قربانی کا بکرا

0
ممتاز میر
بچپن میں جب مطالعہ شروع کیا تو معلوم ہوا کہ پہلے ہمارا ملک بہت بڑا تھا ۔اورنگ زیب عالمگیر کے زمانے میں تو ہمارے ملک کی جسامت قریب قریب دگنی تھی ۔پھر انگریزوں کے دور میں ملک کچھ دبلا ہونا شروع ہوا پھر انھوں نے جاتے جاتے کچھ ایسا چکر چلایا کہ پاکستانیوں کے قائد اعظم محمد علی جناح نے ملک کے دو ٹکڑے بلکہ تین ٹکڑے کرنے کی مانگ کردی ۔پھر جب مطالعہ اور بڑھا تو معلوم ہوا کہ تقسیم وطن کے مطالبے میں یا خواہش میں یا سازش میں محمد علی جناح اکیلے نہ تھے بلکہ کچھ دیش بھکت بھی ان کے ساتھ شامل تھے جو یہ چاہتے تھے کہ انسانی مساوات کا دعویٰ کرنے والی یہ قوم منو سمرتی کو سینے سے لگانے والوں کے اس دیش سے دفع ہو جائے اور یہاں منو سمرتی کے اصولوں کو بلا روک ٹوک نافذ کیا جا سکے۔اسی لئے تو یہ کہا گیا کہ 1000 ہزار سال بعد یہاں ہندو حکومت قائم ہوئی ہے ۔(حالانکہ لفظ ہندو ہی آج تک کسی کی سمجھ میں نہ آسکا ہے)مگر موجو دہ حالات کا تجزیہ کیا جائے تو یہ لگتا ہے کہ پاکستان اسلئے بنایا گیا ہے کہ بوقت ضرورت کام آئے ۔اور جب بھی ضرورت پڑے قربانی کے بکرے کے طور پر استعمال کیا جا سکے ۔اور یہ بھی بڑی عجیب بات ہے کہ قربانی کے اس بکرے کو استعمال کرنے کی نوبت ہمیشہ ان کے دور حکمرانی میں آتی ہے جو اس سے کم سے کم اظہار تو انتہائی شدید نفرت کا کرتے ہیں مگرکبھی کبھی باطن کابھی اظہار ہو ہی جاتا ہے ۔وہ اس طرح کے کبھی اس کے وزیر اعظم کو رسم تاجپوشی میں بلا لیا جاتا ہے ۔ظاہر ہے ایسے موقعوں پر اپنوں کو تو یاد کیا ہی جاتا ہے،پھر اپنے کبھی اپنوں کے پاس بچوں کی شادی کے بہانے چلے جاتے ہیں اور کبھی سالگرہ کا کیک کاٹنے۔اور اتنا سب کچھ ہونے پر بھی ملک کی عوام اصلیت تک نہیں پہونچ پاتی (ہمیں یقین ہے کہ ہر ملک کا سیاستداں ایسی عوام کے حصول کی دعا مانگتا ہوگا )۔اس کی وجہ کیا ہے ؟ہم نے بارہا لکھا ہے کہ انسان کے عقائد اس کی زندگی میں بہت اہم رول ادا کرتے ہیں۔NDAپاکستان کے ساتھ تعلقات میں جو قلابازیاں کھاتی ہے ۔ وہ سب ہندو عقائد کی طرح ہی ہیں پھر سونے پہ سہاگہ RSS کی تربیت ہے اب جو بھی محیرالعقول خبریں سنگھی میڈیا پھیلاتا ہے ہماری عوام اس پر آنکھ بند کرکے ایمان لاتی ہے۔غیر مسلم عوام کیا کرتی ہے ہمیں اس سے کچھ بہت زیادہ لینا دینا نہیں ۔ہمارے لئے مسئلہ ’’ایمان والوں ‘‘ کا طرز عمل ہے ۔ہماری جو بنیادی کتاب قرآن کریم ہے اس کے ذریعے ہمیں 1400 سال پہلے ہی ہدایت دی جا چکی ہے کہ کسی بھی بات پر یقین کرنے سے پہلے اس کی تحقیق کرلو بصورت دیگر خاموش رہو ۔ مگرہوتا کیا ہے ؟کسی بھی واقعے کے بعد جب مذمت کی کھجلی چلتی ہے تو اس کی زد میں ہماری بڑی بڑی تحریکیں ،تنظیمیں اور جماعتیں آجاتی ہیں اور یہ بھی بھلا دیا جاتا ہے کہ چند گھنٹوں پہلے کسی مسئلے کے تعلق سے ہمارا موقف کیا تھا؟
حالیہ حکومت سے پہلے جب این ڈی اے حکومت بنی تھی تب بھی مضامین اور تبصروں میں یہ بات کہی گئی تھی کہ این ڈی اے حکومت جب جب مصیبت میں پڑتی ہے پاکستان وفادار دوست کی طرح قریب قریب ہمیشہ ان کی مدد کو پہونچتا ہے ۔یہ پاکستانی حکمرانوں کی وفاداری کی انتہا ہے کہ وہ بی جے پی کی مدد بھی کرتے ہیں اور بدلے میں خود اپنے چہروں پر کالک بھی ملتے ہیں ۔سنگھی جی بھر کے اسے بدنام کرتے ہیں demoralise کرتے ہیں اور دوست گالیاں کھا کر بھی بے مزہ نہیں ہوتا۔پچھلی اور حالیہ این ڈی اے حکومتوں کے دور میں دہشت گردانہ واقعات اور ملکی سیاسی حالات کا مقابلہ کیا جائے تو ہماری بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی۔سب سے موٹی اور تازہ مثال اری فوجی ہیڈ کوارٹر پر حالیہ حملہ اور پھر سرجیکل اسٹرئک کا شور اور اس پر دونوں دوستوں کی بیان بازیاں ہیں۔ہم تو سیاسی معاملات میں بدھو ہیں مگر سیاست کے طفل مکتب بھی کہہ رہے ہیں کہ صاحب کشمیر میں برہان وانی کو مار کر اور اسے شہرت دے کر جو اسٹریٹجک غلطی ہوئی ہے اس نے توقعات کے برخلاف کشمیر میں رد عمل پیدا کیا اور مسئلہ کشمیر جو عالمی منظر نامے سے غائب ہو رہا تھا اسے پھر ہائی لائٹ کر دیا۔ایک وجہ تو یہ ہوئی پھر دوسری غلطی گؤ رکشکوں سے یہ ہوئی کہ انھوں نے مسلمانوں جو دلتوں سے بد تر بنا دئے گئے ہیں کے ساتھ ساتھ دلتوں پر بھی ہاتھ ڈالنا شروع کر دیا ۔دراصل وطن عزیز میں دلتوں کو جو مراعات حاصل ہیں وہ آج تک گؤ رکشکوں کو ہضم نہیں ہوئی ۔اسی لئے تواب پٹیل گوجر جاٹ کھڑے کئے جا رہیں تاکہ دلتوں کی مراعات ختم نہیں تو کم ہوسکے اور مسلمانوں کو بھی ٹھینگا دکھایا جا سکے۔گائے کے بہانے گؤ رکشکوں نے اس تعلق سے بھی دل کے پھپھولے پھوڑنے شروع کر دئے مگر تصور میں نہیں عملاً۔ہزاروں سال سے ہندو سماج میں دلتوں کو جانوروں سے بدتر سمجھا جاتا ہے ۔اب 60؍70 سال سے جو مراعات حاصل ہیں اوپر سے Atrocity Act کا رداّ۔ یہ سنگھ پریوار کے چہیتوں کو کیسے برداشت ہو سکتا تھا۔ تھوڑے تصرف کے ساتھ شعر پیش ہے ؂ ان کا جو فرض ہے وہ اہل سیاست جانیں؍میرا پیغام تشدد ہے جہاں تک پہونچے۔تو صاحب گؤ رکشک اور کر بھی کیا سکتے ہیں ان کی تعلیم و تربیت یہی ہے ۔سیاسی الجھنیں سیاست داں جانیں ۔
اگر گجرات،اتر پردیش ،گوا اور پنجاب میں الیکشن ہے تو انھیں کیا ۔انھیں جو کام دیا گیا ہے وہ کر رہے ہیں حکومت اپنا کام کرے۔گجرات میں بی جے پی کی ناک داؤں پر لگی ہے تو انھیں کیا فکر ۔یو پی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ۔تو ہوگا۔پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی نے یو پی میں وہائٹ واش کیا تھا،اب ایسا کچھ ہوتا نظر نہیں آرہا ہے تو وہ کیا کر سکتے ہیں۔یو پی بی جے پی کے صدر نے مایا وتی کو گالی دے دی توان کے نزدیک اچھا ہوا کیونکہ مایا وتی بھی تو دلت ہیں ۔اور صاحب جس حسن و خوبی سے گؤ رکشک اپنا رول نبھا رہے ہیں اتنی ہی اچھی طرح مودی حکومت بھی اپنا رول نبھا رہی ہے ۔کیسے ایک ہی داؤں میں عوام اور سیاست داں سب کو چت کر دیا ۔اب سب ہی مودی حکومت کے گن گا رہے ہیں کہ نہیں ؟اور کہئے اس داؤں میں پاکستان کا Lion’s Role ہے کہ نہیں؟اس سے پہلے نومبر 2008 میں کر کرے نامی ’’ویلن ‘‘ کی وجہ سے سارا سنگھ پریوار سنکٹ میں آ گیا تھا ۔کرکرے سنگھ پریوار کے کالے چہرے روشنی میں لانے کی کوششوں میں مصروف تھے ۔اور کسی کی سن نہیں رہے تھے بس ایک دو دن کی بات تھی ۔پھر معلوم نہیں کیا ہوا ؟ہمارے یہاں declassifyکی روایت نہیں اسلئے یہ راز شاید ہی کبھی کھلیں۔بہرحال بظاہر تو یہ ہوا کہ حسب معمول پاکستان میدان میں آیا اور سنگھ پریوار کی راہ کے سارے روڑے دور ہوگئے۔اب آپ چیختے پھرئیے کہ کر کرے کو مارنے والے تو مراٹھی بول رہے تھے ۔مگر عوام سنے اور سمجھے تب نا ۔
اس واقعے میں پاکستان کے رول کو چاہے وہ تاج محل ہوٹل تک محدود ہی کیوں نہ ہوان لوگوں نے بھی تسلیم کیا جو سنگھ پریوار کے کٹر دشمن ہیں ۔اور سنگھ پریوار کے ہر کام میں کیڑے نکالنا جن کا شیوہ ہے۔اور جنھوں نے سنگھ پر بڑی بڑی ضخیم ضخیم کتابیں لکھ ماری ہیں۔مگر معلوم نہیں کیوں سنگھ نے اس اتفاق رائے کا فائدہ نہیں اٹھایا۔کبھی پاکستان کو اس واقعے کے ذمے دار کے طور پر یوں گھیرے میں نہ لیا جیسے آجکل لے رہا ہے ۔یہ تو طے ہے کہ عوام بے وقوف بنائے جانے کے لئے ہوتی ہے مگر اس کی بھی ایک حدہے اور سنگھ اس حد کو فی الوقت تو پھلانگے گا نہیں ۔کیونکہ اتنی دھما چوکڑی مچانے کے باوجود بی جے پی کی نیا الیکشن میں پار لگ جائے گی کسی اور کو کیا یہ یقین خودبی جے پی کے مہارتھیوں کو بھی نہیں اسلئے ابھی الیکشن تک ہمیں اس قسم کے اور ڈرامے دیکھنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے