ہندوستان

مسلم اقلیت جمہوریت کی پہچان ہے!

ڈاکٹر ظفردارک قاسمی

آج  کل یہ بات سامنے آرہی ہے کہ فرقہ پرست طاقتوں کوروکنے کے لئے اور وطن کی تعمیرو ترقی کے تئیں سیکولر برادری کو ملک کی زمام اقتدار دیجائے؛  مگر اس وقت سب سے بڑا سوال یہ ہیکہ کیا تمام سیکولر طاقتیں یکجا ہو پائیں گی ؟ اگر سیکولر برادری کا عظیم اتحاد ہوجاتا ہے تو پھر یہ سوال باقی رہجاتا ہے کہ لوکسبھا الیکشن  میں کون چہرہ ہوگا؟   کیونکہ کئی اہم  اور قد آور لیڈر گہار لگائے بیٹھے ہیں کہ 2019 میں ہمارے نام پر الیکش لڑا جائے؛  اس لئے عظیم اتحاد کی پائداری اور استحکام کے حوالہ سے کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا ہے- مگر اس وقت ملک کو ایسے جیالوں اور افراد کی سخت ضرورت ہے جو وطن کا اقبال بلند کرسکیں اور ہندوستانی معاشرہ میں امن کی روح پھونک نے میں کامیاب ہوسکیں؛  ملک کی عوام نے جن طاقتوں کو اقتدار تک پہنچایا تھا اب ان کا رویہ بدل چکا ہے جبکہ انہوں نے اپنے انتخابی منشور میں اعلان کیا تھا کہ سب کا ساتھ سب کا وکاس ہمارا مشن ہے؛ مگر  حکومت نے جس طرح عوام کا اعتماد پاش پاش کیا ہے اس کے تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ ملک کی اکثریت حکومت کی کار کردگی سے کافی تعداد میں ناراض ہے ؛ مگر جانبدار میڈیا عوام کی ضروریات کو نظر انداز کرنے پر تلی ہوئی ہے؛  بناء بریں سیکولر اتحاد کی سخت ضرورت ہے؛  یہی اتحاد باطل طاقتوں کی سرکوبی کرسکتا ہے؛  اگر سیکولر برادری متحد نہیں ہوتی ہے تو پھر ملک میں بد امنی اور بے چینی مزید بڑھ جائیگی جو ہندوستانی سماج کے لئے ٹھیک نہیں ہے-

  اگر ہم بین الاقوامی اداروں کی سفارشات کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ ہندوستان جیسے عظیم جمہوری ملک کو تنقید و تنقیص کا نشانہ بنایا جارہا ہے جو پورے ہندوستانی سماج کے لئے تشویشناک ہے؛  افسوس تو اس بات کا ہےکہ  ملک میں تشدد اور ضرررساں واقعات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے مگر  حکمراں جماعت کی بے بسی اور لاچارگی  اتنی بڑھ چکی ہے کہ وہ ابھی تک خاطیوں؛  قصورواروں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچا سکی؛  حد تو یہ بھی ہیکہ سیکولرزم  کا جھوٹا تماشا کرنے والے اور آئین ہند کا حلف اٹھا کر جمہوریت کے مندر میں براجمان لوگ  گنہگاروں کا خیر مقدم کر رہے ہیں ؛ جو اس بات کی واضح علامت ہے کہ ہندوستانی معاشرہ میں اب نفرت کی کھیتی حکومت کی سر پرستی میں کیجا رہی۔

آج ضرورت اس بات کی ہیکہ ملک میں امن وامان کے قیام کے لئے  زمینی سطح پر کا م کیا جائے؛ اور مذہب کے نام پر سیاست کا گندہ کاروبار کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کیجائے؛ ضمنا یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ  اخباروں میں مذمت کرنے سے کچھ نہیں ہوگا؛ بلکہ اس کے لئے ٹھوس قدم اٹھانا ہوگا؛  وہیں سماج کو بھی سوچنا ہوگا کہ وہ کون لوگ ہیں جو نفرت کا اسقدر زہر گھول رہے ہیں کہ ایک انسان دوسرے انسان کی جان لے لیتا ہے اور سماج اس مکروہ نفس کو قبول کرلیتا ہے؛  اس لئے کہیں نہ کہیں ہمارا سماج بھی مجرم ہے؛ چنانچہ سماج میں جو نفرت کے شعلے بھڑک رہے ہیں ان کو بے اثر کرنا پڑیگا اور باہم محبت؛  انسان دوستی؛  باہمی تعاون جیسی عظیم الشان  زنجیر میں سماج کو پرونا ہوگا  تبھی جاکر ملک اور معاشرہ سے سخت گیری نیست نابود ہوسکے گی –

  شرمناک بات یہ ہیکہ   ہمارے سماج کا اب یہ وطیرہ بن گیا ہے کہ اگر کہیں کوئی غیر انسانی حرکت کیجاتی ہے تو اگلے دن اخبارات میں تمام سیاسی رہنما؛  سماجی کارکن اور مذہبی قائد اپنے خیالات کا اظہار کرکے رستگاری حاصل کرلیتے ہیں؛ اور سمجھتے ہیں کہ اب ہماری ذمہ داری ختم ہو گئی؛  جبکہ ایسا نہیں ہے؛ ٹھیک ہے  معزز اور سرکردہ شخصیات کی طرف سے کسی بھی ناروا واقعہ کی مذمت کرنا کا اپنا اثر ہوتا ہے؛ آزادی کے بعد سے آج تک ان گنت فرقہ وارانہ فسادات کرائے گئے اگر ان کا انصاف سے تجزیہ کیا جائے ‘ تو بات نکل کر سامنے یہی آتی ہے کہ زیادہ تر نقصان مسلمانوں کا ہوا ہے؛  مگر  کسی بھی سیاسی جماعت نے آج تک مسلم اقلیت کے زخموں کا مداوا نہیں کیا ہے؛  بلکہ ہر موقع ہر صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا ہے؛  مگر اب تو حکمراں جماعت نے ایسا حربہ استعمال کیا ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت مسلمانوں کا نام تک لینا پسند نہیں کررہی ہے کیونکہ انہیں خوف و خدشہ لاحق ہے کہ  اگر مسلم اقلیت کی طرفداری کی تو ہمارا ہندو ووٹ خطرہ میں پڑ جائے گا۔

  یہی وجہ ہیکہ لگاتار ملک میں گزشتہ چار برسوں میں مختلف مقامات پر مسلمانوں کو بے رحمی سے ہلاک کیا گیا ہے ؛ ہجومی تشدد نے زیادتیاں کیں ہیں  مگر ابھی تک کوئی سیاسی جماعت کا فرد مظلوموں کے گھر تک نہیں گیا ہے؛  پتہ یہ چلا کہ موجودہ دور میں مسلم اقلیت کو انتھائی سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا اور مؤثر حکمت عملی اپنانی ہوگی ؛ تبھی جاکر اس وحشت و بربریت سے نجات مل پائے گی-  یہ سچ ہیکہ جس طرح سے ملک میں لنچنگ کی واردات بڑھتی جارہی ہیں اسی طرح سے ہندوستانی معاشرہ پستی؛  نکبت اور ذلت کی طرف بڑھ رہا ہے؛  ظاہر جب سماج میں یکجہتی ختم ہونے لگے گی تو یکایک ادبار و تنزلی ہمارا مقدر بن جائے گی؛  اس لئے ملک اور سماج کی خوشحالی کے لئے ضروری ہیکہ انسانی عظمت و تقدس کو پامال کرنے سے بچا یا جائے؛  جانوروں پر کم انسانوں پر زیادہ توجہ دیجائے؛  حکمراں جماعت کی گزشتہ چار برسوں پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہیکہ صرف نفرت کے اور کوئی کام نہیں ہوا؛  اسی پر بس نہیں بلکہ مسلمانوں اور دلتوں کی دل آزاری کرنے کے ساتھ ساتھ سیکڑوں کو موت کی نیند سلادیا گیا ہے؛  اخلاق سے لیکر اکبر تک ہجومی تشدد میں شکار ہونے والوں کی تعداد کا فی طویل ہے ؛ دکھ اس بات کا ہیکہ ایک کے بعد ایک ظلم ہوتا رہا اور حکومت میں بیٹھے لوگوں نے کوئی بھی اس  زیادتی کے خلاف کاروائی نہیں کی ؛ حیرت تو یہ بھی ہیکہ مجرمین کھلے عام  دندناتے پھر رہے ہیں؛  انکی سرزنش کرنے کے بجائے حکومت کے نمائندہ ان کی پیٹھ تھپتھپا رہے ہیں؛  اس سےسماج دشمن عناصر کے حوصلہ بلند ہورہے ہیں ؛ اس سے یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں ہے کہ ہندوستان کس سمت جارہا ہے؛  اس کے باوجود حکمراں جماعت کے ٹکڑوں پر پلنے والے  افراد یہ دہائی دیرہے ہیں ہیکہ ہندوستان ترقی و فلاح کی جانب گامزن ہے؛  جبکہ اس بات کو پوری دنیا جانتی ہیکہ گزشتہ چار برسوں میں صرف ہندو مسلم نفرت کی آبیاری کی گئی ہے اور مذہب کے نام پر سیاست کا گھناؤنا کاروبار پنپا ہے؛  ہندوستانی معاشرہ حکمراں جماعت کے  ان سیاہ کارناموں  کو کبھی بھی نہیں بھلا پائے گا ؛ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ فلاحی ریاست و حکومت وہی کہلاتی ہے جس میں سماج مہذب ہو؛  معاشرہ اقتصادی  ترقی کی طرف رواں دواں رہے؛  اس کے علاوہ کامیاب حکومت کے لئے یہ بھی لازم ہیکہ وہ اپنی رعایا اور سماج میں امن وچین برقرار رکھنے میں تعاون کرے؛  باہم ادیان کے احترام اور انسان دوستی جیسی خوشگوار روایات کو فروغ دیا جائے تاکہ ہندوستانی سماج کی صالح خطوط پر تعمیر ہوسکے۔

مسلم اقلیت ہندوستان میں جمہوریت کی بنیاد ہے اگر ملک میں مسلم اقلیت  کے ساتھ ظلم و زیادتی کیجاتی ہے ؛ یا ان کے پرسنل لا میں مداخلت کی کوشش کیجاتی پے؛  یا دیگر غیر مہذب اعمال کرانے پر مجبور کیا جاتا ہے تو یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ ہندوستان کی سب سے اہم اور بنیادی پہچان جمہوریت خطرہ میں ہے؛  اس لئے ہندوستان کے ہر سیکولر فرد پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہیکہ ہندوستان کے جس امتیاز و تشخص کو گاندھی؛  مولانا آزاد اور دیگر ملک کے وفاداروں و جانثاروں نے محفوظ کیا تھا   اس کو اب دوبارہ بچانے کی ضرورت ہے؛ اس وقت ملک میں فسطائی طاقتیں اپنے عروج پر ہیں اور جہوریت کو داغدار کرنے کے لئے ملک کی دوسری اکثریت مسلمانوں کو ہجومی تشدد کا شکار بنایا جارہا ہے۔

افسوس اس بات کا ہیکہ ہندوستانی معاشرہ اپنی صدیوں پرانی تہذیب رواداری؛  بھائی چارگی اور ہندو مسلم اتحاد بڑی تیزی سے کھوتا جارہا ہے؛  آخر میں یہ عرض کرتا چلوں کہ ہندوستانی معاشرہ کو یہ سوچنا ہوگا کہ آج ملک میں عوام کو مذہب کے نام پر اکساکر دو طبقوں کے درمیان تصادم کرادیا جاتا ہے اور پھر سیاسی جماعتیں اپنی سیاسی روٹیا سیکنے لگتی ہیں؛  جبکہ  آج حکومت کا یہ فرض بنتا ہے ملک سے غربت کے خاتمہ کے لئے جدو جہد کرے ؛ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرے؛  اسی طرح کسانوں؛  مزدوروں اور محنت کش افراد کو  با اختیار بنانے میں اپنا تعاون کرے؛  اور مسلم اقلیت کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے؛  کیونکہ ملک میں رہنے والے تمام طبقات ہمارے سماج کے معزز فرد ہیں کسی بھی طبقہ کے ساتھ بھید بھاؤ کرنا جہموری نظام کو مسخ کرنے کے مترادف ہے؛  ابھی تک حکومت نے عوام کی اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے نئے نئے اور بے بنیاد مسائل لاکر ہندوستانی معاشرہ کو دھوکا دیا ہے؛  حکومت کی اس شاطرانہ روش کو بھی سمجھنا ہوگا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ظفر دارک قاسمی

جنرل سکریٹری اقراء ایجوکیشنل ویلفیئر سوسائٹی(رجسٹرڈ ) بدایوں، یو۔پی۔انڈیا شعبۂ دینیات،مسلم یونیورسٹی علی گڑھ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close