مذہب نہیں  سکھاتا آپس میں  بیر رکھنا

ہمارا ملک ہندوستان ہمیشہ سے ہی مذہبی رجحان رکھنے والا ملک رہا ہے. نانک، گوتم اور چشتی کی اس سرزمین پر جتنی تغیرات پائی جاتی ہیں ، اتنی دنیا کے کسی ملک میں  نہیں  پائی جاتی ہیں . ('वसुधैव कुटुम्बकम') "پوری دنیا ایک خاندان کی مانند ہے" کا اصول ہی اس ملک کی بنیاد ہے اور کثرت میں  وحدت ہی اس ملک کی طاقت ہے. اور ان بے شمار  تنوع کے باوجود ہندوستان کے آئین کی دفعہ 25 میں  ہندوستان کو 'مذہبی آزادی' والا ملک کہا گیا ہے یعنی تمام مذاہب کا احترام ہندوستان کے ہر شہری کا فرض ہے. لیکن پھر ایسا کیوں  ہے کہ ہم ایک دوسرے کے مذاہب کا احترام کرنے کے بجائے ایک دوسرے سے لڑنے کے لئے تلے رہتے ہیں ؟ ایسا کیوں  ہے کہ ہم مذہب اور ذات پات کے نام پر فسادات کا حصہ بن جاتے ہیں ؟ ہم کیوں  بھول جاتے ہیں  کہ یہ ملک کسی خاص مذہب کی جاگیر نہیں  ہے اس ملک پر تمام کا یکساں  حق ہے. ملک کی آزادی کے لئے تمام مذاہب کے لوگوں  نے اپنی جان کی قربانی دی ہے. یہ ملک اگر اشفاق اللہ خان کا ہے تو پنڈت رام پرساد بسمل کا بھی ہے. اور اگر مہاتما گاندھی کا ہے تو مولانا ابو الکلام آزاد کا بھی ہے.

آج اگر ہم اپنے ملک کے سماجی منظر نامے کو دیکھتے ہیں  تو بڑی مایوسی ہاتھ لگتی ہے. جو سالمیت، اتحاد اور تنوع کبھی ہماری طاقت ہوا کرتی تھی، وہ ہماری کمزوری بنتی جا رہی ہے. رواداری آہستہ آہستہ ہمارے معاشرے سے ختم ہو رہی ہے اور اس وقت اس کی تازہ مثال مدھیہ پردیش کے بڑواني ضلع سے سامنے آئی ہے جہاں  اریہنت میڈیکل کالج کے ایک طالب علم اسد خان کو صرف اس وجہ سے کالج سے نکال دیا گیا کیونکہ اس نے داڑھی رکھی ہوئی تھی. طالب علم نے بتایا ہے کہ داڑھی بڑھانے کے بعد سے ہی اس کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جانے لگا تھا. اسد نے اپنی شکایت کے ساتھ ضلع انتظامیہ کو فون کالز کا ریکارڈ اور پرنسپل کے ساتھ بات چیت کی آڈیو سی ڈی ثبوت کے طور پر پیش کی ہیں . اگست 2016 میں  کالج نے اسد کو ٹرانسفر سرٹیفکیٹ دے دیا تھا لیکن اسد کا کہنا ہے کہ "کالج نے دوسرے سال کی میری موجودگی زیرو دکھا دی ہے جس کی وجہ سے میں  کہیں  داخلہ نہیں  لے سکتا جو سراسر غلط ہے، اس کی جانچ ہونی چاہئے. "

مضمون:  شراب باہرشہاب جیل میں

کچھ اسی طرح کا معاملہ جولائی 2016 میں  مؤ ضلع میں  سامنے آیا تھا جب سی بی ایس ای سے دسویں  پاس ایک طالب علم کو اگلی کلاس میں  ایک پرائیویٹ اسکول نے صرف اس وجہ ایڈمیشن نہیں  دیا تھا کیونکہ اس نے داڑھی رکھی تھی.

یہ واقعات آپ کو چھوٹے لگ سکتے ہیں  لیکن ہمیں  یہ بھی سوچنا ہوگا کہ کیا ہمارے جذبات تبھی مجروح ہوتے ہیں  جب بڑے بڑے فسادات ہوتے ہیں ؟ ایک مہذب معاشرے کا حصہ ہونے کے ناطے کیا ہماری یہ ذمہ داری نہیں  ہے کہ ہم ان واقعات پر اپنی رائے کا اظہار کریں ؟ یہ تو وہ کچھ واقعات ہیں  جہاں  تک میڈیا پہنچ جاتا ہے، لیکن ہم اپنے ارد گرد دیکھ رہے ہیں  کہ کس طرح سے مذہب اور ذات کی بنیاد پر امتیاز دن بدن پروان چڑھ رہا ہے.

نسلی امتیاز کو آج سب سے بڑا سماجی مسئلہ کہنا مبالغہ نہیں  ہوگا. ہمارا معاشرہ آہستہ آہستہ اتنے حصوں  میں  تقسیم ہو گیا ہے کہ اتحاد کا احساس پھیکا ہوتا جا رہا ہے. سوال یہ ہے کہ جب ذات پیشے کی عکاسی نہیں  کرتی تو اس کی کیا ضرورت ہے؟ ضروری نہیں  کہ برہمن کا بیٹا پروہت، ویشیہ کا بیٹا تاجر یا درزی کا بیٹا درزی ہی بنے. لیکن آج محبت اور نفرت کی بنیاد یہی ہے کہ کون کس ذات یا قبیلے میں  پیدا ہوا؟ جب تک ملک میں  ذات پات پھیلتا رہے گا، ترقی کے نعرے کھوکھلے ثابت ہوتے رہیں  گے. ہمیں  اور خاص طور سے نوجوانوں  کو اپنی شرکت کو یقینی بناتے ہوئے یہ سمجھنا ہوگا اور آنے والی نسلوں  کو یہ بات بتانی ہوگی کہ ہم '( 'वसुधैव कुटुम्बकम') "عالمی خاندان" کی روایت والے ملک کا حصہ ہیں ، جہاں  ذات کی کھائی کوئی حیثیت نہیں  رکھتی اور ہم انہیں  محبت ، ہم آہنگی اور رواداری سے پاٹ سکتے ہیں . تبھی قوم کی ترقی ممکن ہے.


⋆ طلحہ منان

مدیر