ہندوستان

ملک کا بدلتا تشویشناک منظرنامہ

  ڈاکٹر سیّد احمد قادری

          اس وقت ہمارا ملک ایک عجیب و غریب دوراہے پر کھڑا، اپنی شاندار گنگا جمنی تہذیب، رواداری اور روایات پر آنسو بہا رہا ہے۔ برسہا برس سے ساتھ ساتھ رہنے والے مختلف مذاہب، ملت، ذات اور زبان کے ایسے لوگ، جو ہمیشہ اس ملک میں امن وشانتی اور یکجہتی  خواہاں رہے ہیں، وہ ملک میں بڑھتی بد امنی، عدم رواداری اور منافرت سے بھرے ماحول کو دیکھ کر حیران و پریشان ہیں اور یہ سوچ رہے ہیں کہ یہ کیسا بدلاؤ آیا ہے؟ ہر طرف خوف وہراس اور بے بسی و بے کسی کا ماحول بنا ہوا ہے۔ یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ ہمارے ملک کا ایک وزیر(وزیر جو کسی خا ص فرقہ، ذات یامذہب کا نہیں ہوتا ہے) جو اپنی بہترکارکردگی کی بنا ٔ پر نہیں بلکہ ملک کے ایک خاص فرقہ کو ہمیشہ گالیاں دینے کے باعث وزارت میں بنا ہوا ہے، وہ  ملک کے ہندوؤں کو صرف اس بنأ پر’ ہجڑا ‘ جیسے غیر آئینی  وغیر جمہوری اور نازیبا لفظ سے نوازتا ہے کہ پٹنہ کے کارگل چوک پر پاکستان زندہ باد (سفید جھوٹ) کا نعرہ لگانے والے مسلمانوں کو ڈھیلا مار مار کر ختم کیوں نہیں کیا۔ وزیر گری راج سنگھ نے اس بات پر افسوس کا بھی اظہار کیا ہے کہ ایسے ڈھیلا مارنے والے صرف بیس فی صد ہی نوجوان ہیں۔ اب زرا غور کیجیے کہ ملک کا وزیر، جو بڑے آئینی عہدہ پر بیٹھا ہے، وہ ایسا بے ہودہ اور متنازعہ بیان دے کر ملک کے ایک خاص فرقہ کو کون سا پیغام دینا چاہتا ہے ؟ ایسا بیان کوئی نیا نہیں ہے، وزارت سنبھالنے سے قبل سے ہی یہ شخص ایسے متنازعہ بیان دیتا رہا ہے، جس کے جواب میں ملک کے مسلمان اپنے صبر وتحمل کا زبردست مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ذہنی دیوالیہ پن کے شکار ایسے افراد کے ایسے بیانات  وعمل پر جس قدر افسوس کیا جائے، وہ کم ہے۔ ایسے اشخاص کو تو اس بات کا بھی اندازہ نہیں ہے کہ ایسے غیر ذمّہ دارانہ بیانات سے ہمارے ملک کی، بیرون ملک میں کیسی شبیہہ بن رہی ہے اور بیرون ملک کے لوگ کیسے کیسے تبصرے کر رہے ہیں۔

      ایک وقت تھا کہ ہمارا ملک بھارت پوری دنیا میں آپسی اتحادو اتفاق، گنگا جمنی تہذیب، اخوت، محبت، یکجہتی اور فرقہ وارانہ خیرسگالی کے لئے جانا جاتا تھا۔ گرچہ ملک میں مختلف مذاہب، زبان، ذات وعقائد کے لوگ بستے ہیں۔ اس کے باوجود ہمارا ملک کئی ممالک کے لئے مثال تھا۔ ہمیں اس امر سے انکار نہیں کہ بعض اوقات کچھ مفاد پرست آپسی اتحاد واتفاق کا شیرازہ بکھیرنے کی مزموم کوششیں بھی کرتے رہے ہیں، جس کے باعث کبھی کبھار ناخوشگوار واقعات و سانحات ہوا کرتے تھے۔ لیکن ایسے ناخوشگوار واقعات  اور سانحات کے اثرات کو بہت جلد حکومت عوام کے تعاون سے  بہت جلدختم کر دیا کرتی تھی۔

       لیکن ان دنوں ملک میں جیسے جیسے ناخوشگوار واقعات اور سانحات سامنے آ رہے ہیں اور ان سے ملک کی جو شبیہ بیرون ممالک میں ابھر رہی ہے، وہ لوگوں کے لئے حیرت و استعجاب کا موجب بن رہی ہے۔ ملک میں ہر طرف افراتفری، نفرت وعداوت، ظلم وتشدد، فرقہ پرستی، بد امنی، سماجی و سیاسی استحصال، غیر آئینی وغیر انسانی سلوک  اورخوف وہراس کا جو ماحول بنا ہوا ہے، ان پر حکومت کی جانب بہت سنجیدگی سے قدغن لگانے کی عملی کوشش نہیں ہونے سے، ایسے لوگوں کی ہمت و حوصلہ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک میں بہت تیزی سے پھیلتی بد امنی پر ملک کا سربراہ، اپنے سکوت لب سے کیا پیغام دینا چاہتا ہے۔ اسے ملک کے ویسے لوگ سمجھنے سے قاصر ہیں جو ملک کی یکجہتی، ترقی اور خوشحالی کے لئے بہت سنجیدہ اور سرگرداں رہتے ہیں۔

      اس امر سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ کسی بھی ملک میں جب حکومت بدلتی ہے تو نئی حکومت، اپنے خاص  منشور، نظریات وعقائد کے ساتھ کام کرتی ہے۔ جو ہر حال میں عوام الناس کے مفاد میں اور مثبت تقاضوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک میں بھی 2014 ء میں نئی حکومت بنی، اس حکومت نے سیاسی کروٹ لیتے ہوئے ملک کے نظام کو اپنے نظریات و عقائد کے ساتھ بدلنے کی شروعات کی۔ اس وقت لوگوں کو یہ توقع ضرور تھی کہ جن عوامی مسائل مثلاََ غریبی، بے روزگاری، ذخیرہ اندازی، بدعنوانی کے ساتھ ساتھ کئی دیگر بنیادی سہولیات جیسے پینے کا صاف پانی، صحت اور تعلیم وغیرہ کی پچھلی حکومت کی ناکامیابیوں کو کامیابی میں بدلنے کا وعدہ کر آنے والی یہ حکومت ضرورترجیح دیگی۔ لیکن دو سال گزر جانے کے باوجود حالات بہتر ہونے کی بجائے مزید ناگفتہ بہ ہوتے جاتے جا رہے ہیں۔ بلکہ جس تیزی سے ملک میں فرقہ واریت کی مسموم فضا پھیل رہی ہے۔ اس سے ملک کے عوام کے درمیان سے نہ صرف آپسی اتحاد و اتفاق اور محبت  وایثار کے جزبات بھی سرد پڑتے جا رہے ہیں۔ مسرت، انبساط، اطمینان اور چین و سکون بھی ختم ہو کر ان کے دلوں میں ڈر، خوف و ہراس اور بے بسی و عدم تحفظ کے احساسات پیدا ہو رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ملک کے سربراہ کی ایک ایک بات کے ایک ایک لفظ کی معنویت  معنویت ہے۔ گزشتہ سال ہمارے وزیراعظم نریندر مودی نے ڈیجیٹل انڈیا کا افتتاح کرتے ہوئے ایک بات کہی تھی کہ ’’ اب ملک میں بدلاؤ آکر رہیگا، بدلاؤ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جو اس بدلاؤ کو نہیں سمجھے گا، وہ دور کھڑا نظر آئیگا ‘‘۔ جس وقت ہمارے وزیر اعظم نے یہ بات کہی تھی، اس وقت ان کے اس جملے سے یہی نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ ملک میں بدلاؤ کا مطلب ملک کے عوام جن بنیادی مسائل سے نبرد آزما ہیں، انھیں بنیادی سہولیات دستیاب ہوگی اور دیگر وسائل بھی دستیاب ہونگے، انھیں چین  وسکون  نصیب ہوگا۔ غربت سے انھیں نجات ملے گی، بے روزگاری دور ہوگی، گھن کی طرح کھوکھلا کرنے والی بدعنوانیوں کا خاتمہ ہوگا۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اور ان  پارٹی کے ممبران پارلیامنٹ کے ساتھ ساتھ ان کے وزرأ تک نے اپنے ملک کے شانہ بہ شانہ ساتھ چلنے والے مسلمانوں کو جس طرح نازیبا اور ہتک آمیز الفاظ سے نوازا۔ ان پر جیسے جیسے مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔ یہ سب اس ملک کے امن پسند سیکولر لوگوں اور دانشوروں کے لئے یقینی طور پر نا  پسندیدہ فعل و عمل ہیں۔ ملک کے طول ع عرض اور خاص طور پر بھاجپا پارٹی کی حکومت والی ریاستوں سے جیسے جیسے واقعات اور سانحات  سامنے آ رہے ہیں۔ انھیں دیکھنے کے بعد وزیر اعظم کے ’’بدلاؤ‘‘ کا  نظریہ اور کوشش کے معنیٰ سمجھ میں آنے لگے۔ اس سلسلے میں کانگر یسی  رہنما راہل گاندھی نے راجکوٹ (گجرات) میں دلت نوجوانوں کی وحشیانہ پٹائی کے واقعہ کی مزمّت کرتے ہوئے بہت واضح طور پر کہا ہے کہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 ’’ گجرات اور ملک کے باقی حصوں میں دو نظریات کی لڑائی چل رہی ہے۔ ایک طرف گاندھی، نہرو، امبیدکر اور پٹیل کے خیالات والے لو گ ہیں اور دوسری جانب راشٹریہ سویم سیوک سنگھ، گوالکر اور مودی ہیں۔ ‘‘

   مودی حکومت کے ذریعہ اپنے ان نظریات و عزائم کی کامیابی کے لئے گھر گھر پہنچنے والے الیکٹرانک میڈیا کو بعض کارپوریٹ گھرانوں کی مدد سے اپنا ہمنوا بنا لیا گیا ہے اور ان سے کہا گیا کہ وہ جھوٹ کو اتنی بار اور اس طرح  بولیں اوردکھائیں کہ وہ سچ لگنے لگے۔ ایسی کوششوں کے لئے میڈیا کو سؤ سؤ کروڑ روپئے کے ساتھ ساتھ زیڈ پلَس حفاضتی دستہ بھی مہیا کرایا گیا کہ ایسے لوگ بلا خوف و خطر ایسی کوششوں میں لگے رہیں اور کوئی ان کا بال بھی بیکا نہ کرے۔

        اس وقت ملک کے عصری منظرنامہ پر ایک نظر ڈالی جائے تو جس طرح کے کریہہ منظرنامے ہمیں دیکھنے کو مل رہے ہیں، وہ نہ صرف غیر آئینی، غیر جمہوری  بلکہ غیر انسانی بھی ہیں۔ ملک کے مسلمانوں کو زدو کوب کرنے، معصوم انسانوں کا بے وجہ قتل و خوں کرنے، انھیں بھدی بھدی گالیاں دینے، جن کے جواب میں یہاں کے مسلمانوں نے بے شک صبر و تحمل کا ثبوت دیا ہے، کے بعد اب ان کا رخ ملک کے دلتوں کی طرف ہوا ہے۔

 ’’ گؤ رکچھا ‘‘کے نام پر جس طرح منافرت پھیلائی جا رہی ہے۔ دلت خاتون کو گالیاں دی جارہی ہیں، سرعام دلت عورت کو ننگا کر ذلیل و رسوا کیا جا رہا ہے۔ بے قصورمسلمانوں اور دلتوں کی بے رحمی سے پیٹا جا رہا ہے، انھیں پیڑوں پر مار کر لٹکایا جا رہا ہے، گھر میں گھس کر بے دردی کے ساتھ قتل  وغارت گری کا مظاہرہ ہو رہا ہے، تعلیم کا بھگوا کرن کیا جارہا ہے۔ تواریخ کے حقائق کو مسخ کرنے کے لئے جس طرح پوری ٹیم کام کر رہی ہے، بابائے قوم کے قاتل کو ہیرو بنا کر پیش کیا رہا ہے۔ ان سارے حالات سے حکومت وقت کو کئی فائدے ہو رہے ہیں۔ اوّل تو وہ اپنے نظریات وعزائم کو بروے کار لا رہے ہیں، دوسرا، عوامی مسائل کی ناکامیابیوں سے لوگوں کے ذہن کو بھٹکایا جا رہا ہے، اور تیسرے اڈانی اور امبانی وغیرہ کے آگے دولت کے انبار لگائے جا رہے ہیں۔ جو ہر انتخاب میں ان کے لئے روپئے کی تھیلی کھولے رہیں اور انھیں دولت کے زور پر کامیابی ملتی رہے۔ (گرچہ بہار اور بنگال کے انتخاب نے ان کی اس خوش فہمی کو ختم دیا ہے کہ نوٹ سے ووٹ خریدے جا سکتے ہیں )۔ چوتھے یہ کہ ویاپم، زمین، ٹیلی کام وغیرہ میں ہزاروں ہزار کروڑ کی ہونے والی بدعنوانیوں کی جانب عوام کی توجہ مبذول نہ ہو۔

          لیکن ایسا نہیں ہے کہ ملک کے ان حالات سے لوگ غافل ہیں۔ سوشل میڈیا پر کسی نہ کسی روپ میں ایسی سچائیاں سامنے آ ہی جا رہی ہیں۔ میدھا پاٹیکر جیسی سماجی کارکن نے گجرات کے ودیا پیٹھ کے ایک سہ روزہ کانفرنس میں یہ کہنے میں ذرا بھی نہیں ہچکچائیں کہ جس طرح گجرات ماڈل کی تشہیر کی جارہی ہے۔ اس کا اب پردہ فاش ہو چکا ہے۔ اس لئے اب ضرورت اس بات کی ہے کہ جل، جنگل، زمین اور کارپوریٹ کے لوٹ کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔ اس لئے کہ ایک طرف جہاں ملک کے اندر بڑھتی فرقہ پرستی اور مذہبی منافرت پر حکمراں چُپی سادھے ہوئے ہیں، وہیں دوسری جانب کارپوریٹ لوٹ کو آسان بنانے کے لئے نئی نئی نیتیاں بنائی جا رہی ہیں۔ حزب اختلاف کی رہنمأ سونیا گاندھی نے بھی موجودہ حکومت کی ناکامیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے حکمراں جماعت کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا ہے کہ مودی حکومت اس سی/ایس ٹی اور اقلیتوں پر ہونے والے ظلم و تشدد سے حفاظت میں پوری طرح ناکام ہے۔ یہ حکومت 2006  ء میں ـ’فوریسٹ ایکٹ‘ کے تحت آدی باسیوں، دلتوں اور بن واسیوں کو دئے گئے حقوق کو بھی چھین رہی ہے۔ سونیا گاندھی نے گجرات اورجموں وکشمیر کے حالات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اتنی اموات کے بعد بھی حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ سونیا گاندھی نے اس حکومت کے سلسلے میں مذید چٹکی لیتے ہوئے حقیقت بیان کی اور کہاکہ  ہمارے سامنے ایک ایسی حکومت ہے جو مارکیٹنگ، ری پیکجنگ، دکھاوا اور بڑھا چڑھا کر بتانے میں ماہر ہے۔ ابھی ابھی ایک جھوٹ گیس سبسیڈی کے سلسلے میں سامنے آیا ہے، جسے  CAG کے حوالے سے آشوتوش نے باضابطہ ایک پریس کانفرنس میں اجاگر کیا ہے۔ کروڑوں روپئے پانی کی طرح بہانے اور بیرون ممالک کے مسلسل دوروں کے بعد بھی NSG کے سلسلے میں چین سمیت کئی ممالک کی مخالفت سے ملک کی جو ٖفضیحت ہوئی ہے، اسے بھی اتنی آسانی سے نہیں بھلایا جا سکتا ہے۔ ابھی ابھی کیلیفورنیا یونیورسٹی کے اکنامکس کے پروفیسر پرنب وردھن نے ایک انگریزی روزنامہ سے بات چیت میں بہت واضح طور پر یہ بات کہی کہ  میں بھارت کی موجودہ  حکومت کو آر ایس ایس، مودی شاسن کہتا ہوں۔ مودی اسپِن ماسٹر ہیں اور لبھانے والے الفاظ کے بھی ماہر ہیں۔ بھارت میں ملازمت کی کمی کے باعث آپسی جھگڑے بڑھ سکتے ہیں۔ انھوں نے مذید کہا کہ مودی کہتے ہیں کہ ان کی حکومت میں بدعنوانی ختم ہو گئی ہے، جبکہ  بھاجپا حکومت والی ریاستوں میں ویاپم جیسی بدعنوانیاں عروج پر ہیں۔ پروفیسر پرنب نے یہ بھی یاد دلایا کہ گزشتہ انتخاب کے وقت بھاجپا نے سؤ کروڑ روپئے صرف اشتہارات پر خرچ کئے تھے اور چناؤ کا پورا خرچ پانچ سؤ کروڑ سے زائد کا تھا، اس وقت اتنا پیسہ ان کے پاس کہاں سے آیا ؟

        موجودہ حکومت کی یہ سب ایسی سچائیاں ہیں، جنھیں بہت آسانی سے نہیں فراموش کیا جا سکتا ہے اور یہی وہ وجوہات ہیں کہ جن کے باعث دھیرے دھیرے ان کی پارٹی اور ان کی حکومت میں شامل لوگ متنفر ہوتے جا رہے ہیں۔ ابھی ابھی نوجوت سنگھ سدھو نے بھاجپا کو الوداع کہہ کر اس فہرست میں اضافہ کیا ہے جوپارٹی کی منفی کارگزاریوں سے خفا ہو کر دوسری راہ پر نکل گئے ہیں یا نکلنے کی راہ تک رہے ہیں۔ جھارکھنڈ حکومت میں شامل رہی آجسو یعنی آل جھارکھنڈ اسٹوڈینٹ یونین  نے بھی  بھاجپا کا ساتھ چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ مرکزی حکومت میں شامل ری پبلکن پارٹی کے وزیر مملکت رام داس اٹھاولے نے بھی دھمکی دی ہے کہ اگر اس حکومت نے ملک کے آئین سے چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش کی تو میں وزارت چھوڑ دونگا۔

    کشمیر، گجرات اور ملک کی کئی ریاستوں میں خلفشار مچا ہے، عوام سڑکوں پر اتر کر زبردست مظاہرے کر رہے ہیں، احتجاج کی بازگشت پھیلتی جا رہی ہے اور حکومت کی تمام تر ناکامیوں پر ہمارے وزیراعظم پوری طرح خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اور غیر ممالک کے دوروں پر جا کر ڈرم اور بانسری بجا رہے ہیں۔ ان کی ان تصاویر کو دیکھ کر بے اختیارخیال آتا ہے۔

’ روم جل رہا ہے اور نیرو بانسری بجا رہاہے ‘

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سیّد احمد قادری

ڈاکٹرسیّد احمد قادری معروف کالم نویس ہیں۔

متعلقہ

Close