ہندوستان

مظلوموں کی مدد کے لئے کمر کسنے کی درخواست 

حفیظ نعمانی 
دادری سانحہ میں گریٹر نویڈا کورٹ نے اخلاق (شہید)کے کنبہ پر گؤ کشی کا کیس درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ واضح ہو کہ ایک شخص نے شکایت کی تھی کہ گاؤں میں گؤ کشی ہوئی ہے۔ اور جو گوشت ملا تھا و ہ فارنسگ جانچ میں ثابت ہوگیا کہ گائے کا ہے۔ اخلاق مرحوم کے بھائی جان محمد ،انکی ماں اصغری،انکی بیوی اکرامن ،ان کابیٹا دانش ،انکی بیٹی شائستہ اور رشتہ دار ملزم بنائے گئے ہیں۔
ستمبر2015میں (تاریخ درج نہیں ہے)مشتعل ہجوم نے محمد اخلاق کے گھر میں گھس کر اسے مار مار کر شہیدکردیا تھا۔ بھیڑ کا غصہ اس افواہ پر تھا کہ اخلاق کے گھر میں گائے کا گوشت پکایا گیا ہے اور رکھا ہے۔
بات عدالت کی ہے اور عدالت چھوٹی ہو یا بڑی یا بہت بڑی اسکے بارے میں لکھتے وقت ہر کسی کو بہت کچھ سوچنا پڑتا ہے۔ لیکن اتنا تو ہم ضرور کہیں گے کہ عدالت کے اپنے بھی کچھ اختیارات ہیں کہ نہیں۔ ؟یہ واقعہ صرف 10مہینہ پہلے کا ہے۔ اور یہ ملک کا اپنی نوعیت کا پہلا ایسا واقعہ ہے کہ ایک مندر کا پجاری اعلان کرتاہے کہ اخلاق کے گھر میں گائے کا گوشت پکا ہے اور رکھا ہے۔ اور ایک ہزار سے زیادہ ہندو اسکے گھر پر چڑھائی کر دیتے ہیں بہت مضبوط دروازہ اندر سے بند ہے اسے پوری طاقت اور ہتھیار وں سے اس طرح توڑتے ہیں کہ دیوار کے اندر سے چوکھٹ بھی باہر آجاتی ہے اور گھر کے اندر سے اخلاق کو گھسیٹ کر باہر لاتے ہیں اور انہیں پیٹ پیٹ کر شہید کردیتے ہیں۔
اسی بھیڑ کے کچھ ہندو بہادر 80سال کی ماں انکی 55سال کی بیوی انکی 20سال کی بیٹی اور انکے 30سال کے انتہائی قابل لڑکے کو گھر میں گھس کر مارتے ہیں اور اتنا مارتے ہیں کہ دانش کو مردہ سمجھ کر چھوڑجاتے ہیں اور عورتوں کو لاتوں اور گھوسوں سے زخمی کردیتے ہیں۔
اس واقعہ سے اس ملک کے 18کروڑ مسلمان اپنے کو لہو لہا ن سمجھنے لگے تھے۔ اور شریف سیکولر ہندو حیران ہیں کہ وہ ہندو ہونے پر شرمندگی کا اظہار کریں یا معافی مانگیں ؟اور مودی کے سادھو اور سادھوی اسکے باوجودوہاں لاکھوں روپئے کی کاروں میں بیٹھ کر جا اور آرہے ہیں۔ اور اس گؤ ماتا کے غم میں آنسو بہا رہے ہیں جسکا گوشت اخلا ق کے گھر میں پکا اور رکھا ہوا مشہور ہوا۔ اور اتنے بھیانک اور بے مثال واقعہ کے بعد بھی نہ جانے کسکا خوف ہے کہ وزیر اعظم جو مالا پر جپتے نہیں تھکتے کہ سب کا ساتھ سب کا وکاس وہ ایک لفظ نہیں بولتے۔
یہ خبر بھی گریٹر نوئڈا کے جج صاحب کی نظر سے گذری ہوگی کہ جو گوشت اخلاق مرحوم کے گھر کے فرج میں رکھا تھا اسے جانچ کے لئے بھیجا گیا اور کئی مہینے کے بعد رپورٹ آئی کہ وہ بکر ے کا گوشت ہے۔ اس درمیان اخلاق مرحو م کے گھر کے لوگوں نے حملہ کرنے والے جن پڑوسیوں کو پہچانا ان میں سے صرف 18کو گرفتار کرلیا گیا۔ اور گرفتاری کے بعد سے ہی ہندوؤں نے دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ جو گرفتار ہوئے ہیں وہ بے قصور ہیں اخلاق مرحوم کے گھر والے بیان دیں کہ وہ نہیں تھے۔ اور جب انہوں نے انکار کردیا تو ہم نہیں جانتے کہ کیا ہوا۔ بس یہ خبر آئی کہ متھرا کی لیب نے اس گوشت کو پھر جانچا تو ثابت ہوا کہ وہ گائے کا گوشت ہے۔ ہم اب عمر کی اس سیڑھی پر ہیں جوآخری سیڑھیوں میں گنی جاتی ہے اس طویل عمر میں ایک بار بھی نہیں سنا کہ دودھ یا دوا یا گوشت یا کوئی چیز جسے جانچ کر رپورٹ دی گئی ہے وہ بار بار جانچ کے لئے بھیجی جائے۔ ؟اور کون ہے وہ جو یہ دیکھ رہا ہے کہ یہ وہی گوشت ہے جو اخلاق کے فرج سے لایا گیا تھا۔ ؟
ہم اکیلے نہیں ہیں ، ہم جیسے ہر انسان کو یقین ہے کہ یہ سارا کھیل صرف ان 18ظالم اور قاتل ہندوؤں کو بے قصور ثابت کرنے کے لئے کھیلا گیا ہے جو ابتک جیل میں ہیں اور جنہیں سزا ضرور ہوگی۔ گریٹر نوئڈا کی عدالت کے جج صاحب نے حکم دیا ہے کہ اخلاق کے خاندان کے خلاف گؤ کشی کا مقدمہ چلا یا جائے۔ جبکہ اصل ملزم قبر میں سورہا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ایک یا دو کلو گوشت کاملنا اور گائے کا ٹنا برابر ہے۔ ؟ جبکہ یہ بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ جو گوشت اخلاق مرحوم کے گھر میں ملا وہ گائے کا ہی تھا۔ ؟
مسلمان بے شک گوشت کھاتے ہیں لیکن ہر مسلمان کے اندر یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ گوشت کو پہچان سکے کہ یہ گائے کا ،بیل کا، بھینس کا، یا بکرے کا ہے ؟اکثر ڈاکٹر گوشت کا پرہیز بتاتے ہیں۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ (Red)لال گوشت نہ کھائیں سفید کھائیں۔ یعنی مرغ پرند اور مچھلی۔ بالکل ممکن ہے کہ گوشت والے نے گائے کا گوشت دیدیا ہو۔ کیونکہ گائے پر پابندی ہے اسے کاٹنے والے چوری سے کاٹتے ہیں۔ اور چوری سے فروخت کرتے ہیں۔ اور بوڑھی گائے کو بیچنے والے سو دو سو روپے میں ہی بیچ دیتے ہیں۔ اس لئے گوشت بھی سستا مل جاتا ہے۔
عدالت کے جج صاحب کو کیا ہم بتائیں کہ گؤ کشی کیا ہے ؟ وہ تو جب مانی جاتی کہ اخلاق مرحوم کے گھر میں کٹی ہوئی گائے پڑی ہوتی۔ وہ اور انکا بیٹا اسکی کھال اتار رہے ہوتے۔ بیٹی بیوی اور 80سال کی ماں انکی مدد کرہی ہوتیں۔اور رشتہ دار گوشت لیجانے کے لئے باندھ رہے ہوتے ؟جبکہ بات صرف اتنی تھی کہ پڑوس کے مندر کے بوڑھے پجاری نے مندر کے مائک سے اعلان کیا کہ اخلاق کے گھر میں گائے کا گوشت رکھا ہے اور پکا ہے۔ یہ وہ اعلان تھا جسے 15جولائی کے سہارا نے افواہ لکھا تھا۔ اور اس اتنے بڑے جرم کے بعد بھی نہ مندر کے پجاری کو گرفتار کیا گیا اور نہ مندر سے اسے نکا لا گیا۔ جبکہ افواہ پھیلانے، قتل کے لئے اکسانے اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے پر آمادہ کرنے کا سب سے بڑا مجرم وہ پجاری ہے۔ جس نے بعد میں کہا تھا کہ دو لڑکے آئے اور انہوں نے کہا کہ یہ اعلان کردو۔ میں نے کردیا۔ اور نہ کرتا تو کیا کرتا؟اسکا رکارڈ اور ٹیپ این ڈی ٹی وی انڈیا کے اس رپورٹر کے پاس ہوگا جس نے رپورٹنگ کی تھی۔
اب ہمارے نزدیک سب سے ضروری بات یہ ہے کہ جان محمد اور میاں دانش اس ساز ش سے خوف زدہ نہ ہوں۔ اور ایک نہیں 10مقدمے بھی قائم ہوں تو انکا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔ وہ اگر ضرورت سمجھیں تو میرے نمبر پر ٹیلی فون کریں میں انشا اللہ انکی ہر ممکن مدد کرونگا اور ہر وہ بھائی اوردوست جو ان سطروں کو پڑھے وہ بھی اس کے لئے تیار رہے کہ جان محمد دانش اور شہید اخلاق کی ماں بیوی اور بیٹی کے لئے بڑے سے بڑا وکیل کیاجائے اس میں جتنا بھی خرچ ہووہ ہم سب اٹھائیں۔ اگر انھوں نے اپنے کو بے یارو مدد گار سمجھ لیا تو صرف ایک گھرانہ پر نہیں ملک کے ہر مسلمان پر سوائے پانچ مسلمانوں کے آنچ آئے گی۔ ہم سب ایمان والے ہیں۔’’کل مومن اخوۃ‘‘ہر مسلمان اور ایمان والا ایک دوسر ے کا بھائی ہے۔ اور یہ آخری درجہ کی بات ہے کہ جنہیں جان سے مارا گیا ،جسے مردہ سمجھ کر چھوڑا گیا ،جن پر دہ نشینوں کو لاتوں گھونسوں سے مارا گیا جنکا پورا گھر توڑا اور پھوڑا گیا جنکے گھر کی ہر مشین اور ہر چیز برباد کردی گئی انکے خلاف ہی ایک جانور کے قتل کا مقدمہ ؟وہ جانور جو صر ف 67سال سے شرپسند ہندوؤں کی ماں بن گئی اور اب بھی جو ملک کے کئی صوبوں میں کاٹی بھی جارہی ہے اور کھائی بھی جارہی ہے اور وہاں بھی ہندوبھاری اکثریت میں ہیں۔ اس مضمون کو پڑھنے والوں میں سے اگر کوئی بساڑا گاؤں دادری گریٹر نوئڈا میں رہنے والے جان محمد یا محمد دانش یا شہید اخلاق کے گھرانے کے کسی بھی آدمی کا فون نمبر جانتا ہو تو وہ ان نمبروں میں سے کسی پر بھی فو ن کردے۔ اور ہمارا جو بھائی اور دوست ہماری ان باتوں سے اتفاق کرے وہ بھی اپنا نام اور نمبر ہمیں بھیج دے۔
آج اپنے مولا سے فریاد کررہا ہوں کہ ان دنوں کو لوٹا دے جب حفیظ کے خلاف حکومت مقدمہ قائم کرتی تھی اور صرف اس لئے کہ وہ سب مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے بارے میں لکھے جانے والے مضامین پر ہوتے تھے تو عدالت کا کمرہ ان کالے کوٹوں سے کا لا ہو جاتا تھا جو حفیظ کی طرف سے وکالت نامہ داخل کرچکے ہوتے تھے۔ بہر حال ایما ن ہے کہ رب کریم مظلوموں کے ساتھ ہے اور وہ ہر قدم پر انکی مدد کریگا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close