ملی مسائلہندوستان

عیسائی عقیدہ تثلیث کی طرح طلاق

تین یا ایک کی بحث میں پرسنل لا خطرے میں

مرزا انوارالحق بیگ

حالیہ دنوں میں ملک بھر میں تین طلاق کے نام پر گرما گرم بحث و مباحثے جو کا ماحول بنا یا جا رہا ہے۔ اس کے نام پر شریعت کو نشانہ بنایا جارہا ہے، مسلم پرسنل لا کا مذاق اڑایاجارہا ہے۔ مسلم خوتین کی مظلومیت کا رونا روکر ہمدردی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ماجرا کیا ہے؟ بات واضح ہونی چاہیے کہ اصل معاملہ کیا ہے؟ بظاہر اسے بڑی معصومیت سے تین طلاق کا مسئلہ بنایا جا رہا ہے۔ لیکن یہ معاملہ تین طلاق کو تین یا ایک ماننے یا منوانے کا نہیں ہے۔ اس کے بر عکس، جس طرح کی کوششیں ہو رہی ہیں یا جن عزائم کا اظہار کیا جا رہا ہے اس سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ فرد کے طلاق کے اختیار کو سلب کرکے عدالت کو سونپنے کی کو شش کی جارہی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر دیگر برادران وطن کی طرح ایک مسلمان کو بھی کسی ناچاقی کے وجہ سے اپنا نکا ح ختم کرنے یا طلاق لینے کے لئے سالہاسال عدالتوں کے چکر کاٹنے اور مقدمے بازی میں اپنی جان و مال صرف کرکے بھی بے مراد اور در ماندہ ہوتا رہے۔ اصل سوچنے کی بات یہ ہے کہ بر سر اقتدار طبقے کو اچانک اسلام کے’ نا پسندیدہ تین طلاق’ سے نفرت اور مسلم خواتین سے اس قدر ہمدردی کیوں کر پیدا ہو گئی ہے؟ اس کا اصل مقصد و منشا کیا ہے؟

 کیا اس کا اصل ہدف بالکل عیاں نہیں ہے؟ تاکہ اس کے ذریعے پرسنل لا میں مداخلت کرکے یکساں سول کوڈ کے لئے راہ ہموار کی جائے ۔ نا دان ہیں وہ جو اسے تین طلاق کا مسئلہ سمجھ رہے ہیں۔ اور اصل معاملے سے ہٹ کر دوسری جگہ یا غیر ضروری بحث و مباحثے میں سر پھٹول کر رہے ہیں۔

ان ہندوستانی مسلمانوں کی موجودہ روش پر افسوس کے ساتھ ہنسی آتی ہے کہ جس طرح عیسائی تثلیث کے فلسفے میں الجھ گئے کہ خدا ایک میں تین ہے یا تین میں ایک، یا تین۔ اوراس بحث میں عیسائی دنیا نے توحید یا خدا ہی کو فراموش کر دیا۔ بالکل اسی طرح یہ ہندوستانی مسلمان خود تو الجھ ہی گئےہیں یا الجھا دئے گئے، اب پوری امت کو بھی الجھا نا چاہتے ہیں کہ ایک نشست میں دی گئی تین طلاقیں تین ہوتی ہیں یا ایک۔ جو اختلاف مسلمانوں کے زرین دور یا ایک ہزار سالہ دور عروج میں بھی بڑا مسئلہ یا زحمت نہیں بن سکا، تو آج جب کہ مسلمان محکومی و مظلومی کے دور سے گزر رہے ہیں، ایسے عائلی مسائل جن میں چند ایک جزوی اختلافات ہیں اور قرن اولیٰ سے چلے آرہے ہیں، مسلمانوں کے لئے کیوں کراتنا بڑا مسئلہ بن سکتا ہے جس کو لیکرآپس میں خوب بحث و مجادلہ کیا جائے یا فرقہ بندی کی جائے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھایا جائے۔ صحابہ ؓ، ائمہ، فقہاء اور محدثین کے کسی شرعی مسئلے میں فقہی اختلافات امت کے حق میں رحمت ہوتے ہیں، انھیں رحمت ہی رہنے دیں، زحمت نہ بنائیں ۔

ان مسلمانوں کی یہ روش بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ جس معاملے میں پوری امت کا کامل اتفاق ہے اور صدر اول سے چلا آرہا ہے، یعنی تعدد ازواج یا ایک سے زیادہ بیویوں کی تعداد جو قرآن و سنت سے ثابت ہے اور جس کے سلسلے میں کہیں بھی سنت، شریعت، طریقت و خلافت میں بھی ذرہ برابر بھی اختلاف نہیں ہے۔ اس نام نہاد تین طلاق کے بحث و مقدمے کی آڑ میں تعدد ازواج پر بھی پابندی لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حیرت ہے، تین طلاق کی بحث میں اس قدر سنگین مسئلے کو بالکل ہی نظر انداز کر دیا گیا ہے؟ ان کا پسندیدہ موضوع وہی لا یعنی بحث – کیا تین طلاق قرآن سے یا سنت سے ثابت ہے؟ بھائی تعدد ازواج کے سلسلے میں تو امت کے درمیان کسی بھی قسم کا کو ئی اختلاف نہیں ہے۔ نہ اس میں ایک اور تین کی بحث ہے کہ ایک ساتھ اگر تین شادیاں کی جائیں گی تو تین ہوں گی یا ایک۔ یا چار کی جائیں گی تو ایک ہو گی یا چار؟ تو پھر قرآن و سنت پر براہ راست حملے سے ہماری مجرمانہ غفلت کیوں؟ قرآن نے جو عدل کی شرط لگائی ہے، کیا یہ گمان کر رکھا ہے کہ بحیثیت مجموعی ہندوستانی مسلمان عدل کی شرط کو پورا کرنے سے قاصر ہیں یا کوئی اور وجوہ ہیں۔۔۔۔۔؟ یا گمان کر رکھا ہے کہ اچھا ہی ہے اس پر پابندی لگ جائے۔ اور اگر لگ جاتی ہے تو ہم پر کوئی فرق نہیں پڑنے والا؟

لیکن نہیں !ایسا بالکل نہیں ہے! بلکہ اس تین طلاق و تعدد ازواج کے خلاف مقدمے کے بہت دور رس اور مہلک اثرات پڑ نے والے ہیں ۔ ایک مرتبہ اگر عدالت اس سلسلے اپنا فیصلہ سنا دیتی ہے تو ظاہر ہے بر سر اقتدار طبقے کی غیر معمولی دلچسپی کے مدنظر اسے سختی سے نافذ بھی کردیا جا ئے گا۔ ساتھ ہی بیف پر پابندی سے متعلق قوانین یا ڈائو ری (جہیز مخالف )قانون کی طرح اسے غلط استعمال کئے جانے کے قوی امکانات ہیں۔ عدالتی فیصلہ آنے کے بعد، ماضی میں شاہ بانو مقدمے کی طرح کیا موجودہ مسلمان عدالت کے فیصلے کو بدلوانے کی طاقت و قوت رکھتے ہیں؟ ماضی کی طرح مسلمان سرکار پر اس قدر دبائو بنا سکتے ہیں کہ حکومت خود مجبور ہو جا ئے اور عدالت کے فیصلے کے خلاف پارلیامنٹ میں ممبران کی بھاری اکثریت کے ذریعے قانون بناکر اسے رد کردے؟ کیا حکومت سے اس کی امید کی جا سکتی ہے، جبکہ بذات خود وہ ان عائیلی قونین کے خلاف نا صرف عدالت میں فریق بنی ہوئی ہے بلکہ اس کی پر زور وکالت و پشت پناہی بھی کر رہی ہے؟

دوسری اہم بات ملک میں تمام مذہبی گرہوں کو اپنے مذہب کے مطابق عمل کرنے، نکاح طلاق، وراثت و دیگر عائیلی امور پر عمل کرنے کا دستوری و قانونی حق حاصل ہے۔ سب کا اپنا پرسنل لا موجود ہے، جس پر وہ آزادی کے ساتھ عمل کر سکتے ہیں ۔ جو ایک طرح سے ملک میں بسنے والے مختلف مذاہب کو ماننے والوں کے درمیان ایک معاہدے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر ایک بار عدالت یا حکومت کو اس میں مداخلت کا موقع مل گیا تو پھر کو ئی بھی یا کسی بھی گروہ۔ ۔ ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی یا ملک کے مختلف قبائل کے پرسنل لاس محفوظ نہیں رہ پائیں گے۔ اور یکساں سول کوڈ جو کہ ملک کی آزادی سے اقلیتوں اور دیگر طبقات کے سر پر لٹکتی ہوئی تلوار ہے، کے لئے اس چور دروازے سے راستہ ہموار ہو جائے گا، جو بر سر اقتدار طبقے کی دیرینہ خواہش ہے۔ کاش لوگ اسے سمجھنے کی کوشش کرتے، اس سے پہلے کہ معاملہ ان کے ہاتھ سے نکل جائے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close