مغربی بنگال کا اسمبلی انتخاب اور مسلمان

اس وقت مغربی بنگال ،آسام ، کیرالہ ، تمل ناڈو اورپانڈوچیری کااسمبلی انتخاب ہورہے ہیں اور یہاں پہلے دور کا انتخاب ہو چکا ہے اسکے پیش نظرکانگریس و بھاجپااورعلاقائی پارٹیاں اپنی مہم تیز کر چکی ہیں جیسے جیسے مغربی بنگال کا اسمبلی الیکشن گزرتاجارہا ہے ویسے ویسے کانگریس ، بھا جپا ، بایاں محاذ اور ترنمول کانگریس کی مشکلیں بڑھتی جا رہی ہیں تاہم 2009 کے بعد سے ترنمول کانگریس مغربی بنگال کا الیکشن مسلسل جیت رہی ہے اور اس وجہ کر اس پارٹی کا حوصلہ آج بھی بلند ہے لیکن کانگریس اور بایاں محاذ کے درمیان اتحاد ہونے کی وجہ کر انکے لئے پریشان ہونا لازمی ہے۔ 
قابل ذکر یہ ہے کہ مغربی بنگال میں 1952 کے پہلے انتخاب سے ہی کانگریس اور بایاں محاذ ایک دوسرے کے خلاف رہے ہیں شاید اب ان دونوں پارٹیوں کے رہنماؤں کے درمیان کوئی ایسی سمجھ بنتی نظر آرہی ہے کہ وہ حکمراں ترنمول کانگریس کے خلاف متحد ہوں ایک طرف دونوں جماعتیں سیٹ کو لیکر اپنے اختلافات دور کرنے میں کامیاب رہے ہیں تو دوسری جانب انکے مقامی رہنماؤں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے ۔
مغربی بنگا ل، آسام اور کرالہ کا الیکشن مسلمانوں کیلئے اور ہندوستان کی سیاست میں کافی اہمیت کا حامل ہے بلکہ سیکولرلوگوں کے ساتھ ساتھ بھاجپا کیلئے بھی بڑی آزمائش کا مقام رکھتا ہے اس انتخاب کو لیکر جہاں ایک طرف یہاں کا مسلمان اور سیکولر قوت یہ سوچتا ہے کہ انکا ایک بھی ووٹ ضائع نہ ہواور انکے ووٹ بٹنے نہ پائے وہیں بھاجپا اس بات کیلئے فکر مندہے کہ ان صوبوں میں انکی پوزیسن دہلی اور بہار بہتر ہوجائے غور طلب ہے کہ مغربی بنگال میں مسلمانوں کی تعدادسرکاری سروے کے مطابق 26% اور غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق 28% ہے یہا ں کے 42 پارلیامانی حلقہ میں 32 اور 294 اسمبلی میں 167 حلقہ ایسے ہیں جہاں انکا اثر و رسو خ ہے ان میں کم از کم 118 اسمبلی ایسے ہیں جہاں مسلمان اپنے من پسند ممبران اسمبلی منتخب کر سکتے ہیں جس سے انکی پسندیدہ حکومت تشکیل دی جا سکتی ہییہی وجہ ہے کہ یہاں کی تمام سیا سی پارٹیاں مسلم ووٹ پانے کیلئے سرگرم ہیں اور انہیں اپنے خیمے میں لانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ 
گزشتہ اسمبلی الیکشن میں مسلما نوں نے کھل کر ترنمول کانگریس کا ساتھ دیا تھالیکن آج بھی انکے مسا ئل جوں کے تو ں ہیں گزشتہ بایاں محاذ کی طرح ممتا بنرجی کی حکومت بھی مسلمانوں کے بنیادی مسائل کو حل کرانے میں ناکام ہے جسکے وجہ کروہاں کے مسلما ن بے زار ہیں اسی طرح 2014 کے لوک سبھاانتخاب میں کانگریس اور ترنمول کانگریس الگ الگ انتخاب لڑرہی تھیں مگر اسکے باوجود مسلمانوں کی اکثریت ترنمول کے ساتھ تھی جسکے سبب اسے 34 سیٹوں پر کامیابی ملی تھی اور بایاں محاذ کو صرف دو سیٹوں کے درمیان سمٹ جانا پڑا تھا اسکے وجہ کر وہاں بھاجپا کو بھی دو سیٹ سے کامیابی مل گئیاور اسکا ووٹ فیصد اچانک 17 تک جا پہنچا جو مسلمانوں کیلئے بھی تشوشناک بات سے کسی طرح کم نہیں ہے آج حالات بدل چکے ہیں اور اسکے ساتھ ہی محاذ میں بھی تبدیلی آچکی ہے بایاں محاذ کے تئیں مسلمانوں کے درمیان جو بیزاری کی لہر تھی وہ اب کم ہوچکی ہے کانگریس اور بایاں محاذ کے احاد نے اسے اور بھی تقویت دینے کا کام کیا ہے اسلئے وہاں کے مسلمان بھی نہیں چاہتے کہ انکے ووٹ تقسیم ہوں اور انکے انتشار کا فائدہ بھاجپا کو مل سکے ویسے ہرانتخاب میں بھاجپا یہی چاہتی ہے کہ سیکولرو مسلم ووٹ منتشر ہو۔
1970 کے بعد سے ریاست کے مسلمان روائتی طور بایاں محاذ کے ساتھ تھے اگر 2011 کے اسمبلی انتخاب کا جائزہ لیں تواس انتخاب میں مسلمانوں کا زیادہ تر ووٹ ترنمول کانگریس اور کانگریس اتحاد کو ملا تھا جس کے نتیجہ میں اس اتحاد کو 294 میں سے 227 سیٹوں پر کامیابی ملی تھی جن میں 55مسلم ممبران اسمبلی منتخب ہوئے تھے جبکہ دوسرے نمبر پر رہنے والوں میں 58 امید وار مسلم تھے یعنی 113مسلمان اسمبلی انتخاب کے ریس میں تھے اگر مسلم قائدین کوئی مفاہمت کی راہ اختیار کر تے توانہیں ناکا می کا سا منا نہیں ہوتا اور اس طرح کم از کم 20اور مسلموں کو ممبر اسمبلی بنا سکتے تھے یعنی اسمبلی میں مسلمانوں کی تعداسے 75تک جاسکتی تھی یہاں 46 اسمبلی ایسے ہیں جہاں مسلم ووٹوں کی تعداد 50% سے زیادہ ہے جبکہ 26 اسمبلی میں 40 سے50% مسلم بستے ہیں 33 اسمبلی میں انکی شر ح 30 سے 40% ہے 50 اسمبلی ایسے ہیں جہاں مسلمانوں کی تعداد 20 سے 30% ہے جب کہ 54 حلقے ایسے بھی ہیں جہاں انکی تعداد 10 سے 20% ہے یہ عداد شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 72 اسمبلی ایسے جہاں مسلمان اپنے بل بوطے پر ہی کسی نمائندے کو اسمبلی کا رخ دکھا سکتے ہیں اسکے علاوہ 128اسمبلی ممبران کو منتخب ہونے کیلئے انکے سہارے کی ضرورت ہے واضح ر ہے کہ مغربی بنگال کے ضلع مرشدآباد میں 64% ، مالدہ 50%، اتر دینا پور 48%، بیر بھوم 35%، دکن 24 پرگنہ 34%، نیڈیا 26%، کوچ بہار،ہاوڑہ،دکن دینا پور 24%، بردوان اور اتر کولکتہ 21%، اتر 24 پرگنہ 19%، ہگلی 15%، مدنا پور اور جلپائی گور ی 11% مسلمانوں کی آبادی ہے لیکن انکا ووٹ تقسیم ہوگیا اور وہ 2014 کے عام انتخاب میں اپنی پسند کا امیدوار نہیں چن سکے۔
یہ حقیقت ہے کہ بایاں محاذ ، ترنمول کانگریس پارٹی اور کانگریس تینوں پارٹیاں مسلمانوں کا ہمدرد اور خود کو انکے ووٹوں کا سب سے زیادہ حقدار اور انکا محافظ مانتی ہیں جس کے وجہ کر مسلم ووٹوں کا بٹوارہ ہوتا رہا ہیاور اسی وجہ کرہر انتخاب میں مسلم نمائندگی کی کمی رہی ہے جبکہ اسکا فائدہ بھاجپااور دوسری پارٹیوں کو ملتا رہا ہے مغربی بنگال جہاں مسلمانوں کی آبادی 65% سے 35% ہے اسکے باوجودوہ پسماندگی کے شکار ہیں انکے مسا ئل آج بھی اسی طرح ہیں جیسے قبل میں ہوا کرتے تھے اور حکومت انکے مسائل کے حل کرنے میں ناکام رہی کیو نکہ انتخاب سے قبل انہوں نے کوئی متحدہ لائحہ عمل تیار کرنے میں دلچسپی نہیں لی تھی اور نہ ہی ووٹروں کی رہنمائی کرنے کی طرف کوئی توجہ کی تھی بلکہ یہ بھی سوچیں کہ ملت کی جیت کس لائحہ عمل میں ہے اسکے ساتھ ہی ملک کے باقی صوبہ کے لوگوں کو بھی مغربی بنگال کو اپنے حال پر چھوڑدینا ملک کیلئے بہتر نہیں ہوگا بلکہ انہیں بھی انکے درمیان جاکر کوئی راہ ہموار کر کے انکے درمیان اتحاد کا کوئی راستہ نکالنا چاہئے اسی سے مثبت فرق پڑنے کی امید ہے جس طرح دہلی اور بہارکے مسلمانوں نے متحد ہوکر بھاجپا کے خلاف زیادہ سے زیادہ ووٹ دیکر سیکولر پارٹیوں کو کامیاب بنایا تھا اسی طرح کی مثال مغربی بنگال کے لوگوں کو بھی قائم کرنی چاہئے۔



⋆ محمد شمشاد

محمد شمشاد
مضمون نگارمصنف ،سیاسی تجزیہ نگاراورسماجی کارکن ہیں رابطہ: +91-9910613313-Email-mshamshad313@gmail.com

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

کانگریس کیلئے گجرات الیکشن کا سبق آموز نصیحت

 الیکشن جہاں جہاں بھی ہوتے ہیں وہاں کسی ایک پارٹی کی جیت اور دوسرے کو ہار تسلیم کرنا پڑتا ہے لیکن بعض الیکشن میں یکطرفہ نتائج سامنے آتے ہیں تو کبھی مقابلہ برابر کا ہوتا ہے ان حالات میں ہارنے والی پارٹی کو بھی الیکشن جیت کا درجہ دے دیا جاتا ہے اور وہ پارٹی حکومت بنانے میں کامیاب رہتی ہے اسکی مثال بہار،جمو و کشمیر،منی پور اورگوا کی حکومتیں ہیں بہار اور جمو کشمیر کی عوام بھاجپا کے مخالفت میں تھی اوروہ کسی بھی حال میں بھاجپا کو نہیں چاہتے تھے لیکن بھاجپا کے امیت شاہ اور نریندر مودی کی جوڑی نے ڈنڈے کے زور پہ ان دو ریاستوں میں  حکومت کی کرسیاں تھام لیاور وہاں کی عوام انکا منہ دیکھتے رہ گئے ۔