاہے شوہر سے چھپا کر زنا کرے یا اس کی مرضی سے وہ زانی مرد کسی بھی صورت میں خطاکار نہ ہوگا جب کہ اس قانون کے تحت اگرشوہر کی مرضی شامل نہیں تو وہ ’اڈلٹری ‘ کا مجرم قرارپاتا۔ اس شق کا سیدھا سا مطلب یہ تھا کہ شادی شدہ عورت کے ساتھ اس کی رضامندی سے کسی غیر مرد کا جنسی فعل اس صورت میں زانی مردکیلئے صرف اس صورت میں گناہ یا جرم ہوگااگر عورت کے شوہر کی مرضی یا اجازت شامل نہ ہو۔ باالفاظ دیگراگرکسی شادی شدہ عورت کے ساتھ اس کے شوہر کی مرضی اوراجازت سے غیرمردجنسی تعلق قائم کریں تو کوئی جرم نہیں ہوا۔اب اگرکوئی مرد غیروں سے پیسے لیکر یا کوئی اورفائدہ حاصل کرکے اپنی بیوی کو پیش کرتا ہے توقانون کی نظرمیں جرم نہیں، البتہ اگربیوی اس کی مرضی کے بغیر یہ فعل کرے توصرف مرد خطاکارہوگا، بیوی نہیں۔البتہ ن اگرعورت راضی نہیں اوراس کے ساتھ جبرہوا ہے تو اس صورت میں یہ زنابالجبرہوگا اورزانی مرد اوراس کا مددگار ناہنجار شوہر دونوں خطاوار ہوں گے۔ عورت بہرحال کسی صورت میں خطاوار قرارنہیں پائیگی، چاہے یہ فعل اس نے شوہرکی شرکت سے کیا ہو یا اس سے چھپاکر اپنی مرضی سے شریک ہوئی ہو یا اس کے ساتھ جبرہوا ہوا۔

گویا یہ ایک ایسا قانون تھا جو کسی بھی درجہ میں ہماری رواجی، اخلاقی اوردینی قدروں کا محافظ نہیں تھا۔ یہ توصاف طورسے زانیہ کو نظراندازکررہا ہے اورزانی کو بھی اسی صورت میں قصوروار ٹھہراتا ہے جب اس کی جنسی ہوس رانی میں عورت کے شوہر کی بے غیرتی شامل نہ ہو۔

یہ قانون 158سال پہلے بناتھا، جب سماج میں اونچ نیچ بہت تھی اوراکثرمعاملوں میں زور آور طبقہ کے افراد کمزورطبقہ کی خواتین پر بری نظررکھتے تھے۔ اس دورمیں کتنے غریب اتنی ہمت کرپاتے ہونگے کہ کسی زمینداریا اس کے کارندے کے خلاف شکایت کریں؟ اورپھر اس کے شوہرسے ہاں بھروا لینا کیا مشکل ہوگا؟

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے:’بیوی نا تو شوہر کی ملکیت ہے اورنہ اس پرشوہرکو کوئی قانونی بالادستی حاصل ہے ‘ (کہ وہ اسے کسی غیرمرد کو پیش کردے تو جرم نہیں، اگرمرضی نہ ہو، اور عورت اپنی مرضی سے شریک ہو تو مرد خطاکار، اور سزا کا مستحق۔ اس قانون کا یہ پہلو پیش نظرر ہے کہ زناکار عورت پرکوئی جرم نہیں کیونکہ یہ قانون غیرمردکے ساتھ تعلق رکھنے والی شادی شدہ عورت کو کسی حال میں خطاوار نہیں ٹھہراتا۔ زانی مرد بھی بے قصور ہوگا اگرزانیہ کے بے غیرت شوہرکی رضامندی حاصل ہو جائے، چاہے کسی بھی طرح ہو۔ سوچئے قانون کی ایسی شق کو اگرعدالت منسوخ کردیتی ہے، چاہے دلائل کچھ بھی ہوں، کیا بحیثیت مسلمان ہمیں اس پررونا چاہئے؟

معاشر ے کا چلن:

ہرچند کہ ہندستانیسماج کی قدیم داستانوں میں زنا کاری کا ذکر آتا ہے، لیکن مجموعی طورسے پورے سماج میں جنسی بدچلنی سخت معیوب ہے۔ ملامت اگرچہ بدچلن مرد پر بھی ہوتی ہے مگرعورتوں پرزیادہ سخت لعنت ملامت ہوا کرتی ہے۔ اس کے باوجود انگریزی دور سے ہمارا نظام قانون جس ناقص نظریہ کا قیدی ہے اس میں شادی کے بندھن کے بغیر جنسی تعلق یعنی ’زنا‘ کے گناہ یا جرم ہونے کا کوئی تصورہی نہیں۔یوروپ میں تو جولڑکیاں اپنی عصمت کی حفاظت کرتی ہیں ان کو دقیانوسی کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ ایسی پارٹیاں بھی ہوتی ہیں جن میں عیاشی کیلئے بیویاں بدل لی جاتی ہیں۔ زناکو خطاصرف اسی صورت میں سمجھا جاتا ہے جب جبرہو۔ پہلے صرف مردجبرکیا کرتا تھا، اب عورتیں بھی کرنے لگی ہیں۔ اس طرح کی زنا کو اصطلاح میں ’ریپ‘ (rape) کہتے ہیں۔ اگر دونوں کی رضامندی سے’ زنا‘ ہوتویہگناہ یا براتصور نہیں کیا جاتا بلکہ عورت ذا ت کی خودمختاری قراردیا جاتا ہے۔ اس کیس کے فیصلہ میں عورت کی اسی خودمختاری کی وکالت کی گئی ہے۔

اس نظریہ کے تحت گناہ یا جرم یا توزنابالجبر ہے یاکسی شادی شدہ عورت کے ساتھ اس کے شوہر کی رضامندی کے بغیر یہ فعل جرم ہے جیسا کہ دفعہ 497میں تھااورجس کو ’اڈلٹری‘ (adultery)کہا گیا۔ اس لفظ کے کئی معنی ہیں، جیسے ملاوٹ، دھوکہ دہی، بے وفائی، بیوقوف بنانا، گندا کھیل اور بدکاری وغیرہ۔ اردو میں ایسا کوئی جامع لفظ نہیں ملا جو ان تمام معانوں کا احاطہ کرتا ہو۔حالانکہ یہ تمام مفاہیمشادی شدہ عورت کے کسی غیرمرد کے ساتھ جنسی فعل میں پائے جاتے ہیں۔

چنانچہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ عدالت یہ کہتی، عورت مرد کی ملکیت نہیں، اس لئے اس کی مرضی کوئی معنی نہیں رکھتی۔ ایسی عورت اورایسا مرد جو اس فعل میں مبتلاہو، دونوں کو مجرم ہیں۔ اگرشوہر بھی شامل ہے تووہ بھی مجرم ہوگا۔ ان سب کیلئے سزاہوتیکہ اس میں صرف جنسی لذت کوشی نہیں بلکہ دھوکہ، بے وفائی اوربددیانتی کے ساتھ امانت میں خیانت بھیشامل ہے۔ ناجائز تعلق سے کسی شادی شدہ عورت کے بطن سے پیداہونے والی اولاد اپنے اصل باپ کی وراثت سے محروم اورغیر شخص کی وراثت میں حصہ دار بن جاتی ہے۔ یہ کھلی بدیانتی ہے جس کیلئے عورت بھی خطاکار ہے۔ اس لئے ’اڈلٹری ‘ کا گناہ صرف جنسی بے راہ روی تک محدود نہیں بلکہ اس میں کھلی بددیانتی بھی شامل ہے۔ چنانچہ ’’آزادی اور خودمختاری‘‘ کے نام پر عورت کیلئے جنسی انارکی کو جائزٹھہرانا انصاف کے خلاف ہے۔یہ انداز فکرہندستان کو بھی اسی طرح کے معاشرے کی طرف دھکیل دیگا جس میں اب یوروپ ڈوبا ہوا ہے، جس میں نہ خدا ہے اورنہ باپ۔ اولاد ماں سے پہچانی جاتی ہے اوربے غیرت عورت برملا بتادیتی ہے کہ میری فلاں اولاد کابایولوجیکل فادرفلاں شخص اورفلاں بچے کا فلاں شخص ہے۔

ہندستان میں سزا:

ہندستانی معاشرے میں جیسا کہ اوپرعرض کیا گیا، یہ فعل سخت ناپسندیدہ ہے اوراس کیلئے قدیم دور سے سزا بھی ہے۔ منواسمرتی نے توغیرعورت کو تحفہ تحائف دینے، اس کے ساتھ سیروتفریخ، ہنسی مذاق کرنے، اس کے زیور اور لباس کو چھونے، اس کے ساتھ ایک ہی چارپائی پر بیٹھ جانے تک کو ’زنا‘ (اڈلٹری) شمارکیا ہے۔اوراس کی سزا موت تجویز کی ہے، بشرطیکہ زانی مرد برہمن نہ ہو۔ ’یج ولکیہ اسمرتی‘ نے ایسی شادی شدہ عورت کی سزا یہ تجویز کی ہے کہ وہ نوکروں پر حکم نہیں چلاسکتی، میلے کچیلے کپڑے پہنے گی، زمین پرسوئے گی اوراس کو صرف اتنا کھانا دیا جائے گا جس سے وہ زندہ رہ سکے۔ اب اگراس کو مہینہ ہوجائے تو خطامعاف اوراگرحمل قرارپاجائے توپھراس کو چھوڑدینا ہوگا۔‘‘ ہم اس سزاکی منطق پرغورکریں توسمجھ میں آتا ہے زناکو قابل معافی چھوٹا گنا ہ تصورکیا گیا ہے۔ بڑااسی صورت میں ہوگا جب اس سے اولاد کی بنیاد پڑجائے۔

اسلامی قانون ہم سب کو معلوم ہے کہ زنااسلام میں حرام ہے۔ بہت بڑاجرم۔ قرآن نے اس فعل بدکو زمروں میں تقسیم نہیں کیا ہے۔ گناہ گناہ ہے، چاہے جبرہو یا دونوں راضی ہوں۔ قرآن نے زناسے بچنے کی سخت تاکید کی ہے۔ وہ کہتا ہے ’زنا کے قریب بھی مت جانا کہ وہ بے حیائی اور برائی کا راستہ ہے‘ (سورہ الاسراء آیت 32)۔ زنا بیشک برائی کا راستہ ہے کہ اس سے فتنہ اورفساد پیدا ہوتا ہے۔ اگربے حیائی سرمیں سماجائے تو پھر کسی برے فعل میں پڑتے دیر نہیں لگتی۔ قرآن نے زناسے بچنے کی محض تلقین ہی نہیں کی بلکہ اس کی سخت سزابھی تجویز کی ہے۔یہ بات الگ ہے غیرشادی شدہ کی سزاکم ہے۔ سورہ نور کی آیت دو میں فرمایا گیا ہے، ’’زانی مرد اورزانی عورت دونوں کو سو سو کوڑے مارو، اورتم کو ان دونوں پراللہ کے دین کے معاملے میں رحم نہیں آنا چاہئے۔ ‘‘ زنا کیلئے بعض معاملو ں میں رجم کی سزابھی ہے، مگرجیسی سخت سزا ہے، ویسی ہی اس کی شہادت کا پیمانہ بھی سخت ہے کہ کم ازکم چارشخص ارتکاب گناہ کے چشم دید گواہ ہوں۔اگرکوئی عورت پرگناہ کارقراردے مگرگواہ پیش نہ کرسکے تو سزااس کیلئے بھی ہے۔
سرکارقانون بنائے: اس لئے ہندستانی معاشرے میں، جہاں ہندواورمسلم دونوں بڑے مذاہب زنا کو فعل بد تصورکرتے ہیں، ہونا یہ چاہئے کہ پارلیمنٹ اس کے خلاف قانون بنائے۔اس کیلئے سب مل کر آوازاٹھائیں، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس سے قبل جب ہم جنسی کا معاملہ عدالت میں زیرسماعت تھا، بھارتیہ سنسکرتی کی محافظ اور دیش بھکتی کی دعویدارسرکار نے کہہ دیا تھا ہماری کوئی رائے نہیں۔یعنی ہم جنسی پراعتراض نہیں۔ تو پھرزناپرکیسے ہوگا؟ عدالت نے یہ دونوں فیصلے سرکار کی نظردیکھ کرکئے ہیں اوروہ اس لئے ہمارا سماج جائے بھاڑ میں، مغرب کی پیروی ضرور ہو۔

آخری بات یہ کہ ان دونوں فیصلوں کا ایک اثر یہ ہوگاکہ عدالت میں حلالہ کے خلاف جو کیس چل رہا ہے، وہ سر کے بل آگریگا۔ دفعہ 377 اوردفعہ497کے کالعدم ہوجانے کے بعد کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا کہ حلالہ کو عدالت روکے کیونکہ دلیل خودمختاری اورجنسی آزادی کی یہاں بھی دوہرائی جائے گی۔نکاح ہویا نہ ہو، موجودہ قانون کے تحت اگرکوئی عورت کسی مرد کے ساتھ ہم بستری پر راضی ہوتی ہے تواس کو یہ قانون روکے گا نہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close