ہندوستان

قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت

مدثراحمد

ملک بھر میں تیزی کے ساتھ پھیل رہے موب لانچینگ یعنی گروہی تشدد کا سلسلہ سیلاب کی طرح پھیلتا جارہا ہے اور اس تشددمیں سینکڑوں بے گناہ مارے جارہے ہیں۔ اس صورت میں گروہی تشدد  سے نمٹنے کیلئے نہ تو حکومتیں تیار ہیں اور نہ ہی عام لوگ اس کی مخالفت میں سرِعام اترے ہیں۔ ہمارے ایک دانشور اور عالم دین نے اس تعلق سے یہ کہا ہے کہ گروہی تشدد صرف ملت کا مسئلہ نہیں بلکہ ملک کا مسئلہ ہے، یقینا یہ ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ ساری انسانیت کامسئلہ ہے۔ جس مذہب میں کسی انسان کی جان کی پرواہ کرنے کا سبق نہیں ہے وہ مذہب ہی نہیں ہے اور نہ ہی جو شخص کسی انسان کی جان لے لے وہ انسان کہلانے کے لائق ہی نہیں ہے۔

اب ہمارے ملک کے وزیر اعظم موب لانچینگ کے سلسلے میں جو خاموشی اختیارکئے ہوئے ہیں وہ ان کیلئے نئی بات نہیں ہے کیونکہ سال2002 میں گجرات میں ہونے والے فسادات انہیں کی نگرانی میں ہوئے تھے یہ بات اور ہے کہ انسانی عدالتیں اور جانچ ایجنسیاں انہیں ان معاملات سے بری کردیا ہے اور وہ بے قصوروں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ جب ہزاروں کی تعدادمیں مارنے جانے والے لوگوں کی پرواہ نہ کرنے والا شخص اس سے بھی بڑے عہدے پر فائز ہوجائے تو وہ اس گروہ تشدد کے تعلق سے کیا کہے گا۔ سب سے افسوسناک بات ہے کہ ہمارے ملک کے وزیر اعظم نریندرمودی نے مسلمانوں کے حقوق کو دلانے کیلئے ایک انوکھی مہم چھیڑ رکھی ہے اور اس مہم میں وہ مسلم خواتین کے تعلق سے بیحد سنجیدہ و فکرمند ہیں۔ ان کی فکر اس حدتک بڑھ گئی ہے کہ وہ ملک کی بیوہ، مطلقہ اور طلاق حاصل کرنے والی خواتین کو لیکر پریشان ہیں اور انہیں انصاف دلانے کیلئے مسلمانوں کے شرعی قوانین میں تبدیلی لانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایک طرف وہ طلاق شدہ خواتین کوانصاف دلانے کی بات کررہے ہیں تو دوسری جانب ان کی ہی حکومتوں میں مسلم خواتین کو بیوہ بنایا جارہا ہے، مسلم بچیوں کویتیم بنایا جارہا ہے تو کیا وہ ان کیلئے کچھ قانون بنا نہیں سکتے؟۔ کیا ان کے نزدیک طلاق لینے والی خواتین ہی مظلوم ہیں ؟کیا ان کے کارندوں کے ظلم و ستم سے ہلاک ہونے والے افرادکی بیویاں مظلوم نہیں ہیں۔

وزیراعظم نریندرمودی اپنی من کی بات میں سائرہ بانواور نداخان جیسی خواتین کے بارے میں آنسو بہاتے ہیں تو کیا محمد اخلاق کی بیوی ان کے سامنے مظلوم نہیں ہے؟کیا اکبر خان کی بیوی ان کے سامنے مظلوم نہیں ہے؟اکبر خان اور محمد اخلاق جیسے شہیدوں کی 35 سے زائد بیویاں مظلوم نہیں ہیں ؟انہوں نے کبھی بھی ان کے تعلق سے من کی بات نہیں ہے، ہونا تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ جوشودہ بین جیسی مظلوم عورت کو سب سے پہلے انصاف دیکر دوسری عورتوں کیلئے انصاف کی بات کرے، لیکن یہاں تو چراغ تلے اندھیرا ہے۔ آج گروہی تشدد کا شکار ہونے والے مسلمانوں کے حقوق کیلئے لڑنے والا کوئی نہیں ہے۔ ہم اُن تمام تنظیموں سے سوال کرنا چاہیں گے کہ جنہوں نے مسلمانوں کی قیادت کا بیڑا اٹھایا ہے، جو مسلمانوں کے رہنماء ورہبر کہلاتے ہیں۔ کیا اس گروہی تشدد کے خلاف ملک گیر تحریک چلا نہیں جاسکتی ہے؟کیا اب بھی الگ الگ رہ کر اپنے بیانروں کے فکر کرینگے؟کیا ایسا پلاٹ فارم تیار نہیں کرسکتے جہاں تمام مسلمانوں کے حقوق کیلئے آوازا ٹھائی جائے اور اس گروہ تشد کے خلاف محاذ کھڑا کیا جائے اور تحریک چلائی جائے۔ کب تک اسٹیجوں پر اپنی زبان کا جادو بکھیرنے کی چاہ میں ایک اسٹیج نہیں بنا سکتے؟

ہمیں معلوم ہے کہ ان تنظیموں کے سربراہان محض اس وجہ سے ایک نہیں ہوتے کہ کہیں ان کا گھوڑا پیچھے نہ رہ جائے اوران کی تنظیم کا جھنڈا نیچے نہ ہوجائے۔ اپنے اپنے مفادات کی نظر سے کچھ کام کرنے نکلے گے تو بھلا کیسے اسلام کو بول بالا ہوگا، اور کیسے مسلمانوں کا تحفظ ہوگا۔ افسوس ہوتا ہے کہ ہماری تنظیمیں صرف اس لئے عمل میں لائی گئی ہیں کہ کہیں سیلاب آجائے یا طوفان، کہیں زلزلے کی زدمیں بستیاں دب جائیں،  یا پھر فرقہ وارانہ فسادات سے گائوں کے گائوں جل جائیں،  تب جا کر ہماری یہ تنظیمیں چندہ کرتے ہوئے ان آفات زدہ علاقوں کی بازآبادکاری کیلئے کام کرنے نکلیں۔

کبھی کبھی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے کہ کیا ہماری تنظیموں کے ذمہ داران اللہ تبارک سے یہی دعائیں کرتے ہونگے کہ یا اللہ آفت بھیج آفت بھیج اورہم سجائینگے امدادی کاموں کااسٹیج۔ بار بار کہا جاتا ہے کہ ظلم سہنا بھی ظالموں کاساتھ دینے کے برابر ہے تو کیا ہماری قوم کا ایک طبقہ ظالم ہوچکا ہے اور دوسرا طبقہ مظلوم؟۔ ہماری تمام تنظیموں سے یہی گذارش ہے کہ اب اس طرح کے ظلم و سہنے کے بجائے متحد ہوکر آوازاٹھائیں۔ علامہ اقبال نے کہا کہ

قہاری وغفاری وقدوسی وجبروت

یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مدثر احمد

ایڈیٹر، روزنامہ آج کا انقلاب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close