ہندوستان

منافقت بے، شرمی یا دیدہ دلیری؟

ڈاکٹر عابد الرحمن

اور ہماری حکومت نے امریکی ادارے برائے بیئن الاقوامی مذہبی آزادی کی رپورٹ کو مسترد کردیا کہ’ انڈیا کو اپنے سیکولر ہونے، سب سے بڑی جمہوریت ہونے، ایک مشترکہ سماج ہونے اور روادای و سب کی اشتراکیت سے اپنی طویل وابستگی پر فخر ہے، بھارتی آئین اپنے تمام شہریوں بشمول اقلیتوں کو بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔‘امریکہ کے اس ادارے کی رپورٹ ہمارے ملک میں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف ہوئے تشدد  کے متعلق ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ملک میں ہجومی تشدد کی وارداتیں ۲۰۱۸ کے پورے سال ہوتی رہیں جن میں پر تشدد انتہاپسند ہندو گروپس نے گؤ کشی کی افواہوں کی بنیاد پراقلیتی کمیونٹی خاص طور سے مسلمانوں کے خلاف ہجومی تشدد کی وارداتیں انجام دیں جن میں قانون نافذ کرنے والے ناہلکاروں کے ملوث ہپونے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں اور اکثر حکام نے قصورواروں کو بچایا ہے۔اس میں مذہب کی بنیاد پر قتل حملوں فسادات عدم مساوات کے واقعات غارت گری اور اقلیتوں کو اپنے مذہبی عقائد سے روکنے والے اقدامات کی رپورٹس کا بھی ذکر ہے۔

ہنسی کی بات ہے کہ جس دن ہماری حکومت نے اس رپورٹ کو مسترد کیا اسی دن جھارکھنڈ سے تبریز انصاری نامی نوجوان کی ماب لنچنگ کی خبر آئی اور اس میں وہ سب باتیں شامل رہیں جن کا اس رپورٹ میں ذکر ہے۔ اس کو چوری کے الزام میں پکڑا گیا بجلی کے کھمبے سے باندھ کر مارا پیٹا گیا، جئے شری رام اور جئے ہنومان جیسے نعرے لگوائے گئے، پولس نے بھی اس مظلوم کو ہی گرفتار کر جیل بھیج دیا اس سے چوری کے متعلق اقبالیہ بیان بھی ریکارڈ کرلیا لیکن اس کو ہوئی مار پیٹ ریکارڈ نہیں کی۔ مارپیٹ اس وقت ریکارڈ پہ آئی جب دو دن بعد مظلوم تبریز کی موت واقع ہوگئی، حالانکہ پہلے ہی مجرموں نے انتہائی دیدہ دلیری کے ساتھ اس پوری واردات کا ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دیا تھا،  اگر تبریز نے واقعی چوری کی تھی تو بھی کونسا قانون یہ اجازت دیتا ہے کہ لوگ اپنے طور پر اسے سزا دیں، ماریں پیٹیں اور پھر پولس کے حوالے کریں، کیا پولس کو اس بات کا علم نہیں، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جس وقت تبریز کو گرفتار کیا گیا تھا اسی وقت اس کو مارنے پیٹنے والوں کو بھی گرفتار کر لیا جاتا، لیکن ایسا نہیں ہوا، پولس نے صرف تبریز پر کارروائی کی، کیا اسے محض پولس کی لا پروائی کہا جا سکتا ہے؟ نہیں بلکہ پولس کی یہ کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ پولس خود متعصب اور جانبدار ہے، اور حملہ آوروں کو پولس کی اس جانبداری کا یقین ہے یعنی خود کی غیر قانونی حرکت پر پولس کی قانونی کارروائی کا کوئی ڈر نہیں۔ اس معاملہ میں دو پولس اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے لیکن کیایہ کافی ہے؟ غالب گمان ہے کہ کچھ دنوں بعد جب معاملہ ٹھنڈا ہو جائے گا تو انہیں بحال کردیا جائے گا، ہونا تو یہ چاہئے کہ اپنی ذمہ داری سے غفلت برتنے کے الزام میں ان پر بھی قانونی شکنجہ کسا جاتا اور حوالات کی ہوا کھلوائی جاتی اور انہوں نے یہ لاپروائی کیوں کی اس کی تفصیلی جانچ کی جاتی۔

خبرہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اس کی موت سر پر لگے مار کی وجہ سے ہوئی تو کیا گرفتاری کے بعد اس کی میڈیکل جانچ کرنے والے ڈاکٹر کو سر کا زخم دکھائی نہیں دیا تھا اس کی حالت کی نازکی کا اندازہ نہیں ہوا تھا یا پھر وہ بھی متعصب تھا کہ اس نے تبریز کے مسلمان ہونے کی وجہ سے اس کی جانچ میں لا پروائی برتی؟ کیا مغربی بنگال کے معاملہ پر احتجاج کرنے والے ڈاکٹرس اس معاملہ میں بھی احتجاج کریں گے ؟ کیا ڈاکٹرس کی قومی تنظیم مذکورہ ڈاکٹر پر کوئی تادیبی کارروائی کرے گی؟ اگر یہ مان لیا جائے کہ ڈاکٹر سے غلطی سرزد ہوئی اس نے جان بوجھ کر لا پروائی نہیں کی تو بھی حقیقت کا پتہ لگانے کے لئے کیا ڈاکٹرس اس کی تفصیلی اور غیر جانبدار جانچ کا مطالبہ کریں گے ؟ڈاکٹرس کو یہ جان لینا چاہئے کہ اس معاملہ مظلوم اگر تبریز انصاری کی جگہ پپو منڈل ہوتا یا کوئی اورغیر مسلم ہوتا تو ڈاکٹر کی پٹائی طے تھی۔

یہ بھی کہا جارہا ہے کہ یہ کوئی مذہبی معاملہ نہیں ہے بلکہ چوری کا معاملہ ہے لوگوں نے ایک چور کو پیٹا اتفاق یا بد قسمتی سے اس کی موت واقع ہو گئی۔ تو کیا لوگ خود عدالت ہو گئے ہیں کیا ہمارا قانون کسی کو اس طرح سزا دینے کا اختیار دیتاہے ؟ اور اگر واقعی ایسا ہے تو پھر اس سے جئے شری رام اور جئے ہنومان جیسے مذہبی نعرے لگوانے کا کیا مطلب؟اس کی جگہ اگر کوئی ہندو ہوتا تو کیا اس کے ساتھ بھی یہی معاملہ کیا جاتا ؟ ہمیں تو یقین ہے کہ اس وقت پولس کی کارروائی بھی مختلف ہوتی۔ اس معاملہ میں چوری محض ایک بہانا ہے وگر نہ جس طرح گؤ کشی کے جھوٹے الزام اور شک کے بہانے ہجومی تشدد کیا گیا تھا اب جئے شری رام کے نعرے کے بہانے اسی طرح کا تشدد کیا جارہا ہے، اس معاملہ سے پہلے بھی اس طرح کے کئی معاملات بغیر کسی سبب کے ہو چکے ہیں، آسام میں یہی ہوا، دلی میں یہی ہوا، کلکتہ میں تو ایک مدرسہ ٹیچر کو نعرے لگانے سے انکار کرنے کی پاداش میں چلتی ٹرین سے پھینک دیا گیا۔ یہ جو کچھ ہورہا ہے یہ بھیڑ کا غیر ارادی ردعمل نہیں ہے بلکہ ایک سوچی سمجھی اور منظم کارروائی ہے۔ بھیڑ میں موجود حملہ آور تو محض مہرے ہوتے ہیں چالیں کہیں اور سے چلی جارہی ہیں کنٹرو ل کوئی اور کر رہا ہے جس کا مقصد مسلمانوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کر ان کی حوصلہ شکنی کرنا اور دب کر زندگی گزارنے کے لئے تیار کرنا ہے اور اس بہانے ہندوؤں میں مسلم مخالف مذہبی جذبات بھڑ کا کر انہیں سیاسی طور پرمتحد ووٹ بنک بنائے رکھنا اور عوامی طور پر درپیش مسائل سے غافل رکھنا ہے یہ سیاست کا انتہائی گھناؤنا کھیل ہے بر سر اقتدارپارٹی اسے روکنے کی ذمہ داری ادا کر نے کے بجائے الٹ اسے بڑھاوا دے رہی ہے،پہلے تو اس طرح کے زیادہ تر واقعات بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں میں ہو رہے ہیں اور دوسرے بی جے پی کے لیڈران خود اس طرح کے معاملات میں ظالموں کی حمایت میں اتر آتے ہیں خود وزیر اعظم مودی جی بھی اول تو اس طرح کے معاملات پر بولتے نہیں اور اگر بولتے بھی ہیں تو کافی دیر بعد اور اس میں بھی کوئی نہ کوئی قیل قال ضرور نکال لیتے ہیں مثلاً حالیہ واقعہ میں جہاں انہوں نے مذمت کی اور مقتول تبریز انصاری سے اظہار ہمدردی کی وہیں اس معاملہ میں جھارکھنڈ پر انگلی اٹھانبے والوں پر بھی تنقید کی کہ جھارکھنڈ ریاست کی تذلیل کرنے کا حق ہم میں سے کسی کو نہیں۔ یعنی آپ کو مظلوم سے ہمدردی بھی ہے لیکن اس کی حفاظت کی اولین ذمہ دار کی ناکامی پر بھی کوئی بات آپ کو گوارا نہیں۔ اس طرح کے معاملات کیوں بڑھ رہے ہیں اس کا ایک نظارہ لوک سبھا میں بھی ہوا کہ خاص طور سے حزب مخالف کے ممبران کی حلف برداری کے دوران بی جے پی ممبران نے وہاں اسی قسم کے نعرے لگائے جس طرح کے نعرے پچھلے کچھ دنوں سے ہورہی ہجو ی تشدد کی وارداتوں میں مظلومین سے لگوائے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک مرکزی وزیر نے لوک سبھا میں یہ سوال اٹھایا کہ آیا وندے ماترم نہ کہنے والوں کو ملک میں رہنے کا ادھیکار ہے ؟اور بر سر اقتدار یعنی بی جے پی ممبران کی جانب سے اس کا جواب رہا ’ نہیں ‘ واضح رہے کہ وزیر محترم کی اس تقریر کا پس منظر یہ ہے کہ حلف برداری کے دوران ایک مسلم رکن لوک سبھا نے یہ کہتے ہوئے وندے ماترم کہنے سے انکار کردیا تھا کہ یہ اسلام کے خلاف ہے یعنی وزیر محترم کا سوال اور ٹریزری بینچز کاجواب دراصل اشارہ تھا اس مسلم ممبر سے ہوتے ہوئے مسلمانوں کی طرف۔ اب یہ مسلمانوں کی مذہبی آزادی میں دخل اندازی نہیں تو اور کیا ہے؟ مسلمان سب سے زیادہ لنچنگ اور ہجومی تشدد سے پریشان ہیں مسلم عورتیں ہجومی تشدد کی وجہ سے ہراساں اور بیوہ ہو رہی ہیں لیکن ہماری حکومت ہے کہ اس پر قانون بنانے کے بجائے طلاق ثلاثہ پر قانون بنا نے میں لگی ہے یہ مسلمانوں کے ساتھ تعصب نہیں تو اور کیا ہے۔ پارلمنٹ سے لے کر شہر وں گاووں اور دیہاتوں میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ خودامریکہ کی مذکورہ رپورٹ کاثبوت ہے لیکن حکومت نے اسے سیکولرازم کا حوالہ دے کر مسترد کردیا ہے سمجھ میں نہیں آرہا کہ اسے منافقت کہا جائے بے شرمی کہا جائے یا دیدہ دلیری؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عابد الرحمن

ڈاکٹر عابدالرحمان مشہور کالم نگار ہیں۔

متعلقہ

Close