مسلم پرسنل لا بیداری مہم

محمد اسعد فلاحی

مسلمان دنیا کے کسی بھی گوشے میں رہے ہوں ، اقلیت میں رہے ہوں یا اکثریت میں عرب میں رہے ہوں یا عرب کے باہر یا وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں رہیں ہوں ہمیشہ انھوں نے مسلم پرسنل لا پر عمل کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی ہند کے امیر مولانا سید جلال الدین عمری نے مسلم پرسنل لا بیداری مہم کی افتتاحی پریس کانفرنس میں کیا۔

جماعت اسلامی ہند ، 23؍ اپریل تا 7؍ مئی 2017ء تک ایک کل ہند مہم [ مسلم پرسنل لا بیداری مہم] منانے جا رہی ہے۔ جس کا مقصد مسلم معاشرے کی اصلاح اور امت کو عائلی زندگی سے متعلق احکام اور قوانین سے واقف کرانا ہے۔ اس کے علاوہ مسلمانوں عائلی زندگی میں جو بگاڑ پیدا ہو رہے ہیں یا اسلامی احکام و قوانین کی کھلی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں ، ان کے ازالہ کی تدابیر اختیار کرنا اور مسلمانوں کو اس بات پر آمادہ کرنا کہ وہ اپنے عائلی تنازعات کو شریعت کے مطابق اور شرعی عدالتوں کے ذریعہ ہی فیصلہ کروائیں ۔

مولانا نے مزید کہا کہ ہم ملک میں بالخصوص مسلمانوں میں پرسنل لا کے تعلق سے جو ناواقفیت پائی جاتی ہے، کوشش کی جائے گی کہ ان تما لوگوں تک اسلامی تعلیمات ان تک پہنچائیں ۔ موجودہ وقت میں غلط فہمی کی بنا پر اسلامی قوانین اور اسلامی احکامات پر اعتراضات کیے جا رہے ہیں ان کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

مولانا عمری نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آج مسلم معاشرہ نکاح ، طلاق،وراثت، مہرو نفقہ اور مسلم پرسنل لا سے متعلق دیگر امورمیں مکمل طور پر شریعت پر گامزن ہو تو وہ نہ صرف امن و سکون کا گہوارہ بن سکتا ہے، بلکہ برادران وطن بھی اسلام کے عائلی قوانین کی افادیت، فطرت انسانی سے اس کی مطابقت اور انسانی زندگی میں اس کے ثمرات سے واقف ہو کر اس سے متاثر ہو سکتے ہیں ۔ مولانا نے کہا کہ اگر مسلمانوں کو اسلام کے عائلی قوانین اور احکام سے کما حقہ واقف کرا دیا جائے، مسلمان شرعی قوانین کی خلاف ورزیوں سے گریز کرنے لگیں اور ان کی زندگیاں قانون شریعت کے مطابق گزرنے لگیں تو ایک مستحکم خاندان اور ایک پاکیزہ معاشرہ وجود میں آئے گا جس کی برکات سے دیگراہل ملک بھی مستفید ہو سکیں گے۔

مسلم پرسنل لا بیداری مہم کی بیداری مہم کے نیشنل کنوینر محمد جعفر نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی ہند مسلمانوں میں مسلم پرسنل لا کے تعلق سے بیداری لانا چاہتی ہے۔ اس مہم کا مقصد ملک کی بڑی تعداد تک مسلم پرسنل لا کے تعلق سے بیداری لانے کی کوشش کریں گے۔ اس سلسلے میں جماعت نے کتابیں بھی تیار کی ہیں جس میں نکاح، طلاق، وراثت، خلع اور دیگر اسلامی احکام کو واضح کیا گیا ہے۔ اس مہم کو کام بنانے کے لیے ملک کے مختلف شہروں ، قصبوں اور گاؤں میں پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ سمپوزیم ، پبلک میٹنگ اور کانفرنسیں بھی کی جائیں گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس مہم میں خواتین حضرات بھی شامل ہیں اور وہ بھی اس مہم کا اہم حصہ ہیں ۔

انھوں نے بتایا کہ مہم کے دوران اس بات کی کوشش کی جائے گی کہ ملک میں مختلف مقامات پر کونسلنگ سینٹرس اور دار القضا کا قیام بھی عمل لایا جائے گا تاکہ مسلمانوں کے درمیان جو لڑائی وغیرہ ہوتی ہیں ان کو ان کے ذریعے سے حل کیا جائے اور معاشرے اور سماج میں امن و امان قائم رہے۔

نیشنل کنوینر نے یہ بھی کہا کہ اس مہم کو ہندوستان کی مختلف تنظیموں ، جمعیۃعلماء ہند، مسلم مجلس مشاورت، جمعیت اہل حدیث اور مسلم پرسنل لا بورڈ کی حمایت حاصل ہے۔ ملک کے مختلف تنظیموں اور علماء نے اس مہم کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

جماعت اسلامی ہند نے اس مہم کو کام بنانے کے کے لیے اور مسلم پرسنل لا نے آگاہ کرنے کے لییے ایک ویب سائٹ www.mplac.in اور ایک موبائل Appp بھی تیار کیا ہے۔ جس کے زریعے مسلم پرسنل لا کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں ۔



⋆ محمد اسعد فلاحی

محمد اسعد فلاحی

معاون تصنیفی اکیڈمی، مرکز جماعت اسلامی ہند

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

ملت اسلامیہ کو ایسے کسی ’برج کورس‘ کی ضرورت نہیں!

برج کورس کے قائم کرنے کا مقصد یہ بتایاگیا تھا کہ ’’ فارغین مدارس کو علوم عصریہ سے اس حد تک واقفیت کرادی جائے کہ وہ یونی ورسٹیوں کے کسی بھی شعبے میں بہ آسانی داخلہ لے سکیں ‘‘۔(ص۸)  لیکن کتاب کا مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے  اس شعبے کے ذریعے طلبہ کو مدارس، اہل مدارس اور ملت اسلامیہ سے بد ظن کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مسلم یونی ورسٹی کے ارباب حل و عقد کو سنجیدگی سے اس کا نوٹس لینا چاہیے اور برج کورس کے قیام کے مقصد کے حصول کی تدابیر اختیار کرنے کی فکر کرنی چاہئے۔