ہندوستان

غریبی اور مہنگائی کے خلاف لڑائی

ڈاکٹرمظفر حسین غزالی
غریبی اور مہنگائی کا آپس میں گہرا رشتہ ہے۔ کوئی شخص غریب ہے اس کا اندازہ اس کی قوت خرید سے لگایاجاتاہے۔ قوت خرید کم ہونے کا مطلب ہے چیزوں کا مہنگا ہونا۔ یونائیٹڈ نیشن نے اپنے ملینیم ڈولپمنٹ پروگرام میں صحت، تعلیم، تشدد اور دوسرے مسائل کے ساتھ غربت پر خصوصی توجہ دی ہے۔ غربت ایسی بیماری ہے جو سب بیماریوں پر بھاری ہے۔ یہ مضبوط ملکوں کی بھی نیو ہلادیتی ہے۔ کمیونزم کو غربت اور مزدوروں کی وجہ سے ہی فروغ ملا۔سرکاریں سماج اور قیمتوں میں توازن کیلئے سبسڈی کا سہارا لیتی ہیں تاکہ عام آدمی کو بھی اس کی ضرورت کی چیزیں فراہم ہوسکیں۔ اسلام نے غربت سے نپٹنے کیلئے زکوٰۃ کو فرض قرار دیا ہے۔
بھارت میں تقریباً30فیصد آبادی غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گزاررہی ہے۔ یہ ایک ڈالر یومیہ سے بھی کم خرچ کرتے ہیں۔ بھارت سرکار نے غریبی دور کرنے اور صحت میں سدھار لانے کیلئے بچوں کو اسکول بھیجنے وٹیکہ کاری کرانے کی شرط پر غریب خاندانوں کو نقدی ٹرانسفر کرنے کی یوجنا لاگو کی ہے۔ 1990کی دہائی میں میکسیکو میں اس کی شروعات ہوئی اورایک دہائی میں پورے برازیل میں پھیل گئی۔ بھارت میں یہ پروگرام کافی اہم ثابت ہوسکتا ہے۔ جن دھن، آدھار اورموبائل کی مختصر شکل جے اے ایم یعنی جیم کے ذریعہ یہاں سماجی فلاح پالیسی میں خاموش کرانتی کی شروعات ہوئی ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک بھارت ورلڈ کا سب سے بڑا غریب ملک بھی ہے۔ جہاں کسی بھی سرکار کی اہمیت غریبوں کوسہولتیں دینے کی اس کی صلاحت کی بنیاد پر طے ہوتی ہے۔ اس لئے مرکزی وریاستی سرکاریں مختلف چیزوں و سہولتوں پر سبسڈی دیتی ہیں تاکہ غریب لوگ انہیں خرید سکیں۔ اس سبسڈی کی لاگت مجموعی گھریلو مصنوعات کے قریب4.2فیصد ہے۔ جو غریبی کی سطح سے اوپر کے ہر غریب بھارتیہ خاندان کے معیار کو بڑھانے کیلئے کافی ہے۔
افسوس اس بات کا ہے کہ سبسڈی والی چیزیں کالا بازاری کی نذر ہوجاتی ہیں۔ مثلاً41 فیصدرعایتی کیروسین تیل کا کوئی حساب نہیں ملتا وہ کالا بازار میں بیچا جاتاہے۔ ڈیلر اسے بچولیوں کو بیچ دیتے ہیں جو اس میں ڈیژل ملا کر ایندھن کے طورپر بیچتے ہیں جو صحت اور ماحول دونوں کیلئے نقصان دہ ہے۔ اس میں سرکاری افسران اور سیاسی لیڈران کی بھی ملی بھگت رہتی ہے۔ یہ رعایتی کیروسین ضرورت مندوں تک نہیں پہنچ پاتا۔ اس کے علاوہ کچھ سبسڈی کا فائدہ ایسے لوگوں کو بھی ملتا ہے جنہیں اس کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ جیسے بجلی سبسڈی کا فائدہ دوتہائی آبادی کو ملتا ہے۔ ان میں وہ امیر لوگ بھی شامل ہیں جو بجلی کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ دہلی کی کجریوال سرکار نے بجلی کا سلیب مقرر کرکے سبسڈی کا فائدہ ضرورت مندوں تک پہنچانے کی کوشش کی ہے لیکن امیر لوگ اس کا فائدہ لینے کا کوئی نہ کوئی راستہ نکال ہی لیتے ہیں۔ اسی طرح رسوئی گیس کا معاملہ ہے۔ نریندرمودی نے اخلاقی طورپر لوگوں سے گیس سبسڈی چھوڑنے کی اپیل کی ہے۔ اصل میں سبسڈی غریبوں کی مدد کرنے میں صوبوں کی نااہلی کو چھپانے کا ذریعہ بن گئی ہے۔ اسکول اور عوامی صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے مقابلہ میں رعایتی قیمت پر کیروسین یا کھانے پینے کی چیزیں فراہم کرنا آسان ہے۔
ایسے میں جیم کے تین جز یعنی جن ، دھن، آدھار اور موبائل بدلاؤ لانے کے لحاظ سے اہم ہیں۔ جن دھن یوجنا کے تحت قریب11.8کروڑ لوگوں کے بینک کھاتے کھولے گئے۔ آدھار کے ذریعہ تقریباً ایک ارب لوگوں کو بائیو میٹرک شناختی کارڈ جاری کیاگیاا ور اب آدھے سے زیادہ ملک کے عوام کے پاس موبائل فون ہیں۔ جبکہ محض3.7فیصد لوگوں کے پاس ہی لینڈ لائن ٹیلی فون ہیں۔ یہ تینوں ملاکر کتنے مفید ہوسکتے ہیں اس کااندازہ اس مثال سے لگایاجاسکتا ہے۔ مرکزی سرکار رسوئی گیس پر سبسڈی دیتی ہے۔ پچھلے سال اس سبسڈی کی رقم قریب آٹھ ارب ڈالر تھی۔ ابھی حال تک بازار سے کم قیمت پر لوگوں کو رعایتی رسوئی گیس دی گئی۔ لیکن اب رسوئی گیس پر سبسڈی سیدھے اصل فائدہ اٹھانے والوں کے بینک کھاتوں میں دی جاتی ہے،جسے موبائل سے جوڑ دیاگیا ہے۔ اس طرح اب صرف فائدہ اٹھانے والوں کو ہی اس کا فائدہ ملتا ہے۔ جبکہ پہلے سبسڈی اور غیر سبسڈی کے بیچ فرق سے کالا بازار پھل پھول رہا تھا۔ اس طرح رساؤ میں کمی آئی ہے اور ایک اندازے کے مطابق دوارب ڈالر کی بچت ہوئی ہے۔ الگ الگ سبسڈی کو ایک ہی نقدی ٹرانسفر میں بدلنے کا خیال کئی دہائی پہلے ماہر معاشیات ملٹن فریڈمین نے دیا تھا جو بھارت میں جیم کے ذریعہ انجام پارہا ہے۔
جیم کا پورا فائدہ اٹھانے کیلئے سرکار کو اس سے جڑی دوچنوتیوں سے نپٹنے کی ضرورت ہے ایک اصل کنزیومر کی پہنچان اور دوسرے صوبوں و سرکاری شعبوں کے بیچ تال میل بنانا۔ نقد ی ٹرانسفر کا فائدہ دینے کیلئے سرکار کو غریبوں کی پہنچان کا طریقہ تلاش کرنے اور کنزیومرس کو بینک کھاتوں سے جوڑنے کی ضرورت ہوگی۔ مرکزی سرکار کو ریاستوں سے تال میل بنانے کی بھی ضرورت ہے تاکہ ان کی اقتصادی بچت کیلئے ہمت افزائی کی جاسکے۔ آخری آدمی تک پہنچنے کاچیلنج اس لئے پیدا ہوتا ہے کیوں کہ نقدی ٹرانسفر میں اصل کنزیومر کے چھوٹ جانے کا خطرہ بنارہتا ہے۔ اگراس کے پاس بینک کھاتہ نہ ہو، بینک کھاتہ ہونے پر بھی وہ بینک سے بہت دور ہوسکتے ہیں۔ بھارت کے چھ لاکھ گاؤں میں40ہزار بینکوں کی برانچیں ہیں۔ دور دراز اور غریب فائدہ اٹھانے والوں تک رقم کو پہنچانے کیلئے بینکوں کوموبائل کے ذریعہ بھگتان کی سہولت فراہم کرنی ہوگی۔ اس میں کینیا جیسے ممالک نے کامیابی حاصل کی ہے۔
کل ملاکر جیم سرکار، معیشت اور خاص کرغریبوں کو مکمل فائدہ دیتا ہے۔ سبسڈی کا بوجھ کم ہونے سے جہاں سرکار کی اقتصادی حالت بہتر ہوگی وہیں عوام کیلئے سہولیات فراہم کرانے کی صلاحیت سے اسے مضبوطی ملے گی۔ مثال کے طورپر منریگا میںآدھار کی بنیاد پر بھگتان سے کرپشن میں کمی آنے کے ساتھ مزدوروں کے بھگتان میں تیزی آئی ہے۔ اسی طرح نقدی ٹرانسفر سے غریبوں کی مشکلیں بھی کم ہوئی ہیں۔ سرکار کو مہنگائی پر انکش لگانے کیلئے بھی کچھ اقدام کرنے ہوں گے۔ مثلا امریکہ میں دہائیوں سے کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتیں بڑھنے نہیں دی گئیں۔ پراپنے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کیلئے امریکی سرکارنے ہرسال ان کی فصلوں پر امدادی رقم میں بڑھوتری کی، تاکہ کسان کی جیب میں اضافی رقم آئے اور عام آدمی کی جیب کے مطابق بازار میں کھانے پینے کی چیزیں دستیاب ہوں۔ سرکاری ملازمین کی انکم کا تو مہنگائی سے توازن بن جاتا ہے۔ لیکن عام آدمی خاص طورپر غریبوں کی آمدنی مہنگائی سے توازن قائم کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ اسی لئے کبھی اس کی تھالی سے دال غائب ہوجاتی ہے توکبھی آلو اسے منہ چڑھانے لگتا ہے۔ کبھی پیاز رلاتی ہے توکبھی ٹماٹر لال ہوجاتا ہے۔ کبھی تیل چھونکنے کیلئے میسر نہیںآتا توکبھی شکر اس کی پہنچ سے دور ہوجاتی ہے۔ اسی توازن کو بنانے کیلئے موسم، پیداوار، جمع خوری،بازار اور افراط زر سے اوپر اٹھ کر سرکار کو ٹھوس قدم اٹھانے ہوں گے تاکہ عام لوگوں اور غریبوں کا مہنگائی کے ساتھ توازن قائم ہوجائے سکے اور ان کی جیب کے مطابق کھانے پینے کی چیزیں انہیں دستیاب ہوں۔غریب اور کمزور تو غریبی و مہنگائی سے لڑ رہے ہیں لیکن سرکار کی شرکت کے بغیر وہ اس لڑائی میں کامیاب نہیں ہو سکتے ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close