ہندوستان

قانون کی اندھی آنکھوں کا آپریشن ضروری ہے

تسنیم کوثر
اگر آپ کو یاد ہو تو ملک میں 1993سے ججوں کی تقرری کے لئے قائم کولیجیم سسٹم یعنی by the judges for the judges of the judges کو اس طرح سے ترتیب دیا گیا ہے کہ اسے بدلنے کے لئے مارشل لاء لانا پڑے گا اور جس حساب سے ملک کے حالات کروٹ لے رہے ہیں وہ دن دور بھی نہیں لگ رہے ۔ حکومتیں بدل گئیں مگر کو لیذیم سسٹم جوں کا توں رہا ۔تو آپ اس خام خیالی میں نہ رہیں کہ جمہوریت میں آپ کے پاس ووٹ کی طاقت ہے اور آپ تختے پلٹنے کی طاقت رکھتے ہیں آنے والے دنوں میں ایسے دعوے داروں کا مقدر تختہ ہوگا ۔
پچھلی سرکار کے وزیر قانون نے عدالتوں کی جوابدہی طے کرنے کے لئے ایک قانون بنائے جانے کا ذکر کرکے عدلیہ کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا مگر کامیاب نہیں ہو سکے ۔ آئین کے آرٹیکل 124 میں صاف صاف درج ہے کہ ججوں کی تقرری کا حق صدر کے پاس ہے اور صدر اپنے اس حق کا استعمال ہندوستان کے چیف جسٹس کی سفارش کے ‘بعد’ کرتا ہے نہ کہ مشورہ کے ‘مطابق۔ 1993میں اس کولیجیم سسٹم کو آئین سے پرے بنانے کی کیا اور کیوں ضرورت پیش آئی اور اسکو مطلق العنان ہونے کی حد تک کیوں طاقت دی گئی یہ بھی ایک راز ہی ہے جسے ابھی اور بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اسوقت بابری مسجد کی شہادت کا زخم تازہ تھا اور عدالت عا لیہ کی حکم عدولی کی پاداش میں کئی اہم شخصیات قانون کی زد میں تھیں ۔یہ ایسا سسٹم ہے جسنے پارلیمنٹ تو پارلیامنٹ صدر جمہوریہ تک کو اپنے تابع کر رکھا ہے انکی رائے بس دینے بھر کی ہے۔
2014میں جب حکومت بدلی تو محض 6 مہینے کے اندر اس سسٹم کو ختم کرنے کے لئے ایک نیا لائحہ عمل مرتب کر لیا گیا کیونکہ اس حکومت کو اس بدلاٗو کی سب سے زیادہ ضرورت تھی مگر رہ گئے ٹائیں ٹائیں فسس اور 99 ویں ترمیم اور NJAC ( NATIONAL JUDICIAL APPOINTMENT COMMISSION ) کو سپریم کورٹ نے یکسر خارج کر دیا جسمیں سول سوسائٹی اور سیاسی دخل کو ججوں کی تقرری کے عمل میں شامل کیا گیا تھا۔
پھر ہم یہ دیکھ چکے تھے کہ ستمبر 2014میں کیسے امت شاہ کو راحت دینے والے جج کیرالہ کے گورنر بنا دئے گئے اور کسطرح 1999میں اپنا ئے گئے ججز کوڈ آف کنڈکٹ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے نہ صرف یہ کہ سابق چیف جسٹس آف انڈیہ نے عہدہ قبولا بلکہ میڈیا میں خود کا بچاوء بھی کیا ۔اسلئے جب نئی حکومت اپنے اس قانونی داوٗ پیچ میں فیل ہوئی تو اب دوسرا طریقہ اپنایا گیا یعنی چن چن کر برہمن اور گجراتی جج دوسرے راستے سے اوپر پہنچائے جانے لگے حتی کے بھگوا دہشت گردوں کو با عزت بری کرا لیا گیا ۔مگر حد تو تب ہو گئی جب 69 زندہ جلائے گئے لوگوں کے مجرموں میں سے کسی ایک کو بھی پھانسی نہیں دی گئی اور جلے پر نمک خود جج صاحب نے لگایا ۔
بری ہونے والوں کے نام پہلے پکارے گئے تو فرمایا ۔میں آپ سب کے چہرے پر ہنسی دیکھنا چاہتا ہوں پھر جواز دیا کہ خود احسان جعفری نے اپنی بندوق سے فائر کر کے بھیڑ کو مشتعل کر دیا۔انصاف کی تاریخ میں پہلی بار کوئی جج اس دیدہ دلیری سے دنگائیوں کی حمایت میں کھڑا دکھا ہے ۔
مطلب یہ کہ اگر آپکے دروازے پر قاتلوں کی ٹولی دستک دے اور آپکو سوسائٹی سمیت جلا ڈالنے کا تمام سامان لے کر آپکی جان کے درپے ہو تو بھی آپ اپنی لائسسنسی بندوق نہ نکالیں اور اگر غلطی سے نکال بھی لیں تو فائر کرنے کی بھول نہ کریں مبادہ آپکی گولی بھارت ماتا کے کسی لال کو لگ جائے اور وہ کورٹ تک پہنچنے کے لائق نہ بچے۔۔۔۔۔۔!
مگر صاحب بے حسی تو ہماری ہے کہ ہم زکیہ جعفری کے ساتھ کہیں دور دور تک بھی کھڑے نظر نہیں آتے ۔
ہم وہی تو ہیں عدل جہانگیری کے علم بردار ۔۔۔۔۔!انصاف پسند بادشاہ نے رعایا کی فریاد تک براہ راست پہنچنے کے لئے محل کے سامنے ایک زنجیر سے بندھا گھنٹا لگوایا تھا جسکو فریادی بنا وقت کا لحاظ کئے بجا کر انصاف کا طلبگار ہو سکتا تھا۔اُس دور میں تو فریادی اتنے ہی تھے کہ گاہے نوبت آتی مگر آج حاکم وقت گھنٹا لگوا دے تو اتنا بجایا جاےء گا کہ اگلی سات پشتیں بہری پیدا ہوں گی ۔
یوں تو انصاف بانٹنے کی تاریخ بہت پرانی ہے’’عدل جہانگیری‘‘ کے دو واقعے بہت مشہور ہیں۔ ایک آوارہ گدھے نے جب زنجیر کے قریب اگی ہوئی گھاس کھانا شروع کی تو زنجیر ہل گئی۔ جہانگیری انصاف فوراً حرکت میں آ گیا۔ تحقیق اور تفتیش کے بعد پتہ چلا کہ کمہار اپنے گدھے پر برتن تو لادتا ہے لیکن چارہ نہیں کھلاتا۔ چنانچہ قصر شاہی سے فرمان جاری ہوا کہ مظلوم گدھے پر برتن کم لادے جائیں اور اسے گھاس زیادہ کھلائی جائے۔
دوسرا واقعہ اس سے بھی زیادہ ڈرامائی ہے۔ نور جہان محل کی بالکونی میں اپنے بال کھولے بیٹھی تھی کہ نیچے گھاٹ پر کپڑے دھوتے ہوئے دھوبی نے اسے دیکھ لیا۔ اس نے غصے میں آ کر تیر کمان پر چڑھایا اور گستاخ نگاہ کے سینے میں اتار دیا۔ اس جرم پر عدل جہانگیری حرکت میں آ گیا۔ ملکہ عالیہ کو سزائے موت سنا دی گئی جسے بالآخر بیوہ کی درخواست پر معاف کر دیا گیا ۔ لغت سے ہٹ کر بھی انصاف کی تعریف کی گئی ہے۔justice is the intrest of the strongest
انگریزی دور میں انصاف دو طرح کا تھا جس کا پرچارک میکاولی ہے۔ ’’اگر سلطنت کے استحکام کو خطرہ ہو تو ہر اخلاقی ضابطہ پھلانگ جاو۔
جب ملک آزاد نہیں تھا تو انگریزوں کے دو سو سال کا دور حکومت اور اس سے پہلے مسلمانوں کی حکمرانوں کے ساڑھے پانچ سو سال اور اس سے پہلے کے ہندو بادشاہ۔مہاراجاؤں کے دور حکومت میں دربار، اورشرعی عدالتیں عوام کو انصاف دینے کا کام کیا کرتے تھے ۔ مسلم دور میں شرعی عدالتوں کا بھی نیٹ ورک پورے ملک میں بچھا ہوا تھا اور شہر قاضی انصاف کی کرسی پر بیٹھ کر قرآن و سنت کی روشنی میں انصاف کیا کرتے تھے۔عدالتی عمل میں تبدیلی انگریزوں کے دور حکومت میں شروع ہو ئی اور آئی پی سی ، سی آر پی سی اور سی پی سی بنا کر تمام عدالتی ڈھانچہ تیار کیا جس کا مرکز انگلینڈ میں ہوتا تھا ۔ملک کے ہر صوبے میں ہائی کورٹ اور ہر ضلع میں عدالتوں کے ذریعے عدالتی عمل کی ابتدا ہوئی۔ انگریزوں کے ہی دور میں وکیل کا کردار ابھر کر سامنے آیا اور لوگ بار یٹ لاکی سپریم ڈگری لینے انگلیڈ جاتے اور وکالت کرتے۔آپکو جان کر حیرت ہوگی کہ صرف سو سالوں میں اس وکیل پرجاتی ( سخت لفظ کیلئے معذرت) نے ہندوستان کی تقدیر بدل کر رکھ دی ۔
وہ وکیلوں کی ہی فوج تھی جو 1947میں سرگرم تھی اور وہ ایک وکیل ہی تھا جسنے انگلینڈکا پرائم منسٹر بنتے ہی یہاں پاکستان بنایا اور وہاں اسرائیل۔ 1927 میں سائمن کمیشن میں ایک ممبر کی حیثیت سے کلینمنٹ ایٹلی جو پیشے سے وکیل تھا ہندوستان آیا ۔اسکو سمجھنا تھا کہ ہندوستانیوں کی سیلف رُول کی ڈیمانڈ میں کتنا دم ہے اسنے پایا کہ ہندوستانی مسلمان اسکی توقع سے زیادہ احمق ہیں اور ہندو امید سے زیادہ وفادار۔ ۔جناح سے لے کر نرسمہا راو تک آپکو تصویر صاف دکھے گی ایک نے پاکستان لیا تو دوسرے نے یہاں پہلا اسرائیلی سفارت خانہ کھلوایا اوربابری مسجد شہید کروائی۔اس زمانے میں کون سے ایسے وکیل تھے جن میں سیاست کے جر ثومے بدرجہء اتم موجود تھے ۔ ذرا غور کیجئے ناموں پر۔۔۔۔موہن داس کرم چند گاندھی ، محمد علی جناح ۔کلیمنٹ ایٹلی،سردار ولبھ بھائی پٹیل ، پنڈت جواہر لال نہرو، ڈاکٹر راجندر پرساد اور جناب بھیم راو امبیڈکر۔ہماری آپکی تقدیر آج بھی وہی جینٹری لکھ رہی ہے جو وکیل بھی ہے اور اسکو سیاست کا مرض بھی ہے۔اویسی ہوں یا سوامی اس حمام میں سب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
ملک آزاد ہوا۔ ملک کا آئین بنا اور موجودہ نظام قائم ہوا۔ عدالتوں میں عدالتی حکام اور ججوں کی ساکھ پر کوئی سوالیہ نشان کافی لمبے عرصے تک نہیں رہا لیکن سپریم کورٹ میں ججوں اور چیف جسٹس آف انڈیا کی تقرری پر جیسے جیسے سیاسی جماعتوں کی مقصد براری ، بدنیتی سیاہ و سفید کی آمیزش شروع ہوئی انصاف کے مندروں کے ان معبودوں کے کردار پر سوالیہ نشان لگنے لگے قومی اور آئینی مسائل پر عدالتوں کے کردار پر سوال اٹھے۔ عدالتوں کی سیکولر شبیہ پر سوال کھڑے ہوئے لیکن توہین عدالت کے خوف سے عوام کی زبان پر تالے پڑے رہے اور پڑے رہیں گے ۔میڈیا میں کچھ لُولے لنگڑے انصاف کا پرچم ہاتھ میں تھامے دہائی دیتے ہیں پر انکی صدا پر صاد کیسا؟ یہ تو بھروسہ کھو چکے ہیں۔
کانگریس پارٹی جو ہمیشہ سے آزاد اداروں کے ساتھ کھلواڑ کرتی رہی ہے کی کولیجیم کو توڑنے کی پچھلی تمام کوششوں میں سپریم کورٹ نے الٹے بانس بریلی کو والی کہاوت کو بار بار دہرایا ہے اور 2014 میں بھی یہی ہوا ۔ دراصل 1970 کی دہائی میں کانگریس نے عدالت عالیہ پر بڑے حملے کئے۔ اپریل 1973 میں چیف جسٹس کی تقرری میں اس نے تین سینئر ججوں کو نظر انداز کیا تھا ۔جنوری 1977 میں ایک بار پھر کانگریس حکومت نے ہندوستان کے سب سے قابل ججوں میں سے ایک کی سنیارٹی کو درکنار کر دیا تھا۔ عدلیہ کو اور کمزور کرنے کے لئے اس کے بعد یہ حکومت 42 ویں ترمیم بل لے کر آئی۔ 1977 میں لوک سبھا انتخابات میں کراری شکست کے بعد بھی کانگریس کے رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ 1980 میں اقتدار میں واپسی کے بعد پھر پرا نی روش پر چلنے لگی ۔ تب لوگ کہتے تھے کہ کانگریس آسانی سے رام ہونے والے ججوں کی تلاش کر رہی ہے۔پھر آیا 1993 میں کولیجیم سسٹم جس میں سپر اتھارٹی خود جج صاحبان ٹھرے ۔سیاسی دخل صفر ہو گیا ۔اب کونسا زمانہ بدل گیا ہے ۔۔نئی بوتل میں پرانی شراب بک رہی ہے ۔کانگریس کی بسر تلچھٹ پہ ہے۔
عدالتوں میں بدعنوانی کے جراثیم نچلی عدالت سے داخل ہوئے تو عدالتوں میں انصاف کی خرید و فروخت کا کام شروع ہوا۔ پھر یہ بیماری ضلع جج و منصف مجسٹریٹ میں سرائیت کر گئی ۔ اب تو وکیل اس بات پر افسردہ پھرتے ہیں کہ جج کے ساتھ چیمبرنگ نہیں ہو رہی ۔۔۔۔جج سیٹ نہیں ہو رہا ۔عدالتوں میں بے گناہوں کو سزائیں اور مجرموں کو آزادی ملنے لگی۔ مخصوص عدالتوں میں تو انصاف کی جگہ صرف سزا ہی ملنے لگی۔ ان سب کے درمیان فلموں میں جج صاحبان کی کرسی کے پیچھے آنکھوں پر پٹی باندھے انصاف کا ترازو لئے کھڑی انصاف کی دیوی ساکت رہی ۔ لوگ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ قانون اندھا ہوتا ہے۔مگر مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ دیوی کسی دن آنکھوں کی پٹی خود کھول کر جج کے سامنے گاندھاری بن آکھڑی ہوگی اور وہ بدبخت لنگوٹ کس کر آیا ہوگا۔انتظار اس بات کا ہے کہ رام راج پہلے آئے گا یا کرشن کے ساتھ بھیم ۔ اور ہم سے تو امید ہی مت رکھئے ہم میں اب وہ بلال کہاں جو اذاں نہ دے تو سحر نہ ہو۔ اور جو کوئی بننے کی کوشش کرے گا تو ایم ایم خان کی طرح اپنی ہی آستین کے سانپ سے ڈسا جائے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

تسنیم کوثر

تسنیم کوثر روزنامہ ایشین رپورٹر کی اڈیٹر ہیں۔ آپ نے آل انڈیا ریڈیو اور دور درشن کو بھی اپنی خدمات دی ہیں۔ آپ کا آبائی وطن ضلع پورنیہ بہار ہے۔ پٹنہ یونیورسٹی سے تاریخ اور اردو میں ماسٹرز کیا ہے۔ سماجی اور علمی خدمات میں پیش پیش رہی ہیں۔ ان کے 17 افسانوں کا مجموعہ ''بونسائی'' زیور طبع سے آراستہ ہو چکا ہے۔ دوسرا مضامین کا مجموعہ ''خدا جھوٹ نہ بلوائے" زیر طبع ہے۔ asianreporter.in@gmail.com

متعلقہ

Close