ہندوستان

مسلم پرسنل لاء اور یونیفارم سول کوڈ – دو متضاد راستے

محمد زبیر ندوی

پوری دنیا میں بسنے والے تمام مسلمان جس مذہب کو مانتے ہیں وہ مذہب اسلام ہے، موجودہ دنیا میں یہ واحد مذہب ہے جو خدا کا عطا کردہ اور اپنی اصلی شکل و صورت میں باقی ہے، دیگر مذاہب یاتو انسانی ذہن و دماغ کی کرشمہ سازیاں ہیں یا محرف اور مفقود الحقیقت ہیں، یہی وجہ ہے کہ مسلمان جس قدر اپنے دین کا سچا پرستار اور قدردان ہے دنیا کا کوئی مذہب ایسا نہیں جس کے پیروکار اس قدر اس کے وفادار اور قدردان ہوں،  اور یہ ایسی حقیقت ہے جس کا ادراک ہر صاحب علم اور ذی شعور کو بالیقین حاصل ہے ۔
ہر مسلمان کا عقیدہ ہے کہ اسلام اپنی مکمل اور کامل صورت میں موجود ہے اور قیامت تک کے لیے یہی دین راہنما اور کشتی حیات کا کھیون ہار ہے۔ اس کی شریعت و قانون پر عملدرآمد ہی زندگی کا مقصود ہے اسلام نے جو احکام اپنے ماننے والوں کو دیئے ہیں اس پورے مجموعے کا نام شریعت ہے اور شریعت کا ایک اہم جزء معاشرت اور عائلی زندگی ہے ۔
یہ نظام معاشرت اور عائلی زندگی اسلام کا وہ عطیہ اور خدا کا وہ منصفانہ نظام ہے جو قرآن و حدیث کی نصوص اور اجماع و مجتہدین کی علمی کاوشوں کا کشید اور ماحصل ہے یہ عائلی سسٹم ہر انسان کی زندگی کا جزو لا ینفک ہے جسے صحیح تعبیر میں اسلامک لاء اور خدائی قانون کہا جاسکتا ہے اور جو اسلامی شریعت کا نہایت اہم اور وسیع باب تھا جسے برٹش گورنمنٹ نے صرف وراثت نکاح خلع طلاق ایلاء ظہار نفقہ مہر حضانت اور اوقاف تک محدود کر کے سنہ 1937 میں "مسلم پرسنل لاء ” سے تعبیر کیا ۔
قرآن و حدیث کی نصوص میں صاف صاف انسانوں سے اسی قانون خداوندی پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا گیا ہے اور وہ تمام قوانین جسے انسانی نابالغ اور غیر پختہ ذہن نے وضع کئے ہیں انہیں ہوا پرستی، ظلم و گمراہی اور خدا بیزاری سے تعبیر کیا گیا ہے، قرآن کریم نے اس پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے : ” ثم جعلناك على شريعة من الأمر فاتبعها ولا تتبع أهواء الذين لا يعلمون "( الجاثية 18 )  ترجمہ :  پھر ہم نے آپ کو دین کے ایک صاف راستے پر رکھا ہے بس آپ اسی پر چلئے اور ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے مت ہو جائیے جو جانتے نہیں ۔ دوسرے مقام پر فرمایا گیا : ” اتبعوا ما أنزل الیکم من ربكم و لا تتبعوا من دونه اولیاء "( الأعراف 3 ) ترجمہ : تمہارے رب کی طرف سے جو اترا ہے اسی پر چلو اور اس کے علاوہ اور دوستوں کی بات مت مانو ۔
حدیث مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : لا يؤمن أحدكم حتى يكون هواه تبعا لما جئت به ترجمہ : تم میں سے کوئی بھی کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہشات( پوری زندگی ) میرے لائے ہوئے دین کے مطابق نہ ہو جائے۔
اس حقیقت کو سمجھ لینے کے بعد یہ بھی ذہن میں رہنا ضروری ہے کہ تاریخ کا ہمیشہ سے یہ المیہ رہا ہے کہ حق کا سامنا ہمیشہ باطل سے ہوا ہے خیر کی روشنی گل کر نے کے لئے شر کی آندھیاں وقتا فوقتا چلتی رہی ہیں، حق و صداقت کے سیل رواں کو روکنے کے لیے ظلم و ستم کے پہاڑ ہمیشہ سد راہ بنتے رہے ہیں اقبال کی زبان میں یوں کہنا چاہیے :
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی
لیکن وہ شمع کیونکر بجھ سکتی ہے جسے خود خدا نے روش کی ہو، آندھیاں چلتی رہیں گی اور اسکی روشنی بڑھتی اور پھیلتی رہے گی خمار بارہ بنکوی نے کیا خوب کہا ہے :
نہ ہارا ہے عشق نہ دنیا تھکی ہے
دیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہے
قارئین سے پوشیدہ نہیں کہ ہمارا ملک ہندوستان کی حکومت اور لاء کمیشن اسی خدائی نظام اور شرعی قانون کو ہٹا کر ایک نیا خود ساختہ ملحدانہ قانون تھوپنے کی ناپاک جسارت میں مبتلا ہے اور جسے وہ نہایت خوشنما لفظ uniform civil code  یعنی یکساں شہری قانون سے تعبیر کرتی ہے، یہ قانون اپنی افادیت اور نفاذ سے قطع نظر ہندی گنگا جمنی تہذیب میں اس کو زیر بحث لاکر نفاذ کی کوشش کرنا اور ایک بڑی کمیونٹی کو اپنی مخالفت پر آمادہ ہو نے کا موقع دینا کس مضحکہ خیز اور خلاف عقل و دانش ہے اہل نظر سے پوشیدہ نہیں، ہمارا ملک کثرت میں وحدت کا ایک شاہکار ہے،  مختلف مذاہب و ادیان اس کی طاقت اور گلہائے رنگا رنگ ہی سے اس کی زینت ہے کہ گویا بقول ذوق :
گلہائے رنگا رنگ سے ہے زینت چمن
اے ذوق اس جہاں کو ہے زیب اختلاف میں
اس یکساں سول کوڈ کی بیج اگرچہ اسی وقت ڈال دی گئی تھی جب قانون سازوں نے دفعہ 44 مرتب کرتے ہوئے یہ الفاظ تحریرکئے تھے
The state shall endeavour to secure for citizens an uniform civil code throughout the territory of India
"یعنی حکومت کوشش کر ے گی کہ پورے ملک میں شہریوں کے لیے یکساں شہری قانون ہو ”
لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اس کے نفاذ کی کوششیں تیز ہوتی گئیں، اور مختلف مواقع اور تقریبات پر اسے عمل میں لانے کے ارادوں کا اظہار کیا جاتا رہا؛ چنانچہ سنہ 1972 میں مرکزی وزیر قانون مسٹر گوکھلے نےمتبنی بل پیش کرتے ہوئے کہا تھا :
"یہ مسودہ قانون "یونیفارم سول کوڈ ” کی طرف ایک مضبوط قدم ہے ” (یکساں سول کوڈ ص 12 از منت اللہ رحمانی  )
سنہ 1973 ء میں چیرمین آف لاء کمیشن مسٹر گجندر گڈکر نے یہی بات بڑے جذباتی انداز میں کہا تھا :
"مسلمانوں کو یونیفارم سول کوڈ کو قبول کر لینے کے لئے اپنے آپ کو آمادہ کر لینا چاہیے، اگر انہوں نے خوش دلی کے ساتھ یہ تجویز منظور نہیں کی تو قوت کے ذریعہ یہ قانون نافذ کیا جائے گا ” ( بحوالہ : مارچ 1973 میں بنگلور میں یونیفارم سول کوڈ کے موضوع پر تقریر )
اس سلسلے میں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ حکومت جس یکساں سول کوڈ کو نافذ کرنے کی کوشش کررہی ہے وہ آخر ہے کیا؟  اور وہ قانون کہاں سے آئے گا؟  کہا جاتا ہے کہ گھر کا آدمی گھر کی بات زیادہ بہتر جانتا ہے؛ اورچور کی داڑھی میں تنکا،اس حقیقت کو بھی مسٹر پاٹسکر نے بے نقاب کر دیا ہے، انہوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ :
"ہندو قوانیں میں جو اصلاحات کی جارہی ہیں وہ مستقبل قریب میں ہندوستان کی تمام آبادی پر نافذ کی جائیں گی؛  اگر ہم ایسا قانون بنانے میں کامیاب ہو گئے جو ہماری پچاسی فیصد آبادی کے لیے کافی ہو تو باقی آبادی پر نافذ کر نا مشکل نہ ہو گا،  اس قانون سے پورے ملک میں یکسانیت پیدا ہو گی” ( بحوالہ : یکساں سول کوڈ ص 11 از منت اللہ رحمانی )
مذکورہ بیانات اور اس وقت  کے حالات مسلمانوں کو یہ بات سمجھانے کے لیے کافی ہیں کہ حکومت اور لاء کمیشن دونوں مسلم پرسنل لا کو ختم کر کے ایک ایسا نظام زندگی نافذ کر نے کے تگ و دو میں ہیں جو سرا سر ناانصافی اور فرقہ پرستی پر مبنی ہے اور ظاہر ہے کہ یہ ایسا قانون ہے جو شریعت محمدی سے متصادم اور مسلم پرسنل لاء سے یکسر مغایر و متضاد ہے؛  کیونکہ شریعت محمدی خدائی وفطری قانون ہر مبنی ہے اور جس کی بنیاد وحی الہی اور رسالت محمدی ہے جبکہ یکساں سول کوڈ کی اساس عقل و خرد ہے یا زیادہ سے زیادہ کسی رشی منی کے ذہن میں آئے ہوئے خیالات ہیں۔
اور یہ بات بھی عالم آشکارا ہے کہ عقل انسانی کتنے ہی ترقیاتی منازل طے کر لے اپنے خالق سے آگے نہیں جاسکتی،  انسانی ذہن و دماغ کے بنائے ہوئے قوانین گرچہ ظاہرا مبنی بر مساوات ہوں لیکن باطنا وہ خبث و خود غرضی سے خالی نہیں ہوسکتے یہ ممکن ہی نہیں کہ انسان سو فیصد تمام انسانی مزاج و مذاق کو اپنے قانون پر متحد اور قائم کردے، ایک عظیم اسلامی اسکالر و فلسفی ابن قيم کا بیان اس سلسلے میں کس قدر بامعنی اور درست ہے، علامہ ابن قیم لکھتےہیں :
> > > "وكل من له مسكة عقل يعلم ان فساد العالم وخرابه إنما نشأ من تقديم الرأي على الوحي و الهوى علی العقل”( إعلام الموقعين 1/68 ) ترجمہ : "اور جسے  بھی کچھ عقل و فہم ہے وہ سمجھ سکتا ہے کہ دنیا کی بربادی اور اس کا بگاڑ رائے کو وحی پر اور خواہشات کو عقل پر مقدم کرنے اور ترجیح دینے کے سبب پیدا ہوا ”
مسلم پرسنل لاء اور یونیفارم سول کوڈ کے اس پس منظر میں مسلمان کسی بھی طرح دین اور اسلامی تعلیمات سے دستبردار نہیں ہو سکتے؛  بلکہ یکساں سول کوڈ کی مخالفت کرنا اور اس کے لئے جد و جہد ہمارا دینی فریضہ اور ایمانی تقاضہ ہے؛کیونکہ یہ قانون الحاد و بے دینی کا دروازہ اور مسلمانوں کے تشخص کو پائمال کرنے کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے جو کسی بھی طرح ہمیں گوارا نہیں نہ طوعا نہ کرھا ،  اس موقع پر بطور اختتامیہ مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ کا ایک جامع و موثر اقتباس نذر قارئین کرنا چاہتا ہوں امید کہ چشم دل وا ہو اور فکر و نظر کو مہمیز لگے،  مفکر اسلام تحریر فرماتے ہیں :
” میں یہ بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ مسلمان اگر مسلم پرسنل لا( شرعی عائلی قانون )  میں تبدیلی قبول کرلیں گے تو آدھے مسلمان رہ جائیں گے اور اس کے بعد خطرہ ہے کہ آدھے مسلمان بھی نہ رہیں، فلسفہ اخلاق، فلسفہ نفسیات اور فلسفہ مذاہب کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ مذہب کو اپنے مخصوص نظام معاشرت و تہذیب سے الگ نہیں کیا جاسکتا، دونوں کا ایسا فطری تعلق اور رابطہ ہے کہ معاشرت مذہب کے بغیر صحیح نہیں رہ سکتی، اور مذہب معاشرت کے بغیر مؤثر اور محفوظ نہیں رہ سکتا، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مسجد میں آپ مسلمان ہیں( اور مسجد میں کتنی دیر مسلمان رہتا ہے اپنے سارے شوق عبادت کے باوجود؟) اور گھر میں مسلمان نہیں ، اپنے معاملات میں مسلمان نہیں؛ اس لئے ہم اس کی بالکل اجازت نہیں دے سکتے کہ ہمارے اوپر کوئی دوسرا نظام معاشرت نظام تمدن اور عائلی قانون مسلط کیا جائے، ہم اس کو دعوت ارتداد سمجھتے ہیں اور ہم اس کا اس طرح مقابلہ کریں گے جیسے دعوت ارتداد کا مقابلہ کیا جانا چاہیے، اور یہ ہمارا شہری، جمہوری اور آئینی حق ہے، اور ہندوستان کا دستور اور جمہوری ملک کا آئین اور مفاد نہ صرف اس کی اجازت دیتا ہے بلکہ ہمت افزائی کرتا ہے کہ جمہوریت کی بقا اپنے حقوق اور اظہار خیال کی آزادی اور ہر فرقہ اور اقلیت کے سکون و اطمینان میں مضمر ہے ۔ ( مسلم پرسنل لاء کی صحیح نوعیت و افادیت ص 20 )

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close