ہندوستان

ملک کا بدنام ہوتا تعلیمی نظام

ڈاکٹر سیّد احمد قادری
اس وقت ہمارے ملک کا تعلیمی نظام ایک عجیب وغریب صورت حال سے دوچار ہے ۔ ملک کے لئے اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ ملک کے وزیراعظم اور وزیر تعلیم کی ڈگریاں ہی شک کے گھیرے میں ہیں اور ان دونوں کی جانب سے بار بار دی جانے والی صفائی سے عوام مطمئن ہیں اور نہ حزب اختلاف کے لوگ ۔
ان دنوں ریاست بہار میں تعلیم کے میدان میں ہونے والی گھپلہ بازیوں کی جس طرح پرت در پرت تہیں کھل رہی ہیں ، وہ یقینی طور پر ان لوگوں کے لئے نہ صرف حیرتناک ہیں ، بلکہ افسوسناک ہیں ، جو ایمانداری اور دیانتداری سے علم کے حصول پر یقین رکھتے ہیں۔ بہار کے تعلیمی مافیاؤں کا تعلیمی گھوٹالہ جس طرح سامنے آیا ہے ، وہ ایک دن کا نہیں ہے ، بلکہ گزشتہ کئی برسوں سے تعلیم کو قعر مزلّت میں ڈبونے اور رسوا کرنے کی ایسی کوششیں جا ری تھیں ۔وقتاََ فوقتاََ میڈیا میں ایسی خبروں کی سرخیاں سامنے آتی ضرور تھیں ۔ لیکن جب حکومت کے لوگ ہی تعلیم کے نام پر لوٹ کھسوٹ میں شامل ہوں ،تو پھر ایسے معاملے دب ہی جاتے ہیں۔ لیکن جب پانی سر کے اوپر سے گزرنے لگا اور ملک وبیرون ممالک میں بہار کی رسوائیاں ہونے لگیں، تب ایسے تعلیمی مافیاؤں پر بہار کے موجودہ وزیراعلیٰ نیتیش کمار نے سخت پنجوں کا استعمال کیا اور جو نتائج سامنے آرہے ہیں ، وہ اس لحاظ سے ناقابل یقین ہیں کہ پیسے کے لئے لوگ اس حد تک اپنے ضمیر اور اپنے ایمان تک کو بیچ دیتے ہیں کہ انھیں نہ تعلیمی لیاقت رکھنے والے معصوم بچوں کی حق تلفی کا خیال آتا ہے نہ ہی اپنی ریاست کی شرمساری کا ۔ایک زمانہ تھا کہ بقول صدر جمہوریہ ہند جناب پرنب مکھرجی بیرون ملک سے لوگ تعلیم حاصل کرنے، بہار کی نالندہ یونیورسٹی ،جس کی عظمت ،اہمیت اور شہرت دور دور تک تھی ، آتے تھے۔ اسی بہار میں گزشتہ سال ویشالی ضلع کے مہنار اسکول میں میٹرک کے امتحان میں ، پولیس اور اساتذہ کی موجودگی میں، نقل کے لئے پرچی پہنچاتے ہوئے پہلی سے چوتھی منزل تک ٹنگے لوگوں کی ایک تصویر شائع ہوئی تھی، جس نے پورے ملک اوربیرون ملک میں ایک ہنگامہ برپا کر دیا تھا ۔ ملک گیر سطح پر نیزواشنگٹن پوسٹ اور دوسرے کئی بڑے غیر ملکی اخبارات نے اس تصویر کی اشاعت کے ساتھ ساتھ انڈیا کے تعلیمی معیار پر سوالیہ نشان بھی لگا دیا تھا ۔ اس تصویر کی اشاعت سے بدنامی ضرور ہوئی ، لیکن ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ملک کے تعلیمی نظام و معیار پر بحث و مباحثہ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ تصویر کی بیرون ملک کے اخبارات میں اشاعت سے فوری طور پر مرکزی حکومت کو اس معاملہ میں دخل دینا پڑا اور اس نے حکومت بہار سے جواب طلب کیا ۔ امتحان میں اجتمائی نقل اور اس کی شائع ہونے والی تصویر اور رپورٹ پر حکومت بہار کے وزیر تعلیم نے غیر ذّمہ دارانہ بیان پر دیا تھاکہ نقل روکنا حکومت کے بوتے سے باہر ہے۔ اس بیان پر پٹنہ ہائی کورٹ نے خفگی کا اظہار کرتے ہوئے ،سخت نوٹس لیا اور کہا کہ ایسے غیر ذمّہ دار وزیر کو وزارت سے سبکدوش ہو جا نا چاہیے۔( اس وقت وہ نہ صرف وزارت سے بلکہ سیاست سے بھی سبکدوش ہو چکے ہیں ) تصویر کی اشاعت ، ہائی کورٹ کی پھٹکار اور پورے ملک میں بہار کے تعلیمی نظام پر اٹھنے والے سوال نے وزیر اعلیٰ بہار نیتیش کمار کو بھی سخت رخ اپنانے پر مجبورکر دیااور ان کی ہدایت پر انتظامیہ نے میٹرک کے امتحان میں بڑے پیمانے پر اجتمائی نقل کو روکنے کی کوشش کی ،جس میں انتظامیہ کو کسی حد تک کامیابی بھی ملی۔اس سال کا شائع ہونے والا انٹر کا ریزلٹ بھی اس امر کا غماز ہے کہ اجتمائی نقل پر کسی حد تک قابو پایا گیا ، جس کی وجہ کر کامیاب ہونے والے طلبأ و طالبات کا تناسب کم ہو گیا ۔ ایسے میں تعلیمی نظام کو مزاق بنانے والے مافیا گروہ نے کاپی جانچ اور اس کے بعد کا کھیل اس طرح کھیلا کہ ایسے کالجوں سے ٹاپ کرنے والے اور والی کو اپنے سبجکٹ کا بھی علم نہیں ، پالٹیکل سائنس کو ’پروڈیکل سائنس‘ کہنے والی ٹاپر طالبہ نے تو پالٹیکل سائنس کا علمی تعلق بھی بدل دیا اور کہا کہ یہ اس سبجکٹ میں کھانا بنانے کی تعلیم دی جاتی ہے ۔ ایسی ایسے نئی اطلاع کے بعد ہی انٹر میں ٹاپ کرنے والوں کے سلسلے میں حکومت کی آنکھ کھلی اور اب تو جس طرح بڑے پیمانے پر گرفتاریاں اور گھروں و کالجوں میں چھاپہ ماری ہو رہی رہی ہے اور جو حقائق سامنے آ رہے ہیں ، وہ ہوش اڑا دینے والے تو ہیں ہی ہیں ۔ افسوس اس بات کا بھی ہے کہ نہ جانے کتنے برسوں سے اس طرح بہت سارے معصوم اور ذہین بچوں اور بچیوں کی حق تلفی کی گئی ، جس کا ازالہ اب ممکن نہیں ۔
تعلیمی نظام کی ایسی بدترین صورت حال کی ایسی روایت صرف بہار کی نہیں ہے، بلکہ ملک کی بیشتر ریاستوں میں تقریباََ ایسے ہی حالات ہیں۔ بشن رائے کالج، حاجی پور، اس کالج کے پرنسپل اور مالک بچہ رائے ، بہار بورڈ کے چیئرمین لالکیشور، ان کی اہلیہ اور جدیو سے قانون ساز کونسل کی ممبر اور ایک کالج کی پرنسپل اوشا سنگھ جیسے لوگوں کا مافیا گروہ صرف بہار میں ہی متحرک نہیں ہے بلکہ جھارکھنڈ، اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ جیسی ریاستیں بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں ہیں۔ ان ریاستوں میں اسکول سے لے کر کالج ، یونیور سٹی اور ریاستی پبلک سروس کمیشن وغیرہ کے امتحانات میں منّا بھائی ، رنجیت ڈان،بچہ رائے،لالکیشور تعلیمی مافیا پوری طرح متحرک ہیں ۔ پچھلے دنوں اتر پردیش پبلک سروس کمیشن کے مقابلہ جاتی امتحان کے سوالات امتحان سے قبل ہی ایک ایک لاکھ روپئے میں فروخت ہورہے تھے۔ اگر یہ سوالات امتحان سے چند گھنٹے قبل واٹس اپ پر نہیں ڈالے جاتے تو شائد کسی کو پتا بھی نہیں چلتا ۔ ایسی سینکڑوں مثالیں آئے دن سامنے آ رہی ہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ ملک میں جب سے تعلیم سیاست اورصارفیت کی گرفت میں آئی ہے، تب سے تعلیمی نظام انحطاط کا شکار ہوا ہے اور مافیا گروہ کی شمولیت کے بعد تو ملک کا تعلیمی معیار اور نظام تعلیم پوری طرح روبہ زوال ہے ۔ سرکاری اسکولوں سے حکومت کی بے توجہی اور سیاسی مداخلت سے تعلیم کے تاجروں کی چاندی ہو گئی ہے۔ انگلش میڈیم کے نام پر گلی گلی میں اسکول اور دو دو کمروں میں سیاست دانوں اور تاجروں نے اپنے یا اپنی بیویوں کے نام پر کا لج کھول کر بچوں کو سنہری خواب دکھا کر ان کے مستقبل سے کھلواڑ کر رہے ہیں ۔ ایسے اسکولوں کالجوں میں پاس کرانے کی گارنٹی دی جاتی ہے، جس کے لئے یہ لوگ بہار کے لالکیشور جیسے افسران کو خوش کرکے من مطابق امتحان کے مراکز منتخب کرتے ہیں اور نقل کے بل بوتے طلبہ و طالبات کو پاس کراتے ہیں ۔اسکولوں اور کالجوں میں جب سے صلاحیت اور لیاقت کے بدلے امتحان میں حاصل نمبرات کی بنیاد پر بحالیاں شروع ہوئی ہیں ، نقل کی وبا میں اضافہ ہوا ہے ۔ نیتیش کمار کی حکومت نے برسراقتدار آتے ہی اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کو دیکھتے ہوئے نمبرات کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر اساتذہ کی بحالیاں کی تھیں ۔ بحالی کے بعد جب ان اساتذہ کے اہلیت ٹیسٹ لئے گئے تو بحال کئے گئے زیادہ تر اساتذہ بہت سہل امتحان میں ایک بارنہیں بلکہ بار بار کے امتحان میں بھی کامیاب نہیں ہو سکے۔ ایسے نا اہل اساتذہ کے تعلق سے کچھ عرصہ قبل پٹنہ ہائی کورٹ بہت سخت ناراضگی جتاتے ہوئے ایسے تمام اساتذہ کو ، جو دوبار کی اہلیت ٹیسٹ میں بھی کامیاب نہیں ہو سکے، انھیں فوری طور پر بر طرف کرنے کی حکومت کو ہدایتدے چکا ہے۔ بحال ہونے والے ایسے بہت سارے اساتذہ کے اسناد بھی جعلی نکل رہے ہیں ۔ اسکول کے ایسے اساتذہ کی اہلیت کا اندازہ اس وقت زیادہ ہوا جب ایک ٹی وی چینل کے کیمرہ کے سامنے اساتذہ نے مہینہ ، دن اور کئی پھلوں کے انگریزی نام کی اسپیلنگ ہی بدل کر رکھ دئے، مثلاََآم Mengo ہو گیا ، او ر بچے جھوم جھوم کر غلط اسپیلنگ کے ساتھ انگریزی کے الفاظ یاد کر رہے ہیں ۔ ایک سروے کی رپورٹ کے مطابق ایسے اسکولوں کے پانچویں کلاس کے بچّے، دوسری کلاس کی ہندی اور انگریزی کی کتاب کا کوئی حصّہ نہیں پڑھ پاتے اور معمولی حساب سے بھی ناواقف ہیں ۔ اب ایسے اساتذہ کا ساتھ مرکزی حکومت کی وزیر تعلیم اسمرتی ایرانی بھی دے رہی ہیں ، جنھیں گورنر کی اسپیلنگ نہیں معلوم ۔ گجرات کے وزیر تعلیم تو Elephant کی اسپیلنگ بھی یا تو بھول گئے یا پھر ان کے ٹیچر نے اسی طرح بتایا ہوگا ۔ ابتدائی تعلیم کا یہ حال دیکھنے کے بعد اب اعلیٰ تعلیم کے معیار جاننے کے لئے اگر کبھی کسی پی ایچ ڈی کے اوپن وائیوا میں بیٹھ جایئے، تو کچھ ایسی ہی صورت حال یہاں بھی دیکھنے کو ملتی ہے، کہ تحقیقی مقالہ نگار اپنی تھیسس کے چیپٹر بھی نہیں پڑھ پاتا ہے ۔ پھر بھی پیروی (رشوت) پر وہ ڈاکٹر بن جاتا ہے۔ ایسے ہی ایک کیمسٹری کے ڈاکٹر کی تقرری جب پٹنہ ویمنس کالج جیسے بڑے اور اہم کالج میں ہوئی اور وہ اپنی جوائننگ رپورٹ بھی انگریزی میں صحیح نہیں لکھ سکے ، تو وہاں کی پرنسپل نے چانسلر( گورنر) سے رابطہ کر صاف کہہ دیا کہ ایسے ’مہان ‘ استاد کو وہ اپنے کالج میں جوائن کرانے سے قاصر ہیں ۔ اسی طرح کے کچھ وائس چانسلروں اور پرنسپلوں کی بحالیوں کے خلاف بہار کے (سابق) گورنر دیوانند کنور کو زبردست ذلّت کا سامنا کرنا پڑا تھا ، یہاں تک کہ جب یہ اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس کو خطاب کرنے آئے، تب ممبر اسمبلی جیوتی نے بھرے ہاؤس میں ان پر الزام لگایا تھا کہ آپ نے رشوت لے کر یہ بحالیاں کی ہیں ۔ جواب میں گورنر مسکراتے رہے اور جلد ہی بڑے بے آبرو ہو کر ان کی ،گھر واپسی صدر مملکت نے کر دی ۔ اتر پردیش کے سابق مرکزی وزیر صحت رشید مسعود تعلیمی بدعنوانی میں ہی پارلیامنٹ کی رکنیت خارج کئے گئے اور چار سال کی جیل کی سزا بھگت رہے ہیں۔ ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ اوم پرکاش چوٹالہ اساتذہ بحالی بد عنوانی میں ملوث ہونے کی پاداش میں اس وقت تہاڑ جیل میں بند ہیں ۔ مدھیہ پردیش کے (سابق) گورنر رام نریش یادو کو ’ویاپم اسکینڈل‘ میں اپنی گورنری کے ساتھ ساتھ اپنے بیٹے سے ہاتھ بھی دھونا پڑا ۔ پنجاب کے ایک ایس ایس پی ،اپنی جعلی بی اے کی ڈگری کی صفائی میں پٹنہ ہائی کورٹ کا چکر لگا رہے ہیں ۔مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ اپنے بڑھتے ویاپم گھوٹالہ اور اس میں مرتے لوگوں کی چشم پوشی کے لئے اپنی ریاست کے ایس آئی ٹی افسران ، جج اور صحافیوں کو سستے نرخ پر تحفہ میں زمین کے پلاٹ الاٹ کر رہے ہیں ۔بہار کی کئی یونیورسیٹوں کے جہاں وائس چانسلر اپنے اپنے داغ کو دھونے میں مصروف ہین ، وہیں ان وائس چانسلروں کے ذریعہ کی گئی مختلف کالجوں میں پرنسپلوں کی بحالیوں پر تلوارین لٹکی ہوئی ہیں ۔ مگدھ یونیورسیٹی کے 12 پرنسپل محکمہ نگرانی کے ذریعہ کئے گئے مقدمہ میں گھرے ہوئے ہیں ۔ ادھر بہار کی مولانا مظہرالحق یونیورسٹی میں 40 عہدوں پر کی جانے والی تمام ضابطوں کو طاق پر رکھ کر کی جامے والی تقرری پر محکمہ نگرانی سمیت راج بھون اور محکمہ تعلیم کت سوالوں کے گھیرے میں ہے ۔ یہاں کے وائس چانسلر اور دوسرے کئی عہدیداروں کو اس ضمن میں نوٹس دی گئی ہے ، جن کا جواب ان لوگوں کو دیتے نہیں بن رہا ہے ۔ اس یونیورسٹی مین قبل بھی ایسے کئی بدعنوانیوں کے الزامات لگتے رہیں، جن کی تفصیلات میں آئیندہ پیش کرونگا ۔
اس طرح دیکھا جائے تو اوپر سے نیچے تک پورا تعلیمی نظام بد عنوانیوں کی گرفت میں ہے اور مافیا گروہ ملک کی تعلیم پر پوری طرح ہاوی ہے۔ پروڈیوسر، ڈائریکٹر پرکاش جھا نے اپنی ایک فلم ’ آرکچھن ‘ میں ایسے تعلیمی مافیا ؤں کی نشاندہی کرتے ہوئے امیتابھ بچن کے ذریعہ ایسے گروہ کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے دکھایا تھا۔ طلبہ و طالبات کے مستقبل کو بگاڑنے والی غیر معیاری تعلیم اور بدعنوانیاں آنے والے دنوں میں ملک و قوم کو کس قدر نقصان پہنچا رہی ہیں اور پہنچائیگی، اس کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ایسے تعلیمی ماحول اور حالات کو دیکھ کرنائب صدر جمہوریہ ہند مسٹر حامد انصاری نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایک تقریب میں کہا تھاکہ’ ٹائمس ہائر ایجوکیشن
رینکنگس یا اکیڈمی رینکنگ آف ورلڈ یونیورسیٹیز میں ٹاپ 200 یونیورسیٹیوں میں ہندوستان کی کوئی بھی یونیورسیٹی شامل نہیں ہے‘ اور اس کے لئے انھوں نے ملک کے تعلیمی معیار کو بلند کرنے کے کئی مشورے دئے۔ بیرون ممالک میں تھوڑا بہت ملک کی تعلیم کا وقار رکھنے والی آئی آئی ٹی جیسے تکنیکی اور سائنسی اداروں میں بھی سیاسی مداخلت کے نتیجہ میں آئی آئی ٹی ، ممبئی کے جوہری سائنسداں انِل کاکوڈکر نے صدر کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا ۔ اس سے قبل آئی آئی ٹی ، دہلی جیسے نامی تکنیکی ادارہ کے ڈائریکٹر رگھو ناتھ شیو گانوکر بھی سیاسی مداخلت سے خفا ہو کر مستعفی ہو چکے ہیں ۔ ان دونوں معاملوں میں موجو دہ حکومت کو خوب ہدف ملامت بنایا گیا اور سخت احتجاج بھی کیا گیا ۔
عالمی سطح پر بھی ہمارے ملک کے تعلیمی نظام کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ہے۔ UNESCO کے
internatioanal institute of education planing study on corruption in education
کی رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں اپنی ڈیوٹی سے غائب رہنے والے اساتذہ میں انڈیا سرفہرست ہے۔ ایسے غائب رہنے والے اساتذہ کی انڈیا میں تعداد 25% فی صدہے، جبکہ 20 % فی صد غائب رہنے والے اساتذہ میں یوگانڈہ دوسرے نمبر پر ہے۔انڈیا میں 25% اساتذہ غیر حاضر رہ کر اپنے ملک کے تعلیمی فنڈ کا 22.5% فی صد ضائع کرتے ہیں ۔ اس عالمی رپورٹ کے اعداد وشمار کے مطابق ریاست بہار میں پانچ میں دو ٹیچر غائب رہتے ہیں ، اتر پردیش کے کل اساتذہ میں ایک تہائی کا تناسب ہے ۔ گجرات اور کیرالہ میں 15% فی صد ہے۔ اس رپورٹ میں دلچسپ بات یہ بتائی گئی ہے کہ ڈیوٹی سے غائب رہنے والے اساتذہ میں شادی شدہ ٹیچر کے مقابلے غیر شادی شدہ ساتذہ کا تناسب زیادہ ہے ۔ یونیسکو کی اس رپورٹ میں انڈیا میں غیر معیاری تعلیم کی وجوہات انتظامی خامیوں ، کم اہلیت کے اساتذہ ، اوربحالی اور تبادلہ میں سیاسی مداخلت نیز امتحانات میں نقل بتایا گیاہے۔
اگر ایسے غیر اطمینان بخش اور غیر معیاری تعلیمی نظام کو بہتر کرنے کی سنجیدہ کوشش مرکزی اور ریاستی حکومتیں بغیر کسی سیاسی مفاد کے اور ملک و قوم کے اہم مقاصد کو سامنے رکھ کر کرتی ہیں ،تو بہت ممکن ہے کہ
بد حال تعلیمی نظام فعال ہو جائے اور بہت تیزی سے گرتے معیار تعلیم پر قد غن لگے ۔ لیکن اس وقت ملک کے جو حالات ہیں ،اور جس طرح تعلیمی نصاب کو زعفرانی رنگ میں رنگنے اور فرقہ پرستی کے زہر میں گھولنے کی
منظم اور منصوبہ بند کوششیں ہو رہی ہیں، ایسے میں تعلیمی معیار کی بہتری کی توقع رکھنا عبث ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سیّد احمد قادری

ڈاکٹرسیّد احمد قادری معروف کالم نویس ہیں۔

متعلقہ

Close