ہندوستان

لک الحمد ولک الشکر

حفیظ نعمانی
1961سے 2001تک چالیس سال ہوتے ہیں۔ ملک کی آزادی کے بعد پہلا فساد یا مسلمانوں کا قتل عام1961میں جبل پور میں ہوا تھا جو مدھیہ پردیش میں تھا اور وزیر اعلا مسٹر کیلاش ناتھ کاٹجو تھے جو نہ صرف الہ آباد کے ممتاز وکیل تھے بلکہ پنڈت جواہر لعل نہرو کے انتہائی قریبی دوست تھے ۔اس زمانہ میں کانگریس میں ایسے مسلمان بھی تھے جنکے لئے وزیر اعظم کے دروازے ہر وقت کھلے رہتے تھے ۔انھوں نے جب پنڈت جی کو بتایا کہ جبل پور میں کیا کیا ہوا ہے ؟ اور حکومت نے فسادیوں کے ساتھ ملنے والی پولس سے کوئی باز پرس نہیں کی تو پنڈت جی کا جواب تھا کہ میں نے کاٹجو سے بات کی تھی ان کا کہنا ہے کہ ابتدا مسلمانوں کی طرف سے ہوئی تھی۔
اس کے بعد 1963میں جمشید پور ،راوڑ کیلا اور کلکتہ میں جبل پور کے مقابلہ میں دس گنا بڑے فساد ہوئے ۔جسکے بارے میں اسوقت ملّی اخباروں نے لکھا تھا کہ بہار کی پوری بیلٹ مسلمانوں سے خالی ہوگئی ہے ۔یہ اتنے بھیانک فساد تھے کہ ہمارے والد مولانا محمد منظور نعمانی اورمولانا سید ابو الحسن علی ندوی جو کبھی زندگی میں سیاسی میدان میں نہیں آئے وہ بھی ڈاکٹر اشتیاق قریشی کو ساتھ لیکر تینوں جگہ گئے تھے ۔اور واپس آنے کے بعد کسی بھی معاملہ میں زندگی بھرچندہ کی اپیل نہ کرنے والے ان بزرگوں نے ایسی اپیل کی تھی کہ پانی کی طرح روپے سے تھے ۔اور جنکی مستحق حضرات تک تقسیم بھی ایک مسئلہ بن گئی تھی ۔لیکن کلکتہ کے حاجی غلام رسول صاحب اور انکے اداروں کے ذریعہ وہ تقسیم ہوسکے۔
اتفاق کی بات کہ برسوں کے بعد میری بھتیجی کی شادی جمشید پور کے ایک ایسے لڑکے کے ساتھ ہوگئی جو ان حادثات کا شاہد تھا ۔اور اسکا پورا خاندان جمشید پور چھوڑ کر جرمنی میں جابسا تھا ۔اس کے ذریعہ جو تفصیل معلوم ہوئی وہ گجرات سے کسی طرح کم نہیں تھی ۔اور یہ تو سب کو یاد ہوگا کہ بھاگل پور میں فوج کی ایک کمپنی نے ایک گاؤں کے تمام مسلمانوں کو حفاظت سے نکالا ۔اور لاکر مقامی پولس کی حفاظت میں دیدیا ۔اور دوسرے گاؤں کے مسلمانوں کو نکالنے کے لئے بھاگے پھر جب انکو لیکر آئے تو وہ سب غائب تھے جنہیں پولس کے سپرد کیا تھا ۔اور اس وقت معلوم ہوگیا تھا کہ ان سب کو شہید کر دیا گیا ۔
1963سے1980تک پورے ملک میں کہیں نہ کہیں بڑے پیمانے پر اور چھوٹے موٹے طور پر مسلمانوں کی بربادی ہوتی رہی کہ 80میں مرادآباد میں وہ ہوا جسکا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا ۔اور جہاں ہم اپنے سیاسی دوستوں کے ساتھ کرفیو میں بھی اور کرفیو سے آزاد زمانہ میں بھی کم از کم دس بار گئے اور کئی کئی دن رہے ۔کیو نکہ ہمارے قریبی عزیز مرادآباد میں بہت ہیں ۔اور جو کچھ معلوم ہوا اسکا حاصل یہ تھا کہ مقامی پولس نے منصوبہ بند طریقہ سے مسلمان کارخانہ داروں اور کاریگروں کو ایسا برباد کیا ہے کہ انکی پیتل نگری کوئلہ منڈی بن جائے ۔مرادآباد کا واقعہ 80 ؁کا تھا ۔اور شاید یہ ملک کا واحد فساد تھا جہاں دو سال سے زیادہ وقت کر فیو رہا ۔اور اس کرفیو میں چھوٹے سامانوں کی تو ساری دکانیں بالکل صاف ہو گئیں ۔ان کے علاوہ ایسی بھاری مشینیں جو چار اور پانچ کو ئنٹل کی تھیں وہ بھی پی اے سی کے ٹرکوں پر لدکر نہ جانے کس شہر میں فروخت کر دی گئیں ؟ دو برس کے بعد ہم اطمینان سے وہاں چند دن رہے تو معلوم ہوا کہ جتنے بھی بڑے بڑے مسلمان کا ر خانہ دا رتھے اور جنکا دنیا کے بڑے ملکو ں سے ایکسپورٹ امپورٹ کا کام تھا وہ اب ہاتھ پھیلائے بیٹھے ہیں کہ کوئی انکی مدد کردے ۔اور جو ماہر کاریگر تھے اور دن بھر میں کئی سوروپے کا کام کرتے تھے وہ اب رکشا چلا رہے ہیں ۔اور 35برس کے بعد بھی یہ حال ہے کہ اب کارخانہ دار 90فیصدی ہندو ہیں ۔اور کاریگر انکی مقرر کی ہوئی مزدوری پر کام کرنے پر مجبور ہیں۔
دو مہینے پہلے جاٹوں نے رزرویشن کی تحریک میں کہا جاتا ہے کہ 50ہزار کروڑ روپے کے بڑے بڑے شوروم اور مال جلا کر راکھ کردئے ۔اوراب ہر کسی کو بھر پور معاوضہ دیا جارہا ہے ۔ایسا تو شاید نہ ہو کہ نقصان کی پوری تلافی ہو جائے ۔لیکن اتنا ضرور ہو جائیگا کہ اس سال کے اندر کوئی پہچان بھی نہیں سکے گا کہ یہ وہی روہتک ہے جہاں پر غیر جاٹ کی بڑی اور چھوٹی دکانیں اور شوروم راکھ کا ڈھیر ہو گئے تھے ۔لیکن اس وقت کی اتر پردیش کی کانگریس حکومت نے مرادآباد کے کسی مسلمان کو اتنا معاوضہ بھی نہیں دیا کہ وہ اپنے کا ر خانوں کا جلا ہوا ملبہ بھی مزدوروں سے صاف کرا سکیں ۔
ہم دعوے کے ساتھ تو نہیں کہہ سکتے کہ سو روپے بھی معاوضے کے نہیں ملے ۔ہو سکتا ہے کسی کو کچھ ملا ہو ایسا ہی جیسے 1978میں سنبھل میں جنکا 15لاکھ کا نقصان ہوا تھا انہیں 1500کا چک اور جنکا پانچ لاکھ کا نقصان ہوا تھا انکو 5سو روپئے کا چک دینا چاہا تھا جو ہم نے تحصیل دار کے منہ پر مار دئے تھے ۔لیکن مراد آباد کے جس کا م کو مسلمانوں نے آسمان پر پہنچایا تھا ۔اسکے بیو پار ی بھی مسلمان تھے اور کاریگر بھی ۔لیکن 1980کے بعد بیوپاری تو زیادہ تر پنجابی ہندو ہیں یا قدیمی خاندان والے ۔بس چندوہ مسلمان ہیں جنکے اپنے خاندان کے لڑکے ہی اچھے کاریگر ہیں ۔ورنہ یہ بات ختم ہو گئی کہ مراد آباد کی پیتل نگری کے مالک مسلمان ہیں ۔
اب ذرا 1987میں اسے دیکھ لیجئے جو میرٹھ میں ہوا ۔ہر ٹی وی چینل نے وہ فو ٹو دکھا ئے ہیں ۔جو انڈین ایکسپریس نے کھینچے تھے ۔اس سے زیادہ درد ناک منظر یاد نہیں کبھی دیکھا ہو ۔ اور وہ جو شہید ہو کر پانی میں بیتے ہوئے نہ جانے کہاں کہاں ملے انکے اہل خانہ کو معاوضہ کون دیتا جب کہ اتر پردیش کے وزیر اعلا ویر بہادر کے حکم سے سارا خون خرابہ ہوا ۔ اور انھوں نے اس لئے کرایا کہ وزیر اعظم راجیو گاندھی یہی چاہتے تھے ؟ گذشتہ سال جب 28برس کے بعد ان ملزموں کو بھی رہا کر دیا جو نامزد قاتل تھے تو ملائم سنگھ نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور متاثر ین کو پانچ پانچ لاکھ روپے دینے کے احکامات دئے۔
ہم نے احمدآباد کے شرم ناک واقعہ کے بعد پاک پروردگار کا شکر اس لئے ادا کیا ہے کہ یہ ملک میں پہلی با ر ہو رہا ہے کہ مسلمانو ں کے قتل کے الزام میں ہندوؤں کو سزا دی جارہی ہے ۔ہم پوری طرح تسلیم کرتے ہیں کہ ہر قاتل یا قتل عام کی سازش کرنے والے ہر سازشی کو سزا نہیں ملی ۔یا بقول روش کما ر’’بڑے لوگ بچ گئے یابچالئے گئے ‘‘لیکن کم از کم ایک سابق وزیر اور بابو بجرنگی تو مجر م قرار دیکر جیل بھیجے گئے ۔یا اب گلبرگ سو سائیٹی کے قاتلوں میں 26ہی سہی ۔اتنوں کو تو سزا دی جائے گی وہ چاہے دس سال ہی سہی ۔تو کیا یہ ایسی نئی بات نہیں ہے جو پورے ہندوستان میں کہیں نہیں ہوئی اور کبھی نہیں ہوئی۔
احمد آباد یا سورت یا دوسرے شہروں میں جو بھی ہوا وہ اسکا رد عمل بتاکرہوا کہ سابر متی ایکسپریس کی دو بوگیوں میں مسلمانوں نے 60کار سیوک ہندوؤں کو جلا کر مار دیا ۔اسکی پاداش میں مسلمانوں پر ایک عذاب وہ آیا جو عدالت کی طرف سے تھا کہ 31مسلمانوں کو سزا دی گئی اور اصل عذاب وہ تھا جو ہزاروں ہندوؤں کی بھیڑنے اور پولیس نے مسلمانوں کو دیا ہتھیاروں سے بھی قتل کیا اور جلا کر بھی شہید کیا ۔اسکی سزا ملک میں پہلی بار ہندوؤں کو دی جارہی ہے جن میں سے مہساڑہ کے معاملہ میں 21ہندوؤ کو عمر قید کی سزا دی جو سب پٹیل ہیں ۔نرودا پاٹیا معاملہ میں 30کوعمر قید کی سزا دی گئی جن میں سابق وزیر مایا کوڈنا نی بھی تھی گلبرگ سو سائیٹی کے معاملہ کی سزا کل سنا دی جائے گی۔
لیکن ان دو ہزار سے زیادہ مسلمانوں کی جان کے بدلہ میں کیا ملا جنہیں مارچ 1993میں ممبئی میں شہید کیا گیا اور ہزاروں زخمیوں کو تو لکھنو اسٹیشن پر جماعت اسلامی نے کیمپ لگا کر ہاتھوں ہاتھ لیا انکی مرہم پٹی کی انہیں کھانا کھلایا انھوں نے گھر جانا چاہا تو گھر بھیجا ۔اور علاج کرانا چاہاتو علاج کرایا ۔اوریہ قتل عام کسی کا رد عمل نہیں تھا بلکہ اسکے رد عمل میں وہ بم دھماکے ہوئے جن کے الزام میں درجنوں مسلمان جیل میں ہیں اور اس کے طفیل یعقوب میمن کو پھانسی دی گئی۔ لیکن جن کی نام زدگی جسٹس شری کرشنا نے اپنی رپورٹ میں کی ان میں سے ایک ہندو کو حوالات میں بھی نہیں رکھا گیا ۔اسکے بعد یہ مانتے ہوئے کہ پورا انصاف نہیں ہوا جتنا بھی ہوا اس پر کیسے شکرادا نہ کریں ۔اگر ایس آئی ٹی کے سربراہ سی بی آئی کے سابق سربراہ نے 9گھنٹے نریندر مودی سے پوچھ گچھ کے بعد شہرت کے مطابق سودا نہ کر لیا ہوتا اور اس سودے کے طفیل پورے یورپ میں آل اولاد کے ساتھ شاہ زادوں کی طرح سیر سپاٹوں کا انتظام نہ کرلیا ہوتا تو تصویر دوسری ہوتی ۔بہر حال جوہوا لک الحمد ولک الشکر کہنے کے قابل ہو ا یعنی جتنا ہوا اور جوہوا وہ ملک میں پہلی بار ہوا خدا کرے اب ایسا ہی ہوتا رہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close