ہندوستان

مسلم پرسنل لا میں مداخلت کیسے  برداشت کر لیں!

ندیم احمد انصاری

          اس وقت ہندستان کے سیاسی حالات میں جو دھما چوکڑی مچی ہوئی ہے، اس نے یہ امر بالکل واضح کر دیا ہے کہ دو سالہ حکومت نے تمام محاذ پر منہ کی کھائی اور اب اس کی حالت اس کھسیانی بلّی کی سی ہو گئی ہے جو کھمبا نوچنے پر مجبور ہے۔ کبھی بابری تو کبھی دادری، کبھی مہنگائی تو کبھی سرجیکل اسٹرائک، یہ سب پینترے ہیں جو اس نے موقع بہ موقع اپنی کرسی کی حفاظت کرتے ہوئے لوگوں کی توجہ دوسری طرف موڑنے کے لیے کھیلے ہیں، لیکن اس کی طرف سے زہر میں ڈوبا ہوا سب سے خطرناک تیر ان سب کے بعد ’یونیفارم سول کوڈ‘ کے نام سے سامنے آیا ہے۔ ظاہر ہے کہ کوئی ہوش مند مسلمان کسی قیمت پر بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتا، اس لیے کہ اسلام نام ہی ہے اللہ و رسول کے ارشادات پر سرِ تسلیم خم کرنے کا، جس کے بعد کسی کو چوں و چرا کی گنجائش نہیں رہتی، یہی وجہ ہے کہ ہندستان میں موجود تمام جماعتوں اور ان کے نمائندوں نے یک آواز ہو کر اس کی مخالفت کی ہے، جس میں شیعہ و سنی، دیوبندی و بریلوی، اہلِ حدیث و جماعتِ اسلامی اور جمعیۃ علماے ہند وغیرہ سب شامل ہیں۔مسلم پرسنل لا میں مداخلت کوئی بھی مسلمان برداشت نہیں کر سکتا، جس کا ثبوت مختلف مسالک کے موجودہ اتحاد نے فراہم کر دیا ہے،اس لیے خواتین کے حقوق کے نام پر اسلامی شریعت میں دخل دینے والوں کو جان لینا چاہیے کہ اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے اولاً عورت کو نہ صرف اس کا حق دیا بلکہ اس کے سر پر ملکہ کا تاج بھی سجایا۔

مسلم پرسنل لا کیا اور کیوں؟

          کچھ دنوں سے میڈیا میں ’مسلم پرسنل لا‘ اور ’یکساں سول کوڈ‘ کی جو اصطلاحیں پڑھنے سننے میں آرہی ہیں، ہو سکتا ہے کہ بہت سے لوگ ان کے پورے مفہوم سے واقف نہ ہوں، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ان کا ضروری تعارف کرا دیا جائے۔ملکی دستور سے تھوڑے بہت واقفیت رکھنے والے بھی جانتے ہیں کہ ملک میں رائج قوانین کی دو اہم قسمیں؛ سول کوڈ(civil code)اور کریمنل کوڈ (criminal code) کہلاتی ہیں، دوسری قسم کے اندر جرائم کی سزائیں اور بعض انتظامی امور آتے ہیں ،ظاہر ہے کہ اس قسم کے قوانین تمام اہلِ ملک کے لیے یکساں ہیں، اس میں کسی نوعیت کی تفریق نسل اور مذہب کی بنیاد پر از روئے دستور نہیں کی گئی ہے۔ پہلی قسم کے دائرے میں وہ قوانین آتے ہیں جن کا تعلق معاشرتی ،تمدنی اور معاملاتی مسائل سے ہے،اس قسم کے بیش تر قوانین بھی تمام اہلِ ملک کے لیے یکساں ہیں ،البتہ اس قسم کے ایک حصے میں( جسے پرسنل لا کہتے ہیں) ملک کی بعض اقلیتوں کو جن میں مسلمان بھی ہیں، ان کے مذاہب کے لحاظ سے کچھ خصوصی شعبوں میں الگ مذہبی قوانین پر عمل کرنے کا اختیار دیا گیا ہے اسی کو پرسنل لا کی آزادی کا نام دیا جاتا ہے، اسی کے تحت مسلمانوں کو بھی شریعت ایپلکیشن ایکٹ میں حق دیا گیا ہے کہ نکاح، طلاق ، ایلاء، ظہار، لعان ، خلع مبارات ،فسخِ نکاح ،عدت ، نفقہ ، وراثت ، وصیت ، ہبہ ، ولایت ، رضاعت ، حضانت ،اور وقف سے متعلق مقدمات اگر سرکاری عدالت میں دائر کیے جائیں اور دونوں فریق مسلمان ہوں تو سرکاری عدالتیں اسلامی شریعت کے مطابق ہی مذکورہ معاملات میں فیصلہ کریں گی ،ان ہی قوانین کا مجموعہ ’مسلم پرسنل لا‘ کہلاتا ہے ۔مسلم پرسنل لا جن احکام سے عبارت ہے، وہ بھی دیگر شرعی قانون کی طرح کتاب و سنت سے ماخوذ ہیں، اگر خدا نہ خواستہ مسلم پرسنل لا ختم کرکے یکساں سول کوڈ نافذ کیا جاتا ہے تو قرآن مجید کی تقریباً چالیس آیتوں اور سیکڑوں احادیث پر عمل سے مسلمانوں کو جبراً محروم ہونا پڑے گا۔(ملخصاًمجموعہ قوانین اسلامی،ص:28-29)

معاملہ کیا ہے؟

          گذشتہ بدھ کو لا کمیشن کی جانب سے ایک سوال نامہ جاری کیا گیا تھا جس میں مجوزہ یکساں سول کوڈ کے بارے میں لوگوں سے ان کی رائے معلوم کی گئی۔ اس سوال نامے کے ساتھ ایک اپیل بھی منسلک ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد ان کمزور طبقوں کو انصاف دلوانا ہے جو تعصب کا شکار ہیں۔لا کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ مجوزہ سول کوڈ کے خد و خال کے بارے میں ہر ممکنہ تجویز پر غور اور تمام مذاہب کے عائلی قوانین پر نظرِ ثانی کرنا چاہتا ہے اور صلاح و مشورے کا یہ سلسلہ 45 دن تک جاری رہے گا، لیکن مسلم پرسنل لا بورڈ بشمول تمام مسلم جماعتیں، جمعیۃ علماے ہند، جماعت اسلامی ہند، مسلم مجلس مشاورت، ملی کونسل، مرکزی جمعیت اہل حدیث، نیز تمام مسالکِ دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور شیعہ نے اسے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ یہ مسلمانوں کے لیے ہرگز قابلِ قبول نہیں اور مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اس کا بائیکاٹ کریں اور اس سوالنامے کا جواب نہ دیں،خواہ بعض نام نہاد مسلم سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ پرسنل لا میں اصلاح کی ضرورت ہے، لیکن اکثر مسلم تنظیمیں اسے مذہبی امور میں مداخلت تصور کرتی ہیں۔

          لاکمیشن نے دستور کی دفعہ 44 کاحوالہ دیتے ہوئے یکساں سول کوڈ کو ایک دستوری عمل قرار دینے کی کوشش کی ہے، جس میں کہاگیا ہے کہ ’’مملکت یہ کوشش کرے گی کہ بھارت کے پورے علاقے میں شہریوں کے لیے یکساں سول کوڈ کی ضمانت ہو‘‘ (بھارت کا آئین، ص:62)لیکن ایسا کرتے وقت دفعہ 25 کو یکسر فراموش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کسی صورت میں درست نہیں۔اس لیے کہ تقسیمِ ہند کے وقت جن مسلمانوں نے اپنی خوشی سے اس ملک میں سکونت اختیار کی تھی، اس کی وجہ یہی دفعہ 25 تھی، اس لیے کہ ہندستان ہمارا پیارا ملک ہے، جس میں ہم اپنے پیارے مذہب و عقیدے پر عمل پیرا رہ کر زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔

کس نے کیا کہا؟

          رہ رہ کر مسلمانوں کے حراساں کرنا مودی حکومت کا سوچا سمجھا ایجینڈا ہے، جس کے لیے وہ کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی، لیکن وہ شاید نہیں جانتی کہ جتنا اس قوم کو مٹانے کی کوشش کی جائے گی، یہ قوم اتنی ابھرے گی۔ نہایت خوش آئند امر ہے کہ اہم مسلم جماعتوں نے مسلم پرسنل لا کی حفاظت پر لبیک کہا اور سب ایک پلیٹ فارم پر نظر آئے۔ ہم یہاں اپنے قارئین کو واقف کروانا چاہیں گے کہ ان میں سے کس نے کیا کہا:

مسلم پرسنل لا بورڈ

          مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے مولانا ولی رحمانی نے کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت ملک میں آمریت لانا چاہتی ہے اور حکومت کی نیت خراب ہے، اس ملک میں ہندو و مسلم صدیوں سے ساتھ رہ رہے ہیں اور انھوں نے ہمیشہ اپنے اپنے مذہبی قوانین پر عمل کیا ہے، اس نئی حکومت کے بعد سے یکساں سول کوڈ کا ذکر دوبارہ شروع ہوا ہے اور گذشتہ ہفتے وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں بھی ایک حلف نامہ داخل کرکے کہا کہ وہ ایک ہی نشست میں تین طلاق کے ذریعے نکاح ختم کرنے کے طریقے کے خلاف ہے۔

          اس معاملے میں مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے ایک دستخطی مہم کا آغاز کیا گیا ہے، جس میں ایک فارم مسلم پرسنل لا بورڈ نے تیار کیا ہے، جس کالا کمیشن کے سوالنامے سے کوئی تعلق نہیں ہے، جسے بھر کر بورڈ کے دفتر بھیجا جائے گا۔چوں کہ لا کمیشن نے اس معاملے میں لوگوں سے رائے مانگی ہے، اس لیے تمام مسلمانوں سے اپیل ہے کہ اس اہم مسئلے کوسنجیدگی سے لیتے ہوئے فارم پرمسلم عورتوں کے نام، پتے اوردستخط کرواکر30اکتوبر تک بھیج روانہ کر یں۔

دارالعلوم دیوبند

           دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے مرکزی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں پیش کردہ حلف نامے کے تناظر میں کہاکہ ہمارا ملک جمہوری ہے ، یہاں ہر شخص کو مذہبی آزادی حاصل ہے، حکومت یا عدالت کی جانب سے مسلم پرسنل لا میں مداخلت اور سماجی اصلاح کے بہانے پرسنل لا میں تبدیلی کی اجازت نہیں دی جاسکتی، تین طلاق اور تعددِ ازدواج مسلم پرسنل کا لازمی حصہ ہیں، شریعت پر عمل کرنا آئینی حقوق اور اور سیکولرزم کے خلاف کیسے ہوسکتا ہے، جب کہ آئینِ ہند میں ہر باشندے کو اپنے مذہب کے مطابق عمل کی آزادی دی گئی ہے!

دارالعلوم وقف دیوبند

          دارالعلوم وقف کے صدر مہتمم مولانا محمد سالم قاسمی نے کہا کہ قرآنِ کریم، حدیث اور شریعت پر کسی قسم کی بحث قبول نہیں کی جائے گی، مسلمان کو اس کا حق حاصل ہے کہ وہ اسلامی تعلیم کے مطابق اپنی زندگی گزارے، مرکزی حکومت کی مذہبی معاملات میں مداخلت مسلمانوں کے استحقاق پر حملہ اور ہندستانی روایات کے خلاف ہے۔

جمعیۃ علماے ہند

          جمعیۃ علماےہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کا کہنا کہ ملک میں آزادی کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب مرکزی حکومت نے مسلم پرسنل لا کے خلاف اتنا جارحانہ رخ اختیار کیا ہے ۔ اس بابت سپریم کورٹ میں مرکزی حکومت کے ذریعے پیش کی گئی رائے ناقابلِ قبول ہے، مسلمان کے لیے قرآن و حدیث سب سے بڑا دستور ہے اور مذہبی امور میں شریعت ہی قابلِ تقلید ہے، جس میں تا قیامت کوئی ترمیم ممکن نہیں اور سماجی اصلاحات کے نام پر شریعت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی ۔

جماعتِ اسلامی ہند

          جماعتِ اسلامی ہند کے سربراہ سید جلال الدین عمری نے کہا کہ مسلمان تین طلاق، تعددازدواج اور دوسرے پرسنل لا کو اپنے مذہب کا لازمی حصہ مانتے ہیں اوروہ ان معاملات میں شریعت پر عمل کرنے کے لیے پابندہیں، حکومت کو اس پر روک لگانے کی سازش کی بجائے مسلمانوں کے اس رخ کا احترام کرنا چاہیے۔

جماعتِ رضاے مصطفی

          جماعت رضا ے مصطفیٰ کے جنرل سکریٹری مفتی شہاب الدین نےکہا کہ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں جو حلف نامہ دیا ہے، وہ شرعی طور پر بالکل غلط ہے، اس میں علمائے کرام کی رائے لینے کے بعد ہی حلف نامہ دیا جانا چاہیے تھا،یہ مسلمانوں کو الجھانے کی سازش ہے۔

امارتِ شرعیہ

          امارت شرعیہ کے ناظم مولانا انیس الرحمن قاسمی وغیرہ نے کہا کہ حکومت کا یہ موقف آئین میں ہر ہندستانی کو اپنے مذہب پرعمل کرنے اور اپنے مذہبی قانون پر چلنے کی دی گئی آزادی کی کھلی ہوئی خلاف ورزی ہے اور وہ مسلم پرسنل لا میں مداخلت کی بے جاکوشش کر کے ایک سیکولر ملک کو یکساں سول کوڈ کے ناقابلِ عمل طریقے پر لے جانے کی کوشش کر رہی ہے، بی جے پی کی قیادت میں بننے والی یہ حکومت ہمیشہ سے یکساں سول کوڈ کی حامی رہی ہے اور وہ مسلم پرسنل لا کے خلاف اپنے جارحانہ رخ کو ظاہر کر کے ملک میںیکساں سول کوڈکے اپنے ایجنڈے کو نافذ کرنے کی راہ ہموار کر رہی ہے لیکن اس ملک کے مسلمان ایسا نہیں ہونے دیں گے۔

مجلس اتحاد المسلمین

          کل ہند مجلس اتحادالمسلمین کے صدر اسدالدین اویسی کا کہنا ہے کہ یکساں سول کوڈ کے نام پر کسی بھی چیز کو نافذ کرنا اس ملک کی متنوع حیثیت اور وسیع معاشرتی نظام کو ختم کرکے رکھ دے گا، اس لیے مجلس نے فیصلہ کیا ہے کہ لا کمیشن نے جو سوالنامہ یکساں سول کوڈ کے سلسلے میں تیار کیا ہے اس کا جواب دے گی اور اس سے میڈیا کو بھی واقف کروایا جائے گا۔ امید کہ اس تفصیل سے مسئلے کی نوعیت و سنگینی کو سمجھنے اور مناسب اقدام کرنے میں مدد ملے گی، جس سے باذوق قارئین ضرور فایدہ اٹھائیں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ندیم احمد انصاری

ڈائریکٹر الفلاح اسلامک فاؤنڈیشن، انڈیا اسلامی اسکالر و صحافی

متعلقہ

Close