ہندوستان

مسلم مکت پارلیمینٹ کی جانب پیش قدمی

 ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی
راجیہ سبھا کی 75سیٹوں کے لیے ۱۱جون کو انتخابات عمل میں آ نے والے ہیں ،یہ انتخابات اترپردیش،بہار،مغربی بنگال، تلنگانہ، آندھراپردیش، کرناٹک، تمل ناڈو اورراجستھا ن وغیرہ ریاستوں میں ہوں گے۔ یہ انتخاب ہر دوسال میں 6 سالہ مدت کے لیے ہوتے ہیں۔ جن ریاستوں میں انتخابات ہورہے ہیں ان میں سے اکثر میں مسلمانوں کی بڑی تعداد رہتی ہے۔ مثلا اکیلے اترپردیش، بہار، بنگال اورآسام میں ہندوستانی مسلمانوں کی کل تعداد کا ۵۲فیصد آباد ہیں، اسی طرح تلنگانہ، راجستھان اورمہاراشٹروغیرہ میں بھی مسلمانوں کی تعداد ۰۱فیصد سے زیادہ ہے۔ریٹائرڈ ہونے والے 75 اراکین راجیہ سبھامیں سے 4 مسلمان ہیں جن کے ریٹائرمنٹ کے بعد اب راجیہ سبھامیں مسلم ممبران پارلیمنٹ کی تعداد محض 4 رہ جائے گی۔ خبروں سے اندازہ یہ ہورہاہے کہ نئے چنے جانے والے اراکین راجیہ سبھامیں بی جے پی کے سواکسی بھی سیاسی جماعت نے کسی مسلمان کو امیدوار نہیں بنایاہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ راجیہ سبھامیں مسلم اراکین کی تعداد آزادی کے بعد سب سے کم ہوگی اوریہ بھی ممکن ہے کہ آئندہ ۲سال بعد ہونے والے راجیہ سبھاکے انتخاب میں بھی اگر کسی طرح مسلم اراکین کو امیدوار نہیں بنایاگیاتو یہ تعداد محض ایک رہ جائے گی۔ یہ امر تکلیف دہ ہے کہ مسلمانوں کے دم پر حکومت کرنے والے اورمسلمانوں کے ووٹوں کی سب سے بڑی دعویدار اورسیکولرزم کا دم بھرنے والی سیاسی جماعتوں نے بھی نہایت دیدہ دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو نظر انداز کردیا۔ انتہایہ ہے کہ اترپردیش کی سماج وادی پارٹی جس کے لیڈر کو رفیق ملت اورمولاناملائم کا لقب دیاگیا ہو اس نے بھی مطالبہ کے باوجود اور اپنی پارٹی کے بانیوں میں سے ایک اور مسلم چہرے اعظم خان کی جانب سے اظہار ناراضگی کے باوجود مسلم نمائندگی کو یکسر مسترد کردینے کی جراءت دکھائی ہے اوروہ بھی ان حالات میں جب کہ اترپردیش کے اسمبلی انتخابات میں اب محض چند مہینے باقی رہ گئے ہیں۔ ان حالات میں مسلم قیادت کو خود سے کچھ سوالات کرنے چاہئیں۔ گزشتہ مضامین میں بھی میں ان سوالات اوران کے جوابات کی جانب نشاندہی کرتارہاہوں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایساکیاہواکہ اب سے ایک دہائی قبل تک مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے سر دھڑکی بازی لگادینے والی سیاسی جماعتیں مسلمانوں کی جانب سے اس قدر لاپروا، بے نیاز اوربے خوف ہوگئی ہیں۔ جن پارٹیوں پر مسلمانوں کی منہ بھرائی کا ہمیشہ الزام لگتارہا، وہ پارٹیاں بھی عین الیکشن کے موقع پر مسلمانوں کو ناراض کردینے کا جوکھم اٹھانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتیں۔ دوسراسوال یہ ہے کہ کیامسلمانوں کے پاس ایسی کوئی قوت ہے کہ وہ ان پارٹیوں کو اپنی نمائندگی یقینی بنانے پر مجبور کرسکیں۔ تیسراسوال یہ ہے کہ اگر بہت مطالبات اور دباو بناکر بھیک کی طرح ایک سیٹ کسی پارٹی نے دے بھی دی تو کیا اس کا کوئی فائدہ مسلمانوں کو ہوگا؟
انگلش الیکٹرانک میڈیاکے ایک صحافی نے حال ہی میں مجھ سے یہ سوال کیاتھاکہ آخر سیکولر کہی جانے والی جماعتیں مسلمانوں کو کیوں نظر انداز کررہی ہے؟ میراجواب یہ تھا کہ ملک کی سیاست ایک واضح کروٹ بدل چکی ہے۔ بی جے پی کی انتخابی حکمت عملی باربارکامیاب سے ہمکنار ہورہی ہے اوراس کی حکمت عملی محض انتخاب جیتنا نہیں ہے بلکہ پورے ملک میں مسلمانوں کے ووٹ کو بے اثر کرنا بھی ہے۔ ساٹھ سال تک خود کو بادشاہ گر سمجھنے والے مسلمان آج بے یارومددگار کنارے پر کھڑے رہ جائیں۔ پالیسی ساز اداروں میں ان کی آواز ختم کردی جائے، بادشاہ گر کو بھکاری بنانا ان کا مقصود نظر ہے۔ اس غرض سے مسلم ووٹ کو یکہ وتنہا چھوڑ کر دیگر طبقات کے ووٹوں کو اکھٹا کردیناہی ان کی پالیسی رہی ہے جس کے مظاہر حال ہی میں آسام انتخابات میں دیکھنے کو ملے ہیں۔ اس سے قبل بھی دہلی اسمبلی انتخابات 2013 کے موقع پر عام آدمی پارٹی کو کھڑاکرکے کانگریس کا سارا ووٹ ادھر منتقل کردیاگیا اورکانگریس کی جھولی میں جان بوجھ کر مسلمانوں کو تنہاچھوڑ دیاگیاجس کے نتیجے میں اسمبلی کے اندر مسلمانوں کی تعداد بھی کم ہوگئی اورکانگریس بھی عزت بچانے میں ناکام رہی۔ اسی کا نتیجہ تھاکہ 2014 کے دہلی اسمبلی انتخابات میں چاروناچار مسلمان بھی اسی بھیڑ میں شامل ہوگیا۔ اسی طرح وہ ریاستیں جن میں علاقائی سیاسی پارٹیوں کا دبدبہ ہے اوروہ خود کو سیکولربھی کہتی ہیں، وہاں بھی بھیڑ چال چلتے ہوئے مسلمان ان کی جھولی میں جاگرے اوران پارٹیوں نے مسلم قیادت اور عوام کو کوئی اہمیت بھی نہ دی۔ وہ چاہے بہار ہویا تلنگانہ یامہاراشٹر۔ یہ حالات ثابت کررہے ہیں کہ ملک میں نظریاتی سیاست دم توڑ چکی ہے اور انتخابی ریاضی کا کھیل جلوہ نما ہورہاہے۔ ان حالات میں سیکولر کہلائی جانے والی جماعتیں مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے کی شدید خواہش کے باوجود ان سے خوف زدہ ہیں مبادا انھوں نے مسلمانوں کے ووٹ لینے کا اعلان کیاتو ہندو ووٹ اسی طرح ان کے کشکول سے نکل جائے گاجس طرح دہلی میں کانگریس سے بے زار ہواتھا۔ چنانچہ بہار میں نتیش کمار اورلالو پرساد یادونے خط لکھ کر مسلم تنظیموں کے ذمہ داران سے یہ فرمائش کی کہ ہمیں ووٹ دینے کی کوئی برملااپیل نہ کی جائے بلکہ خاموشی سے ووٹ دلوادیاجائے۔ یہی عمل اروند کیجریوال نے بھی انجام دیاتھا جب دہلی کی شاہی جامع مسجد کے امام سید احمدبخاری نے مسلمانوں کو عام آدمی پارٹی کو ووٹ دینے کی اپیل کی تھی۔ کیجریوال جانتے تھے کہ مسلمانوں کا ووٹ ان کی اپیل کے بغیر بھی یکمشت انھیں کو ملے گا لیکن مولاناکے اعلان سے انھیں یہ خطرہ تھاکہ کچھ غیر مسلم ووٹ ان سے بدک نہ جائیں۔ اب صورت حال یہ ہے کہ ظالم مارے بھی اوررونے بھی نہ دے۔ تمام سیکولر پارٹیاں بلاشرط اوربناکچھ دیے مجبور محض اورلقمہ تر سمجھتے ہوئے بی جے پی کو ہرانے کے نام پر مسلمانوں کا ووٹ غصب کرلیناچاہتی ہیں اوریہ اچھی طرح سمجھتی کہ فسطائی قوتوں کو ہرانے کا ٹھیکہ مسلمانوں نے بزعم خود اپنے نام چھڑالیاہے اورزندگی بھر اس سیاسی دام فریب سے باہر نہیں نکل سکتے۔ اس لیے چاروناچار انھیں جیتنے والی کسی سیاسی پارٹی کو ووٹ دینے پر مجبور ہوناہی پڑے گا۔ اب مختلف ریاستوں میں مختلف قوتیں اقتدار کی دعویدار ہیں جنھوں نے اپنے چہروں پر سیکولرزم کا نقاب اوڑھ رکھاہے اورمسلمان چاہ کر بھی اس نقاب کو نوچ کر پھینکنے کی جرات نہیں کرسکتا۔ تو پھر کسی کو نمائندگی دینے کی کیاضرورت ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اگر یہ پارٹیاں مسلمانوں کو نمائندگی دے بھی دیں تو کیاان پارٹیوں سے وابستہ یہ مسلمان قرار واقعی طور پر مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہیں؟ ہمارا ماننا یہ ہے کہ ایک بھی مسلم رکن اسمبلی یاپارلیمنٹ ایوان میں نہ ہوتب بھی مسلمانوں کو کوئی فرق نہیں پڑتااوراگر سارے ارکان بھی مسلمان ہوجائیں تب بھی صورت حال جوں کی تو ں رہے گی۔ اس لیے کہ یہ مسلمان اپنی پارٹی کے وفادار ہیں امت کے نہیں۔ اس کا سب سے بڑاثبوت اترپردیش کی اسمبلی ہے جہاں چار سو میں سے ساٹھ مسلمان اراکین ہیں لیکن اس کے باوجود اترپردیش میں مسلمانوں پر ہونے والے کسی بھی ظلم پر اعظم خاں سمیت ان میں سے کسی کے منہ سے اف تک نہیں نکلتی۔ مظفر نگر کے بھیانک فسادکے باوجود یہ اراکین حکومت کی تعریف میں رطب اللسان بھی رہے اور لوک سبھاالیکشن کے موقع پر مسلمانوں کو اپنی پارٹی کی جانب راغب کرنے کے جھوٹے سچے تمام ہتھکنڈے بھی استعمال کرتے رہے۔ اس کی ایک دوسری بڑی مثال یہ ہے کہ راجیہ سبھاجب خواتین ریزرویشن بل بحث ہوئی تو ایک آزاد مسلم رکن راجیہ سبھانے اس بل کی مخالفت میں لمبی چوڑی تقریرکی لیکن جب ووٹنگ کا نمبر آیاتو انھوں نے بل کی حمایت میں ہی ووٹ کیا۔ حالانکہ آزاد رکن کی حیثیت سے ان پر کسی وہپ کا اطلاق نہیں ہوتاتھا لیکن پھر بھی وہ کانگریس کی حمایت سے چن کر راجیہ سبھامیں آئے تھے تو انھوں نے امت کے مفاد پر کانگریس کے مفاد کو ترجیح دی۔ ان حالات میں یہ صاف ظاہر ہے کہ مسلم اراکین ملی مفادکے اوپر اپنی پارٹی کو ترجیح دیتے ہوئے خود اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی فکر میں غلطاں رہتے ہیں۔ اس لیے یہ واقعہ تکلیف دہ تو ضرور ہے کہ سیکولر پارٹیاں مسلمانوں کو راجیہ سبھاسے محروم کررہی ہیں لیکن اگر وہ اپنے کسی فرمانبردار مسلمان کو راجیہ سبھابھیج بھی دیں تو مسلمانوں کو کتنی رکعت کا ثواب ملنے والاہے۔
یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے پاس اپنا کوئی ایسا سیاسی پریشر گروپ نہیں ہے کہ جو ان سیکولرسیاسی جماعت کا مواخذہ کرنے کی حالت میں ہو درجن بھر سے زائد مسلم تنظیموں کے ذمہ داران اورسربراہان اسی بات سے بہت خوش ہوجاتے ہیں کہ ان کی ملاقات کسی وزیراعلیٰ یاپارٹی صدرسے ہوگئی۔ کچھ دیگر لوگ غصہ اوردباو بناکر اپنے ذاتی منفعت کی سودے بازی کرنے پر ہی اکتفاکرلیتے ہیں اوراپنے رشتے کنبے داروں کے لیے کسی حلقے کا ایک ٹکٹ یاایک ایم ایل سی کی سیٹ کا سودا کرکے ہی مطمئن ہو جاتے ہیں اورمان لیتے ہیں کہ امت کو نمائندگی حاصل ہو گئی۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان ساری تنظیمیں اوران کے رہنماملک کر بھی ملک کے مسلمانوں کا کوئی ایک مسئلہ بھی حل نہیں کراسکے۔ مثلادہشت گردی کے الزام کے سینکڑوں نوجوان گرفتار ہیں، مگر دہشت گردی کے جھوٹے الزامات میں پھنسائے جانے کے عمل کو اپنے سیاسی آقاوں کے ذریعے رکوانے میں یہ رہنماناکام رہے۔ اسی طرح مسلم سیاسی پارٹیاں بھی اگر کہیں طاقت میں ہیں تو انھیں پارٹیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی فیملی کے لیے اقتدار حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں اورمسلمانوں کا جذباتی استحصال کرکے کسی نظریاتی سیاست سے بے بہرہ اپنی قوت کو اپنی ذات کی حد تک استعمال کرنے پر محدود ہیں۔نظریاتی سیاسی جماعت ہونے کا دعویٰ کرنے والی کچھ سیاسی پارٹیاں ابھی حال ہی میں وجود میں آئی ہیں، ان پارٹیوں نے بھی ابھی تک کوئی ایسی سیاسی حکمت عملی اختیار نہیں کی کہ وہ کوئی عوامی اثر پیداکرسکے اورریاستی انتخابات میں درجنوں حلقوں میں انتخاب لڑنے کے باوجود وہ چند ہزار ووٹ لینے سے زیادہ کامیاب نہیں ہوپاتے۔ایسے میں کسی بھی سیاسی پارٹی کے اوپر مسلمانوں کا ایساکوئی دباو نہیں ہے کہ وہ ان کی بات سننے پر مجبور ہوجائیں۔ اس کا نتیجہ مسلمانوں کو مجبور محض بناکے رکھ دیتاہے اورامت ایک شکوہ کناں ویران مزار کی حیثیت میں کھڑی کی کھڑی رہ جاتی ہے ۔کسی شاعر نے خوب کہاتھا
سہمی سہمی سی فضاوں میں یہ ویران مرقد
کتناخاموش ہے فریاد کناں ہوجیسے
مسلم قیادت سیاست کے اس بدلے ہوئے منظر نامے کو سمجھنے کی جانب اگر مائل نہ ہوئی تو مستقبل قریب میں بھی صورت حال کے بدلنے کا کوئی امکان نہیں ہوگا۔اترپردیش اسمبلی انتخابات سامنے ہیں، ان انتخابات میں بی جے پی کی حکمت عملی کوئی خفیہ نہیں رہی۔مسلمانوں کے ووٹوں کو سیکولرزم کا فریب دے کر ایک بار پھر کمزور سیاسی جماعتوں کی جھولی میں ڈھکیلنے کی کوشش کی جائے گی۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بی جے پی اترپردیش میں حکومت سازی کی خاطر ایساکرے گی لیکن یہ خام خیالی ہے۔ ملائم سنگھ یادوکے تیور صاف بتارہے ہیں کہ وہ کچھ دیگر ذاتوں کا ووٹ اپنے حق میں کرنے کی کوشش کرتے ہوئے مسلمانوں کے ووٹوں پر کم سے کم تکیہ کرنے کی بات سوچ رہے ہیں۔ ایک بار پھر اسمبلی انتخابات میں یہ کھیل کھیلاجائے گا کہ ریاستی اسمبلی میں مسلمانوں کی تعداد بھی کم ہوجائے اورجس پارٹی کو مسلمان ووٹ دیں وہ حکومت سازی سے بھی دور ہوجائے۔ یہ سب کچھ صرف اس لیے کیاجارہاہے کہ مقننہ میں مسلمانوں کی کوئی مضبوط آواز باقی نہ رہے جس طرح کہ راجیہ سبھامیں مسلمانوں کی نمائندگی صفر ہونے جارہی ہے اورلوک سبھامیں بھی گھٹ کر محض ۲۲رہ گئی ہے۔ اس طرح ریاستی اسمبلیوں سے بھی مسلمانوں کو کھدیڑنے کی سازش پر عمل کیاجائے گا۔ یہ بات اب واضح ہونے لگی ہے کہ جہاں بی جے پی ایک کانگریس مکت بھارت بناناچاہتی ہے اوراس کے لیے اعلانیہ ہر حربے استعمال کررہی ہے اسی طرح وہ بغیر اعلان کیے مسلم مکت اسمبلیاں اورپارلیمنٹ بھی چاہتی ہے۔ اسی لیے مذکورہ انتخابی حکمت عملی پر عمل کیاجارہاہے۔ مسلمانوں نے اگر اس حکمت عملی کو ابھی سے سمجھ لیاتو اس کا تدارک بھی کرسکتے ہیں لیکن اگر وہ فسطائی قوتوں کو ہرانے کی اپنی پرانی پالیسی پر ہی کاربند رہے تو وہ اس مسموم حکمت عملی کا مقابلہ کبھی نہیں کرسکیں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

تسلیم احمد رحمانی

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی معروف قلم کار اور مسلم پولیٹیکل کونسل کے صدر ہیں۔

متعلقہ

Close