ہندوستان

مودی اور سوامی آمنے سامنے

سبرامنیم سوامی برہمن لابی کا عوامی چہرہ

عبدالعزیز

سبرامنیم سوامی کا کردار ہندستانی سیاست میں کوتیلیا اور چانکیہ جیسی ہے۔ ان دونوں کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ حکومت میں رہتے ہوئے اکھاڑ پچھاڑ کی سیاست میں ملوث رہتے ہیں اور مخالف گروپ کے کیمپوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے مطالعہ سماجیات اور خاص پالیسی کے ڈائرکٹر کنچاالیا شیفرڈ نے اپنے ایک مضمون (انڈین ایکسپریس، یکم جولائی 2016ء) میں سبرامنیم سوامی کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے کہ اس وقت سبرامنیم سوامی بی جے پی کی برہمن لابی کی ترجمانی کر رہے ہیں اور ان کے حملہ کا اصل ہدف نریندر مودی ہیں کیونکہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی برہمن لابی کا خیال ہوگیا ہے کہ نریندر مودی برہمنوں میں سے نہیں ہیں۔ ان کا تعلق پسماندہ طبقات سے ہے۔ وہ ذات کے تیلی ہیں ۔ گجرات میں تیلی برادری کو مودی کہتے ہیں۔
مسٹر شیفرڈ اپنے مضمون میں رقم طراز ہیں:
سبرامنیم سوامی کا اصل نشانہ راگھو راجن یا اروند سبرامنیم نہیں بلکہ مودی حکومت میں مسائل پیدا کرنا ہے۔ خاص طور سے نریندر مودی خود ان کے نشانے پر ہیں۔ یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے جب وہ ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر راگھو رام راجن اور خصوصی مشیر معاشیات اروند سبرامنیم اور مالیات کے دوسرے افسران پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب سے نریندر مودی اقتدار میں آئے ہیں وہ کچھ نہ کچھ غیر ضروری طور پر بولتے رہتے ہیں۔ فرقہ واریت پھیلانے کا کام خاص طور پر انجام دیتے ہیں۔ سوامی نے دہلی یونیورسٹی میں رام مندر پر سیمینار منعقد کیا جبکہ وہ جانتے ہیں کہ رام مندر کا مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔
سبرامنیم کا اتر پردیش سے کوئی لگاؤ نہیں ہے او رنہ ہی ان کو اس ریاست میں کوئی گھاس ڈالتا ہے لیکن اتر پردیش کا اسمبلی الیکشن نزدیک ہونے کی وجہ سے وہ اتر پردیش کا وقتاً فوقتاً دورہ کر رہے ہیں اور چھوٹی چھوٹی میٹنگیں کرکے ساکچی مہاراج کی طرح سے فساد و فتنہ کی بات کرتے رہتے ہیں۔
سبرامنیم سوامی کی برسوں سے یہ عادت رہی ہے کہ وہ ایسے ایسے مسائل اٹھاتے ہیں جن سے غریب عوام کا کوئی بھلا نہیں ہوتا۔ صرف کیچڑ اچھالنے کا کام ہوتا ہے۔ مثلاً پہلے انھوں نے جے للیتا کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ اب سونیا گاندھی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ انگریزی روزنامہ ’دی ہیرالڈ‘ کے معاملہ کے حوالے سے گاندھی خاندان کو عدالت میں گھسیٹنے کا کام انجام دے رہے ہیں۔ جے للیتا پر جب انھوں نے کیس کیا تھا تو ڈی ایم کے نے ان کی مدد کی۔ سونیا گاندھی پر مقدمہ دائر کیا ہے تو بی جے پی ان کے ساتھ ہے۔
سوامی ہارورڈ یونیورسٹی میں ویزیٹنگ پروفیسر تھے مگر انہوں نے اسلام پر اپنے ایک مضمون میں حملہ کیا جس کی وجہ سے انھیں ہارورڈ یونیورسٹی نے باہر کا راستہ دکھادیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے حالیہ انٹرویو میں سوامی کا نام لئے بغیر کہا ہے کہ ایسے لوگ جو شہرت اور نام و نمود کیلئے کام کرتے ہیں ان کو میڈیا والوں کو نظر انداز کر دینا چاہئے۔
نریندر مودی سوامی کے بارے میں جانتے ہیں کہ وہ برہمن لابی کے آدمی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے راجیہ سبھا میں ممبر نامزد کرنے میں ہری جھنڈی دکھا دی ورنہ وہ شاید سوامی کو اپوزیشن کو برا بھلا کہنے پر اتنا بڑا انعام دینے پر راضی ہوئے ۔ سوامی اٹل بہاری واجپئی کی حکومت کے زمانے میں بھی سرگرم عمل تھے اور نرسمہا راؤ کے زمانے میں ان کی سرگرمیاں تیز تھیں۔ جب بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ بابری مسجد گرانے میں سرگرم عمل تھے تو سبرامنیم سوامی اس وقت خاموش تھے۔ اس وقت سوامی کی ہمدردیاں۔۔۔ نرسمہا راؤ کے ساتھ تھیں۔ اس وقت شیبو سورین نرسمہا راؤ کی اقلیتی حکومت کو بچانے کیلئے روپیہ لیتے ہوئے پکڑے گئے تھے مگر سوامی نے کوئی کیس اور مقدمہ دائر نہیں کیا کیونکہ راؤ برہمن لابی سے تعلق رکھتے تھے۔
شیفرڈ کا مزید کہنا ہے کہ سبرامنیم سوامی کی برہمنیت کوتیلیا جس نے ’اَردھ شاستر‘یا ’منو‘ اور ’دھرم شاستر‘ لکھا ہے، جیسی ہے۔سوامی نہ کوئی بڑے مصنف ہیں اور نہ بڑے لیڈر مگر برہمنوں کے زیر اثر میڈیا انھیں دانشوروں کی صف میں شامل کرتا ہے۔ مودی بھی انھیں بڑا سمجھنے پر مجبور ہیں کیونکہ انھیں آر ایس ایس کی حمایت و تائید سے محرومی مہنگی پڑسکتی ہے۔ شیفرڈ نے لکھا ہے کہ ان کے خیال میں جے للیتا، سونیا گاندھی پر سبرامنیم کا حملہ خاص نہیں ہے بلکہ خصوصیت کے ساتھ نریندر مودی ان کے نشانے پر ہیں کیونکہ مودی برہمنوں کے ہم نوا تو ہیں مگر برہمن لابی کے مخلص کارکن نہیں ہیں۔ شیفرڈ کے خیال میں نریندر مودی کے خلاف سبرامنیم سوامی تنہا نہیں ہیں بلکہ ان کے ساتھ ایک گروپ ہے جو برہمنوں پر مشتمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے اندر بڑی شخصیتوں نے سبرامنیم سوام کے راجیہ سبھا کی ممبر ی کیلئے تائید و حمایت کی۔ مودی کی اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اسے نامنظور کردیں۔ مودی مخالف لابی سوامی کو استعمال کر رہی ہے اور میڈیا انھیں جان بوجھ کر مسخرہ بنانے پر رضامند ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پارٹی کے اندر مودی مخالف گروپ کا عوامی چہرہ اس وقت سوامی ہیں۔ یہ گروپ اس وقت سے زیادہ سرگرم عمل ہوگیا ہے جب سے مودی نے اتر پردیش میں کہاکہ ان کا تعلق اوبی سی (OBC) گروپ سے ہے۔ برہمنوں کو معلوم ہوگیا کہ نریندر مودی کی اس حکمت عملی سے بی جے پی کو ووٹ زیادہ مل سکتے ہیں۔
شیفرڈ کے خیال سے مودی کو اگر کم سیٹیں لوک سبھا میں ملی ہوتیں تو برہمن لابی دیگر پارٹیوں سے گفت و شنید کرکے مودی کو اقتدار میں رکھتی مگر مودی نے اپنی شخصی کوشش کی وجہ سے لوک سبھا میں زبردست اکثریت حاصل کی جس کی وجہ سے برہمن لابی مجبور محض ہوگئی ہے۔ اگر مجبور محض نہ ہوتی تو مودی کا پایۂ تخت اب تک ہل گیا ہوتا اور وہ اقتدار سے باہر ہوگئے ہوتے اور کسی برہمن کو ان کی جگہ اقتدار کی کرسی پر بٹھا دیا گیا ہوتا۔
شیفرڈ اپنے مضمون کے آخر میں لکھتے ہیں: ’’میں مودی سے بہت سے معاملات میں شدید اختلاف رکھتا ہوں اور میں ان کے خلاف گجرات فساد 2002ء لکھتا آیا ہوں لیکن اگر کوتیلیا منو وادی سوامی گروپ مودی کو تاراج کرنے میں کامیاب ہوگیا تو او بی سی (OBC)کاکوئی فرد کبھی بھی ہندستان میں وزیر اعظم کی کرسی پر فائز نہیں ہوگا، خواہ وہ جتنا بھی ووٹ حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو‘‘۔
میرے خیال سے شیفرڈ کی بہت سے باتیں تو صحیح ہیں مگر مودی کو برہمن لابی استعمال کر رہی ہے۔ اس وقت تک جب تک مودی ان کے حساب سے کام کریں گے اور جب وہ برہمن لابی کے مقصد اور مطلب کا کام انجام نہیں دیں گے ۔ برہمن لابی اس قدر مضبوط ہے کہ وہ بی جے پی کو دو حصے میں بانٹ سکتی ہے۔ آر ایس ایس کی مکمل حمایت برہمن لابی کے ساتھ ہے۔ آر ایس ایس برہمنوں کی تنظیم ہے۔ وہ برہمنوں کے مفاد کے خلاف کوئی کام ہوتا دیکھ نہیں سکتی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close