ہندوستان

ملک کی ترقی کے تئیں سب کے ساتھ یکساں سلوک

یہ ملک کسی خاص طبقہ کی وراثت نہہں ہے بلکہ اس میں سب کی ساجھےداری برابر ہے۔

ڈاکٹر ظفر دارک قاسمی

گیارہ  دسمبر 2018 کا دن تمام سیاسی جماعتوں خصوصا ان پارٹیوں کے لئے انتھائی اہمیت کا حامل ہے جو اس وقت  ہورہے اسمبلی الیکش میں لگی ہوئی ہیں۔ جہاں اس وقت الیکش ہوچکے ہیں یا ہونے باقی ہیں ان ریاستوں میں کس کی حکومت ہوگی اور کون سی جماعت اقتدار سے باہر ہوگی یہ کہنا قبل از وقت ہے؛  البتہ مبصرین کا ماننا یہ ہیکہ یہ اسمبلی انتخابات عام انتخابات کے لئے زمین ضرور ہموار کریں گے؛ نیز ان ریاستوں میں فتحیابی کا سیدھا سایہ 2019 کے عام انتخابات پر پڑیگا؛  اسـلئے تمام سیاسی جماعتوں کے لئے ان ریاستی انتخابات کی خاصی اہمیت و افادیت ہے.  اس وقت سب سے بڑا مسئلہ کانگریس پارٹی کے لئے ہے۔ اگر ماضی کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو اندازہ ہوگا کہ ایک وقت تھا جب ملک کی تقریبا تمام ریاستوں میں کانگریس کی حکومت سایہ فگن تھی مگر اب ملک کی سب سے قدیم اور بڑی پارٹی اس محاذ پر جا پہنچی ہے کہ اپنے وجود و بقاء کی حفاظت کررہی ہے۔

وہیں اس بات سے بھی صرف نظر نہیں کیا جا سکتا ہے کہ یہ اسمبلی انتخابات حکمراں جماعت کے لئے بھی  کسی چیلینج سے کم نہیں ہیں،   کیونکہ مجھے یاد پڑتا ہے 2013 میں حکمراں جماعت کی لہر انہی اسمبلی انتخابات سے عروج پکڑی تھی اور اس کا پورا فائدہ 2014 کے عام انتخابات میں حکمراں جماعت کو ہوا تھا، مگر اب حالات بد ل چکے ہہں اورعوام مودی حکومت کے  دعووں اور وعدوں  کومحض جملہ قرار دے رہی ہے کیونکہ اتنی بھاری اکثریت سے ووٹ عوام نے ان دعووں اور وعدوں کی بنیاد پر دیا تھا جو مودی نے  عوام سے کئے تھے مگر افسوس کہ تمام کی  تمام ترقی اور فلاح کی اسکیمیں کاغذ اور زبان تک ہی سمٹ کر  رہ گئیں۔ حکمراں جماعت  بڑی ہوشیاری سے  ترقیاتی منصوبوں کوانتخابی ریلیوں کی زینت بناکر عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئ اور اب ایسا محسوس ہوتا ہیکہ جملہ فلاحی منصوبوں کو نئے نئے فیصلے اور فرمان لاکر عوام کے  پردئہ ذہن سے  تمام وعدوں کو  محو کیا جا رہا ہے۔

ہندوستانی معاشرہ کی  بد قسمتی  یہی ہے کہ سیاسی جماعتیں انتخابات کے وقت بڑے بڑے وعدے کرتی ہیں مگر حیف صد حیف یہ کہ ان کو عملی جامہ نہیں پہنایا جاتا۔ سب کا ساتھ سب کا وکاس جیسا خوبصورت اور مسحور کن نعرہ بھی تعصب و تنگ نظری کی بھینٹ چڑھ گیا؛  اس لئے عوام حکمراں جماعت اور اس کی پالیسیوں کو مشکوک نگاہوں سے دیکھ رہی ہے اور کہیں نہ کہیں عوام نے حکمرآں جماعت کا تعاقب بھی کیا ہے مثلا ملک میں ضمنی الیکشن میں حکمراں جماعت کی شکشت اور کانگریس یا دیگر علاقائی جماعتوں کی خاطر خواہ کامیا بی اس کی واضح علامت ہے۔

 یوں تو ہندوستان میں آزادی کے بعد اب تک سب سے زیادہ اقتدار کانگریس کے حصے میں آیا ہے مگر جہاں تک سوال ہے مسلم اقلیت کی تعمیر وترقی کا تو اس بابت یہی کہنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں نے مسلمانوں کااب تک استحصال ہی کیا  ہے اور بدلہ میں کچھ بھی نہیں دیا اس پر شاہد عدل وہ دستاویزات ہیں جنہیں ہم سچر کمیٹی کی سفارشات کے نام سے جانتے ہیں رہی سہی کسر حکمراں جماعت نے پوری کردی فرق صرف اتنا ہے کہ وہ سیاسی جماعتیں جنہیں ہم سیکولر ہونے کا وعوی کرتے ہیں انہوں نے پیچھے سے وار کیا  ہے۔ اور موجودہ حکومت کھلم کھلا مسلم اقلیت کو اذیت پہچاتی ہے ؛ چنانچہ مسلمانوں کے تئیں سب  کا رویہ ایک جیسا رہا  ہے ؛ اس لئے اب مسلم اقلیت کو اپنی فلاح اور بہبود کے لئے خود آگے آنا ہوگا اگر ہم  سیاسی جماعتوں کے سہارے  رہے تو بہت ممکن ہے کہ وہ ہم کو مزید گار میں نہ دھکیل دیں۔ ذرا تصور کیجئے کہ اس وقت ملک میں جس طرح کی سیاست عروج پارہی ہے وہ ملک یا قومی ترقی کے لئے کس حد تک مفید ہے؛  شرمناک بات تو یہ بھی ہیکہ اب ملک کے منظرنامے سے مسلمانوں کی شناخت اور علامات کو مسخ کیا جارہا ہے  دنیا کے اتنے بڑے جمہوری ملک میں علی الاعلان مذہب کا کارڈ کھیلا جارہا ہے۔ اور مسلسل اس نظریہ کی تشہیر ہورہی ہے جو سیکولرزم جیسے مقدس سرمائے کے سخت تریں مخالف ہے؛ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ جو جماعتیں سیکولرزم کے تحفظ کی دہائی دیا کرتی تھیں آج وہ بھی مٹھی بھر افراد کو منانے کے لئے سخت ہندتوا اور نرم ہندتوا کی بات کرتی نظر آرہی ہیں؛  یعنی اب ملک میں صرف بحث ہندتوا پر ہورہی ہے جمہوریت آئین اور سیکولر نظام کے بقا ؤ استمرار کی بات کوئی نہیں کررہا ہے اس سے یہ اندازہ بخوبی لگا یا جا سکتا ہے کہ اب ملک کدھر جارہا ہے اور اس کا مستقبل کیا ہو گا؟بناء بریں آج ملک میں ضرورت اس بات کی ہے  کہ جمہوری قدروں کو مستحکم کیا جائے اس کے لئے ملک کے ان تمام افراد اور اداروں کو آگے آنا ہوگا جو جمہوریت اور سیکولرزم پر ایمان و یقین رکھتے ہیں۔

آج ہم دنیا کے منظر نامے پر نظر ڈالتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہیکہ جہاں بھی جمہوریت یا سیکولرزم کی جڑیں مضبوط ہیں وہاں انسانی اقدار کا تحفظ پایا جا تا ہے بر عکس ان ممالک کے جہاں آمریت یا بادشاہت کا نظام رائج ہے حتی کہ آمریت یا بادشاہت میں نوع انسانی کو حکمومت اور اس کی غلط پالیسیوں پر تنقید تک کرنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔ بھلا بتاؤ وطن عزیز میں بھی کچھ نا عاقبت اندیش جمہوریت کو آمریت میں بدلنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں اور حکمراں جماعت نے اپنے اس نظریہ کو ثابت بھی کیا ہے جب بھی کسی نے حکومت کی کاردگی کو لیکر منفی آواز اٹھائی ہے تو حکومت کے حواریین نے انہیں غدار وطن تک کہا ہے۔  جمہوری نظام میں حکومت سے سوال کرنا کیا گناہ ہے؟ اور کسی کی حب الوطنی پر بیجا سوال اٹھانا درست ہے؟

 تاریخ کا مطالعہ بتا تا ہے کہ  کسی بھی ملک یا معاشرہ کی ترقی کا راز اس بات میں مضمر ہے کہ ہم  کسی خاص طبقے کے مفاد کے بجائے قومی ترقی کو ترجیح دیں؛  جب ملک میں انسانی ہمدردی اور وطنی خدمت کا جذبہ پیدا ہوگا تو یقینا خود بخود ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوجائے گا۔ ہندوستانی معاشرہ کو گزشتہ چار سالوں سے   نفرت کی دھیمی دھیمی آنچ پر تپایا جا رہا ہے یہی وجہ کہ اب عوام حکومت کے ان سیاہ کارناموں کو نہیں دہرارہی ہے جو انہوں نے کئے ہیں بلکہ اب تو صرف ہر پارٹی ہندو اکثریت کو یہ احساس دلانے پر تلی ہے کہ ہمارے افکار و نظریات بھی وہی ہیں جو جن سنگھ اور آر ایس ایس کے ہیں۔ گویا اب سیاست ملکی،  قومی اور ملی جذبہ کے تحت نہیں کیجارہی ہے بلکہ اب ہندوستان جیسے عظیم ترین جمہوری ملک میں  سیاست کا واضح مطلب ہندو مسلم  ہی رہ گیا ہے، اس نفرت کے شکار سیاستداں ہی نہیں ہیں بلکہ یہ آگ اپنی لپیٹ میں عام شہریوں کو بھی لینے لگی ہے۔

 اس کی وجہ یہ ہیکہ نیوزـچینلوں نے مودی حمایت میں ہندو مسلم کی تشہیر اس قدر کی ہے کہ ہر شہری اس سے متائثر ہونے لگا ہے، کبھی جناح کو لیکر قومی مباحثوں کی میز سجائی گئی تو کبھی مغل حکمرانوں کو اپنے عتاب کا شکار بنا یا  اور عوام میں مغل حکمرانوں کے خلاف غلط باتوں کی اشاعت کی گئی، ہر دفعہ  جو ملک کے مسائل ہیں،  عوام کی جو پریشانیاں ہیں ان کو مودی نواز میڈیا نے پوری طرح سے دبا کر رکھا ،  اسی پر بس نہیں بلکہ  بعض خبروں کے مطابق حکومت کا عمل  دخل ہندوستان کے اہم ترین شعبوں میں بھی ہونے لگا ہے  اور ان کی شفافیت سے عوام کا اعتبار اٹھتا جارہا ہے، ان تمام باتوں کے باوجود بھی ملک کا ایک طبقہ آج بھی غیر منطقی دلائل سے حکمراں جماعت کو دودھ کا دھلا ثابت کرنے میں لگا ہو ہے۔ اگر ملک میں نظر دوڑائیں تو اندازہ ہوگا کہ،  غریب،  تاجر، کسان،  دلت اور مسلمان بری  طرح پریشان ہیں، مگر جنتا کی پریشانی نہ حکومت کو نظر آتی ہیں  اور نہ میڈیا کو۔

صاحبو یہ ملک کسی خاص طبقہ کی وراثت نہہں ہے بلکہ اس میں سب کی ساجھےداری برابر ہے۔  آزادی کے تئیں جو قربانیاں مسلمانوں  نے دی ہیں ان کو صفحئہ تاریخ سے کبھی بھی نہیں مٹایا جا سکتا ہے۔ مگر اب ملک میں مسلمانوں کے تہذیبی اور تاریخی ورثے کو خرد برد کیا جارپا ہے اور اس کو یہ بتاکر عوام کو اصل مسائل سے دور کیاجا رہا ہے کہ  یہ ہندؤں کا  تہذیبی پریورتن ہے، ذرا غور کیجئے  یہ تمام حرکتیں اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ ہندوستان کی سوا سو کروڑ جنتا کے لئے محض دھوکہ ہے،   اسی کے  ساتھ حکومت بڑی چالاکی سے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈال رہی ہے،   لھذا ہندوستانی عوام کو بھی حکمراں جماعت کے اس سیاسی حربہ کو سمجھنا ہوگا اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ ملک اور قوم کی ترقی کے لئے مخصوص طبقے کی وراثت سے چھیڑ چھاڑ کافی ہے یا پھر ان چیزوں پر عمل ہونا چاہئے جن کی عوام کو بنیادی ضرورت ہے،  جیسے مہنگائی کا خاتمہ،  بد عنوانی پر کنٹرول،  اچھا تعلیمی نظام،  بہتر صحت کے مراکز وغیرہ وغیرہ

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ظفر دارک قاسمی

جنرل سکریٹری اقراء ایجوکیشنل ویلفیئر سوسائٹی(رجسٹرڈ ) بدایوں، یو۔پی۔انڈیا شعبۂ دینیات،مسلم یونیورسٹی علی گڑھ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close