ہندوستان

ماورائے عدالت مسلمانوں کے قتل کا سلسلہ کب تھمے گا؟

 عابد انور

مسلمانوںکی خون کی ارزانی کوئی نئی بات نہیںہے۔ جب جب مسلمان میں انتشار پیدا ہوا ہے ان کے ساتھ اسی طرح کے سانحات پیش آئے ہیں اور وہ ہمیشہ کی طرح بلبلاکر خاموش ہوگئے۔کبھی انہوںنے تدارکی اقدامات کرنے کی کوشش نہیں کی۔ سانحہ کو اپنے سامنے آتا دیکھ کر بھی کبھی مسلمانوں نے اس سے نمٹنے کی کبھی تیاری نہیں کی اور ہمیشہ اس خوش فہمی رہے کہ میں تو بچ گیا۔ مصیبت تو دوسروں کے سر پر آئی ہے۔ میں کیوں اس معاملے میں الجھوں، اسی کا فائدہ حکومت اور مسلم دشمن طاقتوں نے اٹھایاہے۔ مسلمان کبھی اپنے اوپر ہونے والے مظالم کے خلاف سڑکوں پر نہیں اترے اور نہ کبھی بھی حکومت کو سخت پیغام دینے کی کوشش کی۔ آزادی کے بعد مسلمان خود میں سمٹتے چلے گئے۔ مذہبی قیادت تھوڑی بہت بیدار رہی لیکن سیاسی قیادت کے معاملے میں بری طرح خلا پیدا ہوگیا۔ مسلمانوں کے ووٹ کے لئے ساری پارٹیاں مسلمانوں کے دروازے پر پہنچیں لیکن ان کے حق میں آواز بلند کرنے والا کوئی نہیں پہنچا۔آزادی کے بعد مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک سمجھا گیااور مسلمان صرف ایک چیز کی طرح استعمال ہوتے رہے۔ مسلم لیڈر شپ کبھی نہیں ابھرسکی اور تھوڑی بہت ابھرنے کی کوشش کی تو ًحکومت نے اس کے پر کتر دئے۔ ضیاء الرحمان انصاری کا واقعہ یاد ہوگا۔انہوں نے شاہ بانو کیس میں مولانا آزاد کا رول ادا کرنے کی کوشش کی تھی اور مسلمانوں کی آواز بلند کرنے لگے تھے ۔ان پر جنسی استحصال کا الزام لگاکر انہیں زندہ درگور کردیا گیا اورمسلمان خاموشی سے یہ سب دیکھتے رہے۔ مسلمانوں کی خاموشی ہی مسلمانوں کے لئے سب بڑا عذاب ہے۔مسلمانوں کی سب سے بڑی کمی یہ ہے کہ وہ کبھی بھی اپنے لیڈر کا ساتھ دل کھول کر ساتھ نہیں دیتے ، خود تو دن رات وہ برے کاموں میں شیطانوں کومات دیتے ہیں لیکن اپنے قائدین میں فرشتہ کی صفت تلاش کرتے ہیں۔ قائدین کی کمزوری رہی ہے کہ وہ اپنی پارٹی کے غلام بنے رہے۔ انہوں نے کبھی بھی مسلمانوں کا لیڈر بننے کی کوشش کی نہیں کی۔ وہ ہمیشہ پارٹی کا زرخرید غلام بنے رہے۔ پارٹی کی وابستگی سے اوپر اٹھ کر کبھی مسلمانوں کے مسائل اٹھانے کی کوشش نہیں کی۔ مسلمانوں پر جب بھی مصیبت کا پہاڑ ٹوٹا وہ دم دباکر بیٹھ گئے اور مسلمانوں کے لئے کبھی کوئی کام نہیں کیا۔البتہ جب پارٹی نے لات مار کر بھگا دیا یا بے عزت کی تو ان لوگوں کو ضرور مسلمانوں کی یاد آتی ہے۔ یہ سب تماشہ حکومت اور مسلم دشمن طاقتوں نے بہت گہرائی سے دیکھا ہے اور مسلمانوں کی کم وزنی کا اندازہ لگاکر ان کے ساتھ ظلم و ستم کی کارروائی کا روا رکھا۔ اس طرح کچھ عرصہ کے بعد مسلمانوں کے ساتھ ظلم و ستم کا واقعہ پیش آتا ہے اورکچھ مسلمان برساتی میڈک کی طرح ٹرٹر کرتے ہیں اور پھر خاموش ہوجاتے ہیں۔ صحیح طریقے سے اس معاملے کو اٹھایا نہیں جاتا اور نہ ہی اس کی صحیح خبر اہل وطن کو دی جاتی ہے۔ اہل وطن کے سامنے صرف پولیس کا موقف پہنچتا ہے۔ صحیح صورت حال کیا ہے اس کے بارے میں کسی کچھ خبر نہیںہوتی۔ہندوستانی میڈیا تو ہندوتو کے رتھ پر سوار ہوکر مسلمانوں کو مجرم ٹھہرانے کی تگ و دو میں مصروف رہتاہے۔ پولیس اور مسلم دشمن طاقتوں کو مسلمانوں کے ساتھ ظلم کرنے لئے اکساتاہے اور خود کی پولیس اور جج کا کردار ادا کرتا ہے۔ مسلمانوں کو ایک وحشی درندہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور بین السطور یہ پیغام دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ان کو مارو تمہارا کچھ نہیں بگڑے گا۔ پورے ملک میں مسلما نوں کے ساتھ کئے جانے والے جابرانہ سلوک اور انتظامیہ کی خاموشی کا اس کا مظہر ہے۔ عدالت کا رویہ بھی مسلمانوں کے ساتھ معاندانہ ہوتا ہے۔ جب بھی مسلمانوں کا معاملہ عدالت کے سامنے پیش ہوتا ہے اور ظلم کرنے والا کوئی دوسرا ہوتا ہے توعدلیہ سرد مہری کا شکار ہوجاتی ہے۔ اس کا نظارہ ہمیںآئے دن ہوتا رہتا ہے۔ بال کی کھال نکالنے والی عدالت میں جب معاملہ مسلمانوں کاآتا ہے توپولیس کے بیان کو ثبوت مان لیتی ہے۔ کسی معاملے میں مسلمانوں کو بری کرتی ہے تو اصل مجرم کو پکڑنے کا حکم نہیں دیتی اور نہ ہی خاطی پولیس والوں کے خلاف کوئی کارروائی کا حکم دیتی ہے۔اس سے عدلیہ ، انتظامیہ، مقننہ اور میڈیا کے نظریے کا پتہ چلتا ہے کہ ان کے یہاں مسلمانوں کے ساتھ انصاف کا کوئی ’آپشن‘ نہیں ہوتا ہے۔ مسلمان گورکشک کے مظالم سے پریشان تھے ، منہاج کے قاتل پولیس والوں کو سزا دلانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں پائے اور نہ ہی جھارکھنڈ کے مظلوم انصاری اور امتیاز کوجن گورکشک نے درخت پر پھانسی دیکر مار ڈالا تھا چھ ماہ کے اندر ہی ضمانت مل گئی اور کوئی شور نہیں مچا ۔ شہاب الدین کی ضمانت پر ہندوستان کے سول سوسائٹی، عدلیہ، میڈیا، مقننہ، انتظامیہ کو آگ لگ گئی تھی لیکن مظلوم انصاری اور امتیازکو پھانسی دینے والا کیوں کہ ہندو تھا اس لئے آسانی سے ضمانت دے دی گئی اور کوئی ہنگامہ نہیںہوا۔ مدھیہ پردیش میں ہی مسلم خواتین کے ساتھ حیوانیت کاسلوک کرنے والی پولیس کے خلاف مسلمان آواز بھی نہ اٹھا پائے تھے کہ مدھیہ پردیش میں آٹھ مسلمانوں کو سرکاری دہشت گردی کا شکار بنایا گیا اور ہندوستان کا سول سوسائٹی بالکل خاموش ہے بلکہ ببانگ دہل کہا جارہا ہے کہ یہ انکاؤنٹر اصلی ہے تو سلام اور فرضی ہے تو ہزاروں سلام۔ یہ ہندوستان اکثریتی طبقے کے اکثر لوگوں کی ذہنیت کی عکاس ہے۔
مدھیہ پردیش پولیس نے اسلام پسند طلبہ کی ممنوعہ تنظیم اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (سیمی) کے ہندوستان کی محفوظ ترین جیلوں میں سے ایک بھوپال سینٹرل جیل سے فرار ہونے والے آٹھ مبینہ انتہا پسندوں کے اکتیس اکتوبر کو ایک مسلح تصادم کے دوران مارے جانے کو اپنی بڑی کامیابی قرار دیا تھا لیکن موبائل فون سے بنائے گئے دو ویڈیوز کے منظر عام پر آ جانے سے اس بارے میں پولیس کے دعوے مشکوک ہوگئے ہیں۔ان میں سے ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح زمین پر گرے ہوئے ایک زخمی قیدی کو بہت قریب سے گولی ماری گئی جب کہ دوسری ویڈیو میں ایک شخص ایک دوسرے شخص کو ایک زخمی قیدی کو ماں کی گالی دیتے ہوئے اسے گولی مار دینے کے لیے کہتا سنائی دیتا ہے۔ ویڈیوز کے منظر عام پر آنے کے بعد ہندوستانی اپوزیشن جماعتوں اور حقوق انسانی کی تنظیموں نے مدھیہ پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اس پولیس مقابلے کو جعلی قرار دیا ہے۔کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے مرکزی سیکرٹری اتل کمار انجان نے اس پولیس مقابلے کو ’ریاستی تعاون سے قتل‘ کا واقعہ قرار دیا اور کہا کہ قومی انسانی حقوق کمیشن کو اس پورے معاملے کی چھان بین کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ ملک کی سپریم کورٹ کو بھی اس واقعے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے اسے اپنے ہاتھوں میں لے لینا چاہیے۔ اتل کمار انجان نے پوچھا کہ جیل میں رہنے کے باوجود ان قیدیوں کے جسموں پر بالکل نئے کپڑے اور ہاتھوں میں گھڑیاں تک آخر کہا ں سے آ گئی تھیں۔سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا ہے، ’’جہاں تک مجھے معلوم ہوا ہے، یہ مبینہ پولیس مقابلہ فرضی تھا۔ جو بھی اس کے لیے ذمہ دار ہے، نہ صرف وہ جنہوں نے یہ نام نہاد مقابلہ کیا اور وہ بھی جنہوں نے اس کا حکم دیا، تمام سینیئر افسران اور سیاسی رہنماؤں کو بھی موت کی سزا دی جانا چاہیے۔‘‘ریٹائرڈ جسٹس کاٹجو نے دوسری عالمی جنگ کے بعد نیورمبرگ کی عدالت میں مقدمات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ نیورمبرگ میں ان افسران کو بھی سزا ئے موت سنائی گئی تھی، جن کا کہنا تھا کہ انہوں نے تو صرف حکام بالا کے احکامات پر عمل کیا تھا۔اپوزیشن کانگریس پارٹی کے سیکرٹری جنرل دگ وجے سنگھ نے ٹوئٹر پر اپنے متعدد پیغامات میں لکھا، ’’یہ بہت عجیب بات ہے کہ رات ڈھائی بجے وہ جیل سے فرار ہوئے اور صبح آٹھ بجے تک ایک ساتھ گھومتے رہے۔ یہ تمام باتیں اور ویڈیوز کے منظر عام پر آنے سے ایسا لگتا ہے کہ کچھ نہ کچھ گڑ بڑ ضرور ہوئی ہے۔ اس کی عدالتی انکوائری کرائی جانا چاہیے۔ اگر مفرور قیدیوں کو زندہ پکڑ لیا جاتا، تو پورے معاملے کی تفصیلات مل سکتی تھیں لیکن اس طرح پورا معاملہ بھی سامنے آ جاتا، شاید اسی لیے وہ سب مار دیے گئے۔‘‘ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرشاد یادو نے بھی اس مبینہ پولیس مقابلے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اس بارے میں ریاستی پولیس کے اعلیٰ افسران کے بیانات میں بھی اختلافات موجود ہیں۔دوسری طرف حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینیئر رہنما اور مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو کا کہنا ہے، ’’کچھ لوگ ’سیمی‘ کے انتہاپسندوں کے ساتھ ہمدردی کیوں کر رہے ہیں؟ انتہاپسند پہلے بھی جیل سے بھاگے تھے، اس مرتبہ بھی ایک گارڈ کو مار کر فرار ہو رہے تھے، حالات کو دیکھتے ہوئے یہ انکاؤنٹر عمل میں آیا۔ اسے سیاسی شکل اور فرقہ ورانہ رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔‘‘ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کا کہنا تھا، ’’اس معاملے پر گندی سیاست کی جا رہی ہے۔‘‘
ایک سال بھی نہیں ہوا حیدرآباد میں پانچ مسلم نوجوانوںکو ورنگل سینٹرل جیل سے سات اپریل2015 کوعدالت میں پیش کرنے کے لئے حیدرآباد لے جا رہی تھی کہ وقارالد ین احمد سمیت پانچ افراد کو ہلاک کر دیا تھا ۔لیکن اس واقعے کے فورا بعد سے میڈیا میں جاری تصویروں پر شوسل میڈیا پر اس انکاونٹر پر سوال اٹھنے لگے ہیں ، تصویروں میں سبھی پانچوں نوجوانوں کے ہاتھ میں ہتھکڑیا ں لگی ہیں اور ان کے ہاتھوں میں رائفل پکڑا دی گئی تھی جسے دیکھ کر کسی بھی کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ یہ انکاونٹر بھی ماضی میں ہوئے انکاونٹرس کی طرز پر فرضی طریقے سے انجام دیا گیا ہے۔حیدرآباد کے یہ پانچ مسلم نو جوان کو بہت ہی ڈرامائی انداز میں قتل کرکے تصادم کا جامہ پہنادیا گیا۔ حیرانی کی بات یہ تھی کہ یہ شخص ہتھکڑیوں میں جکڑا ہے، اپنی سیٹ پر بے ہوش سا پڑا ہے، اس کے پورے جسم پر خون کے چھینٹے ہیںان کی یہ حالت تلنگانہ پولیس کے ساتھ ہوئے انکاؤنٹر میں ہوئی۔ انہیں 17 میبرس والی سکورٹی ٹیم نے مارا۔ وہ انہیں ایک پولیس وین میں ورنگل جیل سے حیدرآباد کورٹ لے جا رہے تھے۔وقار احمد کے ساتھی سید امجد علی عرف سلیمان کے بھائی سید امتیاز علی نے پولیس پر الزام عائد کیا تھاکہ زیر التواء مقدمات میں جرم ثابت کرنے میں ناکامی کے ڈر سے پولیس نے فرضی انکاؤنٹر کے ذریعہ ان کے بھائی کا قتل کیا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کو ایک صحافی نے ویڈیو فلم دیا تھا جس میں یہ نظر آتا ہے کہ مارے جانے کے بعد یہ پانچوں قیدی پولیس وین میں بیٹھے ہیں اور سب کے ہتھکڑی لگی ہوئی ہے۔ایمنسٹی انترنیشنل انڈیا کے وی پی ابھیر نے کہا ’’غیر عدالتی ہلاکت ہندستان میں ایک سنگین مسئلہ ہے کہ عدالت کے فیصلہ کے بغیر مجرموں کو بڑی بے خوفی سے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے اور ایسا کرنے والے چھوٹ بھی جاتے ہیں۔
ہندوستان میں مسلمانوں کو ماورائے عدالت قتل کرنا جرم کے زمرے میں نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک کسی خاطی کو سزا نہیںدی گئی۔ حکومت کچھ بھی دعوی کرے لیکن حقائق حکومت کے تمام دعوؤں کو جھٹلاتے ہیں۔ پولیس اور حکومت کی تھیوری صرف دیومالائی نطریہ کی بنیاد پر ہی صحیح ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ جو بھی آنکھ کان ناک اورسچ اور جھوٹ کی سمجھ رکھتا ہے وہ کبھی مدھیہ پردیش اور پولیس کے دعوے کو صحیح نہیں مانے گا۔حکومت اور سرکاری افسران کی طرف سے آئے بیانات کے باوجود کچھ سوالات ہیں جن کے جواب ابھی تک نہیں ملے ہیں:٭ کیا 35 سے 40 فیٹ دیوار کو چادر کی مدد سے پھادا جا سکتا ہے اول کیا یہ چادریں اتنا وزن اٹھا سکتی ہیں؟٭ ایک ہی بیرک میں تمام ملزمان کو ساتھ کیوں رکھا گیا؟٭ اگر ملزمان کو بھاگنا تھا تو ریلوے سٹیشن یا بس اسٹینڈ کی طرف جانا چاہئے تھا نہ کہ ایسے علاقے میں جو گاؤں ہے؟٭ مبینہ تصادم کے دوران ان ملزمان کے پاس کیسے ہتھیار تھے؟ اور وہ ہتھیار کہاں سے آئے؟٭ کیا انہیں زندہ پکڑنے کی کوشش کی گئی تھی؟خود مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے NDTV سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس ہتھیار تھے۔ تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ ہتھیار آیا کہاں سے، جیل میں انہیں ہتھیار کس نے دیا؟سوشل نیٹ ورک پر جاری فوٹیج دیکھنے سے پتہ چلتا ہے "دہشت گردوں” کا حلیہ جیل سے فرار کے بعد اتنے اچھے طور پر کس طرح تیار ہو سکتے ہیں، آپ خود ہی ان کے جینس، کھیل شوز، ہاتھ میں گھڑی، صاف ٹشرٹس پر غور کر سکتے ہیں اور خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں۔پولیس نے جیل سے تقریبا 10 کلومیٹر دور ان ان کو ڈھیر کیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ سینٹرل جیل ہے یا مذاق ہے؟ ہندوستان میں مجرموں کے پولیس اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ مسلح تصادم عام سی بات ہیں۔ ایک ہفتہ قبل ہی ریاست آندھرا پردیش اور ریاست اوڈیشہ (اوڑیسہ) کی پولیس نے مل کر انتہائی بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے 24 ماؤ نواز باغیوں کو ملکان گری ضلع میں ایک تصادم کے دوران ہلاک کر دیا تھا۔ حقوق انسانی کی تنظیموں نے اسے بھی ایک جعلی پولیس تصادم قرار دیا تھا۔ملکی پارلیمان میں مرکزی حکومت کی طرف سے دیے گئے ایک بیان کے مطابق اپریل 2011 سے لے کر جون 2014 تک کے درمیانی عرصے میں پولیس کے خلاف جعلی مقابلوں کے 368 واقعات درج کرائے گئے جب کہ قومی انسانی حقوق کمیشن کو اکتوبر 2015 سے لے کر ستمبر 2016 تک کے عرصے میں ملکی پولیس کے خلاف جعلی مقابلوں کی کل 206 تحریری شکایات موصول ہوئیں تھیں۔
مدھیہ پردیش کے جعلی انکاؤنٹر کے معاملے میں حکومت، میڈیا، مقننہ،انتظامیہ عدلیہ اور حکومت کے وزرائے کا رویہ مسلم دشمن ہے۔ ہر کوئی اسے دہشت گرد سے خطاب کر رہاہے۔کیا زیر سماعت قیدی کو دہشت گرد کہنے کی اجازت ہندوستانی آئین دیتا ہے۔جب کہ حقیقی صورت حال یہ ہے کہ وہ مارے گئے آٹھ زیر سماعت قیدیوں میں سے تین بری چوچکے تھے اور خانہ پری نہ ہونے کی وجہ سے وہ جیل میں قید تھے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ رہا ہونے والا شخص جیل توڑ کر بھاگے گا؟ ایسا توصرف دیومالائی میں ہی ممکن ہے۔ اس سلسلے میں کانگریسی لیڈر دگ وجے سنگھ کا بیان بہت معنی خیز اور دلچسپ ہے کیوں کہ سیمی کو ممنوعہ تنظیم دگ وجے سنگھ کی سفارش پر ہی قراردیا گیا تھا یہ الگ بات ہے کہ دگوجے سنگھ نے سیمی کے ساتھ بجرنگ دل کو ممنوعہ تنظیم کی فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کی تھی لیکن اس وقت کی این ڈی اے کی واجپئی حکومت نے سیمی پر پابندی عائد کردی اور بجرنگ دل کو چھوڑ دیا۔ دگوجے سنگھ جانتے تھے کہ سیمی کے ارکان کسی ملک مخالف سرگرمیوں میں شامل نہیں ہیں وہ تو مسلمانوں کی تعلیم کے لئے کچھ کرنا چاہتے تھے۔ اسی کی سزا سیمی کو دی گئی۔ کسی کے سخت گیرخیالات کا مطلب دہشت گرد یا ملک مخالف ہونا نہیں ہوتا ہے۔اگر ایسا ہوتا تو سنگھ پریوار سے وابستہ تنظیم اور بھارتیہ جنتاپارٹی پر بھی پابندی عائد ہوتی۔کیا مرکزی حکومت کے وزرائے کے خلاف کارروائی نہیں کی جانی چاہئے۔ کیا ہندوستان میں آئین کا نفاذ صرف مسلمانوںپر ہوتا ہے۔ سزا دینے کے لئے صرف مسلمان ہیں۔ ان سب کا جواب حکومت کو دینا ہوگا ورنہ ایک دن وقت اس کا حساب خود بخود لے لے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عابد انور

عابد انور معروف صحافی ہیں۔ آپ اس وقت یو این آئی کے شعبئہ اردو سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ

Close