ملی مسائلہندوستان

مسلمان ایک بڑی لکیر کھینچنے کے قابل کب ہوں گے؟

جمہوریت پر سب سے زیادہ یقین رکھنے والے مسلمانوں کو متحد ہوکر ایک طاقت کے طور پر ابھرنا ہوگا

تبسم فاطمہ

بچپن میں ایک سوال ہمیں حیران کرجاتا تھا۔ کسی لکیر کو چھوٹا کیسے کریں گے؟ مسکرا کر جواب ملتا، کہ اس کے برابر ایک بڑی لکیر کھینچ دیجئے۔ یہ مثال آج بھی دی جاتی ہے۔ آزادی کے ۷۰ برسوں میں اس مثال کو سامنے رکھیں تو مسلمان کبھی بڑی لکیر نہیں بن سکے۔ اس کا دوسرا پہلو ہے کہ انہیں کبھی، بڑی لکیر بننے ہی نہیں دیا گیا۔ بننے اس لیے نہیں دیا گیا، کہ اگر مسلمان بڑی لکیر کے طورپر سماجی اور سیاسی منچ پر ابھرتے تو سیاسی پارٹیوں کے لیے الجھنیں پیدا ہوجاتیں۔ بڑی لکیر کے لیے اتحاد کی ضرورت تھی۔ اور اتحاد کا سیدھا مطلب تھا، ہندوستانی سرزمین پر مسلمانوں کا طاقت کے طور پر ابھرنا۔ سیاسی پارٹیاں اس سچ سے واقف تھیں کہ مسلمان متحد ہوکر طاقتور بن گئے تو امکان اس بات کا زیادہ ہے کہ سیاسی سطح پر اقتدار کی تاریخ رقم کرنے میں ان کا کردار سب سے اہم ہوگا۔ اوریہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں موند کر جمہوریت پر سب سے زیادہ یقین رکھنے والی یہ قوم کہیں اقتدار کی ریس میں سب سے آگے نکل نہ جائے۔ آزادی کے بعد سے ہی مسلمانوں کو فرقوں میں تقسیم کرنے کی سیاست حاوی رہی۔ مسلمان اس سیاست کے پیچھے کے خوفناک سچ کو سمجھ نہیں سکے۔ دلت مسلمانوں کا شوشہ بھی چھوڑا گیا۔ کچھ ایسے بھی مسلم لیڈر تھے جو دلت مسلمانوں کی سیاست کرنے لگے۔ ’ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود وایاز‘ کا فلسفہ تار تار تھا۔ علامہ اقبال نے برسوں پہلے اس سیاست کی آنچ کو محسوس کرتے ہوئے سوال کیا تھا۔ ’تم سبھی کچھ ہو بتائو کہ مسلمان بھی ہو‘ سیاست مسلمانوں کو تقسیم کرتی رہی اورہر بار یہ سوال حاوی رہا کہ مسلمان ایک بڑی لکیر کھینچنے کے قابل کب ہوں گے؟

آر ایس ایس یا مودی کی بھاجپا حکومت سے ہم اس بات کا شکوہ یا گلہ کیوں کریں کہ وہ مسلم مخالف سیاست کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں۔ آر ایس ایس کی مکمل تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اس کے قیام کے پس پشت کسی راشٹر واد (حب الوطنی) کو دخل نہیں تھا۔ گاندھی کے خلاف جاتے ہوئے، برٹش حکومت کی حمایت صرف اس لیے کی جاتی تھی کہ یہ فرنگی ہی تھے جنہوں نے ہندو مسلمانوں کی صدیوں پرانی محبت کو نفرت کی جنگ میں تبدیل کردیا تھا۔ گوولکر کے اس تاریخی بیان کو یاد کیجئے، جس میں اس نے کھلے عام انگریزوں کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ ملک کی سردو گرم سیاست سے گزرنے کے بعد اگر اب سیاسی لگام آر ایس ایس کے ہاتھ میں آئی ہے، تو ظاہر ہے وہ اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے اس کا استعمال کرنا چاہے گی۔ اپنے منصوبوں کے لیے وہ کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرے گی۔ یہاں اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ آر ایس ایس کو مسلمانوں کے نام سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ آرایس ایس کا زور اس بات پر بھی رہا ہے کہ ہندوستان کے تمام مسلمان کنورٹیڈ ہیں۔ انہیں اب بھی صحیح راستے پر لایا جاسکتا ہے۔ اوراس کے لیے ضروری ہے کہ اسلام کی بنیاد میں آہستہ آہستہ سیندھ لگائی جائے۔ آر ایس ایس اس بات کو جانتی ہے کہ اسلام مذہب میں پرستش کو کفر کا درجہ حاصل ہے۔ یوگا، سوریہ نمسکار، سرسوتی وندنا کا شگوفہ اسی لیے چھوڑا گیا کہ آہستہ آہستہ اس بنیاد کو کمزور کیا جائے۔ آر ایس ایس کو کوئی جلد بازی نہیں ہے۔ وہ اس نفسیاتی نکتہ سے بخوبی واقف ہے کہ ایک بار اگر بنیادوں میں سیندھ پڑ جائے تو باقی مورچے بھی آہستہ آہستہ فتح کیے جاسکتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ سیاست کے سہارے آر ایس یس نے اپنے اہم مقاصد کی طرف قدم بڑھانا شروع کردیا ہے۔ مسلمانوں کو گلہ اس لیے بھی نہیں ہونا چاہیے کہ نہ آر ایس ایس کو ان کا ووٹ چاہیے، نہ مودی کو، نہ امت شاہ کو۔ مسلمانوں کے ووٹ کی ضرورت نام نہاد سیکولر پارٹیوں کو ہے۔ اور بھاجپا اس حقیقت سے واقف ہے کہ ادھر یہ ووٹ تقسیم ہوئے اور ادھر نتیجہ ان کے حق میں۔ اس لیے گھوم پھر کر یہ سوال پھرسے پیدا ہوتا ہے کہ مسلمان بڑی لکیر کھینچنے کے قابل کب ہوں گے؟ اہم نکتہ یہی ہے، جس پر ابھی بھی مسلم لیڈران یا تنظیمیں دھیان نہیں دے رہی ہیں۔

 اس میں شک نہیں کہ آر ایس ایس کا پہلا کام ہے، ہمیں الجھائے رکھنا۔ مٹن یا بیف، گئو سرکشا، بابری مسجد، مسلم پرسنل لا۔ یہ ایسے شوشے ہیں جو مسلمانوں کے ساتھ مسلم قیادت کو بھی الجھائے رکھتے ہیں۔ اور اس لیے بڑی لکیر کھینچنے والا معاملہ حاشیہ پر چلا جاتاہے— دراصل بڑی لکیر اتحاد کی وہ طاقت ہے، جسے برادران مسلمان ابھی تک سمجھ نہیں پائے۔ ایک بار یہ بڑی لکیر بن گئی تو حکومتیں سناٹے میں آجائیں گی۔ مسلمانوں کا معاشی واقتصادی گراف تیزی سے آگے بڑھے گا۔ بھروسہ اور اعتماد پیدا ہوگا۔ سبزباغ دکھانے والی سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کو توڑنے اورجوڑنے کا عمل نہیں کرپائیں گی۔ مسلمانوں کو دہشت گرد بنا کر پیش کرنے والی سیاسی پارٹیوں کو بھی جھٹکا لگے گا۔ کیونکہ سیاسی طاقت کا عمل بھی کمزوروں پر ہوتا ہے۔ طاقتور ایسے ہر سیاسی دائو پینچ کو ناکام بنانا جانتا ہے۔ ممکن ہے، یہ کہا جائے کہ جو ۷۰ برسوں میں نہیں ہوا، وہ اب کیا ہوگا:؟ یا یہ کہ مسلمانوں میں اتحاد ایک خواب ہے یا نا ممکن سا عمل۔ لیکن بہار انتخاب سے لے کر ’بھاجپا بیزاری‘ تک ایسے کئی مقامات گواہ ہیں، جہاں اتحاد کی طاقت محسوس کی گئی— سوال یہ نہیں ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ وہ جوبھی کررہے ہیں ان کے مقاصد میں شامل ہے۔ سوال ہے، ہمارے پاس زندہ رہنے، مستقبل کے گیسو سنوارنے اور آگے بڑھنے کے لیے کیا اسٹریٹجی ہے؟، اب یہ بھی خبر آگئی کہ سپریم کورٹ میں مسلمانوں کی نمائندگی نہیں ہے۔ فوج، ملک کی خفیہ ایجنسیوں سے مسلمان پہلے ہی غائب کیے جاچکے ہیں۔ صحافی پشپ شرما کے بیان پر غور کریں تو اب سرکاری نوکریوں میں مسلمانوں کی ملازمت پر بھی سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ میڈیا کے تازہ سروے انکشاف کرتے ہیں کہ مودی کی مقبولیت وقت کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے اور ۲۰۱۹ میں بھی مودی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ سوال مودی حکومت یا کانگریس کا نہیں ہے، ان ستر برسوں کا تجزیہ ضروری ہے، جہاں مسلمانوں کی ترقی کے گراف میں مسلسل گراوٹ آئی ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ گھوم پھر کر ہمارے پاس سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشرا کمیشن کی سفارشات کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ ہمارے پاس نہ کوئی مضبوط میڈیا ہے اور نہ کوئی جادو کی چھڑی جو مسلمانوں کے گرتے گراف کو خوش آئند مستقبل میں تبدیل کرسکے۔

ترقی یافتہ قومیں خود پر بھروسہ کرتی ہیں، حکومتوں پر نہیں۔ ابھی کئی ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ فرض کیجئے، اترپردیش اوردیگرریاستوں میں مسلمان بی جے پی کو روکنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، کیا اس سے مسلمانوں کی عام زندگی میں ترقی کا کوئی رجحان پیدا ہوگا؟، بہت حد تک ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ حالات میں مسلمان جس خوف کے سائے میں زندگی بسر کررہے ہیں، اس سے نجات مل جائے گی؟ اب سوچنے والی بات یہ ہے کہ دراصل خوف اور اندیشے کی یہی وہ کڑی ہے، جس میں پچھلے ستربرسوں میں، مسلمانوں کو الجھا کر رکھا گیا ہے۔ کیا کانگریس، سماج وادی، جے ڈی یو، بی ایس پی، جیسی سیکولر کہی جانے والی پارٹیوں نے کبھی مسلمانوں کے مسائل میں دلچسپی لی۔ ؟ اس کا سیدھا جواب نہیں میں ہے۔ بہار میں پندرہ اگست کے موقع پر ایک بھی مسلمان (اساتذہ) کو انعام کے لائق نہیں سمجھا گیا۔ اترپردیش میں جب انتخابات آتے ہیں تو حکومت مسلمانوں سے صرف وعدہ کرتی ہے اور حکومت بننے کے بعد تمام وعدوں کو بھول جاتی ہے۔

مسلمانوں کو اس ملک کی دوسری بڑی آبادی کہا جاتاہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ دوسری بڑی اکثریت یا آبادی کا حکومتوں کے تمغے پر انحصار کرنا دراصل مسلمانوں کی مجبوری نہیں بلکہ یہی خوفناک سیاست ہے، جس نے مسلمانوں کو سماجی وسیاسی سطح سے مین اسٹریم تک کبھی ابھرنے کا موقع نہیں دیا۔ اب وقت آگیا ہے، جب مسلمان تمام سیاسی وسماجی پہلوئوں پر غورکرتے ہوئے بڑی لکیر کھینچنے کی کوشش کریں، ورنہ حکومتیں ان کے ساتھ وہی سلوک کرتی رہیں گی، جو اب تک کرتی آئی ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close