ہندوستان

لہو سے آبیاری کرنے والو، کچھ تو سوچو!

مل جل کر ملک سے ناانصافی، عصمت دری، زور و زبردستی اور قتل و غارت گری کا صفایا کرنا ہوگا۔

شیخ فاطمہ بشیر

پسماندہ ذہنیت، مردہ انسانیت، رحم کے لیے بلند ہوتی صدائیں، طاقت کے نشے میں چور قہقہے مارتے مکروہ چہرے اور زمین پر بے کس و بےبس، مجبور و لاچار پڑے زندگی کی بھیک مانگتے بے قصور افراد، جارحیت کا نشانہ بنانے کا جنون، شک و افواہ کی بنیاد پر معصوم جانوں سے کھیلی جانے والی ہولی اور سرِ راہ پیٹ کر ہلاک کرنے کے بعد لاشوں کو بے یاروں مددگار سڑکوں یا جنگلوں میں پھینک دیے جانے والے معاملات، کمسن بچّوں کے سر سے کھینچے جانے والی باپ کی چادر پھر اُنہیں یتیمی کا داغ دیے جانے والے دل دہلا دینے والے سانحات کا سلسلہ دراز ہوتا جارہا ہے۔ حکومت کی بےحسی، خاموش تماشائی، ظالموں کی پشت پناہی، قاتلین کو بچانے کی سازشیں اور انسانیت سوز کارناموں پر شاباشی، حوصلہ افزائی، مٹھائی اور پھولوں کے ذریعے جشن ملک کی بگڑی ہوئی شبیہہ بیان کرنے کے لئے کافی ہے۔ یہ سرسری نقشہ ہے میرے ملکِ عزیز ہندوستان کا جہاں جانیں سستی اور دانہ مہنگا، گائیں اہم اور انسان بےوقعت ہوگیا ہے۔ گائے اسمگلنگ، اُسے ذبح کرنا اور چوری و اغواء کی افواہوں کو بنیاد بناکر کئی افراد کو اذیّت کا نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ ملک میں ہجومی تشدد کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے اور نہ حکومت کی جانب سے اس پر روک لگانے کی کوئی کوشش کی جارہی ہے۔

     لنچنگ اصل میں کیا ہے؟ 19 ویں اور 20 ویں صدی کی شروعات میں افریقی امریکیوں کو کنٹرول کرنے کے خاطر گورے اُن پر بہت ظلم و تشدد کرتے تھے اور وہیں سے لنچنگ کی شروعات ہوئی۔ پہلے پہل یہ ایسی کارروائی ہوتی جو عمومًا ایک بڑے گروپ (ماب) کے ذریعے کی جاتی تھی جسے دیکھنے کے لیے تقریباً سو سے ہزار لوگوں کا مجمع اکھٹا ہوتا تھا۔ بعض اوقات اس کارروائی سے قبل اخبارات کے ذریعے اطلاع دی جاتی۔ پھر آہستہ آہستہ ۲۰ ویں صدی میں یہ ایک رازدارانہ طریقے سے، لوگوں کے چھوٹے گروپ کے ذریعے کیا جانے والا عمل بن گیا، جسے کوئی قانونی سند حاصل نہ تھی۔ اب لنچنگ غیرقانونی اور غیررسمی طور پر کیا جانے والا عمل ہے جس میں شک کی بنیاد پر، خواہ شخص بےقصور ہو، اُسے جان سے مار دیا جاتا ہے۔ قانون کے حدود کو پھلانگتے ہوئے ایسی کارروائی کی جاتی ہے جسکا حکم عدالت کی جانب سے نہیں دیا جاتا ہے۔

     الجزیرہ کی 6/جولائی 2017 کی خبر کے مطابق، "ملک میں ہوتے سلسلہ ور ماب لنچنگ کے پُرتشدد حملے لوگوں کے اچانک جذباتی یا غصّے کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ ظلم و ستم ہندوتوا اور ہندو قوم پرست کی رچی ہوئی منظم سازش ہے۔ گائے اور قوم پرستی کے نام پر تشدّد میں بڑھاوے کی اہم وجہ مرکزی حکومت کی خاموشی اور آر ایس ایس (راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ) کا نمایاں کردار ہے۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز باتیں مشہور کرنا، مثلاً وہ گائے کا گوشت کھاتے ہیں، ہندو خواتین کے لئے خطرہ ہے، مسلمانوں کی آبادی بڑھ رہی ہے اور جلد ہی وہ ہندوؤں پر غالب آجائیں گے وغیرہ وغیرہ۔” معروف سماجی لیڈر ہرش مندر کے مطابق، "تشدّد کا دائرہ جسطرح پھیل رہا ہے یہ صورتِ حال بےحد خطرناک ہے۔ نفرت کی بنیاد پر ہوتے یہ واقعات کی اہم وجہ اقتدار کی طرف سے اِس تشدّد کی اجازت اور بڑھاوا دیا جانا ہے۔” مرکزی حکومت سے لے کر مقامی ایم ایل اے تک ہر کوئی خاطی افراد کو بےقصور قرار دیتے ہوئے انہیں بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ 28 ستمبر 2015 کو دادری میں ہوئے محمد اخلاق کے واقعے سے حالیہ الور میں ہوئے اکبر خان کے حادثے تک، ملزمین کو دی جانے والی سزاؤں پر غور و خوض کرے تو اس بات کا ہمیں اندازہ ہوگا۔ محمد اخلاق کے کیس میں 19 افراد کے خلاف FIR درج کی گئی لیکن تمام کو ضمانت دے دی گئی۔ 11 مارچ 2016 کو کولکتہ کے 24 سالہ ITI کے طالبِ علم کوشک پورکیت کو جانوروں کی اسمگلنگ کا حصہ ہونے کے الزام میں جان سے مار ڈالا گیا۔ 10 لوگ بشمول ترنمول کانگریس کے لیڈر تپاس مللیک کے خلاف پولیس نے FIR درج کیا۔ 16 مارچ 2016 کی خبر کے مطابق 5 افراد کو گرفتار کرلیا گیا لیکن تپاس فرار ہے۔ اسکے تقریباً پانچ ماہ بعد 17 اگست 2016 کو اڈوپی، کرناٹک کے 29 سالہ پروین پوجارے پر گائے ٹرانسپورٹ کا الزام لگاکر لوہے کی سلاخوں کے ذریعے وی ایچ پی (ہندو جاگرانہ ویدک) کے 21 ارکان نے اِس وحشیانہ طریقے سے اُسے پیٹا کہ اسپتال پہنچ کر پروین نے دم توڑ دیا۔ جس کے جرم میں گرفتار ملزمین کو کورٹ نے 16 ستمبر 2016 کے آرڈر کے مطابق 28 ستمبر تک اُن کی عدالتی حراست میں توسیع کردی۔ 1 اپریل 2017 کے الور واقعے میں پہلو خان کو قتل کرنے کے جرم میں 21 اپریل 2017 تک 6 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ پھر 14 ستمبر 2017 کے ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق راجستھان پولیس کی جانب سے تفتیش بند کردی گئی اور تمام 6 خاطی ملزموں کو کلین چٹ دے دی گئی۔ 22 جون 2017 کو 15 سالہ حافظ جنید،  مذہب اور گوشت کے نام پر ٹرین میں مار دیا گیا۔ جسکے دو مہینے بعد گرفتار شدہ 6 افراد میں سے 4 سے پولیس نے فساد اور غیرقانونی حرکت کے چارجز واپس لے کر انہیں ضمانت پر رہائی دے دی۔ 29 جون 2017 کو رام گڑھ، جھارکھنڈ کے علیم الدین انصاری کو گوشت لے جانے کے الزام میں وحشیانہ انداز میں پیٹ کر مار ڈالا گیا۔ نتیجتاً جھارکھنڈ کورٹ نے 12 گرفتار ملزمین میں سے 11 کو عمر قید کی سزا سنائی۔ لیکن آہستہ آہستہ تمام ملزمین کو ضمانت پر رہا کردیا گیا۔ 27 اگست 2017 کو جلپیگری، مغربی بنگال میں گائے اسمگلنگ کے الزام میں حفیظل شیخ اور انور حسین کو مار ڈالا گیا۔ بروہلیا سے 8 افراد کو پولیس نے قید کیا جن میں 5 کو بعد میں چھوڑ دیا اور 3 کو گرفتار کرلیا گیا۔ 9 مئی 2018 کو رکمنی نامی 65 سالہ ترونا مالائی، تامل ناڈو کی خاتون کو بچہ چوری کرنے کے الزام میں پیٹ پیٹ کر مار دیا گیا۔ جسکے لیے تقریباً 23 لوگوں کو 11 مئی 2018 تک حراست میں لے لیا گیا۔ حالیہ 20 جولائی کو الور، راجستھان میں 28 سالہ اکبر خان کو بے قابو بھیڑ نے گائے اسمگلنگ کے شبہ میں بے دردی سے پیٹ کر مار دیا۔ مہلوک نے مرنے سے قبل اپنے بیان من 5 افراد کے ذریعے لاٹھی ڈنڈوں سے پیٹے جانے کی بات کہی تھی۔ لیکن 22 جولائی تک صرف 3 ہی ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔ اِس کیسے میں پولیس کا رویہ بھی مشکوک اور غیر جانبدارانہ رہا۔ اسپتال لے جانے میں 4 گھنٹے کی تاخیر کی، اس دوران خود بھی اُسے بری طرح پیٹا، گایوں کو گئوشالہ بھیجنے کا نظم کیا، مقامی وی ایچ پی لیڈر کے گھر گئے، راستے میں رُک کر اطمینان سے چائے پی۔ اسکے بعد صبح 4 بجے اسپتال لے گئے، جب تک اکبر خان جاں بحق ہوچکا تھا۔ یہ تمام حالات ہندوستان کے سماجی تانے بانے کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔

     گذشتہ سال سول سوسائٹی نے مطالبہ کیا تھا کہ، "مانو سرکشا قانون بنایا جائے تاکہ ہجومی تشدد کو کنٹرول کیا جاسکے۔” لیکن غور کرے تو ملک کا قانون ہر شہری کے جان و مال، عزت و آبرو کی حفاظت اور اُسکا تحفظ لازمی قرار دیتا ہے۔ لیکن آج کھلے عام ان حقوق کی پامالی جاری ہے اور اس پر عمل ندارد ہے۔ بالفرض اسکے علاوہ اگر نیا قانون بنادیا جائے تو کتنے فیصد امکانات ہوں گے کہ اس پر ایمانداری سے عمل کیا جائے گا۔ عصمت دری کے تعلق سے قانون بنائے جانے کے بعد دشيانت داوا (سینئیر سپریم کورٹ وکیل) نے کہا تھا کہ، "حکومت سو قانون بناسکتی ہے لیکن ہمیشہ ناکام رہتی ہے کیونکہ اُن کا نفاذ عمل میں نہیں لیا جاتا۔” الور واقعے کے بعد مرکزی وزیر اور راجستھان کے سینئر بی جے پی لیڈر ارجن رام میگھوال نے واضح لفظوں میں کہا، "مودی جی جتنا مشہور ہوں گے اسطرح کے واقعات اتنے ہی بڑھیں گے۔” آر ایس ایس اور مسلم راشٹریہ منچ کے لیڈر اندریش کمار کے مطابق،”اگر گائے کا گوشت کھانا بند کردیا جائے تو ایسے بہت سے شیطانی جرائم کو بند کیا جاسکتا ہے۔” اسکی تائید کرتے ہوئے مرکزی وزیر گری راج سنگھ کا یوں کہنا "وہ سمجھدار آدمی ہیں اور کچھ کہہ رہے ہیں تو سمجھ کر ہی کہہ رہے ہوں گے”، بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ الور سانحے کے بعد 25 جولائی 2018 کو یوپی کے وزیرِ اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ، "ماب لنچنگ حادثات کو غیرضروری اہمیت دی جارہی ہے۔ جبکہ انسان اور گائے دونوں اہم ہے۔ ہر کوئی محفوظ ہونا چاہیئے۔ اب تک ایسے کوئی واقعات یوپی میں درج نہیں ہوئے۔ یوپی اور دیگر ریاستوں میں گایوں کے تحفظ کا قانون لاگو کیا جانا چاہیئے۔” اُن کے اس مضحکہ خیز بیان کے متعلق ٹائمز آف انڈیا کے مضمون پر کسی نے یوں تبصره کیا، "اگر گائے اور یوگی دونوں ڈوب رہے ہوں تو براہِ مہربانی گائے کو پہلے بچایا جائے جیسا کہ دونوں کی زندگیاں یکساں طور پر اہم ہے۔” آر ایس ایس اور بی جے پی لیڈران ہجومی تشدد کے جواز پیش کرنے میں مصروف ہیں۔ اُن نفرت انگیز بیانات پر نہ کسی لیڈر نے سرزنش کی، نہ ریاستی اور مرکزی حکومت ناراضگی کا اظہار کررہی ہے۔ حکومت کی بےحسی، خاموشی، اپوزیشن کی نااہلی اور عوام کی بےبسی کا ناجائز فائدہ اٹھاکر ملک دشمن عناصر مذہب، قومیت، تعصّب، جارحیت اور اشتعال انگیزی کے نام پر جانوں سے کھیلنے کا کام انجام دے رہے ہیں۔

     ملک میں ہورہے ہجومی تشدّد کے اعداد و شمار پر غور کرے تو وہ تعداد ملک کی ترقی، اتحاد اور یکجہتی پر کاری ضرب ہے۔ نیوز لانڈری کی 4 جولائی 2017 کی خبر کچھ یوں ہے، "2017 کے پہلے 6 مہینوں میں گائے کے نام پر 20 حملے ہوئے جو سال 2016 کے اعداد سے 75 فیصد زیادہ ہے۔ IndiaSpend کی رپورٹ کے مطابق، "ہجومی تشدّد کے معاملات میں سال 2017 گزرے 7 سالوں میں سب سے بدترین سال رہا۔ ماب لنچنگ، قتل، جان سے مارنے کی کوششیں، ہراساں کرنا اور اجتماعی آبرویزی جیسے طریقوں سے حملے کیے گئے۔ ملک کے ہر ذی عقل فرد نے ان حملوں کی سخت مذمت کی اور اسے انسانی زندگی اور جینے کی آزادی کے لیے واضح خطرہ کہا۔ NotInMyName# اس بینر تلے ملک بھر میں کئی سلسلہ وار احتجاج اور مظاہرے کیے گئے۔ لیکن اس کے باوجود لنچنگ کا وحشیانہ سلسلہ ہنوز جاری رہا۔ ” اس خبر کی تقریباً 11 ماہ بعد 13 جون 2018 کو Boomlive نے یہ خبر نوٹ کی کہ "سال 2018 کے شروعات سے آج کی تاریخ تک بھیڑ کے ذریعے تشدد کے 13 معاملات کی وجہ سے تقریباً 15 بے قصوروں نے اپنی جانیں گنوادی۔ گئو رکھشکوں کا تشدد، گائے کے تحفظ کے نام پر بڑے پیمانے پر ہجومی حملے میں خصوصی طور پر مسلمانوں کو ہدف بنایا جارہا ہے۔ ‘ دی ہندو ‘ کی 3 جولائی 2018 کی خبر کے مطابق، "گائے کا گوشت رکھنے اور اسمگلنگ کی افواہوں اور شکوک کی بناپر قتل ہونے والے مقتولین کا تعلق ہمیشہ اقلیتی یا سماجی طور پر کمزور طبقات سے رہا۔ دادری میں 28 ستمبر 2015 کو محمد اخلاق کو وحشیانہ طور پر مارنے کا واقعہ پہلا نہیں تھا بلکہ پہلا معاملہ راجستھان میں مئی 2015  میں پیش آیا جب عبدل قریشی نامی ایک شخص کو گوشت بیچنے کے الزام میں سفاکانہ طور پر پیٹ کر جان سے مار دیا گیا۔ اسی طرح رواں سال اپریل مہینے سے بچے چوری کرکے اغواء کرنے پھر اُنہیں قتل کردینے کی افواہوں کے بناپر تشدد جاری ہے۔ جسکی وجہ سے ملک کی جنوبی ریاستوں، مہاراشٹر، گجرات، مغربی بنگال، آسام، تریپورہ وغیرہ مقامات پر کل 20 قتل کردیئے گئے۔”

     فرسٹ پوسٹ نے 27 جولائی 2018 کو ایک خبر شائع کی جس میں IndiaSpend کی رپورٹ تفصیلاً پیش کی۔ IndiaSpend نے پورے ملک میں ہجومی تشدّد کے متعلق چھپی خبروں کا تجزیہ کیا اور اپنی رپورٹ پیش کی۔ "2018 کے ہجومی تشدّد کے حادثات میں اب تک 24 لوگوں کی اموات ہوچکی ہیں اور یہ تعداد 2017 سے 4.5 گنا بڑھ چکی ہے۔ بچہ چوری کرنے کی غلط افواہیں بھی بھیڑ بے لگام کرنے کا سبب بنی ہے۔ جولائی کے پہلے چھ دنوں میں ہی بچہ چوری کی افواہ کے تحت تشدّد کے 9 واقعات رونما ہونے جس میں 5 اموات ہوئی یعنی روزانه ایک سے زیادہ حملے ہوئے۔ صرف 6 جولائی کو 2 حملے ہوئے۔ سائیکولوجسٹ اپنیت للّی (ڈپٹی ڈائریکٹر آف انسٹی ٹیوٹ آف کریکشنل ایڈمنسٹریشن – چندی گڑھ) کے مطابق، "گائے سے متعلق باتوں سے تشدد شروع ہوتا ہے لیکن اب یہ خونخوار طریقہ ہوتا جارہا ہے، کبھی بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے۔” IndiaSpend رپورٹ آگے کہتی ہے، "2014 سے ملک میں جب سے بی جے پی حکومت اقتدار میں آئی ہیں، تب سے  ٪98 نفرت آمیز جرائم ہوئے ہیں، جن میں 85 افراد مارے گئے، جن میں ٪88 مقتولین مسلم ہیں۔ جبکہ رواں سال 2018 میں سو فیصد حملے کا شکار ہوئے متاثرین مسلمان تھے۔ اقلیتی طبقے کے خلاف ایسے جارحانہ اقدامات میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ 85 اموات میں سے 28 (ایک تہائی سے زائد) اموات گائے کے نام پر ہوئی ہیں۔ 2011 میں یہ تعداد کچھ یوں تھی، 37 معاملات میں 11 اموات۔ جبکہ 2018 میں یہ تعداد 6 معاملات میں 4 اموات، تک بڑھ گئی ہیں۔ کئی تبصرہ نگاروں کے مطابق یہ بڑھنے کی اہم وجہ سخت اور فوری ردِعمل کی کمی ہے جس سے ان تشدد کے واقعات کو بڑھاوا مل رہا ہے۔ 13 مارچ 2018 کو پارلمنٹ میں وزارتِ داخلہ کی جانب سے یہ بات پیش کی گئی کہ این سی آر بی (نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو) نے ملک میں ہونے والے ماب لنچنگ کی وارداتوں کے تعلق سے کوئی مخصوص ڈیٹا برقرار نہیں رکھا ہے۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق 2014 سے 3 مارچ 2018 کے درمیان 9 ریاستوں میں 40 کیسز میں 45 لوگ مارے گئے۔ جبکہ اسکے برعکس IndiaSpend کے ڈیٹابیس کے مطابق صرف 1 جنوری 2017 سے 5 جولائی 2018 کے درمیان درج کردہ 69 کیس میں 33 لوگ مارے گئے اور تقریباً 99 زخمی ہوئے۔”

     سوال یہ ہے کہ یہ غنڈہ گردی، وحشی پن اور ظلم و بربریت کتنے بچوں کو یتیم اور خواتین کو بیوہ کرے گی؟ اسکے متعلق اللہ کی کتاب قرآن سورۃ مائدہ کی آیات ۳۲-۳۳ کے مفہوم کے مطابق کوئی شخص جب کسی دوسرے کا قتل کرے تو وہ صرف ایک انسان کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا قاتل ہے۔ وہ اُس حرمت کے قانون کو توڑتا ہے جو تمام انسانوں کے جان و مال، بقا، حفاظت اور افزائش کے تعلق سے محترم ہے۔ اُسکا دل ہمدردی اور انسانیت سے عاری ہے۔ سارے لوگوں کی جان، مال، عزت و آبرو کو اس سے خطرہ ہے۔ سماج و معاشرے میں ڈر، خوف، دہشت کا ماحول پروان چڑھتا ہے۔ اسکے برعکس ایک انسان کی جان بچانا درحقیقت انسانیت اور نسلِ نو کی بقا و نشوونما ہے۔ دراصل وہ انسان سماج سے قتل و غارت گری کا خاتمہ کرکے امن و سلامتی کی فضا قائم کرنا چاہتا ہے۔ سورۃ الشوریٰ میں ارشاد ہے، "ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جو دوسروں پر ظلم پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔ البتہ جو شخص صبر سے کام لے اور درگزر کرے، تو یہ بڑی ہمّت اور حوصلے کی بات ہے” (سورۃ الشوریٰ : 42-43)۔ ظلم و زیادتیاں کرنے والوں کو سوچنا چاہیئے کہ اپنی بے عملی، بد عملی، زیادتی، معصیت کاری، جبر و ستم اور من مانیوں سے وہ اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے بلکہ حقیقتاً انسان کی بےبسی اس قدر ہے کہ اپنے دکھوں اور تکالیف کا علاج بھی اُس کے پاس نہیں۔ سنتِ الہٰی کے مطابق انسان کے کئی قصور معاف یا نظرانداز کردیئے جاتے ہیں۔ ورنہ اگر اللہ اپنی اس الغفور اور الرحیم والی صفات واپس لے لے، "اور وہ اُن کو اُن کے کرتوت پر پکڑنے لگے تو اُن کے لیے جلد ہی عذاب بھیج دیتا مگر ان کے لیے وعدے کا ایک وقت مقرر ہے اور اس سے بچ کر بھاگ نکلنے کی یہ کوئی راہ نہ پائیں گے” (سورۃ الکہف : 58)۔ لیکن رحمتِ الٰہی، غضب خداوندی پر غالب ہے۔ یہ سایہ رحمت اس قدر وسیع ہے کہ بدمعاشیوں، بدکاریوں، گناہوں، معصیتوں، ظلم و ستم، خونریزیوں اور زیادتیوں پر انہیں فوراً عذاب کے ذریعے تباہ نہیں کرتا۔ ظالم انصاف کی رسّی میں جکڑا جاتا ہے لیکن اللہ کی سنت کے مطابق پہلے ڈھیل دی جاتی ہے۔ پھر جب یہ لاٹھی برستی ہے تو فوراً جہنّم واصل کرتی ہے اور ایسا شکنجہ کستی ہے کہ توبہ کرنے کی مہلت تو درکنار سوچنے کا وقت تک میسر نہیں آتا۔

     اسکا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں کوشش نہیں کرنی ہے۔ بلکہ ظلم کے خاتمے اور انصاف کے قیام کے لیے ہمہ وقت برسرِ پیکار رہنا ہے کیونکہ سورۃ الشوریٰ میں مومنین کی ایک صفت یوں بیان کی گئی ہے، "اور جب اُن پر زیادتی کی جاتی ہے تو اُسکا مقابلہ کرتے ہیں”، (سورۃ الشوریٰ : 39)۔ حالات کے دھارے میں حوصلہ کھونا نہیں بلکہ برقرار رکھنا ہے۔ جدوجہد کرتے رہنے ہے۔ بظاھر حالات اس بات پر دلالت کررہے ہیں کہ مسلمان ہار رہے ہیں یا بنا کسی گناہ کے ناحق قتل کیے جارہے ہیں لیکن عذابِ خداوندی کی ایک شکل ہم بھول رہے ہیں جسکا نقشہ اسطرح کھینچا گیا ہے، "کیا تم اس سے بےخوف ہو کہ وہ جو آسمان میں ہے تمہیں زمین میں دھنسادے اور یکایک یہ زمین جھکولے کھانے لگے؟ کیا تم اس سے بےخوف ہو کہ وہ جو آسمان میں ہے تم پر پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیج دے؟ پھر تمہیں معلوم ہوجائےگا کہ میری تنبیہہ کسی ہوتی ہے”، (سورۃ الملک : 16-17)۔ حال ہی میں علیم الدین انصاری کے ایک ملزم سکندر رام کو ضمانت دے دی گئی۔ جیل سے باہر آنے کے بعد دوسرے ہی دن گھر سے باہر الیکٹرک وائر کا کرنٹ لگ کر وہ جگہ پر ہی فوت ہوگیا۔ "انّ بطش ربِّك لشدید۔ ( درحقیقت تمہارے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے۔ سورۃ البروج : 12)۔” یہ اللہ کی جانب سے مظلومین کے لیے ڈھارس ہے وہیں ظالم جبّار کے لیے صاف تنبیہہ ہے کہ یا تو وہ سدھر جائے یا پھر اُس پکڑ کے لیے تیار رہے۔ دنیا کی نظر میں بظاہر تم معاف کردیئے جاؤ لیکن اللہ کے دربار سے ہرگز کوئی ضمانت نہیں ملے گی۔

     بہرحال حکومت، اکثریتی طبقے اور قوم پرست تنظیموں کو مظلومین کی جانوں سے کھیلتے اور اُنہیں ناحق قتل کرتے ہوئے یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیئے کہ اُنکی رسّی تو کس کر رہے گی لیکن ایک وطن کے شہری ہونے کے ناطے متحد رہنا اور بیرونی طاقتوں سے چوکنا رہنا ضروری ہے۔ یہ اُسی وقت ممکن ہے جب دل میں ہم وطنوں کے لیے بہن بھائیوں جیسی محبت، الفت، اخوت و شفقت کا جذبہ قائم ہوگا، نہ کہ اس وقت جب ملک میں بےچینی اور بدامنی کا راج ہو۔ مل جل کر ملک سے ناانصافی، عصمت دری، زور و زبردستی اور قتل و غارت گری کا صفایا کرنا ہوگا۔ کیونکہ مضبوط، پھل دار ، سایہ دار تناور درخت لہو سے رنگین سرزمین سے ہرگز سینچا نہیں جاسکتا۔ نفرت، تعداد کا زعم، قومیت اور شک کی بنیاد پر بے دریغ جانوں سے کھیلنے والے درندوں کو یاد رکھنا چاہیئے کہ

  بہالو خون سڑکوں پر مگر اتنا تو سوچو تم

وطن جب خون مانگے گا، تمہارے پاس کیا ہوگا؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close