ملت اسلامیہ اختلافات کے ساتھ جینے کا سلیقہ کب سیکھے گی؟

ڈاکٹر عمیر انس

 (نئی دہلی)

مولانا سلمان ندوی بنام پرسنل لا بورڈ کی لفظی جنگ میں کیا نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں.

دونوں طرف کے افراد، علماء اور مبصرین نے زبان و بیان کے جس معیار کا مظاہرہ کیا ہے اس زبان و بیان کو آپ شاید بھاجپا اور کانگریس، سپا اور بسپا، امریکہ کے ریپبلک اور ڈیموکریٹ اور برطانیہ کے لیبر اور Conservative میں شاید ہی پائیں، ملت اسلامیہ کے گفتگو کا سب سے افسوسناک مظاہرہ دو اوقات میں ہوتا ہے، یا تو ہم جب کسی کی اندھی تقلید میں مبتلا ہوتے ہیں اور یا پھر کسی سے اختلاف کرتے ہیں. کتنے ہی علماء ماضی میں اپنے مخالفین کے زبان سے کافر و منافق قرار پا چکے ہیں، ایک بات واضح ہے کہ گزشتہ دو سو سالوں میں ہم نے  اختلاف کے آداب کے باب میں کچھ نہیں سیکھا ہے، اور اس معاملے میں ہم اس قدر بے رحم ہیں کہ ہم پیچھے پلٹ کر بھی نہیں دیکھتے کہ ہم نے کیا کھویا اور کیا حاصل کیا ہے؟

علیگڑھ اور دیوبند کے درمیان اختلافات میں ملت اسلامیہ کا علمی مستقبل برباد ہوا

علیگڑھ میں شبلی نعمانی اور سر سید اور انکے بعد کے رفقاء کے درمیان فلسفہ تعلیم پر اختلافات

دیوبند کے مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے اختلافات کی خلیج آج بھی تقریباً قائم ہے،

ندوہ اور شبلی نعمانی کے اختلافات نے ندوے کا فکری رخ ہی یک طرفہ کر دیا

مولانا ابو الکلام آزاد اور محمد علی جناح کے درمیان اختلافات کے صدقے میں ہم آج دو ملکوں میں بنٹے  ہویے ہیں!

لسٹ طویل ہے لیکن نتیجہ ایک ہے کہ ملت اسلامیہ ہند اپنے آپسی فکری اور عملی اختلافات کے لیے ایک کوڈ اوف کنڈکٹ نہیں رکھتی جسے اختلاف کے وقت استمعال کرنے پر سبھی فریق متفق ہوں،  اختلاف فطری عمل ہے اور بیحد ضروری ہے لیکن نظام اختلاف کا نہ ہونا زیادہ نقصان دہ ہے. یورپ میں اختلافات ہوتے ہیں تو سائنسی ایجادات ہو جاتی ہیں اور ہم اختلاف کرتے ہیں تو بنی بنائی وراثت تباہ ہو جاتی ہیں!

ہمارے معاشرے میں اختلاف کی صرف ایک گرامر ہے! حق اور باطل ، صحیح اور غلط، سیاہ اور سفید، منافق اور مومن، غدار اور وفادار، افہام اور تفہیم کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہوتی، سوالات اور صحتمند تنقیدوں کے دروازے ہر طرف سے بند ہیں، کیا مولوی اور کیا جدید تعلیم یافتہ طبقہ سبھی حلقوں میں اختلافات برداشت کرنے کی گنجائش ناپید ہے، کس بھی ملی ادارے کو اٹھا لیجئے اپنے آپ میں خلیجی ممالک کی طرز پر ایک امارت یا بادشاہت یا آمریت کا ماحول ہے! ہم اختلافات کے ساتھ جینے کا سلیقہ نہیں سیکھیں گے تو یہ سلسلہ جاری رہیگا.



⋆ ڈاکٹر عمیر انس

مدیر

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

بزمِ رہبر کے زیر اہتمام آل بہار مشاعرہ کا انعقاد

صوبہ بہار کے دربھنگہ ضلع کے نوجوان شاعر وصحافی ڈاکٹر منصور خوشتر کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں بزمِ رہبر نے ’’مولانا ظہور رحمانی ایوارڈ‘‘ سے نوازا۔ اس موقع پر بزمِ رہبر نے آل بہار مشاعرہ کا انعقاد کیا جس کی صدارت عالمی شہریت یافتہ شاعر ڈاکٹر عبدالمنان طرزی اور نیاز احمد (سابق اے ڈی ایم) نے مشترکہ طورپر کی اور نظامت کے فرائض مشہور ومعروف شاعر جمیل اختر شفیق نے بحسن وخوبی انجام دئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے